Sunday, April 3, 2016



تزئین: عطیہ اقبال
ترتیب:
محمد جنید اقبال            نشا محی الدین
جویریہ اقبال             زویا محی الدین





انتساب


اپنی بہنوں ____
شمسہ صفیر احمد،
ثریا اشہد باقر
اور
 شیما عبداللہ
کے  نام





پیش لفظ


حالیؔ نے کہا ہے ’’مجھ کو خود اپنی ذات سے ایسا گماں  نہ تھا‘‘۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے۔ میں  نے بھی کبھی نہیں  سوچا تھا کہ میری نثر کی کوئی کتاب ہو گی۔ جلسے، کتابوں  کی رسم اجرا، ادیبوں  کے ساتھ شامیں  منانے کی رسم، ادبی خدمات کے اعتراف میں  تقریبات وغیرہ وغیرہ، میں  بھی اس ریلے میں  بہہ گیا۔ احباب کی فرمائشیں  کہ میں  بھی کچھ بولوں  یا لکھوں  تو تقریر کرنا تو مجھے آیا نہیں۔ کچھ مضامین، چند خاکے، اپنی مرضی سے لکھے اور کچھ اس لیے کہ انکار نہیں  کرسکا۔ بقول حارث خلیق (خلیق ابراہیم خلیقؔ کے فرزند۔ بہت اچھے شاعر )  :
کچھ کام تھے اپنی مرضی کے
کچھ کام فقط مجبوری تھے
پھر وقت بہت ہی تھوڑا تھا
اور سارے کام ضروری تھے
اب پلٹ کر دیکھتا ہوں  تو یہ جیسی کچھ جو بھی پراگندہ تحریریں  ہیں، پچھلی چند دہائیوں  میں  ان کی تعداد اتنی ہو گئی ہے کہ ان کا ایک کتاب میں  سمانا مشکل نظر آنے لگا۔ پھر وہ مضامین، تبصرے جو محض فرمائشی یا فہمائشی لگے انہیں  الگ کیا تو ایک کتاب کی صورت بنی۔ اس کتاب میں  پہلے چند خاکے ہیں، مخدوم محی الدین، اوم پرکاش نرمل، مغنی تبسم، احمد ہمیش، حسن عسکری، طیب انصاری۔ یہ وہ لوگ ہیں  جن کے انتقال کا دکھ ایسا تھا کہ یہ سبھی خاکے بہت کم وقت میں۔، میں نے قلم برداشتہ لکھے۔ بس چند خاکے لکھنے میں  کچھ وقت درکار ہوا۔ مجھے اس بات کا دکھ رہے گا کہ اس کتاب میں  شاذ تمکنت اور عوض سعید کا خاکہ نہیں  ہے۔ کبھی شدتِ  گریہ کے سبب آنکھ سرخ ہو اور خشک ہو جائے تو اشکوں  کو قلم کی سیاہی بننے میں  بہت وقت لگ جاتا ہے اور پھر وقت یوں  گزرتا ہے جیسے راشد کے الفاظ میں۔۔ ’’کہ جیسے کسی شہرِ مدفون پر وقت گزرے‘‘۔ اس کتاب میں  شاذ پر ایک مضمون ہے، ہرچند یہ شاذ کی شاعری کا حق ادا نہیں  کرتا۔ عوض پر تو کوئی مضمون بھی نہیں۔ شاذ اور عوض دونوں  پر خاکے مجھ پر قرض ہیں، خاکوں  کے علاوہ جو مضامین اس کتاب میں  شامل ہیں  ان کی شبیہ بھی نیم تنقیدی اور تاثراتی ہے۔ یہاں  میں  فن اور شخصیت کو علاحدہ علاحدہ خانوں  میں  نہیں  رکھ سکا۔  فن پاروں  کی خوبیوں  کے ساتھ ساتھ فن کار کی شخصیت کے شیڈس، اس کے شب و روز کے احوال، اس سے ملاقاتیں، باتیں۔ وہ زندگی کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور میں  ایک کو نے میں  کھڑا اس دیکھنے والے کی نظر دیکھ رہا ہوں۔ ان تحریروں  میں  ایسی کئی تصویریں  ہیں، الگ الگ تصویریں۔ یہ تصویریں  اگر آپ ہی آپ جڑ جائیں  اور ذہن کے پردے پر حرکت کرنے لگیں  تب ہی یہ تحریریں  کامیاب کہی جا سکتی ہیں۔ اس کتاب کا قاری ہی اس بارے میں  کوئی فیصلہ کر سکتاہے۔
مشمولات میں  شفیق فاطمہ شعریٰ سے لیا ہوا ایک انٹرویو یا مصاحبہ بھی اس کتاب میں  شامل ہے۔ اس کے محرک خلیل مامون ہیں۔ یہ انٹرویو میں  نے اُن کے کہنے پر اس وقت لیا جب وہ کرناٹک اردو اکیڈمی کے چیرمین اور ’’اذکار‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ پھر جب وہ ان ذمہ داریوں  سے سبکدوش ہوئے اور انہوں  نے اپنا رسالہ ’’نیا ادب‘‘ نکالا تو یہ انٹرویو اس رسالے میں  شامل ہوسکا۔ لیکن اس دوران  پُل کے نیچے بہت پانی بہہ چکا تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ شفیق فاطمہ شعریٰ جو کئی مہینوں  سخت بیمار رہیں، ’’ نیا ادب‘‘ کا یہ پہلا شمارہ نہ دیکھ سکیں۔ جب یہ رسالہ آیا ان کے انتقال کو بس چند ہی دن ہوئے تھے۔ پھر یہی انٹرویو ’’تحریر نو‘‘ میں  چھپا۔ اس کے علاوہ غالب اور اقبال پر چند مضامین بھی اس کتاب میں  ملیں  گے جو محض اس خیال سے میں  نے شامل کر لیے کہ ان ناموں  کے سبب ہی سہی اس کتاب کی وقعت میں  کچھ اضافہ ہوسکے۔
اپنی شریک حیات عطیہ کا شکریہ ادا کرنا میرے لیے لازم ہے کہ ان ہی کی خواہش تھی کہ میری ایک نثر کی کتاب بھی ہو۔ انہیں  میری شاعری سے زیادہ میری نثر پسند ہے، لیکن وہ ہمیشہ میری طرفدار رہیں۔  عابد سہیل صاحب کو سنایا تو بولے سخن فہم بھی ہیں۔
نامور افسانہ نگار عابد سہیل کا تہہ دل سے ممنون ہوں  کہ اس کتاب کی اشاعت کے مختلف مراحل میں  مجھے ان کی رہنمائی حاصل رہی اور یہ لطفِ خاص کہ اس کتاب کے لیے انہوں  نے اتنا خوبصورت نام تجویز کیا۔
مصحف اقبال توصیفی



       

مخدوم محی الدین __بات پھولوں  کی


مشتاق احمد یوسفی نے ایک فرانسیسی مفکر کے حوالے سے لکھا ہے کہ موسیقی میں  جو بات اُسے پسند ہے دراصل وہ حسین خواتین ہیں  جو اپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں   پر ٹھوڑیاں  رکھ کر اسے سنتی ہیں۔ ادب میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ہم نے سُنا بلکہ دیکھا بھی ہے کہ مخدوم کلام سُنا رہے ہیں  اور حسین خواتین بڑے انہماک سے اپنی ننھی ہتھیلیوں  میں ٹھوڑیاں  رکھ کر انہیں  غور سے سن رہی ہیں۔ ادب اور موسیقی کا نازک رشتہ اس فرانسیسی مفکر کے حسنِ خیال اور مخدوم کے حسنِ عمل ہی سے ہماری سمجھ میں  آ سکا۔ اور وہ خواتین جو ان محفلوں  کو رونق بخشتی ہیں۔۔ ’’سیدھی سادی بھولی بھالی جادو کرنے والیاں‘‘۔
مخدوم ایک بہت اچھے شاعر ہی نہیں، اچھے مقرر اور ہر دلعزیز لیڈر بھی تھے۔ لوگ اُن سے اس طرح ملتے جیسے اُن کے دیوانے ہوں۔ اگر وہ تامل ناڈو کے کسی شہر یا گاؤں  میں  پیدا ہوتے تو MGR  کی طرح لوگ گھروں  میں  ان کی مورتیاں  رکھ کر اُن کی پوجا کرتے۔ میرا بچپن ملّے پلی میں  گزرا۔ وہاں  بھارت یونین گراؤنڈ کے ایک سیاسی جلسے میں  پہلی بار میں نے مخدوم کو دیکھا۔ مجھے حیرت ہوئی معمولی ناک نقشہ، اوسط سے کچھ نکلتا ہوا قد، رنگ روپ بھی معمولی، چال ڈھال میں  کوئی خاص بات نہیں، ایسا آدمی اتنا خوبصورت کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کے حواس کو اپنی گرفت میں  لے لے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ بات میری سمجھ میں  آنے لگی ’’کچھ بات تھی اس کی باتوں  میں  کچھ بھید تھے اس کی چتون میں‘‘۔ یہ بھید اسی وقت کھلتے جب ہم ان سے باتیں  کریں، اُن سے ملیں، کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھیں۔ بھارت یونین گراؤنڈ کے اس جلسے میں، جہاں  میں  بھی تھا، یکایک شور اُٹھا کہ مخدوم جیل سے رہا ہو گئے ہیں  اور اس جلسے میں  تقریر کریں  گے۔ اس گراؤنڈ کے اطراف بلدیہ کے چھوٹے چھوٹے گھروں  میں  ہمارا گھر بھی تھا۔ کچھ لوگ کھڑکیوں  سے جھانک رہے تھے، کچھ اپنے اپنے گھروں  کے دروازے میں  کھڑے تھے۔ یہ اعلان سن کر وہ مجمع کی اگلی صفوں  میں  اپنی جگہ بنانے کے لیے آگے بڑھے۔ خبر پھیلی تو قریب ہی فانی میدان کے مکانوں  اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز جہاں  جہاں  پہنچی وہاں  ہلچل ہوئی۔ لوگوں  کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے۔
بھارت یونین گراؤنڈ کی اس ایک جھلک کے بعد نگہِ شوق نے مخدوم کو کئی بار دیکھا۔ وہ یوں  کہ ہم اپنے پرانے ملے پلی کے گھر سے اسی محلے کے ایک بڑے کرائے کے گھر میں  منتقل ہو گئے تھے جو باجی جمال النسا کے گھر کے عین مقابل تھا، باجی اور اختر حسن کے گھرانے سے مخدوم کے قریبی مراسم تھے جو پچیس تیس برس رہے۔ اس گھر کے چھوٹے بڑے سبھی افراد مخدوم کے  پرستار ہی نہیں، انہیں  کی طرح کمیونسٹ سیاسی عقائد کے حامل، نیشنلسٹ خیالات اور ترقی پسند ذہن رکھتے تھے۔
مومنؔ کے بارے میں  نیاز فتحپوری کی رائے مشہور ہے کہ ’’اگر میرے سامنے متقدمین و متاخرین کا کلام رکھ کر ( بہ استثنائے میرؔ)  مجھ کو صرف ایک دیوان حاصل کرنے کی اجازت دی جائے تو میں  بلا تامل کہہ دوں  گا کہ مجھے کلیات مومن دے دو اور باقی سب اُٹھا لے جاؤ‘‘۔     ترقی پسند شعراء میں  مخدوم بھی مجھے اس درجہ پسند ہیں  کہ سارے ترقی پسند شعرا کے دواوین میرے آگے رکھ دیئے جائیں  تو شاید میں  بھی (بہ استثنائے فیضؔ ) ایسا ہی کوئی جملہ کہنے کی جسارت کروں  اور مخدوم کی ’’بساطِ رقص‘‘ اٹھا لوں۔ مومن اور مخدوم اِن دو شاعروں  میں  مماثلت بہت دور کی بات سہی لیکن یہ دونوں  نام بہ یک وقت میرے ذہن میں  اس لیے آئے کہ مومن کی طرح مخدوم بھی شطرنج کے رسیا تھے، اتنے بڑے کھلاڑی نہ سہی کہ مولوی فضل حق بھی اُن سے نہ جیت پائیں  (خود غالب کو اس پر حیرت تھی )۔ مخدوم کے بارے میں  سنا ہے کہ جن دنوں  وہ روپوش تھے اور انھیں  بمبئی بھیجنے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی، حیدرآباد کے ایک علاقے رامانتا پور میں  شطرنج کے کھیل کے دوران ہی اُن کی گرفتاری عمل میں  آئی۔ مخدوم عاشق مزاج تھے۔ وہ کسی تفاخر کے بغیر بہ آسانی کہہ سکتے تھے ’’صیاد ہی رہا، میں  گرفتار کم ہوا‘‘  لیکن مادی عشق سے کہیں  زیادہ انہیں  انسانیت کی فلاح عزیز تھی۔ یہ ان کی زندگی کا مشن تھا جس کی خاطر وہ ہر قربانی دینے کو تیار تھے۔ وہ روپوش رہے، جیل گئے، کیسی کیسی صعوبتیں  اُٹھائیں۔ جذبی نے سچ کہا ہے؎
یہ راہِ غم مرے مخدوم سے کوئی پوچھے
یہ فیض کے لبِ معصوم سے کوئی پوچھے
شاید اس کا سبب یہی ہو کہ جیسا کہ عزیز احمد نے لکھا ہے، ترقی پسند شاعروں  میں  فیض اور مخدوم کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ سچ مچ انہوں  نے عشق کیا ہے۔ کتنی سیدھی سی بات ہے عشق کے بغیر یہ دیوانگی کہاں  نصیب ہوتی ہے وہ مخدوم ہوں، فیض ہوں  کہ مجاز، جذبی، جاں  نثار۔۔۔
مخدوم کے بارے میں  لوگوں  کی باتیں  سنتے، مشاعروں  میں  ترنم سے انہیں  کلام سناتے، رسائل میں  ان کی نظمیں  پڑھتے، ہم بچپن سے نوجوانی کی سرحد میں  داخل ہوئے تو مخدوم سے ملاقات بھی ہو گئی جو مرحوم اورینٹ ہوٹل کی دین تھی۔ ابھی تک ہم نے مخدوم کی مقبولیت، شہرت اور ہردلعزیزی کے قصّے سن رکھے تھے، یہ تصویر کا ایک رخ تھا۔ تصویر کا دوسرا رخ ہمارے سامنے آیا تو مخدوم کی منزلت ہماری نگاہوں  میں  اور بڑھ گئی۔ مخدوم اگر چاہتے تو بہ آسانی اُنہیں  یونیورسٹی کی پروفیسری، کوئی بہت بڑا عہدہ اگر وہ حکومت وقت کے خلاف اپنے رویئے میں ذرا سی لچک پیدا کر لیتے یا اتنا بھی نہیں، بہ حیثیت نغمہ نگار فلموں  میں  کسی بڑے موسیقار کی درخواست ہی منظور کر لیتے تو زندگی بہت آسان ہوسکتی تھی، لیکن مخدوم کو یہ سب گوارا نہ تھا اُن کے لئے پارٹی اور پارٹی کیجو کام انہوں  نے خود اپنے لیے تفویض کر لیے تھے، زیادہ اہم تھے۔ باجی جمال النسا نے مخدوم کی رہائش گاہ کے بارے میں  لکھا ہے ’’اسمبلی کی ممبر شب ختم ہونے پر اردو گلی میں  ایک پتلے دالان اور اس کے پیچھے ایک اندھیرے کمرے کا گھر۔۔۔۔ دوبارہ ایم ایل سی بننے پر ایک کمرے کا کوارٹر اور وہی ایک میز اور دو تین کرسیوں  کی جگہ کا کمرہ۔۔۔ ایک مرتبہ کہا جی چاہتا ہے اپنا ایک الگ کمرہ ہوتا، چیزیں  جگہ پر ہوتیں، سکون سے کچھ کام کیا جا سکتا‘‘ (’’سب رس‘‘ جون ۲۰۰۸ء )،۔ اتنی معمولی سی خواہش۔ کچھ ایسی ہی بات سردار جعفری نے اپنے مکان کے بارے میں  لکھی ہے ’’۔۔۔۔ ایک چھوٹا سا کمرہ میرا کتب خانہ بھی ہے، میرے شاعر دوست کا ٹھکانا بھی، میرے گھر کا مہمان خانہ بھی۔۔۔۔ میں  جس مکان کی پہلی منزل کے دو کمروں  میں  رہتا ہوں، وہ ایک اسپتال کی پشت پر ہے۔ عین میرے نیچے کا کمرہ مردہ خانہ ہے۔ اسپتال بڑا ہے کبھی دو تین مرنے والے ایک ہی دن کا انتخاب کرتے ہیں۔ اُن کے عزیز و اقارب جمع ہوتے ہیں۔ شور ماتم کبھی دن میں   بلند ہوتا کبھی رات میں۔ ایسی حالت میں  کوئی اچھی تخلیق کیسے ممکن ہے۔۔۔‘‘ (’’ترقی پسند ادب‘‘) کیا یہ لوگ واقعی پاگل تھے، عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے سارے راستے انہوں  نے خود اپنے لیے مسدود کر رکھے تھے۔ باجی جمال النساء نے یہ بھی لکھا کہ ’’مخدوم کی ایک ننھی سی بیٹی تھی۔ مخدوم کہتے لال جھنڈا ہمارا جھنڈا تو وہ کہتی لال موز (کیلا)ہمارا موز‘‘ اسے لال موز بہت پسند تھے۔ ایک بار مخدوم کئی دنوں  بعد گھر لوٹے اور باہر سے انہوں  نے آواز لگائی ’’لال جھنڈا ہمارا جھنڈا‘‘ تو ’لال موز ہمارا موز ‘کی آواز نہ آئی۔ مخدوم کی وہ ننھی بیٹی جہاں  تھی وہاں  سے کوئی آواز نہیں  آتی۔ ایک خاموشی سی چھا گئی جو زندگی بھر مخدوم کا پیچھا کرتی رہی۔ اس خاموشی سے فرار کی بھی ایک صورت تھی، وہی مخدوم کی مصروفیت، ایک ہی دن میں  پارٹی کے کئی جلسوں  میں  شرکت، مختلف شہروں، گاؤوں  کے دورے، کھانے میں  جو بھی مل جائے جس کے سبب صحت کی خرابی، گھر بار سے دوری، بچوں  کو مناسب تعلیم  نہ دے سکنے کا غم، وہ افراد خاندان جن سے انہیں  بے پناہ محبت تھی ان کی ذمہ داریوں  پر خاطر خواہ توجہ نہ دے سکنے کی مجبوری، ان سب باتوں  کا انہیں احساس تھا لیکن اپنا نصب العین اور ایک اجتماعی خواب کی حرمت انہیں  اپنے خوابوں  سے زیادہ عزیز تھی۔
اورینٹ ہوٹل ہو کہ لکھنو کا اولڈ انڈیا کافی ہاؤس یا پیرس کا کیفے جس کا ذکر عابد سہیل نے اپنے خاکوں  میں  کیا ہے، ان سب کا کردار اور نوعیت ایک جیسی تھی۔ بہت معمولی طور پر سہی لیکن بہ حیثیت شاعر اب لوگ مجھے جاننے لگے تھے۔ میں، عوض سعید اور شاذ تمکنت۔۔۔ ہمارا معمول یہ تھا کہ شام ڈھلتے ہی عوض اپنے گھر سے میرے گھر جو دو ڈھائی فرلانگ کے فاصلے پر تھا آ جاتے، وہاں  سے ہم چند قدم کے فاصلے پر شاذ کے گھر پہنچ جاتے، پھر شاذ کے ہمراہ اُن کے اکّا دکّا مداحوں  سے مصافحہ کرتے، پان کی دوکانوں  پر رکتے ہوئے پیدل اورینٹ پہنچ جاتے جو بہت دور نہ تھا، کوئی میل بھر۔۔، اورینٹ میں  مخدوم عموماً رات میں  نَو بجے کے آس پاس وارد ہوتے اور کبھی بہت کم اتوار کو دن میں۔ سب سے ملتے پھر دیکھتے شاذ کیساتھ اور کون کون بیٹھا ہے۔ پھر ہمیں  اشارہ کرتے کہ اٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔۔ اور ہمیں  قریب کے بار ’’جانس‘‘ میں  لے جاتے۔ ان محفلوں  میں  شاذ عوض اور مَیں۔ اور کبھی کبھی خورشید احمد جامیؔ یا کوئی اور۔ یہ محفلیں  میرے لیے یادگار رہیں  گی۔ ’جانس ‘کی چھت پر تین چار کرسیاں، ایک میز اور وہسکی آ جاتی۔ اگر کسی کو اجتناب ہو تا اس کے لیے چائے نہیں تو کوئی کول ڈرنک، پھر شاعری ہوتی۔ مخدوم نے ادھر کچھ لکھا ہو تو سنانے کے لیے بے چین رہتے۔ شاذ اپنی تازہ غزل سناتے۔ پھر میری طرف اشارہ کر کے کہتے مخدوم بھائی !نوجوان نے بھی ایک نظم لکھی ہے۔ مخدوم کہتے ’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ سناؤ۔۔۔ سناؤ‘‘۔ پھر شاذ ہوں  کہ میں  شعر سناتے ہوئے ہم مخدوم کے ہاتھوں  کو دیکھتے جو ان کے دونوں  زانو پر رکھے ہوتے۔ اپنی نظم یا غزل سے زیادہ ہمارا دھیان اس بات پر ہوتا کہ کس شعر کے کس مصرعے پر مخدوم مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھائیں  گے اس لیے کہ ان کے داد دینے کا یہی انداز تھا۔ مخدوم کی شخصیت میں  کچھ عجیب سا سحر تھا کہ آپ اُن کے ساتھ بیٹھیں  تو آپ اپنے آپ کو کچھ ہلکا، پھیلتا، اوپر اُٹھتا ہوا سا محسوس کریں۔ کسی با رعب یا iconشخصیت کے ساتھ بیٹھنے سے کبھی کبھی ہمیں  جگہ کی تنگی کا جو احساس ہوتا ہے وہ احساس یہاں  بالکل نہیں  تھا۔
میری شادی ہوئی تو حیدرآباد کے سبھی سینئر شاعر، ادیب، علامہ حیرت بدایونی، شاہد صدیقی، سلیمان اریب شاذ، عوض، انور معظم، عالم خوند میری، اقبال متین، غیاث صدیقی اور نوجوانوں  میں  غیاث متین، رؤف خلش، یوسف اعظمی، یوسف کمال ( اور کئی نام ہیں  جو اس وقت یاد نہیں  آرہے ) اس تقریب میں  شریک تھے۔ میرے دادا ( عبدالباسط صدیقی مرحوم، میرے والد کے ماموں  جو لا ولد تھے لیکن اپنے یتیم بھانجے کے لیے ماں  باپ سبھی کچھ تھے، انہیں  حیدرآباد لے آئے اور نوکری دلوائی) مجھے بہت چاہتے تھے۔ انہوں نے میری شادی پر سہرا لکھا اور چھپوا کر حاضرین مجلس میں  تقسیم کروایا۔ اچانک ہال میں مخدوم داخل ہوئے تو مجھے حیرت اور خوشی ہوئی کیوں  کہ ان کی سیاسی اور دوسری مصروفیات کے سبب مجھے اُمید نہیں  تھی کہ وہ آ سکیں  گے۔ میں  نے انہیں  اپنے داد ا سے ملوایا۔ میرے دادا نے اپنے بارے میں   بتایا کہ وہ کانگریسی ہیں  اور مولانا محمد علی کے سکریٹری رہ چکے ہیں۔ دادا نے پیلے کاغذ پر سرخ حروف میں  لکھا ہوا سہرا مخدوم بھائی کو دیا۔ سہرا کیا تُک بندی تھی۔ مخدوم بہت محظوظ ہوئے۔ پڑھ کر بڑی دیر تک مسکراتے رہے۔
اس دوران اورینٹ سے لے کر جانس تک مجھے مخدوم کے ساتھ کئی شامیں  گزارنے کا موقع مل چکا تھا۔ مخدوم کے ساتھ محض دوچار لوگوں کی مجلس میں  مخدوم سے اُن کا کلام سننا، اپنی ادھ کچی ادھ پکی شاعری انہیں  سُنانا،  اُن کے دوستوں  فیض، مجاز، جذبی، سردار کے بارے میں، ان لوگوں  کی شاعری، ان محفلوں  کے بارے میں  مخدوم کی باتیں، ترقی پسندوں  میں  کسی کے خلاف کوئی کچھ لکھے، کہہ دے تو غم و غصہ کا اظہار اور یہ ساری باتیں  مخدوم کس سے ؟ ہم سے کہہ رہے ہیں ؟ ایسا لگتا کہ وہ چند لوگ جو مخدوم سے قریب ہیں، ہم اُن میں  شامل ہیں  بلکہ اُن میں  بھی ہماری حیثیت کچھ نمایاں  ہے۔ لیکن مخدوم سے جو بھی ملتا، کچھ دیر اُن کے ساتھ بیٹھتا، خود کو دوسری دنیا کی مخلوق سمجھتا اور اسی وہم میں  مبتلا رہتا جس میں  اُن دنوں  ہم گرفتار تھے۔
مخدوم نے اُن ہی دنوں  السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا میں  حیدرآباد کے اردو شاعروں  ادیبوں  کے بارے میں  مضمون لکھا جس میں  ناموں  کی ایک لمبی فہرست تھی۔ اور کئی بہت غیر معروف نام بھی اس میں  شامل تھے۔  اس فہرست میں  اپنا نام نہ دیکھ کر مجھے بڑا دکھ ہوا۔ شاذؔ نے مجھے دلاسا دیا کہ مخدوم نے یہ مضمون خود تھوڑا ہی لکھا ہو گا، کسی کو کچھ باتیں  بتا دی ہوں  گی اور کہا ہو گا میں  بعد میں  دیکھ لوں گا، اس شخص سے کہا ہو گا کہ تم تو سارے شاعروں  ادیبوں  سے واقف ہو اُن کے نام لکھ دو۔ وہ شخص تمہیں  نہیں  جانتا تو کیا، مخدوم بھائی تو جانتے ہیں۔ عوض نے مجھے چھیڑنے کی خاطر کہا کہ میرے خیال میں  ویکلی کے ایڈیٹر کے ساتھ تمہاری کچھ معاصرانہ چشمک ہے۔ مخدوم نے تو تمہارا نام لیا لیکن اس کم بخت اڈیٹر نے حذف کر دیا۔ اس واقعے کے بعد بھی مخدوم سے ملاقاتیں  ہوئیں، میں  نے کچھ نہیں  کہا، کہتا بھی کیا؟ مخدوم کو تو یاد بھی نہ ہو گا کہ انہوں  نے کیا لکھا، کیا چھپا، لیکن اس کی تلافی خود ہی اس طرح ہو گئی کہ ایک شام اسی ’جانس‘ میں  مَیں  اپنی ایک نظم ’’لوگ کہتے ہیں‘‘ سنا رہا تھا جب میں  اس نظم کے تیسرے  مصرعے پر پہنچا ’’تم بھی لوگوں  کی کہی باتوں  میں  آ جاتی ہو‘‘ تو مخدوم نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ میری جانب بڑھایا اور میں  نے جھپٹ کر تیزی سے ان کا ہاتھ تھام لیا کہ وہ کہیں  اپنا ہاتھ واپس نہ کھینچ لیں۔ اس نظم میں  کوئی خوبی ہو یا نہ ہو لیکن اس میں  کچھ شائبہ خوبیِ تقدیر، ضرور تھا کہ پھر کئی برسبعد ناگپور سے شاہد کبیر نے مجھے ’ہندوستان ٹائمز‘ کا ایک تراشا بھیجا جس میں  خوشونت سنگھ نے اپنے کالم میں  اسی نظم کا انگریزی میں  ترجمہ کیا تھا۔ یہ نظم خوشونت سنگھ نے پرکاش پنڈت کی ایک پاکٹ بُک انتھالوجی میں  پڑھی اور انہیں  بھی یہ نظم اچھی لگی تھی۔ پھر کلدیپ سلِل نے اپنی انتھالوجی Great Urdu Nazms  میں  اس نظم کو اپنے انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کیا۔
یہاں  ایک اور واقعے کا ذکر شاید بے محل نہ ہو، ایک ایسی ہی محفل سے رات کے گیارہ، ساڑھے گیارہ بجے ہوں  گے۔، مخدوم نے ہم سے کہا چلو چلو۔۔۔ دو  رکشاؤں  میں  وہ، شاذ، عوض اور مَیں، ہمیں  بٹھایا یہ نہیں  بتایا کہ کہاں  جانا ہے آگے آگے مخدوم کا رکشا پیچھے پیچھے ہم، پھر جس محلے میں  یہ رکشا رُکا، وہ محبوب کی مہندی کا محلہ تھا اور جس گھر کی سیڑھیاں  چڑھ کر ہم اوپر پہنچے وہ مشہور طوائف نور کا مکان تھا۔ نور کے جسم اور چہرے کے نقوش خوبصورت لیکن عمر ڈھل رہی تھی۔ اس نے اپنی عمر، جوانی سب کچھ اپنی بیٹی سرتاج کو دے دیا تھا۔ قدرت نے سرتاج کے حصے کا حسن اسے علاحدہ دیا تھا، گویا شرابیں، شرابوں  میں  مل گئی ہوں۔ اس غیرتِ ناہید نے اس رات ساز پر صرف مخدوم کی غزلیں  سنائیں۔ ابھی میری شادی تک نہیں  ہوئی تھی۔ میں  ایک کونے میں  سکڑا سمٹا بیٹھا تھا۔ مخدوم نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ میں  اُن کے پاس بیٹھا تو میرے سر پر ایک روپے کا نوٹ رکھ دیا۔ سرتاج بیٹھے بیٹھے کھسک کر میرے پاس آئی اور میرے سر پر سے نوٹ اٹھا لیا۔ میں  بہت شرمیلا ایسی کسی محفل میں  میری یہ پہلی ( اور آخری بھی ) بار یابی تھی۔ مخدوم نے کئی بار اسی طرح میرے سر پر نوٹ رکھے جو سرتاج بڑے ناز سے اٹھا لیتی۔ سرتاج کی آواز اور مخدوم کی غزلیں۔ وہ رات نہیں بھولے گی اس رات مخدوم اور بھی خوبصورت لگ رہے تھے۔ وہ رات جیسے آئی تھی ایسے ہی دبے قدموں  گزر گئی، پھر سُنا سرتاج نے اپنے کسی چاہنے والے سے شادی کر لی اور حج بھی کیا۔
وقت اس قدر جلد کیسے گزر جاتا ہے۔ یہ کسی کی سمجھ میں  نہ آ سکا تو میری سمجھ میں  کیا آتا۔ 1967 ء میں  میرا تبادلہ کیرالا ہو گیا۔ ہر سال، کبھی سال میں   دو تین بار چھٹی لے کر حیدرآباد آتا تو کافی دن ٹھہرتا سب سے ملاقات ہوتی۔ میرا تبادلہ کیرالا ہوا تو مخدوم نے کہا تھا، کوئی کام پڑے تو نمبودری پد (کمیونسٹ قائد۔ جو اس وقت چیف منسٹر تھے یا شاید اس وقت تک اس عہدے سے ہٹ گئے تھے )  سے مل لینا۔ میرا نام لینا یا میں  خط لکھ دوں  گا۔ لیکن مجھے ایسی کوئی ضرورت محسوس نہیں  ہوئی۔    اسی طرح ایک بار کیرالا سے حیدر آباد آیا تو یہ دلخراش خبر سننے کو ملی کہ مخدوم اب نہیں  رہے۔ وہ دہلی گئے تھے وہاں  سے حیدرآباد ایسے لوٹے گویا لوٹے ہی نہیں، اُنہیں  کہیں  اور جانا تھا، سارا شہر سوگوار تھا، لال جھنڈا لہرا رہا تھا اور ایک آواز آ رہی تھی جسے مخدوم ہی سن سکتے تھے، ’لال موز ہمارا موز۔۔۔ ‘۔ شاذ بے حد غمگین تھے۔ یہ ان کے لیے ذاتی سانحہ تھا گویا ان کا کوئی سب سے قریبی عزیز بچھڑ گیا ہو۔ انہوں  نے ایک طویل بہت اچھی نظم لکھی۔ میں نے بھی ایک نظم لکھی جو بہت مختصر ہے اس میں  وہ بات تو نہیں جو شاذ کی نظم میں  ہے، لیکن نہ جانے کیوں  مجھے اچھی لگتی ہے۔ اس نظم کا پہلا مصرع ہے   ع
اشک پلکوں  سے ڈھلکتے ہوئے رخسار تک آ جاتے ہیں
اور ان مصرعوں  پر ختم ہوتی ہے؎
میرے شاعر !میرا سرمایہ یہی آنسو ہیں
اور تو کچھ بھی نہیں  جو میں  تری نذر کروں
یہی کچھ پھول لیے آیا ہوں
اک دیا تیرے سرہانے رکھ دوں !
___________
 (’’سب رس‘‘ حیدرآباد)





حسن عسکری، چند ملاقاتیں  


حسن عسکری صاحب سے میں  کم کم ملا ہوں۔ لیکن یہ ملاقاتیں  ایک طویل عرصے پر محیط رہی ہیں۔ اب مومن کا یہ شعر زبان پر آتا ہے ؎   ’’تھا مقدر میں  اُس سے کم ملنا ؛ کیوں  ملاقات گاہ گاہ نہ کی‘‘۔ یہ ان  دنوں  کی بات ہے جب شاذ تمکنت، عوض سعید اور میں  تقریباً روز ہی شام کو اورینٹ جایا کرتے تھے۔ یہاں  گاہے گاہے اتوار کے دن عسکری صاحب سے ملاقات ہو جاتی۔ شام کے اوقات میں  عسکری صاحب کم ہی اورینٹ کا رُخ کرتے تھے۔ اورینٹ میں  ہماری گفتگو کا موضوع ادب اور خاص طور پر شاعری ہوتی۔ کبھی خورشید احمد جامی بھی ہوتے اور کسی نے کوئی نئی نظم یا غزل لکھی ہو تو وہ سنی جاتی اور اس پر بحث چھڑ جاتی۔
غالباً اُن دنوں  عسکری صاحب کا یہ معمول تھا کہ اتوار کے دن گیارہ بجے گھر سے نکل پڑتے۔ دوستوں  سے ملنا ہوتا تو اُن کے گھر جاتے۔ پھر انہیں  لے کر اورینٹ آ جاتے یا کسی بار میں  کچھ دیر بیٹھتے۔ پھر سب اپنے اپنے گھر چل پڑتے یا عسکری صاحب سب کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاتے اور وہاں  رات دیر گئے تک محفل جمتی۔ ایک بار ایسا ہی ہوا۔ میں  اتوار کی صبح انور معظم صاحب کے گھر گیا۔ وہاں  وحید اختر بیٹھے تھے۔ اِدھر اُدھر کی باتیں  ہوتی رہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں  حسن عسکری آ گئے اور پھر باتوں  کا سلسلہ طویل ہو گیا۔ عسکری صاحب جب آئے تو گیارہ ساڑھے گیارہ کا عمل ہو گا۔ جب ظہر کی اذاں  کی آواز کانوں  میں  آئی تو عسکری اچانک کھڑے ہو گئے۔ بولے ’’چلو عابڈس چلتے ہیں‘‘۔ ہم چاروں  باہر نکلے اور آٹو ڈھونڈنا چاہا تو بولے ’’نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ٹیکسی کھڑی ہے‘‘۔ وہ دو ڈھائی گھنٹے تک نہایت اطمینان کے ساتھ بیٹھے باتوں  میں  مصروف تھے اور ٹیکسی کا میٹر بڑھ رہا تھا۔ لیکن انہیں  کوئی فکر نہیں  تھی۔ پھر وہ ہمیں  عابد شاپ پر ایک بار میں  لے گئے۔ بزم رنداں  میں  کھانے کا انتظام بھی تھا۔ میں  نے اور انور صاحب نے صرف کھانا کھایا کیوں  کہ ہمارے بارے میں  فانیؔ بہت پہلے کہہ گئے تھے؎
حرم و دیر کی گلیوں  میں  پڑے پھرتے ہیں
بزم رِنداں  میں  جو شامل نہیں  ہونے پاتے
لیکن ہم نہ تو بزم رنداں  میں  تھے نہ اس وقت تک حرم و دیر کی گلیوں میں۔ خیر یہ تو جملۂ معترضہ تھا۔ قصّہ مختصر یہ کہ وہاں  سے عسکری صاحب ہمیں  اپنے گھر لے گئے۔ جب ٹیکسی اُن کے گھر پر رُکی تو انہوں  نے جیب سے پرس نکالی۔ لیکن پرس تو وہ بار میں  خالی کرچکے تھے۔ ہم لوگوں  نے چاہا کہ کچھ چندہ کر کے ٹیکسی کے کرائے کا جُگاڑ کریں۔ ٹیکسی صبح سے انگیج تھی۔ ملے پلی انور معظم صاحب کے گھر اور خدا جانے کہاں  کہاں  گھومتی، عابد شاپ اور اب عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس۔ شام کے چار بج رہے تھے۔ نہ جانے کتنا کرایہ ہو گا۔ ہم سوچ رہے تھے ہم سب کے پاس ملا کر بھی اتنے پیسے نکل سکیں گے یا نہیں۔ لیکن عسکری صاحب نے بائیں  ہاتھ کے اشارے سے ہمیں  روکتے ہوئے سیدھے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی ٹیکسی ڈرائیور کی طرف اُٹھائی اور بس ایک لفظ دو بار کہا ’’کل۔۔۔ کل۔۔۔‘‘ اور وہ ٹیکسی والا مؤدبانہ انداز میں چند قدم پیچھے ہٹتا ہوا انہیں  نہایت احترام سے سلام کرتا ہوا رخصت ہو گیا۔ ہم حیران تھے، سوچتے ہی رہ گئے کہ اگر عسکری صاحب کی جگہ ہم ہوتے تو ہمارا کیا حشر ہوتا۔ لطف کی بات یہ کہ عسکری صاحب کو اپنے احباب کی اعانت بھی منظور نہ تھی۔ آخر ہم اُن کے مہمان تھے۔
اُسی زمانے میں  ہمیں  ریس کا بھی شوق تھا۔ میں، عوض سعید اور سید خالد قادری، وہاں  کبھی ہمیں  عسکری صاحب بھی مل جاتے۔ کہیں  کھڑے یا بیٹھے قلم ہاتھ میں لیے، ریس بُک کھولے، کچھ سوچتے ہوئے۔ ریس کے تین، چار گھنٹوں  کے دوران کئی بار اُن سے مڈ بھیڑ ہوتی یا وقفے وقفے سے ان کا ساتھ رہتا۔ عسکری، جیسا کہ اُن کے ملنے والے سب ہی جانتے ہیں، نہایت وجیہہ، خوش شکل، دراز قامت اور دل موہ لینے والی شخصیت کے حامل تھے۔ تھری پیس سوٹ میں  ملبوس، با وقار انداز میں  ریس کورس میں  انہیں  ٹہلتے ہوئے دیکھ کر لوگوں  کو شک ہوتا کہ یہ کئی گھوڑوں  کے مالک یا کم سے کم یہ کہ ان مالکوں  یا ٹرینرس کے کوئی بہت ہی قریبی دوست یا رشتہ دار ہوں  گے۔ کوئی قسمت کا مارا اُن سے Tip مانگنے آتا تو وہ نہایت nonchalant، درویشانہ انداز میں  ہاتھ کی انگلیوں  سے گھوڑے کا نمبر بتا دیتے۔ اگر وہ گھوڑا جیت جاتا تو اس شخص کی نگاہوں  میں  عسکری صاحب کی قدر و منزلت اور بڑھ جاتی اور یوں  وہ اُن کا مرید ہو جاتا۔ اگر ہار جاتا تو عسکری صاحب نہایت مختصر الفاظ میں  کوئی ایسی تاویل پیش کرتے کہ اپنی محرومیِ قسمت کے علاوہ اس شخص کے پاس اپنی ہار کا کوئی جواز نہ ہوتا۔ مثلاً یہی کہ ’’میں  نے تو چوتھی ریس کا گھوڑا بتایا تھا، تم تیسری ریس ہی میں  دو نمبر کھیل گئے‘‘۔ یا یہ کہ ’’کہاں  مُنہ اٹھائے چل دئے۔ میں  نے تو پانچ نمبر بھی بتایا تھا کیوں  کہ مجھے اس سے بھی ڈر تھا It is also a fine animal دونوں  کیوں  نہیں  کھیلے‘‘۔ ان کی شخصیت کا جادو عجیب تھا۔ لوگ اُن کے مشوروں  پر عمل کر کے جیتتے لیکن اگر مسلسل ہار ہوتی تب بھی اُن سے شکایت کرنا تو درکنار۔۔۔ ہارتے جیتتے، لیکن اُن سے مشورہ لینے ضرور آتے۔ ریس کورس میں  یوں  بھی لوگ ایک عجیب اضطرابی کیفیت میں  مبتلا رہتے ہیں۔ بقول میرؔ ؎
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
اوپر میں  نے جس واقعے کا ذکر کیا کہ وہ ٹیکسی میں  دن بھر گھومنے کے بعد اُسی ٹیکسی میں  ہمیں  اپنے گھر لے گئے۔۔۔ شاید اسی دن یا کسی اور دن۔۔۔ میں  دو ایک بار اُن کے گھر گیا ہوں، ان کے گھر پر رَمی کی محفل جمی تھی، اختر بھائی ( اختر حسن)، وحید اختر، انور معظم، عسکری صاحب، میں، اور بھی کچھ لوگ تھے۔ کھیل ختم ہوا پھر عسکری صاحب کی فرمائش پر سب نے ایک ایک غزل یا نظم سنائی میں نے غزل سنائی اس میں  شعر تھا ’’اے کاش تری ذات ہی ہوتی مری دنیا ؛ اب تیری وفاؤں  سے بھی کیا مجھ کو ملے گا‘‘۔ وحید اختر کے ہونٹوں  پر ایک مسکراہٹ کی لکیر ابھری۔ میں  زیادہ شاذ تمکنت کے ساتھ رہتا تھا اور وحید اور شاذ میں  ٹھنی ہوئی تھی۔ بولے ’’کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ پڑھو۔۔۔ پھر پڑھو۔۔۔ کیا کہا ’’اے شاذ تری ذات ہی ہوتی مری دنیا‘‘ اور ہم سب ہنس پڑے۔ وحید اختر نہایت ذہین، بہت پڑھے لکھے۔ سب پر چوٹیں  کرتے تھے۔ لیکن ان کی حس مزاح غضب کی تھی۔ یہ واقعہ یہاں  اس لیے آ گیا کہ یہ محفل عسکری صاحب کے گھر پر جمی تھی۔
ایک اور محفل یاد آ رہی ہے: میرے پہلے شعری مجموعے ’’فائزا‘‘ کی رسم اجراء کی تقریب تھی، کتاب کی رسم اجراء جیلانی بانو نے انجام دی جلسے کے صدر شاذ تمکنت تھے۔ مقررین اور مضمون نگاروں  میں  کئی اہم نام تھے۔ عالم خوند میری، مغنی تبسم، غیاث متین، یوسف اعظمی، رؤف خلش، مرلی دھر شرما، جہاں تک مجھے یاد ہے اس فہرست میں  حسن عسکری صاحب کا نام نہیں  تھا۔ شاید میں  نے کوشش کی ہو اور ان سے ملاقات نہ ہوسکی کہ میں  ان سے کچھ لکھنے یا تقریر کی فرمائش کرتا۔ لیکن مجھے بے حد خوشی ہوئی جب میں  نے انہیں  ہال میں  موجود پایا۔ جلسے کے دوران ہی رسم اجراء کے فوراً بعد وہ خود ڈائس پر آئے، اپنے مخصوص انداز میں  مجھے گلے لگا کر میرے گال کو بوسہ دیا اور بہت مختصر ایسی تقریر کی کہ ہال تالیوں  سے گونج اٹھا یہ ان کی عالی ظرفی تھی اور ان کی مقبولیت کا ادنٰی سا کرشمہ۔
جیساکہ میں  نے پہلے کہا عسکری صاحب سے میری ملاقاتیں  بہت کم رہی ہیں۔ اس شہر حیدرآباد ہی میں  کئی لوگ ہیں  جو اُن سے بہت قریب ہیں  اور جنہوں  نے انہیں  بہت قریب سے دیکھا ہو گا۔ مسلسل ملاقاتوں  کا سلسلہ رہا ہو گا جیسے نرسنگ راؤ، مغنی تبسم، انور معظم، مجتبیٰ حسین،   ایم۔ ٹی خان، قدیر زماں، علی ظہیر اور بھی کئی لوگ ہیں۔ پھر بھی چند ملاقاتوں  ہی میں  ان کی دلفریب شخصیت نے میری ذہن و دل پر جو نقوش مرتسم کیے میں  نے چاہا انہیں  محفوظ کر لوں  ہر چند کہ ان پر کچھ لکھنے کا حق ان کے قدیم احباب ہی کو جاتا ہے۔ خاص طور پر عالم صاحب اگر حیات ہوتے یا اپنی زندگی ہی میں  عسکری صاحب پر کچھ لکھ جاتے تو یہ سب سے معتبر تحریر ہوتی۔
ہمارا شہر حیدرآباد ایک galaxyہے۔ نہ صرف شاعر، صورت گر اور افسانہ نویس بلکہ بہت اچھے ناقدین اور محققین کا بھی یہ شہر مرکز رہا ہے۔ لیکن ہمارے بیش تر بڑے نقادوں  نے دکنی یا کلاسیکی ادب پر کام کیا ہے۔ جدید علوم سے اپنا سروکار رکھنے یا جدید ادب کو اپنا موضوع بنانے والوں  میں  اس وقت مجھے بس چند ہی نام نظر آتے تھے۔ سب سے پہلے عالم خوندمیری پھر مغنی تبسم، حسن عسکری اور یہ تینوں  نام آج بھی میرے لیے محترم ہیں۔ حسن عسکری نہ صرف بہت اچھے نقاد تھے بلکہ نثری نظم کے بہت اچھے شاعر بھی۔ میں  نے ان کی نظمیں  پڑھی ہیں  بلکہ ایک ہی میز پر اُن کے ساتھ بیٹھ کر سنی بھی ہیں۔ ان کے مزاج میں  ایک شاعر کی ساری صفات تھیں۔ میں  نے مجاز کے بارے میں  جو جو پڑھا تھا یا سُن رکھا تھا اُس کے سارے عکس بلکہ کچھ ایسے Shades بھی جو شاید مجاز کے ہاں  بھی نہ ہوں اِدھر اُدھر اُن کی شخصیت میں  جھلکتے ہوئے نظر آتے تھے۔ میرا خیال ہے کہا اگر وہ صرف شاعری کو اپنی فکر و خیال کے اظہار کا ذریعہ بناتے تو ہمیں  اور بھی بہت کچھ دے سکتے تھے۔ وہ سماجیات کے عالم تو تھے ہی لیکن سماجیات کے علم کے علاوہ انہیں  ادب اور مذہب سے بھی خاص شغف تھا۔ انہوں  نے مختلف موضوعات پر کئی کتابیں  اور مضامین لکھے جنہیں  علمی حلقوں  میں  قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
حسن عسکری کا ایک خاص وصف یہ بھی تھا کہ  وہ ایک منفرد سوچ رکھتے تھے، فلسفیانہ مزاج اور نکتہ رس نگاہ کے حامل تھے۔ وہ نہایت وسیع المطالعہ شخص تھے اور کسی بھی موضوع پر اس طرح اظہار خیال کر سکتے تھے کہ اہل دانش چونک پڑیں۔ پھر ان کا انداز بیان بھی غیر معمولی ڈرامائی ہوتا تھا اور بات اتنی دلپذیر کہ سامنے کھڑے ہوئے شخص کو متفق ہونے کے علاوہ کوئی اور راہِ فرار نہ مل سکے  ع
پیدا کہاں  ہیں  ایسے پراگندہ طبع لوگ
___________
 (’’سب رس‘‘ حیدرآباد)




مغنی تبسم کی یاد میں  

                      
اور پھر وہ دن آ ہی گیا جس کے بارے میں  ہم خائف تھے کہ اب بہت دور نہیں۔ پندرہ فروری کی وہ ایک اداس شام تھی۔ میں  نے فاطمہ بھابی (بیگم عوض سعید جو مغنی کی بہن بھی ہیں ) کو فون کیا کہ مجھے اسپتال آنے میں  تھوڑا وقت لگے گا۔ گھر میں  فرش گردو غبار سے اٹا پڑا ہے۔ پلمبنگ کا کام ابھی ختم ہوا ہے۔ اس وقت ساڑے پانچ کا عمل تھا۔ میں  نے پوچھا مغنی اب کیسے ہیں ؟ انہوں  نے رندھی ہوئی آواز میں  کہا ’’بھائی اب نہیں  رہے۔ ابھی سوا پانچ بجے اُن کا انتقال ہو گیا۔ میں  دوا خانے جا رہی ہوں‘‘۔ میں  اسی وقت کئیر ہاسپٹل کے لیے نکل پڑا۔ وہاں  مغنی صاحب کو MICU سے کمرہ نمبر ۶۰۱میں  منتقل کیا جا چکا تھا۔ مغنی صاحب کے دنوں  بیٹے محتشم نوید اور معتصم نجیب جو امریکہ سے اسی صبح پہنچے تھے۔ بیٹی دینا، فاطمہ بھابی اور دیگر اعزّا غم کی تصویر بنے کھڑے تھے۔ مغنی لیٹے ہوئے تھے۔ ان کہ چہرے پر ایسا سکون تھا جو بیماری کے دوران گھر پر یا پچھلے چند دنوں  میں  جب سے وہ دوا خانے میں  شریک تھے، میں  نے کبھی نہیں  دیکھا۔ گویا وہ بھی ہماری طرح اس دن کے منتظر تھے لیکن ہماری طرح خائف نہیں۔ بہت مطمئن اور آسودہ جیسے انہیں  کہیں  جانا تھا اور اب وہاں  پہنچ گئے ہوں۔ اور یہ بات میں  رسماً نہیں  کہہ رہا ہوں۔
مغنی صاحب پچھلے دو ڈھائی سال سے اپنی بیماری کے سبب گھر میں  قید ہو کر رہ گئے تھے۔ اِدھر پچھلے چند مہینوں  میں  اُنہیں PROSTATE اور پھیپڑوں  کے متاثر ہونے کے سبب کئی بار دوا خانے جانا، وہاں  رہنا پڑا لیکن وہ گھر لوٹ کر پھر ’’شعر و حکمت‘‘ اور اپنے لکھنے پڑھنے کے کاموں  میں یوں  مشغول ہو جاتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اس باراسپتال میں  مغنی صاحب کُل چھیَ دن رہ سکے۔ انہوں  نے 15 فروری کو آخری سانس لی۔  مغنی صاحب کے انتقال سے چند ہفتے پہلے اور وہ بھی محض اتفاقاً ہمیں  علم ہو سکا کہ انہیں  کینسر ہو گیا ہے۔ تنفس کی شکایت سے سب واقف تھے۔ وقفے وقفے سے آکسیجن ماسک لگانی پڑتی تھی۔ یورین انفکشن الگ۔ لیکن کینسر ؟۔ ڈاکٹروں  نے بتایا کہ اب کینسر Prostate  سے پھیپڑوں  تک پھیل چکا ہے۔ دونوں  گردے فیل ہو چکے تھے۔
۱۳/فروری کو مغنی کے انتقال سے محض دو دن پہلے شہر یار داغ مفارقت دے چکے تھے۔ شہر یار اور مغنی تبسم اب نہیں  رہے لیکن ’’شعر و حکمت‘‘ کی فائلیں  لائبریریوں  یا ہماری الماریوں  میں  ہمیں  ان کی رفاقت کی یاد دلاتی رہیں  گی۔ ’’شعر و حکمت‘‘ کا پہلا شمارہ ۱۹۷۰ء کے اوائل میں  شائع ہوا۔ پہلے شمارے ہی میں  اس وقت کے سارے اہم نقاد، ادیبوں  اور شاعروں  کی تخلیقات اس رسالے کی زینت تھیں، چند رکاوٹوں  اور وقفوں  کے باوجود اُن دونوں  نے یہ رسالہ دمِ آخر تک اپنی سخت علالت کے درمیان بھی جاری رکھا۔ کئی اہم نمبر جن کی اہمیت دستاویزی ہو سکتی ہے جیسے ن۔ م۔ راشد نمبر جس کے لیے مغنی اور شہر یار نے انتھک کوششوں  کے بعد کئی اہم لکھنے والوں  سے راشد کے بارے میں  مضامین لکھوائے۔ ’’شعر و حکمت‘‘ کے اس خصوصی شمارے کے بعد راشد پر کئی رسائل کی خصوصی اشاعتیں  منظر عام پر آئیں، لیکن ’’شعر و حکمت‘‘ کے ن۔ م۔ راشد نمبر کی انفرادیت اور اہمیت اپنی جگہ ہے۔ ’’شعر و حکمت‘‘ میں  میراجی، مخدوم، جذبی، اور کئی اہم ادیبوں، شاعروں  کے گوشے بھی شائع ہوئے جن سے ہمیں  ان شخصیتوں  کا مکمل تعارف حاصل ہو سکا۔
شہریار ہی نہیں، مغنی اپنے سبھی دوستوں  پر جان چھڑکتے تھے، چاہے وہ ان سے عمر میں  چھوٹے ہوں  یا بڑے۔ اُن کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی ایسی تھی کہ میں   اپنے شہر یا ملک کے باہر جاؤں، حیدرآباد کے حوالے سے لوگ مغنی صاحب کے بارے میں  ضرور پوچھتے۔ کراچی میں  مشتاق احمد یوسفی ہوں، آصف فرخی، ناصر بغدادی ہوں  یا احمد ہمیش۔ لاہور میں  وزیر آغا یا انور سدید سے فون پر بات ہو یا ہیوسٹن میں  احمد مشتاق سے ملوں، مغنی کا ذکر ضرور آتا۔ جب تک مغنی کی صحت اچھی رہی، جو ادبی شخصیت حیدرآباد وارد ہوتی مغنی صاحب ادارے میں  اس کے اعزاز میں  جلسے کا اہتمام کرتے۔ وہ جس تہذیب کے پروردہ تھے اس کے اخلاق اور اس کے تربیت یافتہ افراد کی شرافت اور کردار کے رکھ رکھاؤ کی مثالیں  اب کم ملیں  گی۔ آپ ان سے ملنے جائیں، اُن کی جنبشِ لب یا کسی اشارے کے بغیر چائے آپ کے لیے آ جائے گی۔ وہ اگر کھانا کھا رہے ہوں  تو اصرار کریں  گے کہ آپ ان کا ساتھ ضرور دیں۔ اگر بیماری کے سبب کوئی آزار ہو یا وہ اس وقت کسی ذہنی یا جذباتی صدمے سے دوچار ہوں  تو اس کے آثار آپ کو ان کے چہرے پر کہیں  نظر نہیں  آئیں  گے۔
مغنی صاحب نے حیدرآباد کی جس ادبی فضا میں  آنکھ کھولی، وہ شاید حیدرآباد کی ادبی تاریخ کا سب سے زرّین دور تھا۔ علامہ حیرت بدایونی، ڈاکٹر زور، مخدوم، راج بہادر گوڑ، عابد علی خاں، محبوب حسین جگر، ابراہیم جلیس، سلیمان اریب، خورشید احمد جامی، علم و ادب اور صحافت کے ایسے درخشاں  ستارے تھے جن سے حیدرآباد کی ادبی فضاء جگمگارہی تھی۔ اریب کا دفتر ۱۷۔ مجرّد گاہ جہاں  مخدوم اور شاہد صدیقی تو کبھی کبھار آتے لیکن شاذ تمکنت، عوض سعید، انور معظم، وحید اختر، زبیر رضوی عزیز قیسی، ابن احمد تاب اور کئی ادیب شاعر ایسے تھے جن کے لیے یہ دفتر گھر کی طرح تھا۔ دن رات میں  جس وقت جب چاہتے آتے جاتے، گھنٹوں  بیٹھے رہتے۔ ڈاک دیکھی جا رہی ہے، باتیں، چائے، تنقید، بحثیں۔ ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ چند عارضی ملازمتوں  کے سبب کم کم سہی لیکن مغنی ان صحبتوں  کا حصہ رہے۔ حیدرآباد کے اس ماحول اور اپنے اپنے علمی، ادبی شغف نے ان سب لوگوں  کے وژن اور صلاحیتوں  کے پروان چڑھنے میں  غیر معمولی رول ادا کیا۔ پھر لوگ بکھر گئے، بہت پہلے زبیر رضوی اور پھر بعد میں  مجتبیٰ حسین دہلی کے ہو کر رہ گئے۔ عزیز قیسی بمبئی سدھارے، وحید اختر نے علی گڈھ میں  اپنا ٹھکانہ بنالیا۔ جو لوگ حیدرآباد میں  رہ گئے اُن کی دوسری مصروفیتوں  نے انہیں  گھیر لیا لیکن جوانی کے دنوں  کی ملاقاتوں، محبتوں  اور خلوص نے دوستی کے ایسے رشتے کو جنم دیا جسے مغنی اور یہ سب لوگ عمر بھر نباہتے رہے۔
مغنی صاحب کی نگاہ نہایت باریک بین تھی، اور وہ ادب کی ہر صورت حال سے باخبر رہنے کے لیے کوشاں  رہتے تھے۔ ’’شعر و حکمت‘‘ کے علاوہ مغنی صاحب نے ایک طویل عرصے تک ’’سب رس‘‘ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ ڈاکٹر زور کی وفات کے بعد ادارۂ ادبیات اردو کی بقا اور اس رسالے کے کردار کو برقرار رکھنے میں  انہوں  نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ ’’شعر و حکمت‘‘ اور ’سب رس ‘کے اداریئے ان کی ذہنی کشادگی، مطالعے کی وسعت اور ادب کی مختلف تحریکوں  سے ان کی واقفیت کے ضامن ہیں۔ مغنی ہمہ وقت ادیب تو تھے ہی، میں  نے اُن میں  جوہر شناسی کا ایسا وصف دیکھا جو یونیورسٹیوں  کے دوسرے اساتذۂ ادب میں  شاید نظر نہ آئے۔ اپنے کئی باصلاحیت شاگردوں  جیسے سلیمان اطہر جاوید، بیگ احساس، رحمت یوسف زئی، اکبر علی بیگ، کے علاوہ وہ اپنے قریبی دوستوں  میں  بھی کوئی ایسی صفت پاتے جس سے ان کے خیال میں  علم و ادب کے میدان میں  کچھ نئے خیالات، نئے گوشے، نئے زاویئے راہ پا سکیں  تو وہ بہ اصرار اُن سے لکھنے کے لیے کہتے۔ بہت سامنے کی مثال اسامہ فاروقی کی ہے، جن کو انہوں  نے روسی اور دوسری زبانوں  سے تراجم پر اُکسایااور سید خالد قادری جن سے تھیوری کے موضوعات پر متواتر مضامین لکھوائے اور انہیں  نمایاں  طور پر اپنے رسالے میں  شائع کیا۔ موجودہ حیدرآباد میں  اقبال متین، مجتبیٰ حسین، انور معظم، قدیر زماں، راشد آزر، سید خالد قادری، عزیز آرٹسٹ، علی ظہیر۔ یہ وہ لوگ ہیں  جو مختلف ادوار میں  ان کے بہت قریب رہے ہیں۔ اس فہرست میں  میرا نام بھی آتا ہے۔ مغنی نے میرے پہلے مجموعے ’’فائزا‘‘ کا  ٹائٹل بنایا، اس کی طباعت خود کروائی۔ میری شاعری پر مضامین پڑھے، تبصرے لکھے، یہی نہیں  بلکہ اپنی کتاب ’’پہلی کرن کا بوجھ‘‘ کی رسم اجرائی میرے ہاتھوں  کروا کے میری عزت افزائی کی۔
مغنی صاحب سے میری ملاقات ساٹھ کی دہائی سے ہے جب میں  نے لکھنا شروع کیا، میں  نے مغنی صاحب کو ہر عالم، ہر رنگ میں  دیکھا ہے۔ جلسوں  میں  سوٹ پہنے، مائک تھامے، رُک رُک کر سپاٹ لہجے میں  لیکن، ذہانت سے بھرپور کوئی ایسا نکتہ چھیڑتے ہوئے جس پر ان سے پہلے کئی جادو بیان مقررین کی نگاہ تک رسائی نہ ہو سکی ہو۔ گھروں  میں، ہوٹلوں  میں، بار میں، کبھی آدھی رات کے بعد جب ساری دوکانیں  بازار، بار بند ہو جاتے عوض سعید اور شاذ کے ہمراہ میں  بھی دیسی شراب کے اڈوں  پر ریت اور سمنٹ کی بوریوں  پر اُن کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ ان کے ساتھ شراب نہیں  پی لیکن گانجے کے سگریٹ پئے ہیں۔ شاذ کے یہ کہنے پر کہ پیارے اس وقت مغنی کو سواری کہاں  ملے گی اپنی اسکوٹر پر انہیں  اُن کے گھر تک چھوڑا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب مغنی کی دوسری شادی نہیں  ہوئی تھی اور اُن کی ازدواجی زندگی ایک نہایت نازک موڑ اختیار کر چکی تھی۔
مغنی صاحب نہایت شائستہ اخلاق کے حامل، مہذب، کم آمیز، سنجیدہ، کاروبار زندگی کے معاملات میں  دور اندیش اور ہر کام بہت ٹھہر ٹھہر کر قرینے سے کرنے کے عادی تھے۔ لیکن ان دبیز پردوں  کے پیچھے وہ ایک نہایت بے چین روح کے مالک تھے۔ کبھی کبھار کچھ ایسی حرکتیں  ان سے سر زد ہو جاتیں  جو ان کی فطرت کے عین خلاف لگتیں۔ حالانکہ یہ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہوتے۔ ایک بار مجھ سے محض اس بات پر ناراض ہو گئے کہ ایک میوزک کنسرٹ میں  اوم پرکاش نرمل (نرمل جی) کے ایک دوست کی بیٹی میرے پاس بیٹھی تھی۔ باتیں  کرتے کرتے اس کا سر میرے کاندھے سے ٹکرا گیا۔ اس میں  نہ میرا کوئی قصور تھا نہ مغنی کا، وہ چاہتے ہوں  گے کہ اس وقت اس لڑکی کا سر اُن کے کاندھے پر ہو۔ یہ محض ان کی حسن پرستی تھی اور اُن دنوں  وہ بہت تنہا تھے۔ مغنی اندر سے بہت جذباتی تھے۔ کبھی کبھی تو بے وجہ کسی کو چاہنے لگتے تو ٹوٹ کر چاہتے۔ کسی کا کوئی شعر پسند آ جاتا تو بے خود ہو جاتے۔ ایک کمزور لمحے میں  مجھے شاذ سے بہتر شاعر کہہ دیا جس پر شاذ سے ہزار اختلافات اور رنجشوں  کے باوجود وحید اختر برہم ہو گئے بلکہ عوض کے نام علیگڈھ سے ایک خط میں  اس کا ذکر بھی کر دیا (’’کلیات عوض سعید‘‘ ص:۲۳۹)۔ ایسے ہی کسی اور کمزور لمحے میں  شاذ کو فیض پر فوقیت دے دی۔ ’’تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی‘‘۔ لیکن وہ تنقید لکھتے تو اس میں  ایسی بے راہ روی کو راہ نہیں  پانے دیتے۔ قلم دوات لے کر بیٹھتے تو بہت سنبھل کر لکھتے۔ ایک دلچسپ واقعہ سناؤں۔ ایک رات بہت دیر گئے ہم لوٹ رہے تھے دو سائیکل رکشا میں۔ مغنی اور شاذ ایک رکشا میں  بیٹھے تھے۔ میں  اور عوض آگے آگے دوسرے رکشا میں۔ اچانک مغنی کو کیا سوجھی، رکشا والے سے کہا ’’اترو‘‘ اُسے شاذ کے ساتھ بٹھایا اور خود رکشا چلانے لگے، رکشا راں  غریب آدمی سکڑا سکڑا سمٹا سمٹایا شاذ کے پہلو میں  بیٹھا تھا۔ میں  اور عوض حیرت سے پیچھے مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ شاذ ہنس رہے تھے اور مغنی کوٹ پتلون پہنے ٹائی لگائے رکشا کھینچ رہے تھے۔ مغنی سے کچھ بھی بعید نہ تھا۔ ’’شعر و حکمت‘‘ کے لیے عالم خوند میری سے کوئی مضمون لکھوانا تھا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ عالم صاحب ایک بار اُن کے گھر آئے تو مغنی نے کچھ دوستوں  کی مدد سے انہیں  کاغذ قلم دے کر ایک کمرے میں  بند کر دیا اور کہا جب تک آپ یہ مضمون نہیں  لکھیں  گے کمرے سے باہر نہیں  آ سکتے۔ عالم صاحب آدھے گھنٹے میں  ایک نہایت عمدہ مضمون لکھ کر کمرے سے باہر آ گئے۔
اپنی شدید بیماری کے دنوں  میں  بھی میں  نے مغنی صاحب کو کبھی حرفِ شکایت زبان پر لاتے ہوئے نہیں  دیکھا۔  ’کچھ رنجِ دل میرؔ جوانی میں  کھنچا تھا‘ سو اس کی زردی اُن کے رخسار سے کبھی نہ جا سکی۔ بڑھتی عمر کے ساتھ مغنی میں  صبر و تحمل کی ایسی صفت پیدا ہو گئی تھی کہ حیرت ہوتی وہ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ انہیں  غصہ بہت کم آتا لیکن آتا تو بہت شدید۔ ایک بار اپنے ایک نہایت عزیز شاگرد پر بری طرح برس پڑے اور کئی لوگوں  کی موجودگی میں  نہ جانے کیا کیا کہہ گئے۔ بعد میں  ان کے اس شاگرد نے اُنہیں  منا لیا۔ جلد یا بدیر وہ مَن جاتے تھے۔ قدیر زماں  سے ان کی دوستی بہت پرانی ہے۔ کئی بار اُن سے ناراض رہے لیکن شاگردوں  کی طرح نہیں۔ میل ملاپ ہو گیا۔ احباب کے مراتب کا خیال رکھتے۔ کوئی محبت سے ملتا رہے تو سب کچھ بھلا دیتے، ’’جسے ٹھنڈا پسینہ آ گیا جنت میں  داخل تھا‘‘۔ کسی کے ماتھے پر ٹھنڈا پسینہ نظر آئے تو اسے معاف کر دیتے، چاہے وہ آئینے میں  ان کا اپنا چہرہ ہی کیوں  نہ ہو۔
مغنی صاحب کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی اس لیے اس میں  بڑا تضاد نظر آتا تھا۔ جیسے آپ کسی Octagonal  طرز کی شئے کو گھمائیں  اور اس کے مخالف اضلاع کو ایکسرے نگاہوں  سے دیکھیں۔ لیکن مغنی کی شخصیت دو لخت یا بے ربط نہیں  تھی۔ مغنی کی شخصیت کے بظاہر متضاد پہلوؤں  میں  ایک باہمی ربط تھا۔ ممکن ہے بعض اوقات بعض حالات میں  کچھ لوگوں  کو مغنی بے رحم اور سفاک نظر آئیں  لیکن مغنی ایسے نہیں  تھے۔ نرمی، شفقت اور محبتوں  کا ایک دریا جو اُن کے اندر موجزن تھا، مغنی کے ذرا قریب بیٹھنے والے اپنے شانے کو چھوتی ہوئی ہواؤں  میں  اس دریا سے اٹھنے والی موجوں  کی نمی بہ آسانی محسوس کر سکتے تھے۔ دو بیٹوں  اور ایک بیٹی کی پیدائش کے بعد انہوں  نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی۔ کسی نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں  کیا تو بولے وہ کھانا اچھا نہیں  پکاتی تھیں۔ بات بظاہر مضحکہ خیز لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بس اس زنجیر کی ایک کڑی تھی جسے مغنی توڑ دینا چاہتے تھے۔ اُن دونوں  کے مزاج میں  شدید اختلاف تھا۔ یہ مغنی کی رحم دلی تھی خود اپنے ساتھ اور اپنی بیوی کے ساتھ کہ وہ دونوں  عمر بھر ایک دوسرے کو مستقل اذیت دینے سے محفوظ رہ سکے۔ لیکن یہ قدم اٹھانے سے پہلے مغنی کو خود اپنے اوپر جو ستم ڈھانے پڑے اس کی داستان الگ ہے۔ ازدواجی رشتے کے تقدس اور اس کی اہمیت کا انہیں  کس قدر احساس تھا اس کا اندازہ ہم اس سے لگا سکتے ہیں  کہ جب انھوں  نے دوسری شادی کی، اپنی ایک طالبہ ناز صدیقی سے جو عمر میں  ان سے پندرہ، بیس برس چھوٹی تھیں  تو شراب چھوڑ دی، نمازیں  پڑھنے لگے، انہیں  بے حد چاہا، خوش رہنے لگے لیکن ان کی خوشیوں  کا یہ عرصہ بہت مختصر تھا، ’خلل پذیر ہوا ربطِ  مہرو ماہ میں  وقت‘۔ شادی کے کچھ ہی برسوں  بعد ان کی اس دوسری بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پھر مغنی نے شادی نہیں  کی۔ اس کے بعد مغنی تیس برس زندہ رہے۔ جدائی کی اس طویل مدت میں  مغنی کی ذات سے کچھ باتیں  کچھ قصے بھی منسوب کئے گئے لیکن ان کی حیثیت محض افسانوی ہے اور اگر کچھ حقیقت ہو بھی تو ہم اسے مغنی کی لغزشِ مستانہ  سے تعبیر کرسکتے ہیں  کہ ؎
اٹھے کبھی گھبرا کے تو میخانے کو ہو آئے
پی آئے تو پھر بیٹھ رہے یادِ خدا میں  
اپنی شریک حیات کو سپردِ  خاک کر کے مغنی نے اس قبر کے برابر اپنی قبر کھدوائی اور اس طویل جدائی کے بعد وہیں  خود بھی آسودۂ خاک ہو گئے مجھے مارکوئیز کے ناول LOVE IN THE TIME OF CHOLERA کا مرکزی کردار FLORENTINO ARIZA   یاد آتا ہے جسے اپنے محبوب کی قربت اس وقت میسر آئی جب ا س کی  عمر بھی ستّر برس سے تجاوز کر چکی تھی۔ لیکن ARIZA  کے برخلاف مغنی کی اپنے محبوب سے یکجائی زندگی کی نہیں  بلکہ موت کی دین تھی۔ وہاں  زندگی تھی تو یہاں  موت، کبھی کبھی موت اور زندگی، کہانی اور حقیقت آپس میں  اس طرح گڈمڈ ہو جاتے ہیں  کہ انہیں  الگ الگ دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جہاں  تک مغنی صاحب کی ادبی خدمات یا ادب میں  ان کے CONTRIBUTION کا سوال ہے، میرے خیال میں  رسائل کی ادارت یا تنظیمی صلاحیتوں  سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مغنی ایک اچھے شاعر تھے اور نقاد بھی۔ اس خصوصیت کے حامل کئی اور نام بھی ہیں  لیکن مغنی ان چند لوگوں  میں  شامل ہیں  جنھوں  نے تنقید اور شاعری دونوں  کو ترازو کے دو پلڑوں  میں  اس طرح رکھا کہ یہ دونوں  ہی ہم پلّہ رہے۔ میراجی کو نفسیاتی تنقید کا مورث کہا جاتا ہے۔ لسانی اور اسلوبیاتی تنقید میں  مغنی کو یہ مقام حاصل نہیں۔ ان سے پہلے مسعود حسین خان کا نام آتا ہے لیکن مغنی نے جو کام کیا ہے خاص طور پر فانی پر انھوں  نے کتابی صورت میں  جو مقالہ تحریر کیا، ہر اہلِ  نظر نے اس کی داد دی۔
مغنی کی کئی خوبیوں  میں  میرے لیے ان کی یہ خوبی زیادہ دلنشین ہے کہ وہ ایک اچھے شاعر تھے۔ کچھ لوگ کہیں  گے مغنی میں  کئی خامیاں، کوتاہیاں  بھی تھیں۔ ہوں  گی مجھے اُن سے غرض نہیں۔ میں  نے مغنی کو کسی فرشتے کے روپ میں  نہیں  دیکھا، اور میں  سمجھ سکتا ہوں  ایسے ہی لوگوں  کو دیکھ کر حالی نے کہا ہو گا ’فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا ‘۔ مجھے تو اس وقت مغنی کی ہزاروں  خوبیوں  اور اُن کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات نے اپنے گھیرے میں  لے رکھا ہے۔ باتیں  اور بھی ہیں  لیکن اس تحریر کو اختتام تک پہنچانا ہے۔ یوں  بھی ’’وقت کوتاہ و قصہ طولانی‘‘ کیسے کیسے لوگ بچھڑتے جا  مجتبٰ  پر پہنچا ’’ رہے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے آنکھیں  بند کر لیں  اور پھر کھولیں  تو لگتا ہے ؎
صد سالہ دورِ چرخ تھا ساغر کا ایک دور
نکلے جو میکدے سے تو دنیا بدل گئی
______
(سہ ماہی ’’اردو ادب‘‘)




نرمل جی ____  ایک ہی شخص


(نرمل جی کے انتقال (اکتوبر۱۹۹۲ء) میں  ’’شعر و حکمت‘‘ میں  ان پر گوشہ ترتیب دیا گیا۔ یہ مضمون اس میں  شامل ہے)

نرمل جی ( اوم پرکاش نرمل)سے میری دوستی بہت پرانی ہے۔ ہم ۱۹۶۱ء سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ جب نرمل جی اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ہماری دوستی کی عمر تیس اکتیس سال تھی لیکن ایسا لگتا ہے وہ اب بھی میرے ساتھ ہیں۔ یوں  ہماری دوستی کی عمر چالیس سال سے بھی اوپر ہوتی ہے۔
حیدرآباد کے پُر رونق بازار عابد شاپ پر پیوپلس ٹیوٹوریل کالج نام کا ایک ادارہ تھا جہاں  میٹرک اور انٹر کی ٹیوشن کے ضرورت مند طلبا کی پڑھائی کا انتظام تھا۔ اس وقت شہر میں  شاید ایسے دو چار ہی ادارے ہوں  گے۔ ابھی ہر گلی کے نکڑ پر ڈگری کالجوں  یا مسابقتی امتحانات کی تیاری کروانے والے ٹیوٹوریلس کی ریل پیل نہیں  ہوئی تھی۔ میرے پاس جیالوجی کی ڈگری تھی لیکن چوں  کہ میٹرک انٹر وغیرہ کے نصاب میں جیالوجی کا مضمون نہیں  تھا۔ اس لیے میں  وہاں  اردو اور ریاضی پڑھاتا تھا۔ جب کہ ان دونوں  مضامین کی کوئی سند میرے پاس نہیں  تھی۔ نرمل جی ہندی پڑھانے پر مامور تھے۔ ہندی کی کوئی بڑی ڈگری ان کے پاس بھی نہیں  تھی۔ وہ نرے کوی تھے لیکن انہیں  ہندی ساہتیہ کا بڑا گیان تھا اور اگر پاجامے کی جگہ دھوتی پہن لیتے تو حلیے بشرے سے بھی ہری دوار کے پنڈت لگتے۔
پیوپلس میں  ہماری حاضری کے اوقات شام میں  ۴ بجے سے ۸ یا ۹ بجے تک ہوتے تھے۔ شام کو کلاسیس ختم کر کے ہم لوگ اکثر اورینٹ ہوٹل چلے جاتے جہاں  اردو، ہندی کے شاعروں  ادیبوں  کے علاوہ ہر قسم کے لوگوں  کا جمگٹا رہتا۔ سیاست داں، صحافی، مصور، موسیقار سب کی آخری پناہ گاہ یہی ہوٹل تھی۔ ہم لوگ گھنٹوں  بیٹھے رہتے۔ بس ایک یا دو کپ چائے پی کر۔ چائے کی قیمت چار آتے تھی۔ بل دو چار روپے ہوتا لیکن اس زمانے میں  دو چار روپے دو چار روپیوں  سے کہیں  زیادہ ہوتے تھے۔ تقریباً سبھی مفلس۔ لیکن کیا اچھے دن تھے۔ جب بل آتا تو کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا جاتی پھر کوئی جیب میں  ہاتھ ڈالتا اور خاموشی سے بل کی رقم اور ہلکی سی ٹپ رکھ دیتا۔ نرمل جی وہاں  ہوتے تو بل پر اس طرح جھپٹتے جیسے انہوں  نے یہ رقم ادا نہ کی تو یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی محرومی ہو گی۔
اور یہ ان دنوں  کی بات ہے جب نرمل جی کا ہاتھ ہمیشہ تنگ رہتا تھا۔ پیوپلس میں  دو ایک سال پڑھانے کے بعد نرمل جی کو کمرشیل پرنٹنگ پریس میں  پروف ریڈری کی نوکری مل گئی اور روزگار کا کچھ ٹھکانا ہو گیا۔ منندر جی اس پریس کے مینجر اور بدری وشال پتِّی اس کے مالک تھے۔ نرمل جی پرانی وضع کے آدمی تھے۔ مالک کا بے حد ادب اور اس کا ہر حکم بجا لانا ان کی فطرت ثانیہ تھی۔ کبھی کبھار حیرت ہوتی کہ ایسا آدمی جو عالم سرور میں  ہو یا کبھی کوئی اس کی دکھتی رگ چھیڑ دے تو اپنے آگے کسی کو نہ گردانے۔ اس میں  یہ خُو کہاں  سے آئی۔ وہ منندر جی کی بے حد عزت کرتے تھے اور منندر جی ہی کی کوششوں  سے و ہ ’’کلپنا‘‘ کے اڈیٹر بن گئے جو بدری وشال جی مسلسل خسارے پر جاری رکھے ہوئے تھے۔ ’’کلپنا‘‘ اس زمانے میں  ہندی کا سب سے معیاری رسالہ سمجھا جاتا تھا۔ اس رسالے کی ادارت سے نرمل جی کو کوئی خاص مالی منفعت نہ ہوئی ہو مگر ان کی ادبی ساکھ میں  بہت اضافہ ہوا اور ہندستان کے ہر شہر میں  ان کا نام اور کام ادبی حلقوں  میں  عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ نرمل جی کے واسطے سے مجھے ہندی ادب، صحافت اور سیاست سے وابستہ جن شخصیتوں  کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ان میں  راجہ دوبے، منندرجی، بدری وشال پتی، سری رام شرما، دلی چند ششی، مرلی دھر شرما، نہپال سنگھ ورما اور پریاگ شکل کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
نرمل جی کی دوستی ہندی کے سبھی ادیبوں  شاعروں  سے تو تھی ہی وہ اردو حلقوں  میں  بھی مقبول تھے۔ مخدوم محی الدین اور راج بہادر گوڑ سے لے کر انور رشید تک سبھی سے ان کی دوستی یا صاحب سلامت تھی۔ عوض سعید اور سید خالد قادری ہمارے مشترک دوست تھے۔ خاص طور پر آخری دنوں  میں  خالد سے ان کی خوب چھنتی تھی۔ ادب اور ریس دونوں  ہی موضوعات پر۔ کبھی میں، عوض اور خالد بھی ریس کورس میں  ان کے ساتھ ہوتے۔ جب نرمل جی اپنے متر اومکار جی کے لگائے ہوئے زخموں  کی تاب نہ لا پاتے تو یہ خالد ہی تھے جن کی زندہ دلی اور شگفتگی ان زخموں  پر مرہم کا کام کرتی۔ پنڈت جی ( اومکارجی) ریس کے گھوڑوں  کے ٹرینر تھے۔ جن کے گھوڑے اکثر ہارتے تھے اور نرمل جی ان سے ٹِپ لینے سے باز نہیں  آتے تھے۔ دونوں  کی اپنی اپنی مجبوریاں  تھیں۔ کبھی ہم ریس سے سیدھے نرمل جی کے گھر چلے جاتے تو بھابی بڑی سادگی اور بے تکلفی سے پوچھتیں۔۔۔۔ ’’کیا ہوا آج کچھ جیتے یا آج بھی جیب خالی کر آئے۔۔۔ ؟‘‘ نرمل جی کچھ اداس مگرہنستے ہوئے کہتے ’’اری مورکھ ! تجھے کیا پتہ بس ایک لیگ سے جیک پاٹ رہ گیا۔ لگ جاتا تو تُو رانی کی طرح بیٹھی راج کر رہی ہوتی  راج‘‘۔ میں  کیا کروں  تو بھاگیہ ہی ایسا لکھا کر لائی ہے‘‘۔
بدری وشال پتی ادب اور آرٹ کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ نرمل جی ان کے ادب اور احترام میں  اس قدر غلو برتتے کہ ہم کو وحشت ہوتی تھی۔ وہ بدری وشال جی کے کمرے تک میں  داخل ہونے سے گھبراتے تھے۔ بدری وشال نہ صرف ادب نواز بلکہ ادیب نواز بھی تھے۔ خاص طور پر اردو ہندی کے ادیبوں  شاعروں  کے ساتھ ان کا رویہ بے حد مہذب اور دوستانہ تھا۔ انہوں نے ’’تریوینی‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن کی نیو بھی ڈالی جس میں  اردو، ہندی اور تلگو کی شعری اور نثری تخلیقات کے علاوہ موسیقی اور مصوری کے موضوعات پر نہ صرف مقالے پڑھے جاتے بلکہ جس زبان میں  یہ تحریریں  ہوتیں  باقی دو زبانوں  میں  ان کے تراجم کی سائیکلو سٹائل کاپیاں  تقسیم کی جاتیں  اور بحث مباحثے ہوتے۔ نرمل جی کے ساتھ ساتھ میں  بھی اس انجمن کا سرگرم کارکن تھا۔ تریوینی کے جلسوں  میں فراق، مخدوم اور خواجہ احمد عباس جیسے مشہور اہل قلم نے اپنی تخلیقات سنائی تھیں۔ ایم۔ ایف حسین کی تصویروں  کی نمائش رکھی گئی تھی۔ بدری وشال جی نے ایم۔ ایف۔ حسین کا کیریئر بنانے میں  بھی بڑی مدد کی (بدری وشال جی نے ان دنوں  پھر ’’تریوینی‘‘ کا احیا کیا ہے اب اس کی نشستیں  ان کے گھر پر ہوتی ہیں ) بدری وشال سوشلسٹ قائد ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے دستِ راست تھے اور انہیں  اپنا رہنما مانتے تھے۔ نوکر شاہی نرمل جی کے مزاج میں ایسی رچی بسی تھی کہ انہوں  نے بدری وشال جی کا سیاسی مسلک تک اپنا لیا تھا۔ پھر بھی نرمل جی ان کی ذات سے کوئی خاص فیض نہیں  اُٹھا سکے۔ ایک عجیب سی بے برکتی ان پر محیط رہتی تھی۔
نرمل جی سے میری دوستی کے ابتدائی برسوں  میں  احمد ہمیش بھی کہیں  سے حیدرآباد وارد ہو گیا۔  وہ پرانے شہر کے ایک محلے شکر گنج میں  ایک خاتون کے مکان اور دل دونوں  میں  مکین تھا۔ صبح میرے گھر آ جاتا میری ماں  ناشتہ پکاتیں۔ ناشتہ کر کے ہم دونوں  نرمل جی کے پریس چلے جاتے دوپہر کا کھانا نرمل جی کے ساتھ پریس ہی میں  کھا لیتے پھر ’’کلپنا‘‘ کے دفتر میں  نرمل جی کے ساتھ بیٹھے رہتے۔ نرمل جی کام کرتے رہتے اور ہم لوگوں  کے ساتھ باتیں  بھی۔ کبھی احمد ہمیش اپنے مخصوص انداز میں  ہمارے منہ پر پائپ کا دھواں  چھوڑتے ہوئے کوئی نئی نظم، نئی کہانی سناتا۔ اس کے آنے سے حیدرآباد کے ادبی حلقوں  اور ہمارے شب و روز میں  کافی رونق، گہما گہمی آ گئی تھی۔ پھر احمد ہمیش جیسے اچانک آیا تھا۔ ویسے ہی اچانک غائب ہو گیا۔ میرا تبادلہ بھی کیرالا ہو گیا۔
میں  پھر حیدرآباد لوٹا تو نرمل جی کے حالات اور بھی خراب ہو گئے تھے۔ زمین ان پر اور بھی تنگ ہونے لگی تھی۔ بدری وشال جی نے پہلے ’’کلپنا‘‘ اور پھر پریس بند کر دیا۔ مسلسل نقصان ان کے لیے بوجھ بن گیا تھا لیکن نرمل جی کے کچھ سیاست سے وابستہ دوستوں  نے ساتھ دیا، وہ آندھراپردیش ہندی اکیڈیمی کے ڈائرکٹر بن گئے۔ لیکن ان عہدوں  کی ایک خاص مدت ہوتی ہے۔ پھر وہی بے کاری، بے روزگاری۔ جب سارے راستے بند ہو گئے تو ان کے ایک دوست آنند نے جن کی شہر کے تجارتی علاقے جام باغ میں  واٹر پمپ کی دکان تھی اپنی دوکان سے متصل ایک اور ویسی ہی دکان کھول کر نرمل جی کے حوالے کر دی۔ لیکن پمپ اور اس کے نٹ بولٹ کی فروختگی نرمل جی کے بس کا روگ نہ تھا۔ رفتہ رفتہ یہ دکان نرمل جی کے شاعر ادیب دوستوں  کا اڈہ بن گئی اور نرمل جی آنند کے حق میں نادان دوست ثابت ہوئے۔ پھر بھی آنند ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہے۔ میں  نے ایسے مخلص دوست کم دیکھے ہیں۔
نرمل جی آنند سے بھی دو قدم آگے تھے۔ وہ دوستی نہیں  کرتے تھے زندگی بھر کا ساتھ نبھاتے تھے۔ جسے دوست بنا لیتے اس کی خوبیاں  ڈھونڈھ ڈھونڈ کر نکالتے اور انہیں  محدّب عدسے سے دیکھتے اور سب کو دکھاتے۔ دوستوں  کی معمولی معمولی خوشیوں یا ضرورتوں  کی تکمیل کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتے تھے۔ میرا شعری مجموعہ  ’’فائزا‘‘ اشاعت کے مراحل میں تھا اور میرے پاس ٹائٹل کی چھپوائی کے لیے پیسے نہیں  تھے۔ اس زمانے میں  ’’کلپنا‘‘ ایک نظم یا ایک صفحے کے عوض پچہتر روپے ادا کرتی تھی جو اس زمانے کے حساب سے اور خاص طور پر اردو کے ادیبوں  شاعروں  کے لیے خاصی بڑی رقم تھی۔ نرمل جی نے مجھے یہ ترکیب سجھائی کہ میں  کلپنا کے لیے اپنی اکٹھی نظمیں  انہیں  دے دوں، ان نظموں  کا پیشگی معاوضہ بدری وشال جی سے حاصل کر لوں۔ نہ جانے انہوں  نے کیسے ہمت جٹائی اور بدری وشال جی سے کیا کہا کہ مجھے فوراً چیک مل گیا جو میں  نے ایک بروکر سے اسی وقت ڈسکاؤنٹ پر بھنا لیا۔ ایسے نہ جانے کتنے ہی کام ہوں  گے جو نرمل جی اپنے لیے کرنے کے اہل نہیں  تھے۔ لیکن اپنے دوستوں  کے لیے بہ آسانی انجام دے سکتے تھے۔ ایک اور دل چسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ اندرا پریہ درشنی ہال میں  پنڈت جسراج کا گائن تھا۔ نرمل جی یا تو خود منتظمین میں  شامل تھے یا منتظمین سے ان کے گہرے روابط تھے۔ مجھے اگلی صف میں  معاشیات کے کوئی پروفیسر اروڑہ اور ان کی بیٹی ارونا کے درمیان بٹھا کر چلے گئے، ارونا کافی خوب صورت تھی اور باتونی بھی۔ حال ہی میں  اس کی شادی اور پھر طلاق ہو گئی تھی۔ اسے دماغی دورے بھی پڑتے تھے۔ اچانک اپنی بپتا سناتے سناتے وہ میرے کاندھے پر ہاتھ اور ہاتھ پر سر رکھ کر سسکیاں  لینے لگی۔ میں  بہت شرمیلا تھا ابھی میری شادی بھی نہیں  ہوئی تھی۔ نرمل جی اتفاقاً ادھر سے گزرے تو مجھے اس پوز میں  دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور اس سارے شو کے دوران مجھے نظر انداز کرتے رہے۔
نرمل جی کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ فطرت کے بہت قریب تھے۔ لیکن کبھی کبھی یہی خوبی، خامی کا روپ دھار لیتی۔ کچھ عرصے کے لیے انہیں فلومینا نامی ایک لڑکی سے عشق ہو گیا تھا۔ جو ہر گز ہرگز خوب صورت نہیں  تھی۔ نرمل جی نے حد یہ کر دی کہ اپنی کہانیوں  کا مجموعہ ’’بینت کے نشان‘‘ نہ صرف اس کے نام معنون کیا بلکہ معنون کرتے ہوئے اس کی تصویر بھی چھاپ دی مگر عشق کا یہ بھوت جلد ہی ان کے سر سے اتر گیا۔ فلومینا کہیں  چلی گئی۔ لیکن جب  کتاب چھپی تھی تو نرمل جی نے خود اس کا انتساب اپنی بیوی کو دکھایا تھا۔ بہ بظاہر نرمل جی کٹھور لگتے ہیں  لیکن ان کی شخصیت کی کاٹھی ہی ایسی تھی اب اسے ان کی ذات کی کجی کہیے یا استقامت وہ اپنے عیبوں  سے واقف تھے اور انہیں  ظاہر کرنے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ انہیں  صرف  اپنی خوبیوں  پر پردہ ڈالنے کا ہنر آتا تھا   ع
’’گھاٹا ہو ہر حال میں  جس میں وہ سودا ہو
دل کیوں چھوٹا ہو‘‘۔
مجید امجد کے ایک گیت نما نظم کے یہ بول نرمل جی پر بری طرح چسپاں  ہوتے تھے کیوں کہ سخت نامساعد حالات میں  بھی میں نے ان کا موڈ ہمیشہ خوش گوار دیکھا۔ ان کا ایک جملہ آج بھی ان کے دوستوں  میں  خاصا مقبول ہے کہ’’اگر ہم ٹوپیوں  کا دھندہ بھی کریں  تو اگلی پیڑی بنا سر والی پیدا ہو گی‘‘ یہ تاریخ ساز جملہ انہوں  نے آنند کی دکان پر آخری بار تالا لگاتے ہوئے کہا تھا۔
گھر میں  پیسے کی ریل پیل کبھی نہیں  رہی۔ بس روزی روٹی چل جاتی تھی کبھی اس میں  بھی اڑچنیں  پیدا ہوتیں۔ لیکن اس گھر کے ماحول میں  بڑی فرحت، محبت اور اپنائیت تھی۔ جوار، باجرے یا گیہوں  کی روٹی اور معمولی سبزی میں کچھ ایسا سواد ہوتا کہ بڑی بڑی ہوٹلوں  یا پُر شوکت گھروں  کی دعوتیں  بے کیف لگتیں۔ گھر میں  داخل ہوں  تو نرمل جی کی ماں  ایک کونے میں زمین پر بیٹھی ہوتیں۔ ہم سلام کرتے تو آشیرواد دیتیں۔ بھابی چولہا جلانے میں  مصروف ہو جاتیں۔ نرمل جی کی دو بیٹیاں  ہیں  سلّو اور منجو۔ تین بیٹے تھے راجو، برجو، اور دنّو (راجیش، برجیش اور دنیش)۔ اب دو رہ گئے ہیں۔ برجو چل بسا جب وہ تیرہ برس کا تھا اسے کسی پاگل کتے نے کاٹ لیا تھا۔ یوں  اس نے اپنا بوجھ نرمل جی کے کاندھوں  سے ہٹا لیا۔ اتنے بڑے خاندان کی کفالت آسان کام نہیں  تھا۔ گھر کا کرایہ، بچوں  کی فیس، شادی بیاہ کے خرچ، پھر بڑے بیٹے راجیش نے پڑھائی ترک کر کے اناج کی آڑھت شروع کر دی اور زندگی کی گاڑی رک رک کر دوبارہ چلنے لگی۔ حالات جو بھی ہوں  نرمل جی اپنی سماجی ذمہ داریاں  اسی خوش اسلوبی اور تن دہی سے انجام  دیتے رہے۔ میری چھوٹی پیاری سی بہن شمو کی شادی ہوئی تو جئے پور سے ایک خاص ڈیزائن کا موتیوں  کا ہار منگوا کر اسے پہنایا وہ نرمل جی کو نرمل چاچا کہتی تھی۔ مجھ سے بہت چھوٹی ہے سلو، منجو کی عمر کی۔ میرے ساتھ کبھی نرمل جی کے گھر جاتی تو سلو منجو اسے اپنے کمرے میں  لے جاتیں  اور اس کے ہاتھ پر مہندی کی نئی نئی ڈیزائنیں  بناتیں۔
نرمل جی اور ان کے سبھی گھر والے بے حد مہمان نواز تھے۔ کبھی میں  یا نرمل جی کا کوئی اور دوست ان کے گھر جاتا تو دروازے سے ہی آواز دیتے، ارے سلّو کی ماں  دیکھو تو کون آیا ہے۔ ’’کوئی اچھی سبجی و بجی ہے کہ بس یوں  ہی۔۔۔ ارے راجو بھاگ۔۔ جا سامنے سے آگرے والے سے کچھ جلیبی ولیبی اور دیکھ کچوری گرم ہو تو۔۔۔ پیسے ؟ الماری سے نکال لے‘‘۔ بھابی کہتیں  ’’سرسوں  کا ساگ بنایا ہے جی۔ ہمارے تو بھاگ ہی جاگ گئے۔ یہ آپ نے بہت اچھا کیا۔ بھائی صاحب کو لے آئے۔ میں  ابھی روٹی ڈالتی ہوں۔۔۔‘‘ پھر روٹیوں کا دور شروع ہو جاتا اگر اتفاقاً ان دنوں  کیدار جی یا کوئی اور سسرالی عزیز آئے ہوئے ہوتے تو بھابی کی یہ ساری گفتگو ایک لمبے گھونگھٹ کے اندر ہوتی اور گھونگھٹ اتنا لمبا ہوتا کہ وہ زمین پر اکڑوں  بیٹھی ہوں  تو لکشمن کوسیتا کے پاؤں  تک دکھائی نہ دیں۔ اسی عالم میں وہ اتنی تیزی سے روٹیاں  سینکتیں  کہ حیرت ہوتی۔ عام دنوں  میں  عام لوگوں  یا نرمل جی کے دوستوں  کے سامنے وہ کوئی خاص پردہ نہیں  کرتی تھیں۔
پھر نرمل جی کو حلق کاکینسر ہو گیا، اچانک بالکل اچانک۔ ایک دن سرِراہے مل گئے میں  نے ان کے چہر ے پر داڑھی دیکھی تو پوچھا ’’یہ کیا ؟‘‘ بولے ’’ڈاکٹر نے شیو کرنے سے منع کر رکھا ہے کہتا ہے کینسر ہے لیکن۔۔۔‘‘ مجھے تسلی دیتے ہوئے  کہنے لگے ’’ابھی ابتدائی اسٹیج میں  ہے۔ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ؟‘‘ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بولے ’’چھوڑیے چلیے۔ کہیں  بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔۔۔‘‘ پھر میرا موڈ ٹھیک کرنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے بولے ’’آپ سے وہ غزل سنیں، ’’مڑ کے دیکھا تھا تو سارا شہر پتھر ہو گیا‘‘ میں  نے بھی نئی کویتا لکھی ہے۔ وہ بھی سنیے‘‘ اور پھر جیسے واقعی سارا شہر پتھر ہو گیا۔ مرلی دھر شرما انہیں علاج کی غرض سے بمبئی لے گئے لیکن کوئی خاص افاقہ نہیں  ہو سکا۔
اب نرمل جی موت کے قدموں  کی چاپ صاف سن رہے تھے۔ انہیں  اپنی ذمہ داریوں  کا احساس تھا۔ دونوں  بیٹیوں  کی شادیاں  بہت پہلے ہو چکی تھیں۔ راجیش کی شادی بھی ہو گئی تھی اور وہ  روزگار سے لگ گیا تھا۔ اب انہیں  دنیش کی فکر تھی۔ اس کے لیے بھی جگاڑ کیا۔ اسٹیل کے فرنیچر کی ایک دکان میں  اسے ساجھے دار بنا کر دھندے سے لگا دیا۔ فروری ۱۹۹۲ء میں اس کی شادی بھی کر دی۔ میں شادی میں  گیا تو وہ براتیوں کے ساتھ ناچ رہے تھے۔ مجھے بھی ہاتھ پکڑ کر اس گروہ میں  شامل کر لیا۔ اس رات نرمل جی وحشیانہ انداز میں  ناچ رہے تھے۔ میں  حیران تھا یہ کیسا رقص ہے۔ زندگی کا یا موت کا، عجیب رات تھی اتنی روشنیوں  کے باوجود اتنی سیاہ اور اتنی طویل ……‘‘
پھر مدتوں  بعد جب دن نکلا تو میں ماتا جی کی پائینتی بیٹھا تھا۔ بولیں  گیارہ برس ہو گئے۔ میں نے کہا ’’ہاں  گیارہ برس ہو گئے‘‘۔ بولیں  ’’وہ بھی چلی گئی‘‘ میں  نے کہا ’’ہاں۔ بھابی بھی نہیں  رہیں۔‘‘ بولیں  ’’میں  رہ گئی‘‘۔ میں  کچھ نہیں  بولا۔ ان کی آواز میں  عجیب سا دکھ تھا جو نشتر کی طرح مجھے کاٹ رہا تھا۔ ماتا جی کی عمر اب نوّے برس ہے۔ میں نے دوسری بار اٹھنا چاہا تو پھر میرا ہاتھ تھام لیا۔ بولیں  ’’ابھی مت جا۔۔۔ بیٹھ۔۔۔‘‘ میں  نے دل ہی دل میں  سوچا یہ اتنی بوڑھی، کمزور، نرمل جی تک کو نہیں  روک سکیں  مجھے کیا روکیں  گی۔۔۔۔ !
____________
 (سہ ماہی ’’شعر و حکمت‘‘             
سمکالین بھارتیہ ساہتیہ116 - )




احمد ہمیش __ میری کچھ یادیں


میرے بچپن کے دوست عبدالحمید خاں  ( جو بہت برسوں  پہلے ہمیش ہی کی طرح کراچی کے ہو رہے) نے جب مجھے فون پر احمد ہمیش کے انتقال کی خبر سنائی تو مجھے دھچکاسا لگا۔ میں  نے پوچھا ’’کیسے ؟‘‘ تو بولے آج ہی ( ۱۰/ ستمبر )کے ’’ڈان‘‘ میں  یہ خبر آئی ہے۔ میں  نے کہا اخبار میں  کیا لکھا ہے، سناؤ۔۔۔، مجھے بہت دکھ ہوا۔ مگر کرتا بھی کیا۔ یقین نہیں  آتا تھا۔ ابھی زیادہ مدت نہیں  ہوئی، میں  ۲۰۰۸ء میں  کراچی گیا تھا، ہمیش کے ساتھ کئی تصویریں  تھیں۔ وہ نکالیں، وہ، اس کی بیٹی انجلاء، ناصر بغدادی، غالب عرفان سبھی تھے۔ چالیس، پینتالیس برسوں  بعد اس سے ملا تھا۔ یہ طویل وقفہ کسی کی عمر طبیعی بھی ہو سکتاتھا۔ اور کچھ برسوں  کے ہیر پھیر کے بعد یہی ہوا اور ہو گا بھی۔ بلراج کومل نے سچ کہا ہے  ع
ابھی ایک بے نام ماضی کے صحرا میں کھو جائیں  گے ہم
یہ سنہ ۱۹۶۰ء کی دہائی کی بات ہے۔ احمد ہمیش کا عجیب بے سر و سامانی کا دور تھا، وہ نہ جانے کہاں  کہاں  بھٹکتا ہوا حیدرآباد پہنچا تھا۔ ایک دن میں  اتفاقاً ۱۷مجرد گاہ ( ماہنامہ ’’صبا‘‘ کا دفتر) گیا تو دیکھا اریب صاحب حسبِ معمول اپنی مجلس سجائے بیٹھے ہیں۔ کئی ادیب شاعر حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ کئی جانے پہچانے چہرے۔ ان میں ایک چہرہ بالکل اجنبی، سب سے الگ۔ اریب صاحب نے مسکرا کر اپنے بالوں  میں انگلیاں  پھیرتے ہوئے مجھ سے پوچھا انہیں  جانتے ہو؟ میں  نے ہمیش کو پہلے نہیں  دیکھا تھا، لا علمی کا اظہار کیا۔ پھر میرا نام ہمیش کو بتاتے ہوئے یہی سوال اس سے کیا تو اس نے میرا نوٹس لیا اور پائپ کا دھواں  فضا میں  لہراتے ہوئے بڑی بے نیازی سے کہا ’’ہاں۔ ہم نے انہیں  پڑھا ہے‘‘۔
حیدرآباد آنے سے قبل وہ (غالباً) سب سے پہلے بمبئی ( موجودہ ’’ممبئی‘‘) آیا۔ بلیا سے براہ پاکستان غیر قانونی طور پر ہندوستان میں  پھر سے بسنے کے لیے۔ بمبئی میں ہمیش کے قیام کے بارے میں  فضیل صاحب نے بتایا کہ ظ۔ انصاری جو اُن دنوں  بمبئی سے خود اپنا رسالہ ’’آئینہ‘‘ نکال رہے تھے، انہوں  نے احمد ہمیش کو آئینہ میں  کچھ کام دیا، لیکن بہت جلد اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہمیش نے یہ نوکری چھوڑ دی اور اورنگ آباد آ گئے۔ فضیل جعفری ان دنوں  اورنگ آباد ہی میں  تھے۔ انہوں  نے ہمیش پر ایک مضمون بھی لکھا جو کسی سبب شائع نہ ہوسکا۔ لیکن اب انہوں  نے تلاش کر لیا ہے۔ یہ الگ قصہ ہے جو فضیل صاحب ہی سُنا سکتے ہیں۔ ظ۔ صاحب کو معلوم ہوا کہ ہمیش یوں  غائب ہو گئے ہیں  تو بہت ناراض ہوئے ’’آئینہ‘‘ کے اگلے شمارے ہی میں  انہوں  نے ہمیش کے بارے میں  سخت الفاظ لکھے جس میں  یہ جملہ بھی تھا کہ ’’احمد ہمیش اردو کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں  اور پولیس احمد ہمیش کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہے‘‘۔ اورنگ آباد میں  قاضی سلیم نے ان کی مدد کرنا چاہی لیکن یہاں  روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس میں  ناکامی کے بعد قاضی سلیم نے ہمیش کے لیے حیدرآباد کا ٹکٹ کٹوا دیا اور شاید کچھ رقم بھی ان کے حوالے کی۔
ان حالات میں  احمد ہمیش کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتا لیکن  ایک کھرے، سچے تخلیق کار کے فطری لا ابالی پن اور اپنی ذات سے بے اعتنائی اور اس دنیا میں  رہتے ہوئے کسی اور ہی دنیا میں  رہنے کے رویئے نے اُسے بڑا سہارا دیا، طاقت دی۔ جیسے اورنگ آباد میں  قاضی سلیم اور بمبئی میں  گریش دَمنیا( انگریزی، گجراتی ادب کی ایک معروف شخصیت، خاندانی رئیس، احمد ہمیش نے اُن کے چوپاٹی والے بنگلے کی لائبریری میں کئی راتیں  بسر کیں) ان لوگوں  نے ان کی ہر ممکن مدد کی، حیدرآباد میں  انہیں  سلیمان اریب اور حکیم یوسف حسین خاں  مل گئے۔
اُن دنوں  حیدرآباد کی ساری ادبی رونق مخدوم، اریب اور شاہد صدیقی کے دم قدم سے تھی۔ اریب صاحب عجیب و غریب آدمی تھے کسی نئے لکھنے والے میں  اُنہیں  کوئی انوکھی بات، کوئی خاص جوہر نظر آ جائے تو انہیں  اس سے دلی اور بے غرض محبت ہو جاتی۔ اسے آگے بڑھانے میں  وہ کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھتے۔ انہوں نے ہمیش کو حیدرآباد کے ادبی حلقوں  سے متعارف کروایا۔ ہر طرح حوصلہ افزائی کی۔ یہاں  تک کہ سنگاریڈی کے ایک مشاعرے میں  تاج مہجور کے علاوہ احمد ہمیش کو بھی ساتھ لے گئے۔ قدیر زماں  ان دنوں  بہ سلسلہ ملازمت وہاں  مقیم تھے۔ انہوں  نے اُن سب کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔
حکیم یوسف حسین خاں  جو حیدرآباد کے سب سے اعلیٰ سرکاری یونانی دوا خانے کے ناظم اور ایک صاحب طرز شاعر تھے، انہوں  نے ہمیش کا سب سے زیادہ ساتھ دیا اور ہر طرح اُن کا خیال رکھا۔ مجتبیٰ حسین نے اپنے بھائی محبوب حسین جگر سے کہہ کر ہمیش کو ’’سیاست‘‘ میں  کچھ کام بھی دلوایا۔ اب اسے کیا کیا جائے کہ وہ یہاں  بھی زیادہ دن نہیں  رہ سکے۔ لیکن حیدرآباد کے لوگوں  کی تہذیب اور نفسی شرافت کچھ ایسی تھی کہ یہاں  ہمیش کا دل لگ گیا۔ وہ یہاں  چند سال ہی رہ سکے لیکن خوش رہے۔ اگر انہیں  ہندوستانی شہریت مل جاتی تو شاید یہیں  کے ہو رہتے۔
احمد ہمیش سے میری دوسری ملاقات حکیم یوسف حسین خاں  کے گھر پر ایک شعری نشست میں  ہوئی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا ہمیش بہت جلد مجھ سے گھل مل گئے۔ ہم تقریباً روز ہی ملتے۔ اُسے میری شاعری بھی پسند آنے لگی۔ اب ہمیش نے اورینٹ ہوٹل بھی آنا شروع کر دیا تھا جہاں  شام ہوتے ہی اردو، ہندی، تلگو کے ادیبوں، شاعروں، صحافی، سیاست دانوں، مصور، موسیقار غرض ہر طرح کے اہل فن، اہل غرض اور ان کے پرستاروں  کا جمگھٹا رہتا۔ یہاں  سب نے احمد ہمیش کو اپنی اپنی عینکوں  سے دیکھا(میرے دوست عبد الحمید خاں  نے بھی) اور اُس پر پسندیدگی، تحیر یا تاسف کی نگاہ ڈالی۔ حیدرآباد کے شاعروں، ادیبوں  میں  یوں  تو ہمیش سبھی سے واقف ہو چلے تھے لیکن جن لوگوں  سے ان کی ملاقاتیں  رہیں  اور جن کا وہ اکثر یا کبھی کبھار ذکر کرتے اُن میں  حکیم یوسف حسین خاں، سلیمان اریب، اوم پرکاش نرمل، راجہ دوبے، ساجد اعظم، ایم۔ ٹی۔ خان، شاذ تمکنت، عوض سعید، مجتبیٰ حسین، انور رشید، اقبال متین، حسن فرخ، اور رؤف خلش کے نام آتے ہیں، غالباً اورینٹ ہی میں  اُنہیں  اظہر خورشید مل گئے۔ لوگ کہتے ہیں  کہ انہوں نے ہی ہمیش کو ایک با ذوق، عمر میں  ہمیش سے کچھ بڑی لیکن خاصی پر کشش خاتون سلمیٰ کا گھر دکھایا اور ہمیش وہیں  رہنے لگے، کیا کرتے اُنہیں  بھی کوئی ٹھکانا چاہیے تھا جیسے ساقی فاروقی نے لکھا ہے  ؎
کہ شام ہوتے ہی تتلی بھی ڈھونڈتی ہے ملے
کوئی جگہ وہ جہاں  تھوڑی دیر سستالے
احمد ہمیش حیدرآباد آئے تو یہ ہم دونوں  کی نوجوانی کا زمانہ تھا، مجھے بہت کم لوگ جانتے ہوں  گے،  لیکن اُسے کافی شہرت مل چکی تھی۔ شاعری اور اس کی چونکا دینے والی کہانیوں  کے سبب ہر نقاد اس کا ذکر کرتا، اگر کہیں  اُسے ہدف بنایا جاتا تو بیش تر پڑھے لکھے لوگ اس کی شعری اور نثری تحریروں  میں  معنی کی تہہ داری، ایک طرح کا تخلیقی اضطرار اور انفرادیت کی داد دیے بغیر نہ رہتے۔ اس کے سخت مخالفین بھی اس کا ذکر بہ بدی ہی سہی لیکن بہر حال کرنے پر مجبور تھے اور وہ یہ چاہتا بھی تھا۔ کبھی خاموشی چھا جاتی تو وہ رسائل میں  کسی خاتون کے فرضی نام ورنہ خود اپنے نام سے خط لکھ کر اس ’ادبی جمود‘ کو توڑنے کی کوشش کرتا۔ عابد سہیل نے مجھے چند ماہ قبل بتایا کہ انہیں  اپنے پرانے خطوط کے انبار میں  ہمیش کا ایک خط ملا جس میں  اس نے لکھا کہ میں  اور مصحف اقبال توصیفی حیدرآباد میں  جدید اردو نظم کے بارے میں  عالمی پیمانے پر سمینار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں  تھی میں  اس معاملے میں  بالکل اناڑی اور صریحاً نا اہل تھا۔
حیدرآباد میں  اسے جن جن لوگوں  سے یگانگت تھی ان میں  میرا نام سر فہرست تھا۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ ہم دونوں  ہم عمر تھے اور ہمارے مزاجوں  میں کئی طرح کی ہم آہنگی تھی۔ ہماری گفتگو کا موضوع شاعری یا ادھر اُدھر کی بے ضرر باتیں  ہوتیں۔ میں نے کبھی اس کی نجی زندگی، گھر، خاندان کے مسائل، ادبی مراسم وغیرہ کے بارے میں  استفسار نہیں  کیا۔ کبھی سلمٰی کے بارے میں  بھی نہیں۔ ہاں  وہ خود ہی رواں  ہو جائے تو اور بات تھی۔ ایک دوسرے کے بارے میں  بہت سی باتیں  نہ جاننے کے باوجود ہم ایک دوسرے کو جاننے لگے تھے۔ ورنہ برسوں  کی ملاقاتوں  کے بعد بھی ہم بس ملاقاتی رہ جاتے ہیں۔ دوست یا دشمن نہیں  بن پاتے۔ ( نرگسیت یا اپنی بے جا اہمیت کے سبب کسی کے لیے اپنے دل میں  خواہ مخواہ کی محبت یا کینہ پال لینے کی بات الگ رہی )۔ احمد ہمیش کے ساتھ میرا ایسا معاملہ نہیں  تھا۔ وہ اکثر صبح میرے گھر آ جاتا۔ میں  نے اس سے کہہ رکھا تھا کہ میرے گھر آئے تو ناشتہ میرے ساتھ ہی کرے جو بھی برا بھلا میری ماں  یا بیوی لا کر رکھ دیں۔ پھر ہم نرمل جی (اوم پرکاش نرمل) سے ملنے کمرشیل پرنٹنگ پریس چلے جاتے۔ نرمل جی ہندی کے صف اول کے شاعر اور کہانی کار اور ہندی کے اہم ادبی ماہنامے ’’کلپنا‘‘ کے اڈیٹر بھی تھے۔ پریس اور اس رسالے کے مالک بدری وشال پتی بہت بڑے انڈسٹریلیٹ، رام منوہر لوہیا کے خاص آدمی، سوشلسٹ لیڈر، ادب اور فنون لطیفہ کے ہر شعبہ سے غیر معمولی شغف اور اس کی ترویج اور ترقی میں  حد درجہ فعال۔ اردو کے شاعروں، ادیبوں  سے بھی وہ نہایت خلوص اور محبت کا رشتہ رکھتے تھے۔
پریس میں  نرمل جی ہمارے لیے ہر آدھے گھنٹے کے بعد چائے منگواتے اور ہماری آمد کی وجہ سے پریس کا کام کم اور ہم سے باتیں زیادہ کرتے۔ منندر جی جو اس پریس کے مینیجر اور خود ایک اچھے لیکھک تھے، نرمل جی کو ٹوکنے کی بجائے خود ہماری باتوں  میں  شامل ہو جاتے۔ پریس کے بعد آدھا دن نرمل جی کی ڈیوٹی ’’کلپنا‘‘ میں  ہوتی۔ ’کلپنا ‘کے دفتر میں  داخل ہونے سے پہلے وہ ہمیں  قریب کے ہوٹل میں  کھانا یا اڈلی، دوسا کھلانے لے جاتے۔ نرمل جی کی آمدنی قلیل تھی لیکن اگر کوئی اور بِل دینے کی کوشش کرے تو ناراض ہو جاتے۔ نرمل جی نے ہمیش کو بدری وشال جی سے بھی ملوایا جو کلپنا میں  اردو شاعروں  ادیبوں  کی تخلیقات دیوناگری لپّی میں  (بغیر کسی تبدیلی کے صرف حاشیے میں  مشکل الفاظ کے معنی ہوتے ) شائع ہونے پر فی نظم / غزل۷۵روپے بذریعہ چیک ادا کرتے۔ کئی نظمیں  غزلیں  یا ایک بھی کہانی ہو تو یہ اس زمانے میں  اچھی خاصی رقم ہو جاتی، اکثر شاعروں  ادیبوں  کا چونکہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں  ہوتا تھا اس لیے یہ چیک مخصوص دوکانوں  پر کمیشن سے بھُنا لیے جاتے۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں  لیکن میرے خیال میں  نرمل جی نے ہمیش کی بھی کئی نظمیں، کہانیاں  ’’کلپنا‘‘ میں  شائع کیں  اور ہمیش تو ہندی میں  بھی لکھتے تھے۔ ہم تینوں  کا ایک مثلث یا یوں  کہیں  تگڈا بن گیا تھا۔ نرمل جی اور احمد ہمیش ایک دوسرے کو بہت پسند کرنے لگے تھے۔ شام ہونے کو آتی تو ہم اپنے اپنے ٹھکانوں  کو سدھارتے۔ پھر اورینٹ میں  ہمیش سے ہماری ملاقاتیں  تھیں، وہ الگ۔
دن گزرتے رہے پھر میرا تبادلہ کیرالہ ہو گیا۔ چند مہینوں  بعد میں  چھٹی پر حیدرآباد آیا تو معلوم ہوا احمد ہمیش کو زبردستی پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ ہماری ملاقاتوں  کا یہ دور یکلخت ختم ہو گا۔ نرمل جی اور دوسرے مشترکہ احباب سے ملتا تو ہمیش کا ذکر درمیان میں  آ جاتا۔ کبھی شاذ اور اکثر نرمل جی اُسے یاد کر لیتے۔ رفتہ رفتہ یہ یادیں  بھی دھندلانے لگیں۔ ندا فاضلی نے لکھا ہے   ع
 وہ جو اکثر یاد آتے تھے اب کم کم یاد آتے ہیں
وقت جہاں  مرہم کا کام کرتا ہے وہیں  زخم بھی دیتا ہے۔ اس مصرعے میں  کم کم یاد آنے کا جو دکھ ہے اس کا احساس اچانک طور پر احمد ہمیش نے کراچی سے ایک خط لکھ کر مجھے دلایا۔ اس میں  کانچ کے ایک گلاس کے ٹوٹنے کا ذکر تھا جو پچیس، تیس برس پہلے میرے گھر میں  پانی پیتے ہوئے اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔ اور فرش پر اس کی کرچیاں  بکھر گئی تھیں۔ لیکن یہ گلاس اہم نہیں  اہم بات یہ ہے کہ ہم اتنی جلدی کیسے بوڑھے ہو گئے ؟کتنی کرچیاں  بکھری ہوں  گی، ایک دوسرے سے ناواقف ہماری زندگیوں  میں۔ اس کا احساس اُسے ہو گا۔ لیکن اس خط میں  اس کا کوئی ذکر نہیں  تھا۔ اس خط کے ساتھ ( جنوری ۱۹۹۵ء ) اس نے مجھے ’’تشکیل‘‘شمارہ۔ ۱۵ بھیجا تھا۔ اس نے لکھا تمہارا پتہ بڑی مشکل سے ملا۔ پھر ’’تشکیل‘‘ باقاعدہ میرے پتے پر آتا رہا۔
احمد ہمیش سے دوبارہ ملاقات کی خواہش اس وقت پوری ہوئی جب ۲۰۰۸ء میں  ریٹائرمنٹ کے کئی برسوں  بعد میں  کراچی جا سکا۔ میرے کئی قریبی عزیز تقسیم کے بعد سے وہی ہیں۔ بہ ظاہر اب وہ پہلا سا ہمیش نہیں  تھا۔ اس کی گھریلو زندگی خوشگوار تھی۔ بیوی شہناز، ایک لڑکا فرید، ایک بیٹی انجلا ہمیش جسے اس نے ’’تشکیل‘‘ کا معاون مدیر نامزد کر رکھا تھا۔ وہ NAPA (نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ) میں  ’سنسکرت ناٹک اور انڈین ڈراما، کے شعبے کا انچارج تھا۔ میں  وہاں  گیا تو دربان اس سے ملوانے مجھے لائبریری میں لے گیا جہاں  وہ انجلا کے ساتھ بیٹھا تھا۔ انجلا وہاں  لائبریرین ہیں۔ وہ مجھ سے بڑی محبت اور اپنائیت سے ملا۔ اسٹوڈیو لے گیا جہاں  اس کی نگرانی میں  ’مہابھارت‘ ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی۔ ڈراما ڈائرکٹر انجم ایاز، بھیشم، دریودھن اور درو پدی سے ملوایا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ اس کی زندگی اب ہموار راستے پر چل رہی تھی لیکن مزاج کے کھڈ وہی تھے وہی لا ابالی پن۔ روز، تقریباً روز فون کرتا، حیدرآباد میں  گزرے ہوئے دنوں  کو یاد کرتا، میری خیریت پوچھتا۔ آنے کا وعدہ کرتا لیکن نہ آتا۔
اُن دنوں  اس کی ناصر بغدادی سے بہت دوستی تھی۔ ناصر بغدادی نے مجھے اپنے گھر مدعو کیا تو احمد ہمیش اور غالب عرفان کو بھی مدعو کیا۔ غالب عرفان کلاسیکی طرز میں  جدید احساس کے عمدہ شاعر ہیں۔ اُنہیں  پہلی بار سننے کا موقع ملا اور برسوں  بعد احمد ہمیش کو اس کے مخصوص انداز میں۔ مَیں  نے بھی کچھ نظمیں  سنائیں۔ ناصر بغدادی کی افسانہ نگاری کا تو ہر اہلِ نظر قائل ہے وہ ایک بے باک نقاد ہیں  اور ایک سہ ماہی ادبی رسالہ ’’بادبان‘‘ نکالتے ہیں۔ انہوں  نے ’’بادبان‘‘  کے کئی شمارے ( بعد میں  ایک ضخیم شمارہ ’’اقبال متین نمبر‘‘ بھی شائع ہوا) اور اس رسالے کے اداریوں  پر مشتمل اپنے تنقیدی افکار کا مجموعہ ’’ضربِ تنقید‘‘ بھی مجھے عنایت کیا۔ کراچی کے اس قیام کے بعد ۲۰۱۲ ء میں  دوبارہ ایک نہایت قلیل مدت کے لیے ایک شادی میں  شرکت کے لیے مجھے کراچی جانا پڑا تو احمد ہمیش سے ملاقات نہیں  ہو سکی۔ میں  بہت کم دنوں  کے لیے گیا تھا۔ ہمیش سے صرف فون پر بات ہوسکی۔ روانگی سے بس ایک دن پہلے میں نے فون کیا تواس نے بہت سی باتوں  کے بعد کہا’ اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا‘۔ ہم جب بھی بات کرتے گفتگو اس کے اسی جملے پر ختم ہوتی۔ اس کی بڑی آرزو تھی کہ ایک بار پھر حیدرآباد آئے۔ ایک محلہ ایک گلی تھی جو اسے مسلسل صدا دے رہی تھی، تنگ کیے جا رہی تھی، اور اس کا یہ حال کہ ؎
مجھے اب بھی یاد ہے خواب سا گُلِ شامِ ہجر کھلا ہوا
کوئی ہے جو داغِ   وصال سے مری آستیں  کو جدا کرے
         (احمد مشتاق) 
وہ اور سلمیٰ۔ لوگوں  نے اسے منٹو کی کسی کہانی کا کردار بنا دیا تھا۔ میں اس سے ملتا مگراس بارے میں  کچھ نہ پوچھتا نہ نرمل جی ایسا کوئی ذکر چھیڑتے۔ میں اس لیے کہ میرے خیال میں کچھ باتیں  پردۂ خفا میں  ہی اپنا بھرم رکھتی ہیں۔ انہیں  کھوجیں، بے لباس کریں  تو بے معنی ہو جاتی ہیں۔ حیدرآباد میں  لوگ اس کا نام لیتے لیکن میراجی کی طرح وہ اپنے فن نہیں  بلکہ میلی کچیلی شخصیت، کام نہیں  بلکہ نام اور افواہوں  کے سبب جانا جاتا۔ یہاں  اس کی شہرت یا بدنامی اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔
پاکستان لوٹ کر اس نے اپنا رسالہ ’’تشکیل‘‘ جاری کیا۔ اس کا ذیلی نام تھا ’زندہ اور نمائندہ ادب کا شاک انگیز استعارہ ‘۔ تشکیل میں  اس نے ’’سلمٰی اور ہوا‘‘ جو ’’شب خون‘‘ میں  چھپ چکی تھی اسے دوبارہ شائع کیا۔ اس کہانی میں  سلمٰی کو نہایت پاکباز، نرم دل اور کلام پاک کی تلاوت میں مصروف دکھایا۔ یہ وہی سلمٰی تھی یا کوئی اور سلمٰی ؟ کوئی گوشت پوست کا انسان یا محض کہانی؟ حقیقت یا خواب؟، زندگی ہی کی طرح دونوں  آنکھیں  کھولے سانس لیتا ہوا خواب؟
احمد ہمیش نے زیادہ نہیں لکھا ( نظمیں، کہانیاں ) محبوب خزاں  کے اس مصرعے پر عمل کرتے ہوئے   ع
کم کہو، اپنا کہو، اچھا کہو
 ’’ہمیش نظمیں ‘‘ اور اس کے علاوہ ’’مکھی‘‘ اور ’’کہانی مجھے لکھتی ہے‘‘ کہانیوں  کے دو مجموعے اور ایک خود نوشت سوانح ’’مکر چاندنی‘‘۔ اُسے اردو، انگریزی، ہندی، خاص طور پر سنسکرت اور فارسی پر خاصا عبور تھا۔ اور اس نے ان زبانوں  کی ادبیات کا دلجمعی سے مطالعہ بھی کیا تھا۔
 پاکستان جانے سے پہلے اپنی نوجوانی میں  اسے ہندوستان ہی میں  بہت شہرت مل چکی تھی۔ ہندوسان کے ہر رسالے، ہر انتھالوجی میں  اس کے نام کی شمولیت ضروری تھی۔ شاعری میں  اس کا نام محمد علوی اور عادل منصوری کے ساتھ لیا جانے لگا۔ نثری نظم کی ترویج اور اسے مقبول بنانے میں  اس نے جو رول ادا کیا اس سے کسے انکار ہوسکتا ہے؟ اس کا اصرار تھا کہ اردو میں  وہ اس صنف کا بانی قرار دیا جائے فاروقی نے اُسے لکھا: ’’اگر تم نے واقعی اردو میں  اس صنف کو ایجاد کیا ہے تو لوگ تسلیم کر لیں  گے۔ تمہیں  اس پر کہنے یا لکھنے سے کچھ نہیں  ملنے والا۔ یہ زمانہ بڑی ریاکاری کا ہے۔ یہاں  تو لوگوں  کو اچھے اچھوں  کے کارناموں  پر پانی پھیرنے میں  ذرا دیر نہیں  لگتی (’’تشکیل‘‘ شمارہ ۲۵ تا ۲۷)۔
فاروقی نے اسے نثری نظم کا خالق مانا ( ’’ہمیش نظمیں‘‘ آخری سرورق) ’’تشکیل‘‘ کے ایک اور خط میں  (شمارہ :۲۱) انہوں  نے بڑی محبت سے لکھا ’’تم کو میں  نے ہمیشہ سچا اور اعلی ادیب کہا۔ میں  نے عدل و انصاف کی  بنا پر، تمہاری خوبیوں  کی بنا پر تمہاری تعریف کی۔ تھوڑی سی زندگی ہے اسے ہنس بول کر کاٹ دو‘‘۔ آخری جملہ اس تناظر میں  تھاکہ ’تشکیل ‘کے صفحات میں  اب وہ ہر اہم اور مشہور شاعر، ادیب کو غیر شاعر، نا اہل اور ناکارہ قرار دینے لگا تھا۔ بس درجہ بندی کا فرق تھا۔ وہ وزیر آغا ہوں، احمد ندیم قاسمی، ظفر اقبال، گوپی چند نارنگ، انتظار حسین، اسلم فرخی، آصف فرخی، مشفق خواجہ، انور سجاد، جمیل الدین عالی، امجد اسلام امجد، منیر نیازی، احمد فراز، کشور ناہید، افتخار جالب، انیس ناگی وغیرہ وغیرہ ( اتنے ناموں  کے بعد بھی یہ فہرست نامکمل ہے)۔ گوپی چند نارنگ کے خلاف تو اس نے حد کری۔ شمس الرحمٰن فاروقی کو ’تشکیل‘ میں شائع شدہ انور سجاد سے ریحان صدیقی اور ہمیش کی گفتگو شب خون میں  چھاپنے کا خیال آیا تو یہ فاروقی کی بڑائی ہے کہ نارنگ صاحب سے ہزار اختلافات کے باوجود انہوں  نے ہمیش کو لکھا کہ ’’میں  اسے ( انور سجاد سے گفتگو) ’’شب خون‘‘ میں  چھاپنا چاہتا ہوں  لیکن کچھ باتیں  جو گوپی چند نارنگ کے خلاف ہیں  نکال دوں  گا۔ اُمید ہے تمہیں  کوئی اعتراض نہ ہو گا‘‘۔ (’’تشکیل‘‘۳۵)۔ فاروقی صاحب نے اُسے نصیحت کی ’’میرے بھائی تمہارے جو مخالف ہیں  اُنہیں ڈانٹنے پھٹکارنے سے کیا ملے گا؟’تشکیل‘ تم جس محنت سے نکالتے ہو تعریف کے لائق ہے‘‘ (’’تشکیل‘‘ ۲۷)۔ نقادوں  کے لیے اس کے دل میں  سب سے زیادہ احترام فاروقی صاحب کے لیے تھا۔ وہ انہیں  بہت چاہتا تھا۔ پھر وہ شاید ان سے بھی نالاں  ہو گیا۔ فاروقی صاحب نے جو باتیں  کہیں  تھیں  فضیل صاحب نے بھی ایک خط میں  ان کی رائے سے اتفاق کیا۔ فضیل جعفری نے اسے ایک اور خط میں  لکھا ’’زمانہ اتنا خراب ہے کہ ذہنی ایمانداری کے ساتھ زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ ذہنی منافقت تو آپ کے ہاں  بھی نہیں  ہے لیکن افراد اور حالات کے اعتبار سے آپ کا ادبی موقف بدلتا رہتا ہے‘‘۔ (’’تشکیل‘‘۔ ۳۵)۔ شمس الرحمٰن فاروقی، فضیل جعفری، کے علاوہ گیان چند جین، نیر مسعود، ساقی فاروقی، سلیم اختر، نظیر صدیقی، رام لعل، ستیہ پال آنند، رشید امجد، شمیم حنفی، ساجدہ زیدی، پرکاش فکری، اقبال مجید، افتخار نسیم، عبدالعزیز خالد وغیرہ کئی اہم لوگوں  نے اسے خط لکھے اور اس کی شاعری / خوش نوشت/ ادارتی تشریح/ رسالے کے مشمولات کی تعریف کی۔ گیان چند جین نے جب لکھا کہ ’’میں  پرانے وقتوں  کا آدمی ہوں، جدید ادب کے علامتی اور رمزیہ معانی کو اکثر نہیں  سمجھ پاتا‘‘ (’’تشکیل‘‘: ۲۰۔ ۲۱)۔ تو اس نے بڑے انکسار سے اس پر نوٹ لگایا کہ ’’جین صاحب جیسی معتبر ہستیوں  ہی سے اردو ادب کا چراغ روشن ہے۔ احمد ہمیش میں  کوئی جدیدیت ہے بھی تو اس کی جڑیں  قدیم میں  ہیں‘‘۔ بزرگوں  ہی کی نہیں  اس نے اپنی عمر سے کچھ بڑے، کچھ چھوٹے شاعروں  ادیبوں  جیسے سارا شگفتہ، شکیب جلالی، زاہد ڈار، علیم اللہ حالی، رفیق سندیلوی، عرفان صدیقی، مظہر الزماں  خاں، سکندر احمد، عبید اللہ علیم، پرکاش فکری، ثروت حسین، صابر ظفر کی کھل کر تعریف کی، نثری نظم کے باب میں  اس نے نصیر احمد ناصر، فیاض رفعت، علی محمدؐ فرشی، اور ذی شان ساحل کی ستائش کی اور نثری نظم کی موضوعی اور تکنیکی توسیع کے ضمن میں  ان کی مساعی کا اعتراف کیا۔
احمد ہمیش کو شہرت بہت ملی۔ ساتھ میں  بدنامی بھی۔ اس میں  کچھ کمیاں  ہوں  گی۔ چاند کا ایک سیاہ رخ بھی ہوتا ہے۔ زمین کی گردش کچھ ایسی رہی کہ اس کے لیے چاند کا یہی سیاہ رخ سامنے آتا رہا۔ بچپن اور جوانی کے مصائب اور نامساعد حالات کے سبب اس کے مزاج میں عدم توازن اور عدم رواداری راہ پا گئی تھی جسے ہمارے ادبی معاشرے نے اس کی نادرہ کار صلاحیتوں  کے مالک ہونے کے باوجود قبول نہیں  کیا۔ کسی بے تعصبی کا ثبوت نہیں  دیا۔ وہ معاصر شاعروں  ادیبوں  میں  سب سے زیادہ زر خیز ذہن کا مالک تھا۔ اس کے باوجود بس چند ہی نقاد ہوں  گے جنہوں  نے اس کی تخلیقات میں  فکر کی گہرائی اور اسلوب کے انوکھے پن کے سبب اس کے فن کی ہر طرح پذیرائی  کی ہو، ورنہ اس کی زندگی ہی میں  اسے نظر انداز کرنے کے جواز ڈھونڈ لیے گئے۔
 احمد ہمیش نے کہیں  لکھا ہے کہ جب کوئی ہاتھی چیونٹی پر مضمون نہ لکھ سکے تو اس سے ہاتھی کا مرنا ہی بہتر ہے۔ وہ خود کو ہاتھی سمجھنے لگا تھا، پھر اس نے نہ جانے کون سی عینک لگائی کہ اسے ہر طرف چیونٹیاں  نظر آنے لگیں۔ اس نے ان چیونٹیوں  کے بلوں  میں  گھس گھس کر اُن پر اپنے تنقیدی شذرات لکھے۔ لیکن آخر کب تک، اس کے ہاتھ دکھنے لگے۔ بظاہر اس کی لڑائی دوسروں  سے تھی۔ لیکن میرے خیال میں  اس کی یہ لڑائی خود اپنے آپ سے تھی      ع
خود سے کیا روٹھے لڑائی دوسروں  سے ٹھن گئی
خود سے لڑنے کا اسے یہی ایک طریقہ آتا تھا۔ خدا جانے اس نے خود کو سچ مچ ہاتھی گردانا یا اس وسیع و عریض کائنات میں  اپنے وجود کو بھی چیونٹی کی طرح تسلیم کر لیا۔ بہر حال، جو بھی ہو اس کا مر جانا ہی بہتر تھا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون    ع
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
___________
(’’خبر نامہ شب خون‘‘22
’’تحریر نو‘‘، ممبئی)



 طیب انصاری --جو بادہ کش تھے پرانے -----


جو بادہ کش تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں
کہیں  سے آب بقائے دوام لا ساقی
    موت سے کس کو رَستگاری ہے ؛ آج وہ کل ہماری باری ہے      
یہ اور ایسے ہی بیسیوں  اشعار اُس وقت ہماری نوک زباں  پر آ جاتے ہیں  جب کوئی بے حد عزیزہستی ہمیں  داغِ مفارقت دے جاتی ہے اور اس غم اور صدمے کے زیر اثر ہم خود کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ چند گھنٹوں  یا کچھ دنوں  کے لیے ہی سہی ہم اسی احساس کی گرفت میں  رہتے ہیں  کہ یہ دنیا بے حد عارضی اور بے معنی ہے، اور یہ کہ ہم نے ابھی تک جو زندگی گذاری وہ کسی خواب کے عالم میں  جی رہے تھے۔
یہ چند صفحات، یہ سطریں  لکھتے ہوئے میں  بھی اسی کیفیت سے دو چار ہوں  جیسے میں  سب کچھ کسی خواب کے عالم میں  لکھ رہا ہوں  ؛ وہ جمعہ کا مبارک دن تھا، یکم ربیع الاول حضور سرور کائناتؐ کی پیدائش کا مسعود مہینہ۔ صبح کے سوا پانچ یا ساڑھے پانچ بجے کا عمل ہو گا۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ اتنی صبح کس کا فون ہوسکتا ہے ؟ بھابی منیر النساء طیب انصاری کی آواز تھی ’’بھائی ! طیب اس دنیا میں  نہیں  رہے‘‘ ’’کیا…؟ کیسے ؟‘‘ ’’ہاں۔ رات کے ڈھائی بجے ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ اُن کے جن دوستوں  سے واقف ہوں  انہیں  اطلاع دے دیں‘‘ میں  اس غیر متوقع گفتگو کے لیے تیار نہیں  تھا۔ اپنے حواس مجتمع کرنے میں  مجھے خاصی دیر لگی پھر جو جو نام مجھے یاد آتے گئے کہ طیب صاحب کو اُن سے یا اُنہیں  طیب صاحب سے قرب حاصل رہا ہو گا اُنہیں  فون کیا۔ ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید، رفعت صدیقی، رشید الدین، اسلم فرشوری، صلاح الدین نیر، رحمت یوسف زئی، مضطر مجاز، مجتبیٰ حسین، زاہد علی خاں، مغنی تبسم اور کچھ اور الگ۔ پھر میں  اور میری بیوی عطیہ فوراً طیب صاحب کے گھر آئے۔ وہاں ڈاکٹر مصطفٰے کمال پہلے ہی موجود تھے۔ کچھ دیر میں  ادیبوں، شاعروں، رشتہ داروں  کی بڑی تعداد وہاں  اکٹھا ہو گئی اور پھر تدفین کی غرض سے میت کو الند شریف لے جایا گیا، گلبرگہ کے قریب یہ موضع طیب انصاری کا مولد ہے اور یہیں  حال ہی میں  طیب انصاری نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی ہے۔ گویا اُنہوں  نے آخرت کے سفر کے خرچ و خوراک کا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا۔
طیب صاحب اور بھابی تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل حج کی سعادت حاصل کر کے حیدرآباد لوٹے تھے۔ یہ ان دونوں  کا دوسرا حج تھا۔ جو انہوں  نے اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیے ادا کیا تھا۔ انہوں نے پہلا حج ۲۰۰۱ ء میں  کیا تھا جس میں  میں  اور عطیہ بھی ان دونوں  کے ساتھ تھے۔ اس سال سفر حج سے قبل ہی ان کے پاؤں  میں  جوتے کے کاٹنے سے معمولی زخم کی سی کیفیت تھی جسے انہوں  نے کوئی خاص اہمیت نہیں  دی۔ مناسک حج کی ادائیگی کے بعد زخم کی نوعیت شدید ہو گئی، وہ شوگر کے مریض تھے۔ حیدرآباد لوٹے تو گویابستر سے لگ گئے۔ بس علاج کی غرض سے ایک دن کے ناغے سے اور آخر میں  تقریباً روز ہی علاج کی غرض سے ڈاکٹر شاہد علی خاں  (جو مشہور سرجن اور زاہد علی خاں  صاحب کے بھائی ہیں )کے مطب جاتے۔ انتقال سے ایک دن قبل ساڑھے نو، پونے دس بجے کے قریب میں  اور عطیہ اُن سے ملنے گئے تو بہت دیر تک ہم سے باتیں  کیں۔ گیارہ بجے انہیں  ڈاکٹر رام پرشاد سے ملنا تھا، چاہتے تھے کہ فزیشین کی رائے بھی لے لیں۔ ڈاکٹر رام پرشاد اور ڈاکٹر شاہد علی خاں  کی تعریفیں  کرتے رہے۔ پھر عطیہ، منیر بھابی، میرے ساتھ بیٹھ کر اِسی سال عمرہ کا پروگرام بنایا۔ میں  نے کہا عمرے کے لیے جائیں  تو یوں  کہ موسم اچھا ہو اور ہجوم کم ہو۔ لیکن طیب صاحب اور عطیہ کا خیال تھا کہ عمرہ ہو تو رمضان ہی میں، کیوں  کہ اس ماہ میں  عمرے کا ثواب حضورؐ  کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہوتا ہے بھابی بھی یہ سن کر اُن کی ہم خیال ہو گئیں۔ اب میری کیا مجال کہ زبان کھولوں۔
یہ سب کچھ خواب نہیں  تو اور کیا ہے کہ میں  یہ سطریں  لکھ رہا ہوں  یہاں  پڑھ رہا ہوں  اور طیب صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں۔ یا تو وہ خواب تھا، یا یہ خواب ہے۔ میری اور اُن کی دوستی کی عمر بہت مختصر ہے۔ محض پان سات سال، لیکن اس دوران ہم کافی قریب رہے۔ اگرچہ کہ میں  تقریباً ۴۵۔ ۴۰ برسوں  سے اُن سے واقف رہا ہوں  لیکن محض شناسائی کی حد تک، بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اپنے دوست سے زیادہ میں  نہیں  اپنے ایک اور رفیق اور ہم جماعت احمد جلیس مرحوم کے دوست کی حیثیت سے جانتا تھا۔ طیب صاحب سے ملاقاتوں  کی شق یوں  نکل آئی کہ برس پہلے اپنا وزن کم کرنے کی خاطر میں  چہل قدمی کے لیے چاچا نہرو پارک جانے لگا۔ مانصاحب ٹینک پر اس پارک میں  طیب صاحب سے تقریباً روز ملاقات ہوتی۔ پھر میں  یہ چہل قدمی کا سلسلہ قائم نہ رکھ سکا، لیکن طیب صاحب اور میں  ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگے۔ عطیہ بھی طیب صاحب سے واقف تھیں۔ دونوں  ایم۔ اے اردو کے طالب علم رہے تھے۔ پریویس (Previous) اور فائنل کا فرق تھا۔ پھر ۲۰۰۱ء میں  آلٹن گروپ کے ذریعے ہم نے حج کا فریضہ انجام دیا۔ اب ہم عرفاتی بھائی بھی ہو گئے۔ ہم چاروں  یک ہی کمرے میں رہتے، ساتھ کھانا کھاتے اُٹھتے بیٹھتے، ساتھ ہی حرم شریف جاتے۔ طیب صاحب کے بھتیجے بدر انصاری اور مظہر انصاری اور اُن کی نیک بیبیاں  ناہید اور اصفیہ جدّہ سے عمدہ عمدہ پکوان نہ صرف اپنے تایا اور تائی بلکہ بطور خاص ہمارے لیے بھی لاتے۔ ان بچوں  کے بے حد اصرار پر ہمیں  ان کے گھر جدہ بھی جانا پڑا جہاں  انہوں نے ہماری بے حد خاطر و خدمت کی۔ آلٹن گروپ کے مصطفٰے صاحب بھی اپنے گروپ کے ہر فرد کا اس  طرح خیال رکھتے گویا یہ سارا گروپ ایک ہی خاندان ہو۔ طیب صاحب کے برادر نسبتی عزیز صاحب نے بھی اسی سال آلٹن ٹراویلس کے وسیلے سے حج کیا، لیکن ان کا گروپ مختلف تھا اور انہیں  علاحدہ مقام پر ٹھہرایا گیا تھا۔
میرے لیے ان لوگوں  کو برداشت کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے جو خود غرض ہوں  یا جن میں  حسِ مزاح کا فقدان ہو اور خود پر ہنسنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ طیب انصاری نہ صرف بے حد شگفتہ مزاج تھے بلکہ قدرت نے انہیں  ایک بے لوث جذبۂ خلوص ودیعت کر رکھا تھا۔ آپ اپنے کسی نہایت معمولی کام کا ذکر کریں  وہ فوراً اُٹھ کھڑے ہوں  گے۔ کبھی مجھے ’’سیاست‘‘ کے دفتر میں  کوئی کام ہوتا، اُن سے ساتھ چلنے کو کہتا وہ فوراً آمادہ ہو جاتے۔ انہیں  مرحومین عابد علی خاں  اور محبوب حسین جگر سے خاص ارادت تھی۔ دوستوں  سے یوں  ملتے کہ شیفتگی صاف جھلکتی۔ میں  نے اپنی کتاب ’’دور کنارا‘‘ چند احباب کو پڑھنے یا تبصرے کی غرض سے دی تھی۔ مجھے چار پانچ دن کے بعد آسام کا سفر درپیش تھا۔ ( میرا بیٹا، بہو وہاں  رہتے ہیں )۔ طیب صاحب سے ملا تو بولے ’’سیاست‘‘ میں  سلیمان اطہر جاوید صاحب نے آپ کی کتاب پر تبصرہ نہیں  لکھا‘‘ میں  نے کہا ’’ضروری بھی تو نہیں‘‘۔ یہ بات بدھ یا جمعرات کی ہو گی۔ پیرکی اشاعت میں  جاوید صاحب کے کالم ’’ادبی ڈائری‘‘  میں  ’’دور کنارا‘‘ پر تفصیلی تبصرہ شامل تھا۔ اس واقعے سے مجھے اندازہ ہوا کہ سلیمان اطہر جاوید صاحب سے اُن کے کس قدر قریبی مراسم تھے۔ مزید اس بات سے کہ طیب انصاری کے انتقال کی خبر مجھے جیسے ہی ملی اور میں  نے سلیمان اطہر جاوید صاحب کو اس سانحے کی اطلاع فون پر دینا چاہی تو بڑی دیر تک وہ کچھ بول نہیں  پائے۔ وہ بچوں  کی طرح رو رہے تھے۔
طیب انصاری مشائخ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے بزرگوں  اور مذہبی ہستیوں  سے انہیں  خاص عقیدت تھی۔ انہیں  اپنے انصاری ہونے پر فخر تھا۔ حضرت ابو ایوب انصاری کے اس واقعے سے کہ حضورؐ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو انہیں  کے گھر قیام فرمایا وہ اپنے لیے بھی باعث فخر سمجھتے تھے، وہ بے حد حلیم، نرم گو، وضعدار، با مروت اور شریف النفس انسان تھے۔
طیب انصاری بحیثیت محقق اور نقاد جانے اور مانے جاتے ہیں۔ انہوں  نے کئی موضوعات اور اصناف کو برتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں  ان کا اصل میدان تحقیق تھا۔ انہوں نے تقریباً پچیس (۲۵) کتابیں  تصنیف کیں  اور مختلف ریاستی اکیڈیمیوں  اور انجمنوں  نے انہیں  بے شمار اعزازات سے نوازا۔ ان کی شریک حیات منیر النساء طیب انصاری نے بھی کئی مضامین لکھے ہیں  جو ’’سیاست‘‘ اور دیگر جرائد میں  شائع ہوئے اور یوں  وہ طیب انصاری کے ادبی سفر میں  بھی ان کی رفیق رہیں۔
میں  نہیں جانتا کہ یہ تحریر میں  نے کیسے اور کس طرح شروع کی۔ میں  یہ بھی نہیں  جانتا اب اسے کہاں  ختم کروں۔ یہ ژولیدہ خیالات فانی کے اس شعر کا مرقع ہیں ؎
نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں، سو وہ بھی کیا معلوم
_________
(’’سب رس‘‘ حیدرآباد    
’’ہماری زبان‘‘)
٭٭٭




شاذ تمکنت کی شاعری __ایک جائزہ

( اک آگ ہے کہ جو ڈھلتی ہے آبگینے میں  )


 شاذؔ تمکنت نے اپنی شاعری کی ابتدائی چند برسوں ہی میں  حیدرآباد کے علاوہ بر صغیر میں  اُردو کے دوسرے علمی اور ادبی مراکز جیسے علی گڑھ، دہلی، لکھنو، ممبئی، لاہور، کراچی وغیرہ میں  اہل فن اور ارباب نظر کو متوجہ کیا۔ اِن ادبی حلقوں  میں  یہ تجسس پیدا ہوا کہ ارض دکن میں  ( جیسے وہ مخدوؔم، وجدؔ، یا چند اور ناموں  کے حوالے سے جانتے تھے) یہ نیا شاعر کون ہے؟ اور اس کی آواز میں  یہ سوز، یہ نغمگی، یہ درد مندی کہاں  سے آئی۔ ایک دہائی سے بھی کمم عرصے میں  شاذ کا نام اُن کے عصر کے اہم شاعروں  میں  گنا جانے لگا۔ ہندوستان اور پاکستان کا کوئی ایسا رسالہ نہ تھا جس میں  شاذ کا کلام پابندی سے شائع نہ ہوتا ہو،۔ پاکستان سے ادبی دنیا، نئی تحریریں، سویرا، نقوش، فنون، صحیفہ، سیپ وغیرہ، ہندوستان سے ’ صبا، گجر، سب رس، پونم، کتاب، آئینہ اور دوسرے رسائل۔ سب ہی شاذ کا کلام نمایاں  انداز میں  شائع کرتے تھے۔ کوئی مشاعرہ ایسا نہ تھا شنکر جی یاد گار مشاعرہ ہو، ادبی ٹرسٹ کی محفل ہو یا بھوپال، لکھنو، دہلی وغیرہ میں  کوئی اہم مشاعرہ جہاں  شاذ نہ جاتے ہوں۔ کوئی ایسی قابل ذکر انتھالوجی نہ تھی جس میں  شاذ کا کلام شامل نہ ہو۔
اس ابتدائی غیر معمولی شہرت کے باوجود ( جو شاذ کو با وقار ادبی حلقوں کے علاوہ اُن لوگوں  میں  بھی حاصل رہی جن کا ادب سے محض رسمی یا روایتی رشتہ تھا)، آئندہ برسوں  میں  شاذ نے جوسفر طئے کیا۔ اس میں  شاذ کے قدموں  میں  کہیں  لغزش نہیں  آئی۔ ادبی محفلوں، جلسوں یا مشاعروں  کے شور و شغب سے ہٹ کر شاذ نے ان ہی احساسات کو قلمبند کیا جسے ان کی داخلی اور خارجی کیفیات لَو دے رہی تھیں۔ شاذ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایک درد مند دل رکھتے ہیں   بلکہ ان کی لفظیات کی اپنی خوشبو ہے۔ لہجے کی ایسی نغمگی اور گھلاوٹ اور بقول فراقؔ ’’رنگ و صوت کا ایسا خوبصورت امتزاج جو اُن کا اپنا ہے۔ اسی لیے شاذ کے ہم عصر کئی ایسے شاعر ہیں  جو شاذ سے متاثر نظر آتے ہیں  لیکن شاذ پر کہیں  ان کی پرچھائیں  نہیں  پڑتی۔
شاذؔ کی شاعری پڑھتے ہوئے پہلی نگاہ میں  جو چیز ہمیں  متاثر کرتی ہے وہ اُس کی شدتِ احساس ہے۔ ایک مخفی تپش، ایک عجیب سی وحشت، جسے غالب نے ’وحشتِ مجنوں ‘ سے تعبیر کیا ہے، یہ حدت، یہ تپش، یہ وحشت، یہ سپردگی، ذات کی یہ شکست و ریخت، آئینے کا یوں  ریزہ ریزہ ہو جانا کہ وہ اسے نگاہ آئینہ ساز ہی میں  نہیں  بلکہ قاری کی نگاہ میں  بھی عزیز تر کر دے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ آئینہ کی ایسی شکستگی جو کئی آئینہ خانے تعمیر کر دے۔ ان عوامل نے شاذ کو ایک ایسا لہجہ عطا کیا جو انتہائی پر سوز، نغمہ آگیں  اور روح پرور ہے؛ ایک عجیب حزنیہ لہجہ __ یہ اشعار دیکھئے ؎
آخرِ شب کی اداسی نم فضاؤں  کا سکوت
زخم سے مہتاب کے رستا ہے کِرنوں  کا لہو
دل کی وادی پر ہے بے موسم گھٹاؤں  کا سکوت
کاش کوئی غمگسار آئے مداراتیں  کرے
موم بتی کی سلگتی روشنی کے کرب میں  
دُکھ بھرے نغمے سنائے دکھ بھری باتیں  کرے
(نظم۔ ’’قید حیات و بندِ غم‘‘)
_____
شاذؔ کیوں  چپ ہو، یہ آشفتہ سری کیسی ہے
تم تو کہتے تھے کہ بیتے ہوئے ایام کی یاد
جب بھی آئے گی بہاروں  میں  چھپی آئے گی
سات رنگوں  کی عماری میں  چلی آئے گی
پھر یہ دکھ کیا ہے، یہ دامن کی تری کیسی ہے
مسکرادو کہ کریں  دید کے ہنگم کی یاد
کم نہیں  نشہ سے کچھ دُزدِ تہِ جام کی یاد
(نظم۔ ’’پاکیِ داماں  کی حکایت‘‘)
_____
کورے مٹی کے پیالے کی طرح نیل گگن
رات کے چاک سے جس وقت نکل آئے گا
پارۂ برف طلا فام کی مانند قمر
جب شفق رنگ جزیروں  میں  پگھل جائے گا
شست باندھے ہوئے سورج کی کرن آئے گی
پھر سے ہو جائیں  گے دروازے کے شیشے زخمی
میرا کمرہ، مرے کمرے کے دریچے زخمی
               (نظم :’’زخمی دریچے‘‘)
مخدومؔ نے شاذ کے کلام پر رائے دیتے ہوئے لکھا ’’۔۔۔ اُسے زندگی سے عشق ہے۔ اسی عشق نے اُس کے دل کو درد مند اور شعر کو مہذب بنا دیا ہے۔۔۔‘‘اس میں  کوئی شک نہیں  کہ شاذ کو زندگی سے بے پناہ عشق ہے، زندگی کا کوئی مظہر ہو، انسان کے باطنی جذبات، اعلیٰ انسانی قدریں، انسانی حسن، قدرتی نظارے، چاند، سورج، پھول، چنار۔ انہیں  ہر شئے حسین نظر آتی ہے۔ شاذ کی شاعری، ہر نفس ہر لمحہ باطنی کیفیات اور خارجی مظاہر کی یکجائی کے ساتھ اپنے وجود میں، اپنے اندر اور باہر پھیلا ہوا سارا حُسن سمیٹ لینا چاہتی ہے۔ اور بہ حیثیت فرد یہی شاذ کی سب سے بڑی ناکامی ( کیوں  کہ اس کا حصول ناممکن ہے)، اور شاذ کی شاعری کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ ہمیں  عجیب جہانوں  کی سیر کراتی ہے جب شاذ کہتے ہیں ’’ابرِ رنگیں  کہیں  خواب پارے نہ ہوں  / جھرنے نیندوں  کے سیّال دھارے نہ ہوں  / بھونرا اک پَر فشاں  سیلِ نغمہ نہ ہو / جگنو آواز فطرت کا شعلہ نہ ہو‘‘۔ جب اُنہیں  یہ فکر ستاتی ہے ’’کس لئے زخم لالے کے بھرتے نہیں  / پھول مرجھا کے فریاد کرتے نہیں ‘‘ یہاں  لالہ کا غم شاذ کا اپنا غم بن گیا ہے۔  شاذ نے اپنے دل میں  سیکڑوں  قریئے بسارکھے ہیں۔ اُنہیں  اس دن کا انتظار ہے جب اُنہیں  انجان پاکر کوئی اپنی نور آسا انگلیاں  اُن کی آنکھوں  پر رکھ دے گا اور بصد انداز اُن سے پوچھے گا، میں  کون ہوں ؟ اور وہ ہنس کر کہیں  گے ’’ہاں۔ میں  جانتا ہوں  تم صبحِ فردا ہو‘‘ شاذ نے زندگی سے ٹوٹ کر پیار کیا ہے اس لیئے جب وہ کہتے ہیں  ’’بے سجدہ نہیں  گزرا بت خانۂ عالم سے‘‘ تو لگتا ہے وہ سچ کہہ رہے ہیں۔
شاذؔ کی ایک اہم خصوصیت ان کا وہ احساسِ حُسن ہے  جو لمسیاتی اور حسیاتی کیفیتوں  سے مملو ہے۔ ایک بے نام خوف اور ایک بے نام اُداسی کے رنگوں  نے اس کیفیت کو اور نکھار دیا ہے۔ اُن کی ایک نظم ’’چاند پھر نکلے گا‘‘ میں  ہمیں  اس احساس کی بھر پور عکاسی ملتی ہے۔ جب شاعر رات سے اس لئے  ڈرتا ہے کہ کہیں  چاند نہ نکل آئے۔ کیوں  کہ جب چاند نکلے گا تو شاعر کو اپنے محبوب کی یاد ستائے گی جو چاند ہی کی طرح حسین ہے۔ ایک چاند آسمان پر اور ایک چاند اس کی آنکھوں  میں  اس کی پلکوں  پر سفر کرے گا۔ پھر وہ کیسے سوسکے گا۔ یہ مصرعے دیکھئے: ’’رات بھر پھر مرے ارماں  کا سیہ تاب چراغ  / جھلملائے گا مجھے نیند نہیں  آئے گی‘‘ اور۔۔ ’’چاند پھر دائرے سے زاویہ ناخن تک / گھٹتا جائے گا مجھے نیند نہیں  آئے گی‘‘۔ شاذ کے پیش روؤں  میں  احساس حُسن کی سب سے روشن مثال فراقؔ کی شاعری ہے، لیکن شاذ کا اپنا جداگانہ رنگ ہے۔ شاذ نے ایسے بے شمار حسیاتی اور لمسیاتی پیکر تراشے ہیں  جو اُن ہی سے مخصوص ہیں۔ میں  یہاں  چند ہی مثالیں  دوں گا؎
تو یہ آنکھیں  ہیں  وہی بوسۂ لب کے ہنگام
بند ہو جاتی تھیں  مندر کے کواڑوں  کی طرح
تو یہ بانہیں  مری دیوار بدن کا تھیں  حصار
رات بھر میں  جو پگھل جاتی تھیں  شمعوں  کی طرح
(نظم : ’’آب و سراب‘‘)
غزل کے یہ اشعار :
تیرا لہجہ ہے کہ سناٹے نے آنکھیں  کھولیں  
تیری آواز کلیدِ درِ تنہائی ہے
_____
ایک سائے کا کرم ہے تپش جاں  پہ ہنوز
ایک دیوار کے غم نے مجھے جینے نہ دیا
_____
 تُو بن چھوئی کلی سہی، سُنی ہے جب تیری ہنسی
تو نکہتِ وصال تیرے تن بدن سے آئی ہے
شاذؔ کو موسیقی سے بے حد لگاؤ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بڑے موسیقار، گلوکار، ان کی غزلیں، نظمیں  ساز پر گائیں، بیگم اختر نے ان کی غزلیں  اور عزیز احمد خاں  وارثی نے ان کی لکھی ہوئی مناجات ریکارڈ کروائیں، جو کافی مقبول ہوئیں۔ موسیقی سے اس شغف کے نتیجے میں  شاذ کی شاعری میں  از خود کئی راگ راگنیوں  کے نام آ گئے اور موسیقی کی اصطلاحیں  در آئیں۔ مختار صدیقی کے شعری مجموعہ ’’منزلِ شب‘‘ کا ایک حصہ ( جسے اُنہوں  نے ’’سدا رنگ‘‘ کا نام دیا ہے ) مکمل طور پر ایسی نظموں  پر مشتمل ہے جو کلاسیکی موسیقی کے راگوں  سے متعلق ہیں، ان نظموں  کے عنوانات ہیں  ’’سرگم‘‘ ’’خیال ایمن کلیان‘‘ ’’خیال درباری‘‘ ’’ایمن کا ایک روپ‘‘ ’’خیال چھایا‘‘ ’’کیدارا کا ایک روپ‘‘ وغیرہ۔ شاذ نے راگ راگنیوں  کو مستقل موضوع نہیں  بنایا لیکن شاعری اور موسیقی کے امتزاج سے معنی کے کئی در وا کیئے ہیں  اور یوں  کسی حد تک مختار صدیقی کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں  نے اپنی نظموں  میں  صوت کے زیر و بم کو لفظوں  میں  اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی شاعری میں  ایسے کئی مقام آئے ہیں  جہاں  شعر و نغمہ ایک ہو جاتے ہیں۔ نغمے کی جھنکار لفظوں  سے چَھن کر قلب و نگاہ کو معطر اور مطہّر کرتی ہے۔ نظم  ’’نغموں  کی مسیحائی‘‘ میں  ایک چمکیلی، بہتی ہوئی، راگنی ان کے در دل پہ دستک کی صدا بن جاتی ہے۔ اُن کی رگ رگ میں  شمعیں  روشن کرتی ہے اور اُن سے کہتی ہے:
سُن شہید ستم ہائے صبح و مسا
ہم ترے چاک داماں  کے ہیں  بخیہ گر
ہم ہیں  تیرے مسیحا، ترے چارہ گر
تیرے فانوسِ خاطر میں  شعلہ ہیں  ہم
مُو بہ مُو صورتِ جوشِ صہبا ہیں  ہم
(نظم: ’’نغموں  کی مسیحائی‘‘)
ایک اور نظم ’’مریمِ نغمہ‘‘ میں  وہ یوں  گویا ہیں :
مریمِ نغمہ تری لئے میں  ہے تنویرِ شفا
تو مری خاک کو سودائے پر افشانی دے
رختِ ہستی کو تمنائے گریبانی دے
سَم سے بھٹکا ہوں  کہاں  جاؤں  بتا دے  مجھ کو
سینئہ ساز میں  چپ چاپ سُلادے مجھ کو
جی میں ہے کھوئے ہوئے خوابوں  کی تعبیر ملے
راگ کی آگ میں  جل بجھنے کی تقدیر ملے
(نظم: ’’مریم نغمہ‘‘)
شاذؔ نے راگ راگنیوں  کو موضوع نہیں بنایا لیکن اُن میں  راگ کی آگ میں  جل بجھنے کی خُو ہمیں  ملتی ہے، جو اُن کی شاعری کو ایک نیا رنگ اور آہنگ دیتی ہے۔ نظم ’’کوئلیا مت کر پکار‘‘ بیگم اختر کی یاد میں  لکھی گئی ہے۔ اس میں  انہوں  نے بیگم اختر کی موت کو شکستِ لحن سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’برہنہ پا ہیں  کھرج، تال، سَم، رکھب، گندھار/ کھڑی ہوئی ہیں  کھلے سر تمام راگنیاں  / ہے آج  چرخِ ترنم سے رخصتِ ناہید / کہ کل سے بند رہے گا سرسوتی کا مکاں‘‘۔ ان نظموں  کے علاوہ بھی شاذ کی کئی نظموں  کے بند/ مصرعے اور غزل کے کئی اشعار، فنِ موسیقی سے ان کے گہرے شغف اور ادراک کے آئینہ دار ہیں۔
جہاں  تک شاذ کی شاعری کے فنّی محاسن کا سوال ہے شاذ کا ہر نقاد یہی کہے گا کہ اُنہیں  زبان و بیان پر خلاقانہ قدرت حاصل ہے۔ اُن کے اظہار میں  ایک بہاؤ کی سی کیفیت ہے۔ اسی لیے وہ طویل نظمیں  بڑی آسانی سے کہہ لیتے ہیں۔ کہیں  کہیں  صناعی ضرور ملتی ہے لیکن یہ زیادہ تر اُن کی ابتدائی شاعری تک محدود ہے۔ ہمیں  ان کی شاعری میں  کئی بے حد خوبصورت تراکیب ملتی ہیں  جن کی آمد میں کسی شعوری کاوش کا شائبہ تک نظر نہیں  آتا۔ بنیادی طور پر شاذؔ جذبہ و احساس کے شاعر ہیں۔ اعلیٰ انسانی قدریں، محبتیں، محرومیاں، پیار، خلوص، انسانی روابط شاذ کی شاعری کے مستقل موضوعات ہیں۔ زندگی کی جامد، بے رحم حقیقتیں  اُن کے شیشۂ احساس سے رات دن ٹکراتی رہی ہیں۔ شاذ کی شاعری اُن ہی شب و روز کی ایسی داستان ہے جو وقت کے چہرے پر زخم کا نشان بن گئی ہے۔ شاذ نے کئی فکر انگیز نظمیں  بھی لکھی ہیں  جیسے ’’سائنس‘‘‘‘ چھٹا آدمی‘‘ ’’ایک سوچ ایک سوال‘‘ ’’رقص ابلیس‘‘ خدا ترس‘‘ ’’ٹائم کیپسول‘‘ وغیرہ۔ ان میں  اکثر نظمیں  شاذ کی شاعری کے آخری دور کی دین ہیں۔ اُن کی طرز فکر اپنے عہد کی فلسفیانہ سوچ اور سیاسی سماجی مسائل سے بھی پا بستہ ہے اور اس میں  جدید حسیت کے نقوش نہایت واضح انداز میں  ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
میں  نے اوپر زیادہ تر گفتگو شاذ کی نظموں  کے حوالے سے کی ہے۔ میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ شاذ غزل کے بہتر شاعر تھے یا نظم کے۔ میں  یہاں  شاذ کے کچھ اشعار پیش کرنا چاہوں  گا تاکہ اپنی اس مشکل میں  اپنے قارئین کو بھی شریک کر سکوں ؎
کس کس کو اب رونا ہو گا جانے کیا کیا بھول گیا
چشم و لب کا ذکر ہی کیا ہے، میں  تو سراپا بھول گیا

شہر شب میں  اپنی فقط اک نجم سحر سے یاری تھی
ہم کچھ ایسے سوئے وہ بھی رفتہ رفتہ بھول گیا

شکن شکن تری یادیں  ہیں  میرے بستر کی
غزل کے شعر نہیں  کروٹیں  ہیں  شب بھر کی

پھر آئی رات مری سانس رکتی جاتی ہے
سرکتی آتی ہیں  دیواریں  پھر مرے گھر کی

اپنی اپنی شبِ تنہائی کی تنظیم کریں
چاندنی باٹ لیں  مہتاب کو تقسیم کریں

جانے والے تجھے کب دیکھ سکوں  بارِ دگر
روشنی آنکھ کی بہہ جائے گی آنسو بن کر

ٹوٹ جائے گا نشہ دیکھ کوئی نام نہ لے
آنکھ بھر آئے گی اس طرح مرا جام نہ بھر

میں  نے ہر رات یہی سوچ کے آنسو پونچھے
منہ دکھانا بھی ہے دنیا کو بہ ہنگام سحر

آج کھولا تھا در خانۂ دل
ایک بھی چیز سلامت نہ ملی

تیرا لہجہ ہے کہ سناٹے نے آنکھیں  کھولیں
تیری آواز کلیدِ درِ تنہائی ہے

اب ایک دن کی جدائی بھی سہہ نہیں  سکتے
جُدا رہے ہیں  تو برسوں  جدا رہے تم سے

وہ کب کا ڈوبا ہے، لیکن ندی کے پانی پر
کھنچی ہوئی ہے ابھی تک لکیر کہتے ہیں

خدا نہیں  ہے تو کیا ہے ہمارے سینوں  میں  
وہ اک کھٹک سی جسے ہم ضمیر کہتے ہیں

خیال آتے ہی کل شب تجھے بھلانے کا
چراغ بجھ گیا جیسے مرے سرہانے کا

ابھی لبوں  پہ تبسم کی راکھ باقی ہے
کھنڈر سے پوچھنا یہ بُت ہے کس زمانے کا

تخصیص نہیں  باقی اُس چشم عنایت کی
ہر ایک کے بس میں  ہے اب دل کو دُکھا دینا

خبر نہیں  کہ مرے شعر کیا مرا فن کیا
اک آگ ہے کہ جو ڈھلتی ہے آبگینے میں  

برس تمام ہوا اور عمر باقی ہے
جُدا ہوئے  تھے وہ مجھ سے اسی مہینے میں

شاذؔ تمکنت کی غزل اور نظم کو ایک دوسرے سے علاحدہ کرنا مشکل ہے اور میرے خیال میں  ہر اچھے شاعر کے ساتھ جو نظم اور غزل دونوں  اصناف پر قدرت رکھتا ہو یہی صورت حال ملے گی۔ نظموں  کی طرح شاذ کی غزلوں  میں  اشاریت اور ایمائیت کی گُل کاریاں  ہیں  جس سے معنی کی کئی سطحیں  اُبھرتی ہیں  جب جدیدیت کے نام پر ایک ہی طرز کی نظمیں  عام ہو گئیں  تو شاذؔ نے ( غیر شعوری طور پر) ان انداز کی نظموں  سے دامن بچاتے ہوئے غزل کی طرف زیادہ توجہ دی۔ اگرچہ کہ وہ پہلے ہی بہت اچھی غزلیں  کہہ رہے تھے لیکن ستّر کی دہائی کے آس پاس اُنہوں  نے اور بھی اچھی غزلیں  لکھیں۔
شاذؔ کی غزل عشق کے جذبے کی گہرائی اور حُسن کی کرشمہ سازیوں  کا بے حد لطیف اظہار ہے۔ اُن کی غزل محض سُنی سنائی باتوں  یا روایتی عشق کی داستان نہیں  بلکہ ہمیں  اس میں  جسمانی قرب اور دوریوں  سے متنبح، جذباتی اضطراب اور ہیجان کے وہ شواہد بھی ملتے ہیں  جو جسم کو روح کے وسیلے سے کائنات کے ادراک اور انکشاف کے زینے تک لے آئیں۔ اس کے علاوہ غزل میں  کلاسیکیت کے رچاؤ کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کے معاشرتی اور سیاسی مسائل تہذیبوں  کے ٹکراؤ، بکھرتی ہوئی قدروں، شکست خواب، فرد کی تنہائی اور اجتماعی بے یقینی کا اظہار جس انداز میں  ہمیں  شاذ کی شاعری میں  ملتا ہے وہ اپنے عصر کے تمام شاعروں  سے مختلف ہے۔ نصف آخر بیسویں  صدی کی شاعری کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو اس میں  شاذ تمکنت کا نام ایک منفرد مقام کا حامل رہے گا۔
___________
 (’’نیا دور‘‘، لکھنو      
’’تحریر نو‘‘ ممبئی)




عابد سہیل ______ ’’کھُلی کتاب‘‘


’’کھلی کتاب‘‘ عابد سہیل کے تحریر کردہ خاکوں  کا ایسا مجموعہ ہے جس میں  ڈاکٹر عبد العلیم، حیات اللہ انصاری، ایم چلپت راؤ ( ایم سی )، پنڈت آنند نرائن ملا، آل احمد سرور، عشرت علی صدیقی، منظر سلیم، عابد پشاوری، وجاہت علی سندیلوی، احمد جمال پاشا، مقبول، احمد لاری، ڈاکٹر عبدالحلیم، راجیش شرما اور نسیم انہونوی پر خاکوں  کے علاوہ ایک خاکہ نما مضمون ’’اولڈ انڈیا کافی ہاؤس‘‘ بھی شامل ہے۔
اس کتاب کے پیش لفظ میں  عابدسہیل لکھتے ہیں ’’ہر شخصیت دوسری شخصیت سے مختلف ہوتی ہے اور اسی طرح اس کی جانب دوسروں  کا رویہ بھی دیکھنے کا انداز بھی، خاکہ نگار بھی ان ’’دوسروں ‘‘ ہی میں ہوتا ہے۔ چناں  چہ خاکہ نگاری میں  دو شخصیتوں  کے درمیان معاملہ ہر خاکے کو اپنے رنگ و آہنگ میں  دوسرے خاکے سے مختلف بنا دیتا ہے اور کسی متعین معیار پر اس کا پورا اترنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے‘‘ میرے خیال میں  خاکہ نگاری کی یہ بے حد مختصر لیکن جامع تعریف ہے۔ اس کے علاوہ  عابد سہیل نے خاکہ نگاری کے چند اصول وضع کیے ہیں  اور اپنی خاکہ نگاری کے دوران اُنہیں  برتا بھی ہے لیکن کسی میکانکی انداز میں  برتنے کے بجائے اپنے فنی تقاضوں  کا زیادہ پاس رکھا ہے۔
خاکہ نگاری کے بارے میں  عابد سہیل کی جو رائے میں  نے سب سے پہلے نقل کی ہے کہ خاکہ نگاری دراصل دو شخصیتوں  کے درمیان ایسا معاملہ ہے جو ہر خاکے کو اپنے رنگ و آہنگ میں  دوسرے خاکوں  سے مختلف بنا دیتا ہے نہ صرف یہ کہ یہ خیال صد فی صد صحیح ہے بلکہ اس کتاب میں  جن لوگوں  پر خاکے ہیں  ان کے بارے میں  عابد سہیل کے طرز احساس کو سمجھنے میں  بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں  جن سے عابدسہیل کی مکمل طور پر ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی ہے اور زیادہ تر خاکے ان ہی لوگوں  پر ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں  جو بہ عینہٖ وہی خواب نہیں  دیکھتے جو عابد سہیل دیکھتے ہیں  تو عابد سہیل کو حیرت ہوتی ہے، بلکہ جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ ’’کیا یہ حضر ت جھکنا نہیں  جانتے‘‘ تو عابد سہیل کہتے ہیں  کہ ’’اپنے آقاؤں کے سامنے ضرور جھکتے ہوں  گے‘‘ یہ مکالمہ حیات اللہ انصاری کے بارے میں  ہے لیکن  ان خاکوں کے بارے میں  کچھ کہنے سے پہلے میں  چاہوں  گا کہ ہم دوسری شخصیت یعنی خاکہ نگار کے بارے میں  کچھ جان لیں۔
پہلی شخصیت کے ذیل میں  وہ ’’ممدوح‘‘ ہیں  جن پر یہ خاکے لکھے گئے ہیں ،  دوسری شخصیت اس پردۂ زنگاری میں  عابد سہیل کی ہے۔ عابد سہیل کا تعلق ترقی پسند مصنفین کی اس نوع سے ہے جن کے لیے تحریک نام و نمود یا عزت و ثروت کے حصول کے بجائے ایک مقدس نصب العین کا درجہ رکھتی تھی اور اب بھی رکھتی ہے۔ سماج کو ظلم و ستم سے آزاد کرانے، اپنے ملک سے مفلسی کو ختم کرنے کا جو خواب انہوں  نے دیکھا تھااس کے مقابل انہیں  اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کی فکر تک بے مایہ نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں جو لوگ ان ’’خوابوں  کی راہ میں  روڑے اٹکانے والے‘‘ ہوں  ان کے بارے میں  عابد سہیل کا رویہ کیا ہوسکتا ہے؟ حیات اللہ انصاری کے خاکے میں  یہ دو شخصیتوں  کے درمیان ایسا معاملہ ہے جس میں  دخل دینا ہمارے لیے مناسب نہیں۔ ہمیں  بس یہ دیکھنا ہے کہ کیا عابد سہیل نے کسی سیاسی بغض یا تعصب سے کام لیا ہے، نہیں۔۔۔ بلکہ اس خاکے میں  سیاسی سطح کے اختلافات سے زیادہ حیات اللہ انصاری کی خوبیوں  کا ذکر ہے۔ البتہ زندگی، ادب اور سیاست کے بارے میں  خود عابد سہیل کا رویہ ان کی سوچ اس خاکے میں  در آئی ہے اور یہ ناگزیر بھی تھا۔ حیات اللہ انصاری کی شخصیت کے وہ پہلو، وہ ابعاد جنہیں  مصنف ذہنی طور پر قبول کرنے سے عاجز ہے کہیں  گہری خفگی اور طنز کی صورت میں  ابھر آتے ہیں۔ معاملات من و تُو کی آفریدہ اس آویزش نے اس خاکے میں  تلخی کو جگہ دینے کے بجائے کچھ خوبصورت رنگ بکھیر دیے ہیں  بس ایک جگہ معروضیت کا دامن ان سے چھوٹ گیا ہے۔ جہاں  وہ حیات اللہ انصاری کے متشدد مخالف تحریک رویے کے ڈانڈے کسی، ’’چارمنگ لیڈی‘‘ سے اور مجاز، سبط حسن، سردار جعفری اور فرحت اللہ انصاری کی رقابت سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس واحد لغزش مستانہ سے قطعِ نظر مصنف نے حیا ت اللہ انصاری کی شخصیت کی کئی خوبیوں  پر جس طرح روشنی ڈالی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عابد سہیل اپنے سیاسی عقائد یا سیاسی نظریات سے وابستہ تو ہیں  لیکن اپنی آنکھیں  کھلی رکھتے ہیں  اور اپنے دل کی سرحدوں  کا احترام بھی کرتے ہیں۔ صحافت کے میدان میں  انصاری صاحب کی خدمات،  انصاری صاحب کا اپنے ہی اخبار میں  اپنے اداریے کے خلاف ایک طویل مضمون شائع کرنے کا ظرف اور حوصلہ، مصنف کی سخت کلامی کے باوجود ایک اسامی پر ان ہی کا تقرر، منٹو اور عبدالماجد دریابادی کی انصاری صاحب کے بارے میں  رائے، ایسے کئی واقعات اس خاکے میں  جس انداز سے بیان کیے گئے ہیں  ان سے پتہ چلتا ہے کہ عابد سہیل کے دل میں  حیات اللہ انصاری کے لیے کس قدر محبت اور عزت تھی۔
عابد سہیل، آل احمد سرور کے خاکے میں  بھی کشش اور گریز کی اسی کیفیت سے دو چار ہیں  جو انہیں  حیات اللہ انصاری کا خاکہ لکھتے وقت در پیش تھی۔ یہاں  کشش زیادہ ہے اور گریز کم۔ اس کا سبب سرور صاحب کی شخصیت کی دل فریبی ہو سکتی ہے یا ترقی پسندی کے وہ ابتدائی اسباق جو انہوں  نے سرور صاحب کے بیر روڈ والے مکان پر انجمن کے جلسوں  میں  پڑھے تھے۔ لیکن عابد سہیل کا جھکاؤ احتشام صاحب کی طرف زیادہ تھا۔ اس وقت یونی ورسٹی میں  طلبا کے دو گروپ تھے ’’احتشامیے‘‘ اور ’’سروریے‘‘۔ جب مولوی عبدالحق نے ریڈر شپ کے لیے احتشام صاحب کے بجائے سرور صاحب کا انتخاب کیا تو عابد سہیل کو اس قدر ناگوار گزرا کہ انہوں  نے اپنا اختیاری مضمون بدل کر اردو کی جگہ اکنامکس کرا لیا۔ بہ قول ان کے احتشام صاحب کی شخصیت کا جادو اور اس سے زیادہ جارحانہ احتشامیت دل و دماغ کو کچھ اس طرح گرفت میں  لیے ہوئی تھی کہ سرور صاحب سے اردو پڑھنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں ’’یہ سب اپنی جگہ لیکن سرور صاب کے عزت و احترام میں  کبھی کمی نہ آئی اور ان کی شخصیت کی محبوبیت سے آزاد ہونا کبھی ممکن  نہ ہوسکا‘‘ اگر کسی شخص کی سمجھ میں  یہ نہ آ سکے کہ یہ متضاد بلکہ متصادم جذبات کس طرح عابد سہیل کے دل میں  جگہ پا سکتے ہیں  تو اسے سرور صاحب پر ان کا لکھا یہ خاکہ پڑھنا ہی ہو گا۔ یونی ورسٹی میں  سرور صاحب  کی مقبولیت، نئے ادیبوں  کے لیے ان کی حوصلہ افزائی، ان کی زود رنجی، کبھی کبھار غصے کا اظہار، عابد سہیل کی سرور صاحب کے ساتھ جذباتی وابستگی، چند ایسی شکایتیں  جو اپنوں  ہی سے ممکن ہیں، یہ ساری باتیں  انہوں  نے جس وارفتگی سے اس خاکے میں  تحریر کی ہیں  یہی اس کا جواب ہوسکتا ہے۔ دبی زبان میں  کہیں  کہیں  عابد سہیل نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ کئی موقعوں  پر جہاں  سرور صاحب کو انجمن کی حمایت میں  آواز اٹھانی چاہیے تھی وہ خاموش رہے بلکہ ایک بار تو انجمن کے مخالفین نے جب کسی بات پر استہزانیہ قہقہہ لگایا تو سرور صاحب کی آواز سب سے بلند تھی۔ لیکن سرور صاحب کے اس رویے کی تاویل انہوں  نے پہلے ہی یہ کہہ کر کر دی ہے کہ ’’ان کی ترقی پسندی اس قدر لطیف تھی اور حریری پردوں  میں  لپٹی ہوئی کہ مجھ ایسے نو سکھیے کے لیے اسے سمجھنا بھی مشکل تھا۔‘‘ سرور صاحب کی تائید میں  خود کو نوسکھیا کہنا، عابد سہیل کی عقیدت مندی یا انکسارہی نہیں  ان کی بڑائی بھی ہے۔
مقبول احمد لاری کی شخصیت ایسی نہیں  کہ ان سے کسی نظریاتی اختلاف کی راہ نکل سکے۔ لیکن چوں  کہ انہیں  ایک سماجی مرتبہ حاصل ہے اس لیے ان سے لاتعلق بھی نہیں  رہا جا سکتا تھا۔ ان کا برتاؤ عابد سہیل کے ساتھ رئیسانہ اور مربّیانہ ہے اور وہ ان مجلسی آداب سے بھی لا پرواہ نظر آتے ہیں  جن کی ایک حساس ادیب توقع رکھتا ہے اور یہی ان کے مراسم میں  اجنبیت اور دوری کا اصل سبب ہے لیکن اگر کسی پتھر میں  بھی اندر سے کوئی روشنی کی کرن پھوٹ رہی ہو تو ایک جوہری کی نگاہ اسے فوراً تاڑ لیتی ہے۔ فن کار کی مثال ہی ایک جوہری کی سی ہے اور عابد سہیل اس مدھم روشنی میں  اجنبیت سے تعلق خاطر تک کا سفر بہ آسانی طئے کر لیتے ہیں۔ یہ خاکہ ایک سسپنس فلم کی طرح شروع ہوتا ہے ( عابد سہیل نے اپنے ادبی سفر کے آغاز میں  جاسوسی ناول کے تراجم بھی کیے ہیں )۔ خاکہ آدھے سے زیادہ ختم ہو جاتا ہے لیکن قاری کا تجسس برقرار ہے کہ عابد سہیل کو لاری صاحب پر مضمون لکھنے سے اس قدر احتراز کیوں  تھا۔ آخر ان کی شخصیت میں  ایسی کیا کجی یا ان ہونی بات ہے؟ خاکے کے اختتام کے پہنچتے پہنچتے یہ کھلتا ہے کہ سیاہ و سفید کی آمیزش مختلف شخصیتوں  میں  مختلف تناسب میں  کیسے کسیے Shades پیدا کر سکتی ہے اور کبھی کبھی شخصیتوں  کا تضاد کس طرح انسانی رشتوں  کے حسن میں  ڈھل جاتا ہے، بعض اوقات عابد سہیل کو اپنے دشمنوں  یا بیگانوں  پر ایسا پیار آتا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک کر انہیں  گلے لگا لیتے ہیں  اور ہنسنے لگتے ہیں۔
ان خاکوں  سے ہٹ کر اس کتاب میں  شامل اکثر خاکے ان اشخاص پر لکھے گئے ہیں  جو بیش تر صورتوں  میں  مصنف کے ہم سفر ہی نہیں  ان کے ہم صفیر بھی ہیں۔ ڈاکٹر عبد العلیم کی حیثیت نہ صرف عابد سہیل بلکہ اس دور کے سبھی نوجوانوں  ادیبوں  اور دانش وروں  کے لیے میرِ کارواں  کی سی ہے۔ اس کتاب میں  جن لوگوں  پر خاکے شامل ہیں  ان میں  ڈاکٹر عبد العلیم کی شخصیت سب سے قد آور ہے۔ وہ ہندوستان اسوسی ایشن آف سنٹرل یورپ کے اس وقت صدر تھے جب ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اس کے سکریٹری تھے۔ سروجنی نائیڈو انہیں  بیٹا کہتی تھیں۔ جب وہ انہیں  فٹ پاتھ پر پیدل جاتے ہوئے دیکھتی ہیں  تو کار  ر کوا کر باہر آ جاتی ہیں  اور ان کے ساتھ کئی ریاستی وزراء بھی۔ علیم صاحب نے ڈاکٹر لوہیا کے ساتھ مل کر ایک جرمن رسالہ شائع کر کے جرمنی اور آس پاس کے ملکوں  میں  ہندوستان کا مطالبۂ آزادی گھر گھر پہنچا دیا تھا۔ انہوں  نے جرمنی سے ہندستان لوٹ کر    جے پرکاش نارائن کے ساتھ سوشلسٹ پارٹی کی بنیاد بھی ڈالی تھی۔ علیم صاحب کے بارے میں  ایسے کئی انکشافات ہیں  جو اس خاکے کے ذریعے ملتے ہیں۔ اس خاکے میں  عابد سہیل، علیم صاحب سے متعلق کئی چھوٹے چھوٹے واقعات چند مختصر جملوں  میں  اس طرح پیش کرتے ہیں  کہ یہ جملے سلولائیڈ کی تصویروں  میں  ڈھل جاتے ہیں، پھر یہ تصویریں  آپ ہی آپ جڑ جاتی ہیں  اور ہمارے ذہن و دل کے پردے پر حرکت کرنے لگتی ہیں۔ یہ تکنیک ڈاکٹر علیم کے خاکے ہی سے مخصوص ہے اور دوسرے خاکوں  میں  کم کم ہی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر علیم کی شخصیت کے کئی پہلوؤں، ان کی سماجی حیثیت، ان کی علمیت، کئی مشرقی اور مغربی زبانوں  پر ان کا غیر معمولی عبور، ان کی کم آمیزی، درد مندی، کردار کی استقامت، ان سب کا اظہار کچھ اس طرح ہوا ہے کہ علیم صاحب ہماری آنکھوں  کے سامنے چلتے پھرتے، آدھے ادھورے جملوں  میں  گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر ہمیں  یہ محسوس ہوتا ہے کہ علیم صاحب کی شخصیت ایک ایسے قلعے کی طرح ہے جسے باہر سے دیکھا تو جا سکتا ہے اس کا محاصرہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں  راہ پانے کی کوئی صورت نہیں  تو اس میں  عابد سہیل کا کوئی قصور نہیں  کیوں  کہ اس میں  داخل ہونے کے سارے راستے خود علیم صاحب نے مسدود کر رکھے ہیں۔
ڈاکٹر عبد العلیم پر لکھے گئے خاکے میں  عابد سہیل رقم طراز ہیں ’’۔۔۔ پہلا خاکہ ڈاکٹر عبد العلیم کے انتقال کے چند دن بعد تقریباً قلم برداشتہ لکھا گیا۔۔۔ یہ بھی فرمائش کی گئی کہ ایسا ہی ایک اور مضمون مرحوم کے بارے میں  لکھ دوں  ظاہر ہے یہ ممکن نہ تھا‘‘۔ یہ بات عابد سہیل اپنے ہر خاکے کے بارے میں  کہہ سکتے ہیں  کہ یہ سارے ہی خاکے قلم برداشتہ لکھے گئے ہیں۔ ان میں  کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ ڈاکٹر عبد العلیم کے بعد شاید ایم۔ چلپت راؤ ( ایم۔ سی) کی شخصیت ان کے لیے سب سے دل آویز اور مسحور کن ہے۔ ایم۔ سی پر لکھا ہوا عابد سہیل کا خاکہ سب سے طویل اور ان کے لکھے ہوئے چند بہترین خاکوں  میں گنا جا سکتا ہے۔ ایم۔ سی نیشنل ہیرالڈ کے ایڈیٹر تھے۔ ان کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ اقوام متحدہ تک میں  ان کے اداریوں  کے وجہ سے ہندستان کے سبھی اخباروں  میں  سب سے زیادہ نیشنل ہیرالڈ کا ذکر ہوتا۔ ایم۔ سی اور پنڈت نہرو کے درمیان فکری ہم آہنگی، پنڈت جی سے ایم۔ سی کے بے تکلف دوستانہ مراسم کے کئی دلچسپ واقعات اس خاکے میں  ملتے ہیں۔ ایک دن پنڈت جی اچانک ایم۔ سی کے دفتر میں  اس لمحے آ جاتے ہیں  جب ایم۔ سی میز پر پیر پھیلائے ایک اخبار پڑھنے میں  محو ہیں۔ جب ایم۔ سی کسی کی آمد کے احساس سے اخبار آنکھوں  کے سامنے سے ہٹاتے ہیں  تو پنڈت جی کو میز کی دوسری جانب دیکھتے ہیں  اور اپنی ٹانگیں  تیزی سے ہٹانا چاہتے ہیں  تو پنڈت نہرو کہتے ہیں  "M.C. take it easy, take it easy"۔ پنڈت جی کے انتقال پر ایم۔ سی بہ ظاہر پُر سکون نظر آتے ہیں  جیسے کوئی خاص بات نہ ہو۔ اچانک پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مہینے کی چھٹی پر جانا چاہتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کیوں ؟ تو کہتے ہیں "I want to weep"  ایم۔ سی کی صحافتی زندگی کے کئی واقعات اس خاکے میں  اس طرح بیان کیے گئے ہیں  کہ اس خاکے کو اس دور کی صحافتی زندگی اور معیارات کا کرانیکل کہا جا سکتا ہے۔ گورنر ایم۔ سی سے ملنا چاہتے ہیں  تو وہ اس شرط پر تیار ہوتے ہیں  کہ ان کے لیے کار نہیں  بھیجی جائے گی اور وہ وہاں  رکشا میں  جائیں  گے۔ گورنر ہاؤس سے ڈنر کا دعوت نامہ مسٹر اور مسز چلپت راؤ کے نام آتا ہے اور نوٹ کے ساتھ کہ اس میں  ایم۔ سی ڈنر سوٹ میں  آئیں۔ ایم سی اس دعوت نامہ پر یہ لکھ کر اسے لوٹا دیتے ہیں
  So far as Mrs. Chalpathi Rao is concerned, she does not exist and Mr. Chalpathi Rao does not have a dinner suit.
وہ کانگریس حکومت کے خلاف بھی اداریے لکھتے ہیں  جب پنڈت نہرو سے شکایت کی جاتی ہے تو پنڈت جی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں  کہتے ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ میرا نہیں  ایم۔ سی کا اخبار ہے۔ ایسے بے شمار واقعات جو ایم۔ سی کی اصول پسندی، ان کے کردار کی استقامت اور بے خوفی کو ظاہر کرتے ہیں  اور بھی کئی واقعات ہیں  ان کی بے پناہ علمیت، انگریزی زبان و ادب پر ان کے عبور کے علاوہ ان کی حسِ مزاح کے بارے میں  جو اس طرح بیان کیے گئے ہیں  کہ اس طویل خاکے کی آخری سطر تک قاری کی دل چسپی اور انہماک قائم رہتا ہے۔
اسی طرح احمد جمال پاشا کے خاکے کا شمار بھی عابد سہیل کے بہترین خاکوں  میں ہو گا۔ لیکن انداز ذرا مختلف ہے۔ احمد جمال پاشا کا کردار ہی کچھ ایسا ہے شوخ، کھلنڈرا، دوست نواز۔ عابد سہیل، عبدالحلیم خاں  اور احمد جمال پاشا کی دوستی ایسے مثلت کی طرح تھی جس کے بارے میں  عابد سہیل لکھتے ہیں ـ:’’۔۔۔ غرض لوگ بچھڑتے رہے اور جدا ہوتے رہے لیکن اس (مثلث) میں  جمال کی وہی حیثیت رہی جو علم الحساب میں  L.C.M. کی ہوتی ہے … جمال، عابد سہیل اور حلیم خاں  کی اقلیدسی شکل کو بہ ہر حال خاصی پائدار حیثیت حاصل تھی اور ٹوٹنے بکھرنے کے بعد اس کے یہ تینوں  زاویے جانے کیسے پھر یک جا ہوتے تھے‘‘۔ یہ خاکہ عابد سہیل نے خونِ دل میں  قلم ڈبو کر لکھا ہے۔ ایسی ہنس مکھ، زندہ شخصیت کیسے مر سکتی ہے۔ عابد سہیل کو اس کا یقین نہ آتا تھا اور جب آیا تو انہیں  کے لفظوں  میں  ’’جسم نے دل کا ساتھ چھوڑ دیا‘‘۔ ان کی سمجھ میں  آ گیا کہ ایسے دیوانے کو دار پر لے جا کر سلانا کس قدر ضروری تھا اور یہ کہ احمد جمال پاشا کی بیوی نے ٹھیک ہی کیا جوا نہیں  کوئے یار، ( یعنی بزم احباب) سے سوئے دار (حج کے فریضے کے لیے اور مستقلاً اپنے مائکے یعنی سیوان) لے گئیں۔
آنند نرائن ملا اور عشرت علی صدیقی کے لیے بھی عابد سہیل کے دل میں محبت و احترام کے جذبات ہیں  لیکن یہاں  جذبات کی وہ پگھلانے والی شدت نہیں  جو ایک دوست جیسے احمد جمال پاشا یا چند بزرگوں  جیسے علیم صاحب اور ایم۔ سی کے لیے ان کے دل میں  رہی ہے۔ اس کی تلافی انہوں  نے قلم کی جولانی سے کی ہے۔ عشرت علی صدیقی کے خاکے میں  صحافتی زندگی کے کئی واقعات جو بہ ظاہر معمولی ہیں  لیکن انہوں  نے بڑے دل چسپ پیرائے میں  لکھے ہیں۔ ایک محمد متین صاحب جنہیں  ضد ہے کہ جس بات کے لیے منع کیا جائے وہ ضرور کریں  گے۔ عشرت صاحب جو حیات اللہ انصاری کے بعد قومی آواز کے ادارتی حلقے کے سب سے اہم رکن تھے ان سے کہہ رہے ہیں  ’’۔۔۔ آپ سے کتنی بار کہا ’’مہلوک‘‘ کوئی لفظ نہیں  ہے۔ لیکن آپ۔۔۔ آج بھی وہ خبروں  میں  ہے‘‘۔ متین نہایت اطمینان سے سر اٹھاتے، قلم دوات سے لگاتے اور بے حد مسکین صورت بنا کر ان کی طرف دیکھتے۔۔۔ یہ قصہ بار بار دہرایا جاتا لیکن متین صاحب کی مسکین صورت ایسی ڈھال تھی کہ عشرت صاحب کے سارے تیر دائیں  بائیں  نکل جاتے‘‘  یا پھر عشرت صاحب کا ایک رات سوتے سوتے اچانک بستر چھوڑ کر دفتر آ جانا اس لیے کہ انہوں  نے خواب میں ’قومی آواز‘ کے دفتر کو آگ کی لپیٹوں  میں  گھرا ہوا دیکھا تھا اور خواب کا کیا بھروسا، سچا بھی ہو سکتا ہے۔ عابد سہیل واقعات کو اس طرح بیان کرتے ہیں  کہ وہ جذبات اور دلی کیفیات میں  ڈھل جاتے ہیں۔ اسی انداز میں  انہوں  نے آنند نرائن ملا کے خاکے میں  ان دو اہم واقعات کا ذکر کیا ہے جس نے ملا صاحب کو ملک گیر شہرت عطا کی۔ ایک تو وہ مقدمہ تھا جس میں انہوں نے یو۔ پی پولیس کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔ اور دوسرا واقعہ اردو متحدہ محاذ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ان کی وہ تقریر تھی جس کا ایک جملہ تھا ’’میں  اپنا مذہب بدل سکتا ہوں، زبان نہیں بدل سکتا‘‘۔ اس کے علاوہ ملا صاحب کی کشادہ دلی اور ان کا انکسار بھی دلوں  کو چھوتا ہے کہ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود وہ اپنے دہلی پولیس سے متعلق فیصلے سے متاثرہ ایک معمولی انسپکٹر سے ملاقات کے لیے اس کے گھر جانے کے لیے بے چین تھے تاکہ اس سلسلے میں  اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرسکیں۔
منظر سلیم پر عابد سہیل کا خاکہ بھی ان کے اچھے خاکوں  میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ منظر سلیم کے مزاج کا شرمیلا پن، نام و نمود سے بے رغبتی، کبھی اپنی پریشانیوں  کا ذکر نہ کرنا، چھوٹوں  کی دل داری، یہ ایسی صفات تھیں  جنہوں نے عابد سہیل کو منظر سلیم کا گرویدہ بنا رکھا تھا۔ ایک بار کسی رنجش کے سبب جب مراسم میں  کچھ کشیدگی کی صورت پیدا ہو گئی تو ایک دن منظر سلیم خود ہی بغیر کسی اطلاع کے عابد سہیل کے گھر ان کے کمرے میں  آ گئے اور الماری سے ایک کتاب لے جانے کے لیے مانگی۔ یہ دراصل عابد سہیل کو منانے  کی کوشش تھی۔ عابد سہیل لکھتے ہیں  ’’میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی۔۔۔ (میں  ) کچھ دور تک انہیں  رخصت کرنے گیا اور یکایک میں  نے محسوس کیا کہ برف کا وہ ٹکڑا جو میری غلطی کے سبب ہمارے درمیان معلق ہو گیا تھا پگھل کر غائب ہو چکا ہے۔ اپنے چھوٹوں  سے دل داری کا یہ انداز منظر بھائی ہی سے سیکھا جا سکتا تھا‘‘۔
وجاہت علی سندیلوی سے عابد سہیل کی ذہنی وابستگی ان ادبی اور سیاسی نظریات کی ہم آہنگی کے سبب ہے جو ان دونوں  کے درمیان قدرِ مشترک کا درجہ رکھتی تھی۔ عابد سہیل کے لیے ان کی کشش کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بہ قول ان کے ’’اطلس و کم خواب کی پوشاکیں  کہ ان کے والدین روسائے سندیلہ میں تھے ان کے جسم پر کھدر کے کپڑوں  کو رشک و حسد سے دیکھتیں ‘‘ وجاہت علی سندیلوی کا یہ کردار اور ان کی کئی اور خوبیوں  نے عابد سہیل کو مسحور کر رکھا تھا۔ شاید اسی سبب سے انہوں  نے سندیلوی صاحب کی افسانہ نگاری، طنز و مزاح اور خاص طور پہ شاعری کو بے حد سراہا ہے۔ ممدوح کے فن افسانہ نگاری اور طنز و مزاح کے نمونے تو عابد سہیل اس خاکے میں  نہیں  دکھا سکے لیکن ان کے جو اشعار یہاں  نقل کیے گئے ہیں  انہیں  پڑھ کر کم سے کم ان کی شاعری کے بارے میں  اس طرح کا کوئی تاثر پیدا نہیں  ہوتا۔ ہاں  سندیلوی صاحب سے عابد سہیل کی محبت کے رنگ ضرور اپنی چھب دکھاتے ہیں۔ اس خاکے میں  ایک انوکھے واقعے کا ذکر ہے۔ کالج کے اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اس تاسیسی اجلاس کا جس کا افتتاح محمد علی جناح اور جس کی صدارت پنڈت جواہر لعل نہرو نے کی تھی۔
نسیم انہونوی کے خاکے میں  ان کی نیک نفسی، اپنے ادارے کے ملازمین کے ساتھ افراد خاندان جیسا سلوک اور ان کے فرشتہ صفت کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ راجیش شرما کسی طرح کے تکلّفات کے قائل نہیں  نہ دوستوں  سے نہ گھر والوں  سے، حتیٰ کہ زندگی اور موت سے بھی نہیں۔ ایک دن وہ معمول سے کچھ پہلے دفتر آتے ہیں۔ آفس پیڈ پر دو مختصر نوٹ لکھتے ہیں۔ ایک میں  زندگی سے اوب کر، دنیا سے رشتہ توڑ لینے کا فیصلہ ہے۔ دوسروی تحریر ان کی بیوی لیلا کے لیے ہے اور بھی مختصر ’’میں  بہت شرمندہ ہوں۔ بہت کشٹ آئے گا‘‘ پھر وہ ڈرائیور کو بلا کر اپنی پرانی قیام گا ہ کا رخ کرتے ہیں  جو ایک سترہ منزلہ عمارت ہے اور اس کی چھت سے چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ عابد پشاوری کی شخصیت بڑی باغ و بہار قسم کی ہے۔ عابد پشاوری اور راجیش شرما کے ساتھ عابد سہیل کے گھریلو مراسم بھی ہیں۔ یہاں  وہاں  عابد سہیل کے قلم نے اپنا جادو تو جگایا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ خاکے پھیکے ہیں۔ یہی بات نسیم انہونوی کے خاکے کے بارے میں  کہی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحلیم کا خاکہ پڑھ کر پتہ چلتا ہے یہ وہ حلیم خاں  نہیں  جو مصنف اور احمد جمال پاشا کے ساتھ مل کر ایک مثلث کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر عبد العلیم کے بیٹے ہیں  جنہیں  عابد سہیل نے پہتیا سے غازی پور جاتے ہوئے بیل گاڑیوں  پر دو خاندانوں  کے سفر کے دوران ان کی شرارتوں  سے تنگ آ کر سڑک پر اتار دیا تھا۔ حلیم صاحب اس وقت پان سات برس کے بچے تھے اور عابد سہیل کی عمر ۱۴۔ ۱۵ برس رہی ہو گی پھر عابد سہیل گاڑی رکوا کر اس بچے کو اپنی گود میں  بٹھا لیتے ہیں  اور وہ روتا ہوا بچہ ان کے گلے میں  بانہیں  ڈال کر انہیں  پیار کرنے لگتا ہے، ڈاکٹر عبدالحلیم، عابد سہیل کا اسی طرح ادب اور احترام کرتے ہیں  جیسے عابد سہیل علیم صاحب سے پیش آتے تھے۔ خاندانی رشتوں  کی یہ کڑیاں، محبتیں، شفقتیں، بڑوں  کا ادب اور لحاظ اب داستان پارینہ ہیں۔ وہ الھڑ، شریر لڑکا جسے عابد سہیل نے بیل گاڑی سے نیچے اتار دیا تھا، بڑا ہو کر کیسے کیسے مصائب برداشت کرتا ہے عابد سہیل نے یہ داستان نہایت پُر اثر انداز میں  لکھی ہے۔
ان خاکوں  کی ایک بڑی خوبی مصنف کی ان تمام شخصیتوں  سے شیفتگی اور وہ بے غرض معاملت ہے جس نے ان خاکوں  کو ایک سرشارانہ لیَ عطا کر دی ہے۔ یہی نہیں  انہیں  ان در و دیوار سے بھی محبت ہے جہاں  یہ لوگ اپنی محفلیں  سجاتے تھے۔ اپنے خاکے ’’اولڈ انڈیا کافی ہاؤس‘‘ کی ابتدا عابد سہیل نے اس کیفے کے ذکر سے کی ہے جس میں  کھڑکی کے پاس کی ایک نشست ژاں  پال سارتر کے لیے محفوظ رہتی تھی۔ پیرس کا وہ کیفے ہو، اولڈ انڈیا کافی ہاؤس یا حیدرآباد کا اورینٹ ہوٹل ان سب میں  ایک بات مشترک تھی اور وہ یہ کہ یہ ہوٹل اپنے اپنے شہروں  کے سبھی قابل ذکر دانش وروں، مفکروں، شاعروں، سیاست دانوں  کا مرکز رہے ہیں۔ عابد سہیل نے جن لوگوں  کو اس کافی ہاؤس کی زینت بڑھاتے ہوئے دیکھا ہے ان کے نام ہیں  ڈی۔ پی۔ مکھر جی، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا، ڈاکٹر عبد العلیم، ڈاکٹر احتشام حسین، آلِ احمد سرور، ڈاکٹر محمد حسن، یشپال، امرت لال ناگر، ڈاکٹر ویر بہادر سنگھ مجاز، شوکت صدیقی، آر۔ این۔ بشٹ، منیب الرحمٰن، کمال احمد صدیقی، ڈاکٹر زیڈ۔ اے احمد اور بہت سے دوسرے۔ جن لوگوں  کے بارے میں  سنا ہے کہ وہ پہلے کبھی یہاں  آتے تھے ان میں  پنڈت نہرو، رفیع احمد قدوائی، آئی۔ کے گجرال اور کیسکر کے نام شامل ہیں۔ کوئی ادیب یا شاعر لکھنو آتا اور اسے کسی اہل قلم کا پتہ درکار ہوتا تو وہ یہیں  کا رخ کرتا۔ ڈاکٹر لوہیا کا کسانوں  کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کے بعد سیدھا کافی ہاؤس کی اس میز کا رخ کرنا جہاں  ڈاکٹر علیم اور یشپال کی نگاہیں  ان کا استقبال کر رہی ہیں۔ مجاز کے لطیفے، سلام مچھلی شہری کا یہ جملہ کہ ’’موت سے نہیں  ڈرتا بس‘‘ نقوش’’میں  اپنی نظم دیکھ لوں  تو آخری سانس۔۔۔‘‘ یشپال کی اردو دشمنی کے ساتھ فرقہ واریت کے خلاف مسلسل جنگ، ادبی اور سیاسی مباحث، سجاد ظہیر کی لکھنو میں  آمد پر اردو، ہندی کے ادیبوں، شاعروں  کا انہیں  گھیر لینا، یہ سارے منظر ہماری آنکھوں میں  بس جاتے ہیں  اور یہ مضمون پڑھتے ہوئے اگر کوئی چائے یا کافی کی پیالی ہمارے آگے رکھ دے تو ہمیں  لگے گا کہ ہم اولڈ انڈیا کافی ہاؤس ہی میں  بیٹھے ہیں۔
اس ’’کھلی کتاب‘‘ میں  تقریباً نصف صدی کا لکھنو اپنی تمام تر ادبی اور صحافتی سرگرمیوں  کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ترقی پسندی کے عروج کا وہ دور جس کا ایک اہم مرکز لکھنو تھا وہ بھی اس میں  روشن ہے۔ آج کے سیاسی حالات میں  جب کہ امریکہ کی جارحانہ پالیسی کے پیشِ نظر بعض ادبی حلقوں  میں  تو پھر ترقی پسندی کے احیا کی بات چھڑ رہی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں  دل چسپی اور اس کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن وہ لوگ جن کے خیالات ترقی پسند افکار سے مطابقت نہیں  رکھتے انہیں  یہ محسوس ہوسکتا ہے کہ ان خاکوں  میں  واقعات اور نظریات کی یک رخی پیش کش حاوی ہے۔ اگر ایسا ہوا بھی ہے تو یہ ناگزیر بھی تھا کیوں  کہ ترقی پسند نظریات اور افکار کے بغیر عابد سہیل کا ادبی وجود ہی نا مکمل ہے۔ اگر حیات اللہ انصاری کے ناول ’’لہو کے پھول‘‘ کے بارے میں  وہ لکھتے ہیں  کہ ’’اس ناول نے ان سارے مقامات پر فن کی بلندیوں  کو چھو لیا ہے جہاں  مصنف نے اپنے سیاسی نظریات کو ذرا آرام کرنے کی مہلت دی ہے‘‘ تو یہ بات صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی اور انصاری صاحب کے علاوہ کئی ادیبوں  اور شاعروں  کے  بارے میں  کہی جا سکتی ہے۔ کئی ترقی پسند ادیبوں  اور شاعروں  کے بارے میں  بھی عابد سہیل یا کسی اور سے اتفاق یا اختلاف رائے کا ہمارا حق اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ ہمارے لیے اہم اور خوش گوار بات یہ ہے کہ عابد سہیل نے ان مشاہیر علم و فن کی زندگی کے واقعات اور ان کی شخصیت کے کئی پہلو نہایت فن کارانہ انداز میں  ہمارے سامنے پیش کیے ہیں۔ وہ ایک اچھے افسانہ نگار ہیں  اس لیے واقعے کو افسانہ بنانے کا ہنر جانتے ہیں، اس طرح کہ واقعہ اور افسانے کی دوئی باقی نہ رہے۔ اس کتاب میں  کئی واقعات کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہے گویا وہ پتھر پر نقش ہوں۔ کئی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں  کو وہ اس طرح دیکھتے اور دکھاتے ہیں  کہ ان کے اندر چھپا ہوا حسن بے پردہ ہو جاتا ہے۔ چوں  کہ خاکہ نگاری کا یہ سفر انہوں  نے افسانہ نگاری سے شروع کیا ہے۔ اس لیے وہ جانتے ہیں  کہ بات کو کیسے شروع اور کہاں  اور کب ختم کیا جائے۔ بیش تر خاکوں  کا اختتام بہت خوب صورت ہے تو بعض خاکوں  کا آغاز ( جیسے ’’ڈاکٹر عبد الحلیم‘‘ اور ’’ایم۔ چلپت راؤ‘‘)۔ اکثر انہیں  اپنے ممدوح سے کچھ ایسا جذباتی اور ذہنی قرب حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس کی خوشیوں  کو اپنی خوشی اور اس کے دکھ کو اپنے دکھ کی طرح محسوس کرسکتے ہیں  جیسے ڈاکٹر عبد العلیم کے خاکے میں  جب عابد سہیل ان سے احتشام صاحب کے انتقال کے فوراً بعد مرحوم پر مضمون لکھنے کی فرمائش کرتے ہیں  تو علیم صاحب جو جواب دیتے ہیں  وہ جواب ہی نہیں  اس کی پیش کشی بھی ہمارے دل پر اثر کرتی ہے۔ عابد سہیل نفسیات کے بارے میں  بھی درک رکھتے ہیں۔ خاص طور پور ان لوگوں  کی نفسیات کا مطالعہ انہیں  زیادہ اکساتا ہے جن کے ساتھ کشش اور گریز کا معاملہ ہے جیسے حیات اللہ انصاری اور آل احمد سرور۔ ایک ناخوش گوار واقعے کے بعد جب مصنف کی دو بارہ سرور صاحب سے ملاقات ہوتی ہے تو سرور ساحب اس واقعے کو بالکل بھول چکے ہیں۔ عابد سہیل لکھتے ہیں  کہ سرور صاحب ہر شخص کو یوں  معاف نہیں  کرتے تھے اپنے ہم عصروں  اور ہم مرتبہ لوگوں  کے ساتھ ان کا رویہ مختلف ہوتا تھا۔ ان ہی کے الفاظ میں  ’’اگر ملاقات کے بجائے دل برداشتگی، پڑھا جائے تو ’ عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے‘ کا معاملہ ہوتا تھا‘‘۔ حیات اللہ انصاری اور مقبول احمد لاری کے علاوہ چند اور خاکوں  میں  بھی اس دروں  بینی اور انسانی نفسیات سے ان کی دل چسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ گہری نظریاتی وابستگی کے باوجود وہ معروضیت کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں  دیتے۔ وہ بغیر کسی تکلف کے باقر مہدی کا وہ جملہ بھی دہرا سکتے ہیں  جو انہوں  نے انجمن کے ایک جلسے میں  عابد سہیل کے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا اور جوہر گز توصیفی نہیں  تھا۔ عابد سہیل کی نگاہ اکثر چھوٹی چھوٹی جزئیات کو کیمرے کی طرح دیکھتی اور ان لارج بھی کر لیتی ہے۔ ایم۔ سی کی چپل کے فیتے جو ہمیشہ کھلے رہتے تھے ملا صاحب کی سفید شیروانی، سفید ٹوپی، چوڑی دار پاجامہ اور انگلیوں  میں  گھومتا ہوا کار کی چابی کا چھلّا یا عشرت علی صدیقی کا بار بار کان کے اوپر اور ٹوپی کے نیچے سر کھجانا۔
عابد سہیل کی خاکہ نگاری کی ان تمام خصوصیات پر میں نے بات کی کہیں  کھل کر مثالوں  سے کہیں مختصراً یا اشاروں  میں، ان خاکوں  پر انفرادی طور پر اظہار رائے کے دوران، لیکن ان خاکوں  کی خوبیاں  اتنی ہیں  کہ مجھے اپنی یہ کوشش ناکام سی لگتی ہے۔
میں  آخر میں  ان کی طرز نگارش کی صرف چند اور مثالیں  دے کر اس گفتگو کو ختم کرنا چاہوں  گا۔
’’گردن جھکائے، پتلون کی جیبوں  میں  اس طرح ہاتھ ڈالے جیسے وہ اسے سنبھالے ہوئے ہوں، ایم۔ سی شاید اپنے جسم کے بوجھ کے سبب دھیرے دھیرے چلتے تو ان کے چپل کے فیتے جو ہمیشہ کھلے رہتے، ایک عجیب سی آواز پیدا کرتے۔ اس سب میں  ایسا کچھ نہ تھا جس سے کسی کے دل میں  ڈر پیدا ہو لیکن جانے کیا تھا کہ انہیں  دیکھ کر خوف محسوس ہوتا۔۔۔‘‘
              ( ایم۔ چلپت راؤ۔ ( ایم۔ سی)، ص: ۳۸)
’’میں  نے اس نقطہ، نظر سے نہیں  سوچا تھا‘‘ حیات اللہ صاحب مسکائے اور اپنے کمرے میں  دیوار پر ٹنگی ہوئی پنڈت نہرو کی تصویر کی طرف دیکھنے لگے۔ گاندھی جی کی ایک چھوٹی سی تصویر دوسری دیوار پر آویزاں  تھی‘‘۔
                       (حیات اللہ انصاری، ص: ۲۵)
’’۔۔۔۔ لیکن انگور کی بیٹی اپنا کام کر چکی تھی۔
اسی وقت مجھے احساس ہوا کہ پاس کا ایک کھمبا جو ہے تو دوسرے کھمبوں  کی طرح بے حد خو ب صورت ان سے کسی قدر چوڑا معلوم ہو رہا ہے۔ اپنے اس خیال کی تصدیق کے لیے میں  اس طرف بڑھا تو پاس جا کر ہوش ہی اُڑ گئے۔ کھمبے سے ٹیک لگائے اور گلاس ہاتھ میں  لیے ایم۔ سی کھڑے تھے‘‘۔
                 (ایم۔ چلپت راؤ ( ایم۔ سی )، ص: ۳۷)
’’ایسی دل کش شخصیتیں، معاملت میں  چوکھے، بات کے دھنی، کام کے پکے، با وضع اور نام و نمود سے بے نیاز افراد خدا کرے جنم لیتے رہیں  کہ اے خدا تیری اس دنیا میں  روشنی کے چراغ کم سے کم ٹمٹماتے ہی رہیں‘‘۔
                             (نسیم انہونوی، ص:۱۹۲)
’’ٹاٹ میں  ٹاٹ کا پیوند بھی لگایا جائے تو چھپائے نہیں  چھپتا  اور رفو گری مجھے آتی نہیں‘‘۔
                       (مقبول احمد لاری، ص: ۱۵۹)
’’ان کا خط پڑھ کر عابد سہیل کو وہ تصویر یاد آ گئی جس میں  چالیس پینتالیس سال قبل کے لکھنو کا ایک نوجوان کارل مارکس کی قبر پر دعا مانگ رہا تھا یا اللہ مسلمانوں  کو مارکس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما‘‘۔
یہ دعا تصویر کی پشت پر درج تھی جسے پڑھ کر ہم لوگ خوب ہنسے تھے لیکن رضیہ آپا نے تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا تھا ’’تحقیق طلب امر یہ ہے کہ مارکس کی قبر پر یہ ونیٹی بیگ کس خاتون کا رکھا ہوا ہے‘‘۔
                       (احمد جمال  پاشا، ص: ۱۵۳)
اب نہ وہ لوگ رہے نہ وہ باتیں۔ لیکن یہ خاکے اس طرح لکھے گئے ہیں  گویا ’’گردش ایام‘‘، ’’پیچھے کی طرف‘‘ لوٹ گئی ہو۔ یہ لوگ جن پر یہ خاکے لکھے گئے ہیں  محض ماضی کا عکس نہیں  بلکہ ان کے شب و روز ہمارے لیے آج بھی متحرک، زندہ اور معنویت سے بھر پور ہیں۔
_________
 (سہ ماہی ’’شعر و حکمت‘‘)




مجتبیٰ حسین کا فن __ چند باتیں


مجتبیٰ حسین نے جب مجھ سے اپنی نو آمدہ کتاب ’’مجتبیٰ حسین کی بہترین تحریریں‘‘ (جلد اول و دوم۔ مرتبہ حسن چشتی) پر ’’سیاست‘‘ یا ’’سب رس‘‘  کے لئے تبصرہ کرنے کو کہا تو (ہر چند میں  نثر لکھنے سے ذرا گھبراتا ہوں  ) میں  فوراً آمادہ ہو گیا، اس لئے کہ مانا پچھلے کئی برسوں  سے دہلی میں  اُن کی رہائش کے سبب اب ہمارے مراسم محض کبھی کبھار مل بیٹھنے کے رہ گئے ہیں  مگر کافی پرانے ہیں  مرحوم اور نیٹ ہوٹل کے دنوں  میں  جب شاذؔ تمکنت کے ساتھ میں  اور عوض سعید منکر نکیر کی طرح اُن کے دائیں  بائیں  ہوتے تھے تو اُس ہوٹل کی میزوں  پر جن دو لوگوں  کو ہماری نگاہیں  تلاش کرتی تھیں  وہ خورشید احمد جامی اور مجتبیٰ حسین تھے۔ یادش بخیر ! یہ ان دنوں  کی بات ہے جب مجتبیٰ حسین نے ابھی باقاعدہ لکھنا شروع نہیں  کیا تھا۔ اورینٹ میں  سبھی اُن کی آمد کے منتظر رہتے تھے۔ اُس وقت بھی اُن کی باتوں  میں  وہی بانکپن، شیفتگی اور دل آرائی تھی جو اب اُن کی تحریروں  میں  اک پھول کا مضمون سو رنگ سے باندھتی ہے۔ شخصیت کی وہی دلپذیری، گمرَہی اور گم کر دگی جو آج ہے کل بھی تھی۔ ’’اُن کے چلن تو بگڑے ہوئے ابتداء کے ہیں‘‘۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں  نے سوچا مجتبیٰ پر کچھ لکھنا اگر آسان نہیں  تو ایسا مشکل بھی نہ ہو گا کیوں  کہ اول تو میں  مجتبیٰ کو پڑھتا رہا ہوں  اُن سے ملتا رہا ہوں  اور اُن کی تحریروں  کے کچھ ’محاسِن ‘ کچھ خوبیاں  بھی میرے ذہن میں  ہیں۔ لیکن میں  نے اپنے لئے دیوار یہ بنائی کہ مجتبیٰ پر لکھنے کے لیئے اُنہیں  باقاعدہ پڑھنا چاہا۔ اب میں  نے اُنہیں  پڑھا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ ایک دفتر کھل گیا۔ دفتر بھی کہاں  Pandora's Box کہیے Can of Worms کہیے۔ اس میں  بھی قصور مجتبیٰ کا نہیں  میرا ہی ہے۔ اُنہوں  نے تو انسان کے اَزلی دُکھ اور لمحاتی مَسرتوں، مزاح کی کرنوں، خوش رنگ مچھلیوں  کو کانچ کے ایک خوشنما گھر، ایک کیَن میں  بند کر رکھا تھا۔ میں  نے ہی اسے کھولنے کی کوشش کی، تو قصور میرا ہی ہوا۔
طنز و مزاح نگاری، اصناف ادب میں  شاید سب سے مشکل صنف ہے۔ سبھی جانتے ہیں  کہ ایک مزاح نگار کی تحریر یا کامیاب ہوتی ہے یا ناکام، شاعری یا افسانے کی طرح کوئی درمیانی صورت ممکن نہیں  اس لیئے اس صنف میں  جو لوگ بہت کامیاب رہے ہیں۔ جنہوں نے اسے ٹوٹ کر چاہنے کے باوجود اس معشوقِ جفا پیشہ سے ملاقاتوں  کا سلسلہ کم کم ہی رکھا ہے۔ جیسے رشید احمد صدیقی، پطرس، جنہوں  نے بہت عمدہ لیکن نسبتاً کم لکھ ہے۔ تو جو چند مستثنیات ہیں  بہت زیادہ اور بہت اچھا لکھنے والوں  کی، اُن میں  بھی مجتبیٰ حسین سرِ فہرست ہیں۔ انہوں  نے کالم نگاری سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ صحافت کے تقاضوں  اور اپنے بڑے بھائی محبوب حسین جگر کے حکم کی تعمیل میں۔ لیکن جیسا کہ مشتاق احمد یوسفی نے اپنے بارے میں  لکھا ہے ’’پیشہ سمجھے تھے جسے ہو گئی وہ ذات اپنی‘‘ مجتبیٰ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ روزنامہ ’’سیاست‘‘ کے لئے وہ برسوں  روزانہ کالم لکھتے رہے۔ اب بھی ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ کالم نگاری کو عام طور پر صحافتی زُمرے میں  رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے چند مشہور اور بہت اچھے ادیبوں  نے اسے ایک ادبی وقار عطا کر دیا۔ جیسے فکرتونسوی (’’پیاز کے چھلکے‘‘ روزنامہ ’’ملاپ‘‘ میں ) م۔ احمد ندیم قاسمی (’’عنقا‘‘، روزنامہ  ’’اِمروز‘‘)، ابراہیم جلیس ( ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘)، شاہد صدیقی ( ’’شیشہ و تیشہ‘‘۔ روزنامہ ’’سیاست‘‘)۔ انتظار حسین، مشفق خواجہ اور بھی نام ہیں  جو بحیثیت ادیب پہلے ہی مشہور ہو چکے تھے۔ بعد میں  کالم نگار ہوئے۔ مجتبیٰ حسین کے ہاں  یہ عمل معکوس ہے۔ اُنہوں  نے پہلے کالم نگاری کا قلعہ سر کیا۔ پھر طنز و مزاح کی دوسری سلطنتوں  کی سرحدوں  پر اپنے لشکر کھڑے کر دیئے۔ انہوں  نے اب تک سیکڑوں  مضامین، خاکے انشایئے۔ سفر نامے اور کالم لکھے ہیں۔ جنہیں  میں  علاحدہ علاحدہ خانوں  میں  رکھ کر بات کرنا نہیں  چاہتا، کیوں  کہ یوں  بات بہت پھیل جائے گی اور یوں  بھی میری رائے میں  اُن کے فن کے یہ سارے مظاہر اپنی صفات میں  ایک دوسرے سے اس طرح پیوست ہیں  کہ ایک اکائی میں  ڈھل گئے ہیں۔ مجھے یہاں  بس اتنا کہنا ہے کہ مجتبیٰ نے بھی منٹو کی (کہانیوں  کی) طرح کچھ ایسے مضامین لکھے ہیں  جیسے ’’مرزا کی یاد میں‘‘، ’’مرزا دعوت علی بیگ‘‘ وغیرہ جن کا موضوع وہ عام لوگ ہیں  جو ہمارے شب و روز میں  شریک ہیں۔ یہ مضامین بھی میرے خیال میں  خاکوں  ہی کے ذیل میں  آتے ہیں۔
مجتبیٰ حسین، جیسا میں  نے پہلے لکھا بڑے بسیار نویس ہیں۔ وہ کیسے اتنا لکھ لیتے ہیں  حیرت ہوتی ہے۔ اُن کے قاری کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت لکھتے ہیں  اور بہت خوب لکھتے ہیں۔ اب آخر انہیں  کوئی کب تک پڑھے اور کیوں  کر پڑھے۔ اُن کے قاری کو وہی مشکلات پیش آتی ہیں  جو غالب کو معاملاتِ وصل میں  در پیش تھیں  کہ ’’گر نہ ہو تو کہاں  جائیں  ہو تو کیوں  کر ہو‘‘ مجتبیٰ حسین کے ذہن کی مٹی بہت زر خیز ہے اور ایسے ایسے گُل کھلاتی ہے کہ آنکھ حیران رہ جاتی ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے مجتبیٰ حسین کی جن تین خوبیوں  کا ذکر کیا ہے کہ قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ اُن کے ہاں  تکرار کا عمل نہیں  ہے اور اُن کی تحریروں  میں  تر و تازگی ہوتی ہے تو میری رائے میں  ان تینوں  خوبیوں  کا راز اُن کے ذہن کی زر خیزی اور طباعی میں  مضمر ہے۔
مجتبیٰ حسین کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ وہ ایک بہت ہی عام اور بہت ہی معمولی آدمی ہیں  اور یہ معمولیت کوئی معمولی چیز نہیں۔ فراقؔ جیسا شاعر اس پر ناز کرتا ہے۔ یہ معمولیت کیسے وجود میں  آتی ہے۔ کب پیدا ہوتی ہے۔ فراقؔ ہی سے سُنیے: ’’۔۔۔ اور یہ معمولی پن کیا ہے؟ جب شاعر کا زندگی سے اور دوسرے لوگوں  سے، مظاہر فطرت سے فاصلہ کم سے کم ہو۔ دوسروں  سے فاصلہ کیا حضور خود اپنے سے فاصلہ معلوم ہوتا ہے۔ میری شاعری ان فاصلوں  کو درمیان سے ہٹا دینے کا نام ہے‘‘ (’’باتیں ‘‘ فراق / ظ انصاری، رسالہ ’جامعہ‘ اکتوبر، دسمبر ۱۹۹۶ء ص: ۴۰)۔ مجتبیٰ بھی اپنے انداز میں ان فاصلوں  کو درمیان سے ہٹانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور بات جو مجتبیٰ حسین میں  ہمیں ملتی ہے۔ ( منٹو اور میراجی کی طرح) وہ ان کی سادگی اور ہندوستانیت ہے۔ یہ سادگی کسی ذہنی فرو ماندگی یا   زنامہ ’’  شب خون‘‘22      فرو مائگی کی پروردہ نہیں  بلکہ روح کی لطافت اور پاکیزگی سے وجود میں  آتی ہے، مجتبیٰ حسین کی ہندوستانیت میں  اپنے ملک کی تہذیب، ثقافت، مشرقی نظریات اور وجدان کا جو حُسن ہے وہ مزاح کے ریشمی پردوں  کے پیچھے اور دلفریب ہو جاتا ہے۔ اُن کے کئی مضامین اور خاکوں  میں  یہ جمالِ دلنشیں  چشم و قلب کی راحت بن گیا ہے۔ لیکن جہاں  وہ اپنے ملک کے تہذیب و تمدن اس کی علمی اور روحانی عظمت کے قصیدہ خواں  ہیں  اور اخلاقی اور سماجی قدروں  کے زوال کے نوحہ خواں  بھی، وہیں  وہ آتے ہوئے وقت کی آہٹ کو ایک فلسفیانہ بے نیازی سے سنّنے کا حواصلہ بھی رکھتے ہیں۔ دیکھیے وہ اپنے شہر کے بدلتے ہوئے منظر کا نقشہ کسی طرح کھینچتے ہیں :
’’پہلے مینار نے کہا ’’وہ گھوڑے، وہ ہاتھی، وہ پالکیاں، وہ اُمراء اور شرفاء نہ جانے کہاں  گئے وہ لوگ‘‘۔ تیسرے مینار نے کہا ’’یوں  لگتا ہے جیسے یہ سب وقت کے تینسی ڈریس شو میں  حصہ لینے آئے تھے اور چلے گئے‘‘ (’’چار مینار اور چار سو برس‘‘)
ان کے اندر چھپا ہوا یہ انسان دوست، وطن پرست، معمولی آدمی، اختر الایمان کے ’ ایک لڑکا‘ کی طرح اُن کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ مجتبیٰ حسین کو یہ پتہ ہی نہیں  کہ اُن سے ہٹ کر ان کا کوئی ایسا وجود بھی ہے جو اُن کا تعاقب کر سکتا ہے۔ یہ عام آدمی اُن سے کہتا ہے کہ مرزا دعوت علی بیگ کو تحقیر آمیز نظروں  سے نہ دیکھیں  بلکہ اُن کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپنائیں۔  وہ منتری بنتے ہیں  تو اُنہیں  تیسرے درجے کے اَن ریز روڈ ڈبّے میں  سفر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔  وہ یونیسکو جاتے ہیں  تو اُن سے کہتا ہے پہلے اپنی بیوی کو خط لکھیں۔ جاپان ہویا ازبکستان، وہ اُنہیں  ہر وقت اُن کے ہندوستانی ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں  کہیں  اُن کی یہ ہندوستانیت اپنے مرکز میں  سمٹ کر حیدرآبادیت میں  ڈھل جاتی ہے تو اس میں  بھی قصور ہماری عینک ہی کا ہوا کیوں  کہ حیدرآباد ہندوستان سے الگ موجودہ گجرات (یعنی مابعد فروری ۲۰۰۲ء گجرات) تو نہیں۔ یہ تو ماضی میں  بھی ہندوستان کی علامت اور حصہ رہا تھا اور اب بھی ہے۔ مجتبیٰ حسین کی ہندوستانیت کا ایک اور مظہر اُن کی زبان ہے۔ جو اپنی بلاغت کے باوجود بہت سادہ رواں  اور سلیس ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجتبیٰ دوسری ہندوستانی زبانوں  میں  بھی مقبول ہیں۔ اگر وہ زیادہ فارسی آمیز زبان لکھتے تو شاید دوسری زبانوں  میں  اتنے مقبول نہ ہوتے اور غیر ملکی زبانوں  میں  ان کی تحریروں  کا ترجمہ بھی مشکل ہوتا۔
مجتبیٰ حسین کے فن کی ایک عمومی خوبی یہ ہے کہ وہ عام سنجیدہ مظاہر میں  ایک مَضحک پہلو ایک distorted image دیکھ لیتے ہیں۔ میں  نے اسے ایک عمومی خوبی اس لیے کہا کہ یہ خوبی ہر اچھے مزاح نگار میں  ہوتی ہے۔ جیسے میں  یہ کہوں  کہ تنڈولکر کی خوبی یہ ہے کہ وہ رن بناتا ہے تو ہر اچھا بیٹس مین رَن بناتا ہے۔ یہ خوبی تنڈولکر سے مخصوص تب ہو گی جب میں  کہوں  کہ وہ straight drive بہت اچھی لگاتا ہے تو مجتبیٰ حسین کو جب کسی کردار یا واقعہ میں  کوئی مضحک پہلو دکھائی دیتا ہے تو اُن کا طائر خیال اُسے اپنی چونچ یا پنجوں  کی گِرفت میں  لے کر کبھی زمین سے بہت قریب اور کبھی بہت دور آسمانوں  میں  اڑنے لگتا ہے۔ پھر یہ طائر پر شکستہ اور یہ distorted image ایک دوسرے میں  ضم ہو جاتے ہیں  اور زرد آسمان کی وسعتوں  کو پُر کرنے کی کوششوں، نیلی جھیل، کالے بادل اور بنجر زمین کے مابین فاصلوں  کو سمیٹنے اور ناہمواریوں  کو ہموار کرنے کی سعیِ لاحاصل میں  ان کی تحریروں  کی سطروں  کے بیچ کہیں  تھک کر سو جاتے ہیں، شاید اسی لئے مشفق خواجہ کے خیال میں  مجتبیٰ حسین بنیادی طور پر افسانہ گو ہیں۔ کہیں  کہیں  یہ افسانہ گوئی سیاسی، طنز میں  ڈھل جاتی ہے۔ یہ انداز دیکھئے :
’’مشرقی دروازے سے ہوا کا کوئی جھونکا جب زور سے داخل ہوتا تھا تو ہوا کے لئے جگہ فراہم کرنے کی غرض سے مغربی دروازے پر کھڑا ہوا مسافر ڈِبّے سے باہر لہرانے لگتا۔ اسی اثناء میں  ایک مسافر کے پاؤں  پر صندوق گر گیا تو اس چوٹ کا کرب سارے مسافروں  کے جسم میں  دوڑنے لگا۔ منتری جی نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ اگر ساری قوم اس طرح متحد ہو جائے تو ملک کیا سے کیا ہو جائے گا‘‘۔
                       (’’ریل منتری مسافر بن گئے‘‘)
کہیں  یہ افسانہ طرازی خالص مزاح کے روپ میں  جلوہ گر ہوتی ہے جیسے قدیر زماں  کے خاکے میں  برطانیہ کے وزیر اعظم سے قدیر زماں  کی انتہائی سنجیدہ گفتگو یا پی۔ سی اروڑہ کی شاذ تمکنت کو ایک بڑے ہوٹل میں  دعوت، عملی زندگی میں  بھی وہ اپنے دوستوں  سے ایسا مذاق کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار آواز بدل کر مجھے فون کیا۔ میں  اُن کی آواز نہیں  پہچان سکا۔ بولے ’’کیا میں مغنی صاحب سے بات کرسکتا ہوں ‘‘ میں  نے کہا ’’جی۔ کہیے‘‘ (میرا اصلی نام عبدالمغنی ہے) پوچھا ’’کیا آپ مغنی تبسم ہیں‘‘ میں  نے کہا ’’نہیں‘‘ پھر پوچھا ’’کیا واقعی مغنی تبسم نہیں  ہیں‘‘ میں  نے کہا ’’جی نہیں‘‘ اسی طرح کے سوالات کرتے رہے پھر بولے ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ مغنی ہوں  اور مغنی تبسم نہ ہوں۔ ضُرور کوئی گڑبڑ ہے‘‘ میں  نے کہا ’’دیکھیے میں  کہہ چکا میں  مغنی تبسم نہیں  ہوں‘‘  بولے ’’اب تو مجھے بھی کچھ کچھ شک ہو رہا ہے‘‘۔ پھر میرا نام پوچھ کر کہا’’یہ تو تین نام ہوئے مصحف، پھر اقبال، اور اوپر سے توصیفی جو بالکل غیر ضروری ہے‘‘ میں  زچ آ گیا، میں  نے کہا ’’میرا وجود ہی غیر ضروری ہے۔ آپ یہ بتایئے آپ کون ہیں  ؟ آپ کو مغنی تبسم سے کچھ کام ہے مجھ سے کچھ کہنا ہے یا صرف میرے نام پر اعتراض ہے‘‘ بچوں  کی طرح ہنسنے لگے۔ بولے ’’میں  مجتبیٰ حسین بول رہا ہوں‘‘۔
مجتبیٰ حسین کے فن میں  واقعہ کو افسانہ بنانے اور افسانے کا وقوعے کی طرف لوٹنے کا عمل اس طرح بار بار گھومتا، رکتا، جلتا اور بجھتا ہے جیسے اُجالوں  اور اندھیروں  کا کوئی کھیل ہو۔ لیکن وہ صرف افسانہ گوئی کی فرضی اُڑانیں  ہی نہیں  بھرتے۔ کبھی گھر میں  بیوی بچوں  کے ساتھ ٹھٹول کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں  :
’’ہم نے بیوی سے تنہائی میں  کہا کہ وہ خدا کے لیے ہم پر کتّے کے سامنے برسنا بند کر دیں  کیوں  کہ اس سے کتّے کے اخلاق پر بُرا اثر پڑ رہا ہے…‘‘ (کتّو، انسانوں  سے خبردار رہو‘‘)
کبھی فیضؔ یا مخدومؔ کے پاس بیٹھے ادب آمیز شوخی کے ساتھ کچھ کہتے کچھ سنتے، کبھی تکلف دوستوں  کے درمیان قہقہے لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں  تو کبھی زمین پر بیٹھے پاؤں  کے ناخن سے مٹی کریدتے ہوئے کوئی نہایت بلیغ بات کہہ جاتے ہیں۔
’’تعزیتی جلسے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں  مرحوم کے سوائے ہر کوئی موجود ہوتا ہے یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ جس شخص کے لئے یہ سارا اہتمام ہوتا ہے۔ وہی ’’مقامِ واردات‘‘ سے غائب رہتا ہے‘‘ (’’تعزیتی جلسے‘‘)
اُن کے موضوعات بے حد متنوع ہیں۔ دور حاضر کے سیاسی اور سماجی مسائل، متوسط طبقہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں  اور غم، بدلتا ہوا تہذیبی منظر نامہ، اردو کی زَبوں  حالی، تعلیم یافتہ لوگوں  کی بے روزگاری، فسادات اور مشاعروں  سے لے کر یونیسکو اور تکیوں  کے غلاف تک وہ ہر موضوع پر نہ صرف اپنے شگفتہ انداز میں  لکھ سکتے ہیں  بلکہ جابجا ایسے فکر انگیز جملے درمیان میں  لاتے ہیں  جس سے دل و دماغ ایک فرحت بخش سکون سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کے ہاں  ایک گہرا تجسُس ہے جیسے کوئی بچہ اندھیرے میں  ٹارچ ہاتھ میں  لئے گھوم رہا ہو۔ وہ کہیں  کسی کونے میں  دبکی ہوئی سچائی کے چہرے پر روشنی ڈالتا ہے، کہیں  کسی سوتے ہوئے جذبے کو چھیڑتا ہے تو وہ آنکھیں  مل کر اُٹھ بیٹھتا ہے، کہیں  کوئی فسادی کسی لڑکی کی آبرو لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ٹھٹک جاتا ہے، بہت سی مثالیں  ہیں۔
اُن کی تحریر کی کشش اس کی برجستگی میں  ہے، اگر مجتبیٰ حسین سے آپ کی صحبتیں  رہی ہیں۔ تو انہیں  پڑھتے ہوئے آپ کو یہی محسوس ہو گا کہ وہ آپ سے باتیں  کر رہے ہیں۔ اور باتیں  بھی کیسی ؟ مُہذب، برجستہ اور بے تکلف، ذاتی تعصب اور عناد سے پاک، ایک بے لوث برہمی یا شگفتگی۔ یہ طرز اظہار جب اُن کی غیر معمولی حس مزاح سے روشن ہوتا ہے تو ایسی مسرت میں  ڈھل جاتا ہے جس میں  بصیرت بھی شامل ہو، اُن کا مشاہدہ اس قدر تیز اور فکر کی زقند ایسی ہے کہ اگر کسی شخص کی گردن پر ایک تل اُن کے حافظے سے چپک جائے۔ تو وہ گردن کا نقشہ کھینچ لیتے ہیں۔ اور چونکہ یہ گردن بغیر چہرے کے بڑی بے تُکی لگتی ہے، اس لیے وہ اس شخص کا چہرہ بھی اپنے رو بہ رو پاتے ہیں۔ پھر انہیں  لگتا ہے کہ وہ چہرہ متحرک ہے۔ تب انہیں  اس شخص کی دو ٹانگیں  دکھائی دیتی ہیں، اور یوں  اُس شخص کا سارا سراپا اُن کے آ گے آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی وہ پھر اسی تل کی طرف لوٹ آتے ہیں  اور ذہنی اور جذباتی طور پر اسی تل سے چپکے رہتے ہیں۔ اس کی مثال بنّے بھائی کی مسکراہٹ ہے جو معشوق کی گردن یا اوپری ہونٹ پر تل کی طرح اُن کے دل و دماغ سے چپک گئی ہے۔
’’مجھے تو بعض اوقات پوری ترقی پسند تحریک کے پیچھے بَنّے بھائی کی مسکراہٹ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے‘‘۔ (’’سجاد ظہیر‘‘)
مجتبیٰ حسین کے خاکوں  میں فکر جذبے اور مشاہدے کی آمیزش نئے نئے روپ دھارتی ہے۔ خاکوں  میں  وہ اپنی ذات کو وہیں  درمیان میں  لاتے ہیں  جب ایسی صورت ناگزیر ہو جہاں  خود اُن کے آئینۂ عکس کے بغیر اُن کے کردار کے نقوش، خوبیاں  یا کمیاں  اپنے واضح خد و خال نہ بناتے ہوں، خاکوں  کے علاوہ اُن کے کالم، مضامین، سفر نامے بھی بے لگام انا کے اظہار، ذاتی عناد و تعصب اور ہر طرح کی معاصرانہ چشمک سے پاک ہیں۔ اُن کے طرز اظہار میں  کہیں  علم یا مطالعے کی نمائش نہیں۔ اُن کے بیشتر نقادوں  کا یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ وہ کہیں  فلسفی بننے کی کوشش نہیں  کرتے، کسی غیر ضروری بحث میں  اپنا وقت ضائع نہیں  کرتے، یوں  بھی اکبر الٰہ آبادی جس طرزِ فکر کو ’’فالتو عقل‘‘ کا نام دیتے ہیں، مجتبیٰ کی تحریروں  میں  اُس کی کوئی جگہ نہیں۔
طنز کے بغیر اعلیٰ مزاح کا تصور ہی ادھورا ہے۔ یہ دونوں  عناصر، بہت بلندی سے کھینچی ہوئی تصویروں  کی طرح جب ایک دوسرے کو Overlapکرتے ہیں  تب ہی تیسری بُعد اُبھرتی ہے اور مزاح نگار کی نگاہ کی زد میں  کئی مناظر آنے لگتے ہیں۔ سمندر، جنگل، پہاڑ، کھیت کھلیان، بستیاں، ویرانے۔ بنیادی طور پر اچھا مزاح نگار نہ صرف ایک با شعور اور حساس شخصیت کا مالک ہوتا ہے بلکہ اس کی مثال اس سُنار کی سی ہے جو کسی طلائی زیور کو دیکھتے ہی اس میں  ملاوٹ کا اندازہ کر لیتا ہے۔ اب اس کے ہونٹوں  پر جو مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔ اُس میں  طنز بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے مجتبیٰ حسین کے بارے میں  یہ کہنا کہ وہ صرف مزاح نگار ہیں  اُن کے ساتھ نا انصافی ہے۔ وہ بنیادی طور پر طنز نگار ہیں  اور مزاح کا پیرایہ اختیار کرتے ہیں۔۔۔، سرور صاحب مجتبیٰ کی بذلہ سنجی اور witمیں  ذہن کی کار فرمائی دیکھتے ہیں۔ اُن کے خیال کی تائید میں  یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر مجتبیٰ کے پاس ایسی wit  نہ ہوتی تو وہ اتنے کامیاب طنز نگار بھی نہ ہوتے۔ اُن کی تحریروں  میں  سیاسی اور سماجی طنز کے نمونے جا بجا ملتے ہیں۔ میں  یہاں  صرف چند مثالیں  پیش کروں  گا :
’’وہ بولا ’’بندہ نواز اس علاقے میں  اتنے اسپتال ہیں  کہ یہاں  مریض اسپتال کی تلاش نہیں  کرتے۔ بلکہ اسپتال خود مریضوں  کی تلاش کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر اُن صاحب نے استیٹھسکوپ کو پھر سے اپنی جیب میں  رکھ لیا اور سامنے والی گلی میں  چلے گئے۔ میں  بڑی دیر تک اس چلتے پھرتے اسپتال کو گلی کے اندھیرے میں  غائب ہوتے ہوئے دیکھتا رہا…‘‘
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
’’پربھو بولے ’’میری مدد لے کر کیا کرو گے ؟ کسی فینانسر کو پکڑو۔ اب دنیا کے سارے کام مجھ سے نہیں  فینانسر سے چلتے ہیں۔ تم جو چاہو سو کرو۔ میں  تو اب اس دھرتی کے کاروبار میں  نان الائنڈ رہنا چاہتا ہوں‘‘۔ ( ’’ابھینیتا نیتا بن گئے‘‘)
ایک اور مضمون ہے ’’ہمارے گھر میں  چھاپہ۔۔۔‘‘ اس میں  لکھتے ہیں :
 ’’جب یہ پتہ چلا کہ ہمارے گھر سچ مچ چھاپہ مارنے والے آئے ہیں  تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں  رہا، ہم نے بیگم سے کہا ’’میں  نہ کہتا تھا کہ ایک دن ہمارا شمار بھی بڑے آدمیوں  میں  ہو گا۔۔۔‘‘
سلیمان اریب کے آخری دنوں  کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں  :
’’۔۔۔ ۶/ ستمبر کی رات کو میں  اپنی کتاب دینے کے لئے اریب کے پاس گیا اب اُن کی زندگی میں  صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تھے۔۔۔ مجھے اشارہ کیا کہ میں  کتاب کو کھولوں۔ میں  نے کتاب کا پہلا ورق پلٹا۔۔۔ میں  نے زور سے کہا ’’اریب صاحب یہ میری کتاب کا ’’پس و پیش لفظ‘‘ ہے۔ سب لوگ ’’پیش لفظ‘‘ لکھتے ہیں  مگر میں  نے ’’پس و پیش لفظ‘‘ لکھا ہے۔ یہ سنتے ہی اریب کے کمزور نحیف اور خشک ہونٹوں  پر مسکراہٹ بڑی دور تک پھیل گئی۔۔‘‘  میں  نے اریب کو غالباً اس دنیا کی آخری مسکراہٹ دی تھی اور یہ آخری مسکراہٹ ابھی تک میری آنکھوں  میں  پھیلی ہوئی ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اریب کے ہونٹوں  سے یہ آخری مسکراہٹ چھین لوں  اور اریب سے کہوں  ’’اریب صاحب میری دی ہوئی مسکراہٹ مجھے واپس کر دیجئے ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہ ہو گا۔ یہ کیا بات ہوئی میں  آپ کو مسکراہٹ عطا کروں  اور آپ میرے سینے میں  خنجر اتار دیں  میں  سچ مچ اریب سے یہ آخری مسکراہٹ چھین لینا چاہتا ہوں۔ کیوں  کہ اریب کی زندگی کی غالباً  یہ پہلی اور آخری مسکراہٹ تھی جس میں  اریب کی زندگی کا سارا درد اور سارا کرب سمٹ آیا تھا۔ مجھے یوں  معلوم ہوتا تھا جیسے اریب کے ہونٹوں  سے ان کی آنکھیں  ٹپاٹپ ٹپکنے لگی ہیں  اور زندگی قطرہ قطرہ بن کر خشک ہونے لگی ہے‘‘۔
مجتبیٰ حسین کی تحریروں  میں  ایسی کئی مثالیں  ہیں۔ جہاں  ان کی سرشاری اور خَنْدہ روئی کے ساتھ یاس اور حزن کے رنگ گھل مل گئے ہیں۔ کہیں  وہ اپنے دکھ کا برملا اظہار کرتے ہیں  جیسے سلیمان اریب کے اس خاکے میں۔ کہیں  ایک گہرے شدید غم کو چھپانے کی ناکام کوشش میں  سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں  جیسے شاذ تمکنت کے خاکے میں  وہ شاذ کی موت سے زیادہ قطب مینار کے بارے میں  فکر مند نظر آتے ہیں۔ قطب مینار جو بادلوں  کی اوٹ میں  چھپ گیا تھا جب پھر نظر آنے لگتا ہے تو وہ بظاہر مطمئن دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل اُنہیں  بڑی حیرت ہے، دکھ ہے کہ Richter اسکیل پر اتنا شدید زلزلہ آیا اور یہ قطب مینار ابھی تک اپنی جگہ کھڑا ہے۔ آخر یہ کس پتھر کا بنا ہے؟ دکھ کے یہ برملا اور در پردہ اظہار۔۔۔ اُن کی تحریروں  میں  ایسے مقامات کئی بار آئے ہیں۔ لیکن اُن کا دکھ یک رخی Unidimensional نہیں  ہے۔ اُن کے ہاں  ذاتی دکھوں  کے زخم ہی نہیں  وہ نشتر بھی ہے جو سماجی نا انصافی، سیاسی خود غرضی، جبر و تقدیر، زندگی کی سفّاکی، انسانی درندگی اور ہر نوع کی ناانصافی کا پردہ چاک کرتا ہے۔
خود مجتبیٰ حسین کا کہنا ہے کہ جب وہ صرف نو، برس کے تھے تو فسادات میں  بلوائیوں  نے اُن کی آنکھوں  کے سامنے اُن کے ماموں  کو قتل کر دیا تھا۔ اُن کے گھر کے وطنیت پرست ماحول اُن کے افراد خاندان کی ترقی پسند تحریک سے وابستگی اور سب سے بڑھ کر یہ خود مجتبیٰ حسین کی کشادہ جبینی تھی جس نے اُنہیں  نہ صرف اس المیے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا بلکہ ایک ایسی درد مندی عطا کی جس نے اُن کے ذاتی غم بلکہ ساری قوم بلکہ اس سے بھی ماوراء ساری انسانیت کا درد اُن کی روح میں  سمودیا۔ اُنہوں  نے زندگی سے کٹ کر اپنی ذات اور تنہائی میں  محصور ہونے کی بجائے زندگی کے مظاہر میں  اپنے دکھ کا پر تو دیکھ لیا۔ اور اُن کے مزاح میں  وہ بے غرضانہ کیفیت آ گئی جو غالبؔ سے مخصوص ہے۔ غالبؔ کے بارے میں  وزیر آغا لکھتے ہیں  ’’یہاں  مزاح ایک شدید یا سیت اور احساسِ محرومی سے تحریک لیتا ہے اور ایک ایسی صورت حال کو وجود میں  لاتا ہے جہاں  آنسو اور تبسم ایک دوسرے سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ یہ فن کی معراج ہے‘‘۔ موجودہ مزاح نگاروں  میں  آنسو اور تبسم کا یہ امتزاج اپنی انتہائی مؤثر شکل میں  مجھے دو مزاح نگاروں  میں  دکھائی دیتا ہے، سب سے پہلے مشتاق احمد یوسفی اور پھر مجتبیٰ حسین۔۔۔،
________
(روزنامہ ’’سیاست‘‘ حیدرآباد، ’’شگوفہ‘‘ حیدرآباد              
’’مجتبیٰ حسین۔ فن اور شخصیت‘‘ مرتب: ڈاکٹر محمد کاظم)



شہر یار کی شاعری۔ ایک تاثر


(شہر یار کی ۷۰  ویں  سالگرہ کے موقع پر یہ مضمون ۳/ جولائی ۲۰۰۶ء  کو ایوانِ اردو، ادارۂ ادبیات اردو میں  پڑھا گیا)



شہر یار کی شاعری کا آغاز ۱۹۵۸ء میں  ہوا اور قاضی سلیم کے خیال میں  ’’ٹائمنگ فٹ‘‘ ہوئی۔ خود شہر یار کہتے ہیں  کہ وہ اس معاملے میں  خوش قسمت ہیں  کہ اُن کی شاعری کے ابتدائی زمانے ہی میں  اُن کا کلام بڑے اہم رسالوں  ’’سویرا‘‘، ’’ادبی دنیا‘‘، ’’صبا‘‘، ’’ادب لطیف‘‘ وغیرہ میں  شائع ہونے لگا۔ ’’صبا‘‘ میں  اُن کا گوشہ بھی شائع ہوا جب کہ یہ ان کی شاعری کا ابتدائی زمانہ تھا۔ میں  اس بات سے متفق نہیں  کہ شہر یار کو جو اتنی جلد اتنی شہرت حاصل ہوئی اس کا سبب ان کی خوش قسمتی ہے۔ میرے خیال میں  یہ ان کا تخلیقی وصف ہے کہ اُس دور میں  اُن اہم رسائل میں  اُن کا کلام شائع ہوسکا کیوں  کہ یہ وہ زمانہ ہے جب اہم ادبی رسائل میں  بار پانا اتنا آسان نہیں تھا۔ جب تخلیق کار سے زیادہ تخلیق کی قدر ہوتی تھی۔ شہر یار سے خاصے سینئر اور معروف شاعر اُن رسائل میں  چھپنا اپنے لیے باعث امتیاز سمجھتے تھے۔ شہر یار کی شاعری نے اگر اہل نظر نقاد اور رسائل کے مدیران کو چونکا دیا تو اس کا سبب ان کا تخلیقی جوہر تھا اور یہی وجہ ہے کہ خلیل الرحمٰن اعظمی سے لے کر آج تک ہر اہم نقاد نے ان کی شاعری کو موضوع بنایا اور اس کی مناسب قدر کی۔
جہاں  تک شہر یار کی خوش قسمتی کا سوال ہے اگر اس میں  شائبہ خوبی تقدیر ہے بھی تو بس اس قدر کہ شہر یار نے شاعر ی کے کوچے میں صحیح وقت پر قدم رکھا اور اگر بقول قاضی سلیم ’’ٹائمنگ فٹ‘‘ ہوئی تو ان معنوں  میں  شہر یار ہی نہیں  بلکہ اُن کے ساتھ آنے والے اُن کے ہم عمر سبھی شاعر خوش نصیب ہیں  کہ یہ ’’وقت‘‘ تھا ’’شگفتن گل ہائے ناز کا‘‘۔ وہ یوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک اپنا رول ادا کرچکی تھی مقبول شعری روایات سے انحراف جو ترقی پسندوں  کی دین ہے اور اُس سے بھی زیادہ اہم رویئے کی تبدیلی جو میرا جی اور راشد کی دین ہے وجود میں  آ چکی تھی۔ سچّے شخصی تجربات اور محسوسات نئے اسالیب اور نئے اظہارات کے جِلو میں  اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ اقبال اور جوش کی تقلید، سستی رجائیت، اوپر سے لادی ہوئی بلند آہنگی، اکہری رومانیت اور غزل بیزارگی، یہ سارے عناصر اپنا اثر تیزی سے کھو رہے تھے۔ شہر یار کی آمد سے قبل ہی ایک نئی نسل اپنے پیش رَو شعراء کے اثر سے آزاد رہ کر اپنی انفرادیت برقرار رکھنے میں  کامیاب نظر آرہی تھی۔ ان میں ناصر کاظمی، عزیز حامدمدنی، ابن انشائ، خلیل الرحمٰن اعظمی، شاذ تمکنت‘‘ قاضی سلیم،  احمد مشتاق، شفیق فاطمہ شعریٰ،  بلراج کومل، سلیمان اریب، باقر مہدی، عمیق حنفی، خورشید احمد جامی، منظر سلیم، مغنی تبسم، وحید اختر، زبیر رضوی، عزیز قیسی اور انور معظم کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ اور بھی کئی نام ہیں۔ یوں  ایک نئے شاعر کے لئے اپنی شاعری کے پودے کی آبیاری کے لیے موسم خوشگوار اور زمین زرخیز تھی۔ لیکن بدلتے ہوئے موسم اور گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ سر سبز و شاداب رہنا اُن ہی پودوں  کے نصیب میں  ہوتاہے جن کی جڑیں  زمین میں  گہری اور دور تک پھیلی ہوئی ہوں۔ اگر شہر یار آج بھی اُسی تخلیقی وفور اور انہماک سے شعر کہہ رہے ہیں  تو اس کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے نہ صرف اس پودے کو مرجھانے نہیں  دیا بلکہ ایسے شجرمیں  بدل دیا جو سایہ بھی دے اور ثمر آور بھی ہو۔
شہر یار ہمارے دورکے نمائندہ شاعرہیں۔ وہ اگر اہم شاعر ہیں  تو اس لیئے کہ انہوں  نے بہت جلداپنی راہ نکال لی اور اپنی تخلیقی انفرادیت کو پالیا۔ جدید احساس اور میلان رکھنے والے شاعروں  کے قافلے میں  شامل رہتے ہوئے بھی وہ سب سے الگ رہے۔ انہوں  نے اپنا علاحدہ تشخص قائم کیا اور اپنے دور کے غالب اسالیب جو بعد میں  کلیشے بلکہ شور شرابا بن گئے ان سے خود کو بیگانہ رکھا اور ایک جداگانہ سطح پر خود سے ہمکلام ہوتے رہے۔
خود کلامی کا یہ انداز شہر یارکی شاعری کانمایاں  وصف ہے۔ شہر یار کی شاعری جذبے اور احساس کی ایسی شدست سے عبارت ہے کہ اگر وہ اس آگ کو اپنے لہو میں  ٹھنڈا کرنے اور اس شعلے کومدھم کرنے کاہنر نہ جانتے تو اُن کی شاعری اپنی موجودہ ارفع سطح حاصل نہ کر پاتی۔ وہ اپنے اندر کی آگ کو بھڑکنے نہیں  دیتے بلکہ اپنے غیر معمولی ضبط، خود نگری اور گہری سوچ کے فانوس میں  اس شعلے کو اس طرح قید کر لیتے ہیں  کہ درد کا خیمہ روشن ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی ذات اور کائنات کے درمیان رشتہ ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں ؎
شب کی ساری صراحیاں  خالی
ہو چکیں  جب تو صبح کا سورج
میرے ہونٹوں  کے پا س آیا، کہا
رات کو قطرہ قطرہ پینے سے
پیاس بجھتی نہیں  ہے بڑھتی ہے
ثبت کر ہونٹ میرے ہونٹوں  پر
اور اس پیاس سے رہائی پا
(نظم۔ ’’پیاس سے رہائی‘‘)
رویئے کی تبدیلی کی ابھی کچھ دیر پہلے بات ہوئی تھی۔ اس کی ایک مثال دیکھئے: فیض کی نظم کے کیاخوبصورت مصرعے ہیں ؎
جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیِ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
(نظم۔ ’’صبح آزادی‘‘۔ اگست ۱۹۴۷ء)
اب شہر یار کے یہ مصرعے دیکھیے؎
ابھی نہیں  ابھی زنجیر خواب برہم ہے
ابھی نہیں  ابھی دامن کے چاک کا غم ہے
ابھی نہیں  ابھی در باز ہے اُمیدوں  کا
ابھی نہیں  ابھی سینے کا داغ جلتا ہے
ابھی نہیں  ابھی پلکوں  پہ خوں  مچلتا ہے
ابھی نہیں  ابھی کم بخت دل دھڑکتا ہے
(نظم۔ ’’موت‘‘)
وہی شکست خواب کی بات ہے، لیکن یہاں  ایک شخصی تجربہ ہے یہ وہ خواب نہیں  جسے وقت کی ابروؤں  تلے ہزاروں  آنکھوں نے بہ یک وقت دیکھا ہو، اُمید کی ایک موہوم کرن یہاں  بھی ہے لیکن یہاں  ضبط کی اندرونی کیفیت اور تنہائی اور بے بسی کا احساس ایک شخصی آشوب کا آفریدہ ہے۔
شہریار کی شاعری میں  نا محسوس احساسات اور بے جسم سائے کبھی اپنی تجسیم کر لیتے ہیں  تو کبھی اپنی ایک چھب دکھا کر فضا میں  تحلیل ہو جاتے ہیں۔ جو بات وہ نہیں  کہتے، اکثر یہ ’ اَن کہی ‘ کہے ہوئے لفظ سے زیادہ پُر اثر ہوتی ہے۔ ان کی غزل اور نظم میں  کسی قسم کی تفریق مشکل ہے اگر ہے تو بس اس قدر کہ غزل میں انہوں  نے کلاسیکی روایات کو زیادہ ملحوظ رکھا ہے اور اس کی شعریات میں  کسی شکست و ریخت، تعمیر یا انہدام کو قبول نہیں  کیا۔ غزل اور نظم دونوں  ہی میں  ایک طرح کی خود نگری، خود احتسابی اُنہیں  جذبے کے بے مُحابا اظہار اور طوالت بیان سے روکتی رہی۔ کفایت لفظی، اختصار اور نظم کی ہئیتی ترکیب کا فن غالباً اُنہوں  نے اپنے پیش رو حلقے کے شاعروں  سے سیکھا۔ ان کی ایک نظم ہے۔ نظم کا عنوان بھی یہی ہے یعنی ’’نظم‘‘۔ اس نظم میں  جسم کا تذکرہ ہے اور اس طرح کہ صرف ایک درمیانی مصرعہ یہ راز کھولتا ہے اور پھر بات محض جسم تک نہیں  رہ جاتی، روح تک میں  ارتعاش پیدا کر دیتی ہے نظم دیکھیے؎
بارش تھمنے والی ہے
بادل اپنے پروں  کو سمیٹ رہے ہیں  
ہوش میں  آؤ
سانسوں  میں  ہمواری پیدا کرو
وہ مختصر لمحہ جا چکا ہے
اور طویل و بے حس دن
 اُس کی جگہ لینے والا ہے   (’’نظم‘‘)
اس نظم کے ابتدائی مصرعے نظم کی فضا تعمیر کرتے ہیں۔ چوتھا مصرعہ ’’سانسوں  میں  ہمواری پیدا کرو‘‘ موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اچانک فضا روشن ہو جاتی ہے شہر یار کی کئی نظموں  میں  ہمیں  اظہار کو یہی طریقِ کار ملتا ہے اور ہم احساس و فکر کی ایسی ہی ملی جلی کیفیات سے دو چار ہوتے ہیں۔
شہر یار دھیمے لہجے میں  بہت مختصر بات کہتے ہیں  جو طویل، پُر شور آوازوں  کے درمیان بھی بہ آسانی سُنی جا سکتی ہے۔ ان کی شاعری خواب اور حقیقت کے تصادم، رات کی تاریکی میں  ٹوٹتے ہوئے تارے کی خاموش صدا، بے خودی اور استعجاب کی ملی جلی کیفیات اور حزن میں  ڈوبی ہوئی سوچ کے عناصر سے تشکیل پائی ہے۔ وہ پہاڑ کاٹ کر کوئی چٹان نہیں  لڑھکاتے، سمندر کی پر شور لہروں  کی طرح ہمارے قدسم ساحل سے نہیں  اکھاڑتے بلکہ ہمیں  کسی جھیل کے کنارے بٹھا کر خاموش پانی میں  اس طرح کنکری پھینکتے ہیں  کہ ہمارا عکس ہی نہیں  ہمارا سارا وجود منتشر ہو جاتا ہے۔
آخر میں، مَیں  شہر یار کی نظموں  غزلوں  سے چند اشعار نقل کرنا چاہوں گا۔
یہ بستر تنہائی۔،
جی میں  ہے لپیٹوں میں  
اے رات وجود اپنا
کہہ دے تو سمیٹوں  میں  
اس آدھے بدن والی
پرچھائیں  کو دکھلا دے
میں  آگ میں  جلتا ہوں
تو اوس میں نہلا دے            (نظم۔ ’’امارات‘‘)
_________
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں  ڈبونے کا
_________
نکلا تھا میں  صدائے جرس کی تلاش میں  
دھوکے سے اس سکوت کے صحرا میں  آ گیا
_________
یا ترے علاوہ بھی کسی شئے کی طلب ہے
یا اپنی محبت پہ بھروسہ نہیں  ہم کو
_________
ڈھل کے نغموں  میں  اڑی رات تری یاد مگر
دے کے دستک در ناہید پہ لوٹ آئی ہے
_________
شبِ غم کیا کریں  کیسے گزاریں
کسے آواز دیں، کس کو پکاریں
_________
سرِ نام تمنا کچھ نہیں ہے
کسے آنکھوں  سے اب دل میں  اُتاریں
___________
مری نگاہ کے حصار میں  یوں  ہی کھڑی رہو
میں  تم سے اور دور ہو رہا ہوں، مجھ سے مت ڈرو
اِن انگلیوں  پہ اوس کے نشان تھے، جو مٹ گئے
لبوں  پہ ایک اجنبی کا نام تھا، جو بجھ گیا
ہر ن کی آنکھ خوف کی چمک سے بھی تہی سوئی
درندے جنگلوں  کو چھوڑ کر کہیں  چلے گئے
کھڑی رہو
اسی جگہ، اسی طرح کھڑی رہو
        (نظم۔ ’’واماندگیِ شوق‘‘)
شہر یار کی شاعری یقیناً ہمارے عہد کی ایک منفرد اور معتبر آواز ہے۔
___________
 (’’شعر و حکمت‘‘، حیدرآباد)



زبیر رضوی

(جہا ں  جہاں  سے ترا گھر دکھائی دیتا ہے )


زبیر رضوی سے میں  کم کم ملا ہوں۔ اور بڑے طویل وقفوں  کے بعد۔ ملاقاتوں  میں  طویل وقفے حائل ہو جائیں  تو ایک اجنبی پن در آتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود مجھے زبیر کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نظر نہ آ سکی، وہی اپنا پن، وہی دلکشی ہاں۔ ہر بار ان کی شاعری پہلے سے کچھ مختلف ضرور محسوس ہوئی۔ اُن کی شاعری میں  فکر و خیال کے نئے پڑاؤ اور طرزِ احساس کے نئے منطقے روشن نظر آئے۔ شخصیت اور فن کے مابین یہ دو رخی یا تضاد کہئے، کہ شخص وہیں  کھڑا رہے اپنی مثبت روایات اور مستحکم قدروں  کی زمین پر پاؤں  جمائے اور اس کے اندر جو شاعر چھپا بیٹھا ہے، گذرتا ہوا وقت اُسے نئے تجربات، نئے احساس اور نئے علوم کی قبائیں  اوڑھائے، اپنے پنکھوں  میں  سمیٹے نئے  نئے جہانوں  کی سیر کراتا پھرے۔ زبیر کی شاعری پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا کہ اس سفر کے دوران اُنہیں  جن جن مناظر کی دید حاصل ہوئی، انہوں نے وہ سب کچھ لفظوں  میں  قید کر کے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے قاری تک پہنچانے کا پورا پورا اہتمام کیا ہے۔
میں  نے جب حیدرآباد کی ادبی فضا میں  آنکھ کھولی اُس وقت تک زبیر دہلی جا چکے تھے۔ ’’ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں  آئے‘‘۔ زبیر رضوی کو میں  مشاعروں  میں  سُن چکا تھا، رسائل میں  پڑھتا رہا تھا لیکن اُن سے باقاعدہ پہلی ملاقات ۱۹۵۹ء میں  ہوئی۔ مجھے کراچی کا سفر در پیش تھا۔ ویزا دہلی سے لینا تھا اور ویزا کے حصول کے لیے چند روز دہلی میں  میرا قیام ناگزیر تھا۔ شاذ تمکنت نے زبیر کے نام ایک خط میرے حوالے کر دیا۔ میں  سوچ سکتا تھا شاذ نے اس خط میں  کیا لکھا ہو گا۔ زبیر نے مجھ سے کچھ ایسے خلوص اور محبت کا برتاؤ کیا گویا یہ میں  نہیں  بلکہ شاذ اُن کے مہمان ہوں۔ زبیر، شاذ اور عوض سعید میں  آپس میں  بڑی محبتیں  تھیں۔ یہ لوگ بھی عجیب تھے اور ان لوگوں  پر ہی کیا موقوف تھا اس زمانے کے سارے شاعر، ادیب عجیب و غریب تھے۔ ملتے تھے تو ٹوٹ کر، گویا یک جان دو قالب ہوں َ لڑتے تو اُپی ہوئی تلوار بن جاتے لیکن اختلاف کی نوعیت زیادہ تر ادبی یا نظریاتی ہوتی اور کیسے قد آور لوگ تھے۔ شاعروں  میں  علامہ حیرت، مخدوم، شاہد صدیقی، خورشید احمد جامی، سب کے لیے نہایت محترم۔ کس کس کا ذکر کیجئے ؎
جمگھٹے دیکھے ہیں  جن لوگوں  کے ان آنکھوں  نے
آج ویسا کوئی دے ہم کو دکھا ایک ہی شخص
ان کے علاوہ شاعروں  ہی میں  اریب، شاذ، زبیر، مغنی تبسم، انور معظم، وحید اختر، عزیز قیسی، وغیرہ ادبی ماحول ایسا نہیں  جیسا اب ہے، کچھ اور تھا۔ ہر شخص کو یہ فکر کہ کس نے کیا لکھا ہے، کہاں  چَھپا ہے، ادبی بحثیں، نجی محفلیں، مشاعرے۔ مشاعروں  میں  زبیر کی مقبولیت اوروں  سے زیادہ تھی۔ اُن کی غزلیں  اُن کا ترنّم۔ ادبی رسائل میں  زبیر کی جو توقیر تھی سو الگ۔ حالاں  کہ یہ زبیر کی شاعری کا ابتدائی دور رہا ہو گا لیکن اس زمانے میں  لوگوں  کا ادب سے کمٹ منٹ ہی ایسا تھا کہ آپ کوئی اچھی نظم، غزل لکھیں، کہیں  یہ چھپے تو اس کی شہرت لکھنو، حیدرآباد، علی گڑھ، دہلی سے ہوتی ہوئی کراچی، لاہور، مردان تک پہنچ جاتی۔ اسے نہ ڈاک کی ضرورت تھی، نہ ہوائی جہاز کی، نہ ٹیلی فون کی۔ اور ٹیلی فون، ہوائی جہاز کی سہولت تو بس چند ذی حیثیت لوگوں  تک محدود تھی۔ شاعر، ادیب عام طور پر مفلس ہوتے تھے۔ تو کہنے کا مطلب مختصراً یہ کہ اس زمانے میں  زبیر یا اُن کے ہم رتبہ دوسرے شعراء کی شہرت، مقبولیت یا ہر دلعزیزی کسی کھوٹے سکّے یا پی۔ آر کی مرہون منت نہیں  بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں  کی بنا پر تھی، ارضِ دکن سے وابستہ یہ وہ لوگ تھے جن سے پچاس اور ساٹھ کی ادبی فضا جگمگا  رہی تھی۔ اگرچہ زبیر حیدرآباد میں  کم ہی رہے لیکن شاید وہ خود اپنے آپ کو حیدرآباد سے الگ کر کے اپنے بارے میں  نہ سوچ سکیں۔
یہ اُن دنوں  کی بات ہے جب زبیر رضوی کا پہلا شعری مجموعہ ’’لہر لہر ندیا گہری‘‘ منظر عام پر نہیں  آیا تھا، لیکن زیادہ تر رسائل کی وساطت سے اور کم کم مشاعروں  کے میڈیم سے اس مجموعے کی بیش تر تخلیقات با ذوق قارئین تک پہنچ چکی تھیں۔ ایک بات میری فہم سے بالا تر ہے کہ شعر، ادب میں  تقلیدی رویئے کی مذمت کی  جاتی ہے لیکن تنقید میں  اگر یہی تقلیدی رویہ عام ہو جائے تو ہمارے لیے قابلِ قبول ہو جاتا ہے۔ زبیر رضوی کے مجموعے ’’لہر لہر ندیا گہری‘‘ کے بعد کی شاعری کی بڑی پذیرائی ہوئی اور بجا طور پر ہوئی لیکن اگر اس مجموعے کے بعد کی شاعری میں  زبیر رضوی کے ذہنی رویئے میں  واضح تبدیلی نظر آتی ہے اور ایک نئے باطنی احساس کی تشکیل یا شعور کی پھیلتی ہوئی حدوں  کا احساس ہوتا ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں  تو یہ بڑا صحت مندانہ رویہ ہے لیکن اسی بنیاد پر ’’لہر لہر ندیا گہری‘‘ کی شاعری کے بارے میں  اگر کسی نے کچھ کہہ دیا تو سب اس شاعری کو مسترد کر دیں  اور کہیں  کہ اس میں  تو بس حسن و عشق کے موضوعات ہیں، یہ زبیر رضوی کے ساتھ سراسر زیادتی ہو گی۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں  ناصر کاظمی، شاذ تمکنت،  ابن انشا، عزیز حا مدمدنی اور ایسے کئی بہت اچھے شاعروں  کو بھی رد کرنا پڑے گا۔   لطف کی بات یہ کہ اسی مجموعے میں  زبیر رضوی کی کئی نظمیں  ایسی بھی ہیں  جن پر ہم یہ تہمت نہیں  لگا سکتے۔ پھر بھی اُنہیں  خاطر میں  نہیں  لاتے۔ ’’لہر لہر ندیا گہری‘‘ میں  شامل زبیر کی نظم ’’تبدیلی‘‘ کے یہ مصرعے دیکھئے :
صبح دم جب بھی دیکھا ہے میں  نے کہیں  
ننھے بچوں  کو اسکول جاتے ہوئے
رقص کرتے ہوئے گنگناتے ہوئے
اپنے بستوں  کو گردن میں  ڈالے ہوئے
انگلیاں  ایک کی ایک پکڑے ہوئے
صبح دم جب بھی دیکھا ہے میں  نے اُنہیں  
میرا جی چاہتا ہے کہ میں  دوڑ کر
ایک ننھے کی انگلی پکڑ کر کہوں  
مجھ کو بھی اپنے اسکول لیتے چلو
تاکہ یہ تشنۂ آرزو زندگی
پھر سے آغازِ شوقِ سفر کرسکے
                                      (نظم --     ’’تبدیلی‘‘)
موضوع کی حد بندیوں  سے قطع نظر اس مجموعے کی اور بھی کئی نظمیں  ہیں  جیسے ’’بیکراں‘‘، مُصالِحت‘‘، ’’نارسا‘‘ جو آج بھی زبیر کی بہترین نظموں  میں  اپنی شمولیت پر اصرار کرتی ہیں۔
زبیر رضوی سے میری دوسری ملاقات ۱۹۷۰ ء میں  ہوئی، تقریباً گیارہ سال بعد۔ میں  دفتر کی ایک ٹریننگ کے سلسلے میں  جئے  پور، کُلو، منالی ہوتے ہوئے براہِ دہلی، ٹرین سے حیدرآباد لوٹ رہا تھا۔ ٹرین روانہ ہوئی اور چند اسٹیشنوں  کے بعد ایک اسٹیشن پر میں  چائے پینے کے لیے نیچے اترا تو وہاں  زبیر رضوی کھڑے تھے، اُن کی منزل کوئی اور شہر تھا۔ اس غیر متوقع ملاقات سے بہت خوش ہوئے۔ بولے میرا نیا شعری مجموعہ آیا ہے۔ میرے ساتھ ہے اگلے اسٹیشن پر تمہیں  دوں  گا۔ یہ ان کا دوسرا مجموعہ ’’خشتِ دیوار‘‘ تھا۔ پھر ایک طویل عرصہ ہو گیا اور بس ابھی چند سال پہلے اُن سے اچانک اسی طرح مڈبھیڑ ہو گئی۔ جیسے ٹرین کے سفر کے دوران وہ ملے تھے۔ علی گڈھ کے ویمنس کالج کے Centenary Celebrations کے موقع پر کالج کی پرنسپل آمنہ کشور نے بڑے پیمانے پر ایک مشاعرہ منعقد کیا تھا۔ نہ جانے میرا نام اُنہیں  کس نے سجھایا، انہوں نے اس مشاعرے میں  مجھے بھی مدعو کر لیا۔ میں  زبیر کو دیکھ کر خوش اور زبیر مجھے دیکھ کر حیران تھے، یہاں  ایک ایسا سانحہ ہوا کہ جس روز مشاعرہ تھااسی روز دن میں  کالج کی ایک طالبہ نے خود کشی کر لی۔ شام کی چائے پر منتظمین نے ہمیں  Honararium دینے اور یہ اطلاع دینے کی خاطر بلایا کہ اب یہ مشاعرہ نہیں  ہوسکے گا۔ زبیر رضوی کا یہ اصرار کہ جب ہم مشاعرہ نہیں  پڑھ رہے ہیں تو معاوضہ بھی کیوں  قبول کریں، لیکن ایسی باتیں  کون سنتا ہے، ظاہر ہے ہم سب نے مخالفت کی اور منتظمین تو کسی طور نہیں  مانے، زبیر کی اصول پرستی دھری کی دھری رہ گئی۔ پھر رات کے کھانے کے بعد میں  اور زبیر گیسٹ ہاؤز کی دوسر ی منزل کی جانب جانے والی سیڑھیوں  پر رات دیر گئے تک بیٹھے رہے۔ زبیر اپنی اور شاذ کے عشق کی داستانیں  مجھے سناتے رہے۔ کیسے زبیر کی محبوبہ کے گھر والوں  نے اُس پر پابندیاں  عائد کر دی تھیں  اور جب زبیر اُسے دیکھنے کے لیے ترس ترس گئے تو شاذ نے یہ ترکیب نکالی کہ زبیر خط لکھیں  اور شاذ ڈاکیہ بن کر یہ خط پہنچانے اُس کے گھر جائیں  زبیر پاس ہی کونے میں  چھپے کھڑے رہیں  اور پھر جب وہ لڑکی دروازہ کھولے تو زبیر اسے دیکھ لیں  اُس سے مل لیں۔ لیکن دروازہ کسی اور نے کھولا۔ اُس کے باپ یا کسی بھائی نے۔ اور وہ ایک نوجوان کو جو حلیے بشرے سے ڈاکیہ لگتا ہی نہ تھا، دیکھ کر ذرا شک میں  پڑ گئے۔ پھر یہ دونوں  نوجوان، ڈاکیہ اور اس  کا ساتھی ایسے سرپٹ بھاگے کہ کوئی دیکھے۔ نہ جانے اس لڑکی کا کیا حشر ہوا۔
اُس باتوں  بھری رات سے ملاقات کے بعد زبیر سے ملاقاتوں  کا سلسلہ سا نکل آیا، غالب انسٹی ٹیوٹ کے ایک سمینار اور پھر مشاعرے میں  اُن سے ملاقات ہوئی۔ زبیر کئی بار حیدرآباد آئے۔ پریم چند پر نہایت بڑے پیمانے پر ایک سمینار منعقد کرنے حیدرآباد ہی میں …، پھر یہاں  مخدوم پر سمینار اور دو ایک بار مشاعرے میں  شرکت کے لیے۔ تو کبھی سید خالد قادری کے مہمان بن کر۔ میں  بھی وہیں  کہیں  آس پاس رہا۔
اس دوران زبیر رضوی کے کئی مجموعے آ چکے تھے۔ ’’خشت دیوار‘‘ کے بعد ’’دامن‘‘، ’’پرانی بات ہے‘‘،  ’’دھوپ کا سائبان‘‘، ’’انگلیاں  فگار اپنی‘‘ اور حال ہی میں  ان کی منتخب نظموں  پر مشتمل کتاب ’’سبزۂ ساحل‘‘۔ زبیر پہلے ہی خاصے مقبول تھے۔ لیکن اِدھر پچھلی دو تین دہائیوں  میں  ان کا ایک نیا امیج اُبھر رہا تھا۔ ایک اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ ایک ذہین، باخبر، دانشور کا۔ اُن کی تنقیدی تحریروں، خود نوشت، ۱۹۶۰ء اور ۱۹۸۰ء کی نظموں  کے انتخاب، اور اُن کے سہ ماہی رسالے ’’ذہنِ جدید‘‘ کے سبب جس میں  اردو کی عمدہ تخلیقات کے علاوہ دیگر ہندوستانی زبانوں  کے شہ پارے، آرٹ، تھیٹر، رقص، مصوری پر مشتمل خود ان کی تحریر یں  اور تراجم۔ اپنے قاری کے دل و دماغ کو ایک نئی بصیرت سے آشنا کر رہے تھے۔ یہ رسالہ اُنہوں  نے مخدوم اور سلیمان اریب کی یاد میں  جاری کیا تھا۔ یہ اُن منفرد شعراء اور حیدرآباد کی سر زمین سے زبیر رضوی کی محبت اور وابستگی کا ایک اور ثبوت تھا اگر واقعی ایسے کسی ثبوت کی ضرورت تھی۔
’’خشتِ دیوار‘‘ میں  شامل ’’مضطرب لمحوں  کا سفر‘‘ کے عنوان سے شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنے مضمون میں جو تحسین آمیز باتیں  لکھی ہیں  اُن سے ہر با ذوق قاری اتفاق کرے گا۔ اختلاف کی گنجائش وہیں  ہوسکتی ہے جہاں  اُنہوں  نے زبیر کی پچھلی شاعری پر رائے زنی کی ہے۔ فاروقی صاحب نے صحیح  لکھا ہے کہ ’’خشت دیوار تک آتے آتے اب زبیر مسائل سے خود کو ہم آہنگ یا identify نہیں  کرتے بلکہ implyکرتے ہیں  اور اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فن پارہ محدود اور منطقی نہ رہ کر غیر محدود اور وجدانی ہو جاتا ہے، انہوں  نے زندہ شعری پیکر خلق کیے ہیں‘‘۔ فاروقی نے زبیر کی نظموں  ’’پرایا احساس‘‘، ’’رقیب شوق‘‘ اور ایک نظم ’’شریف زادہ‘‘ جو بہت مقبول ہوئی اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ یہ نظم اس طرح شروع ہوتی ہے؎
سنو کل تمہیں ہم نے مدراس کیفے میں  
اوباش لوگوں  کے ہمراہ دیکھا
وہ سب لڑکیاں  بد چلن تھیں  جنہیں  تم
سلیقے سے کافی کے کپ دے رہے تھے
لیکن اس مجموعے میں  اور بھی نظمیں  ہیں  جیسے ’’خوشبو کی اسیری‘‘، ’’ملاقات‘‘ جو یوں  ختم ہوتی‘‘ ’’دل ستم پیشہ ہے  رازوں  کو اُگل دیتا ہے / رات معصوم ہے رازوں  کو چھپا لیتی ہے‘‘۔ غزلوں  کے کئی اشعار ہیں  جیسے ؎
زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں  تھی
اُن سے بچھڑی تو کوئی آنکھ میں  آنسو بھی نہیں  

وضع ارباب جنوں  کھینچ کے ملے ہے ہم سے
پھول ٹانکے ہیں  نئے ہم نے گریبانوں  میں  

ترے بدن کی دھنک سو گئی صلیبوں  پر
ہوس ہوئی ہے شناسائے رنگ و بو جب سے

پتھر کی قبا پہنے ملا جو بھی ملا ہے
ہر شخص یہاں  سوچ کے صحرا میں  کھڑا ہے

تم پاس جو ہوتے تو فضا اور ہی ہوتی
موسم مرے پہلو سے ابھی اُٹھ کے گیا ہے
یہ اور ایسے کئی اشعار ہیں  جن میں  زبیر کی تخلیقی انفرادیت ہمیں  متوجہ کرتی ہے۔ یہی بات ان کے مجموعے ’’دامن‘‘ کے بارے میں  کہی جا سکتی ہے جس میں کئی خوب صورت نظمیں ہیں  جیسے ’’دوپہر‘‘، ’’گورے کالے پتھر‘‘ وغیرہ۔
زبیر رضوی اپنے مجموعے ’’سبزۂ ساحل‘‘ میں  دیباچے کے طور پر اپنے تخلیقی سروکار کے بارے میں  لکھتے ہیں  ’’میری جدیدیت ایک Updated classicism تھی۔ میری شاعری میں  جو ۱۹۶۰ء کے بعد کی حسیت کی دین تھی، اس کو برتتے ہوئے میں  جدید بھی تھا، قدیم بھی…‘‘ پھر یہ جملے کہ ’’میں  نے اپنے پہلے مجموعے ’’لہر لہر ندیا گہری‘‘سے ’’سبزۂ ساحل‘‘تک خود کو دُہرانے یا اپنی ہی تقلید کرنے کا رویہ نہیں  اپنایا۔ اس کے بر خلاف خود کو رَد کرنے کا عمل برابر اپنائے رکھا۔ میرے خیال میں  خود کو رَد کرنے کا مطلب اپنی شاعری کو ایک نئی صورت دینے کے عمل سے گزرنا ہے‘‘۔ زبیر رضوی کے دَرون میں  قدیم و جدید کی یہ آمیزش اور خود کو رَد کرنے کی یہ خُو۔ ان عوامل نے اُنہیں  وہ حکائی لہجہ عطا کیا جس کے زیر اثر ’’پرانی بات ہے‘‘ کی سلسلہ وار نظمیں  ظہور میں  آئیں اور کہا گیا کہ ’’زبیر رضوی کے بارے میں  یک رخی اور تاثراتی تحریروں  کا سلسلہ یکایک اس وقت رُک سا گیا جب ان کی حکائی لہجے کی نظموں  کی اس سیریز کو پڑھ کر نظم کے پارکھوں  اور تفہیم سازوں  کا لہجہ اور رویہ ہی بدل گیا___‘‘ شمیم حنفی نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے بجا لکھا ہے کہ ان نظموں  میں  ’’آدمی سطح کے اوپر تیرتے ہوئے بار بار مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھتا ہے۔ کبھی گم شدہ اس کے لیے موجود کی مثال ہوتا ہے کبھی موجود غائب کی مثال ___، پرانی بات ہے کے سلسلے کی تمام نظمیں  اسی لیے مجھے اپنے ماضی و حال میں  ایک ساتھ پیوست دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ایک نیا اور نامانوس اسلوب تھا، تجدد پرستی کے پروردہ اُن تمام اسالیب کے مقابلے میں  جو اپنی تکرار کی بنا پر پرانے ہو چکے تھے‘‘۔ مجھے زبیر رضوی کی یہ نظمیں  پڑھتے ہوئے لگا کہ یہ نظمیں  کینٹو یا کانتو ہیں۔ جیسے بائرن کی ’’چائلڈ ہیرلڈ‘‘ یا ن۔ م۔ راشد کے دوسرے مجموعے ’’ایران میں  اجنبی‘‘ میں  شامل کینٹو۔ جنہیں  راشد ’’قطعے‘‘ کہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ راشد کے خیال میں  CANTO اطالوی زبان میں  اس طویل نظم کے حصوں  کو کہیں  گے جو مسلسل گائی یا ترنم سے پڑھی جا سکے اور جس میں  بہت سا متنوع مواد جمع کیا جا سکتے۔ راشد نے عراق اور ایران کے جنگ کے زمانے کی کشاکش کو بیان کرنے کے لیے پہلے ’’البرز کے دامن میں ‘‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھنا چاہا پھر سوچا کہ جو باتیں  ذہن میں  ہیں  اُن کے لیے نظمیہ اظہار زیادہ موزوں  رہے گا اور نظم ہی کو بہتر وسیلۂ اظہار جانا۔ برسبیل تذکرہ ایک بات کہوں، ایک بار شفیق فاطمہ شعریٰ سے گفتگو کے دوران راشد کے مجموعے ’’ایران میں  اجنبی‘‘ کا ذکر آیا تو ہنس کر کہنے لگیں  راشد ایران میں  اجنبی کب سے ہو گئے؟ وہ تو ایران میں  رہے ہیں  نہیں  انہوں  نے تو بس وہاں  کے ملٹری کیمپس دیکھے ہیں۔ ایران میں اجنبی تو دراصل رومی عطاّر اور ثنائی تھے جنہیں  صفوی سلاطین نے خود اپنے ہی ملک میں  اجنبی بنا دیا۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا اور یہ میری نہیں  شعریٰ کی رائے ہے، ہم اس رائے سے اتفاق کریں  یا نہ کریں  اس رائے کا اطلاق زبیر کی ’’پرانی بات ہے‘‘ والی نظموں  پر نہیں  کرسکتے : ان نظموں میں  اگر زبیر اپنے ہی ملک، اپنے شہر، اپنے گاؤں  میں  اجنبی نظر آتے ہیں  تو اس لیے کہ اُنہیں  اپنے ارد گرد حقائق کے چہرے مسخ نظر آتے ہیں، انسانی اقدار پامال نظر آتی ہیں۔ نا انصافی عام ہے، فحاشی، بے حیائی، عریانی اب خواب گاہوں  سے نکل کر کھلے عام، بازاروں، گلیوں، محفلوں  میں  دعوتِ  نظارہ دے رہی ہے۔ سچائیاں  کہانیاں  بن کر رہ گئی ہیں۔ زبیر رضوی ان سچائیوں  کا چہرہ دیکھنے کے لیے اپنے بزرگوں  کی تصویریں  البم سے نکالتے ہیں، تاریخ کے اوراق اُلٹتے ہیں  اور پھر تاریخ سے بھی آگے اُن وادیوں  کا سفر کرتے ہیں  جہاں  تخیل کی غیر معین حدیں  دائرہ بناتی ہوئی اُن کے وجود کا رشتہ، پھر اپنے عہد اور اپنی زمین سے جوڑ دیتی ہیں۔ ’’پرانی بات ہے‘‘ کی نظموں کا زمانی کینوس بہت وسیع ہے۔ یہ نظمیں  بہ یک وقت، تجسس، تلاش اور احتجاج کا سمبل ہیں۔ ’’علی بن متقی رویا‘‘، ’’کتوں  کو نوحہ‘‘، ’’بشارت پانی کی‘‘، ’’کبوتر باز جب روئے‘‘، بد چلن بزرگوں  کا قصہ‘‘ اس مجموعے کی نمائندہ نظمیں ہیں۔ زبیر رضوی کی طویل نظم ’’صادقہ‘‘ بھی اسی فکری رَو کا تسلسل ہے جس کے تحت ’’پرانی بات ہے‘‘ کی نظمیں  معرِضِ وُجود میں  آئیں۔ یہ نظم اسی فریب شکستگی کا نقطۂ عروج ہے۔ اپنے عہد کا ایسا نوحہ جو opposite poles کی طرح تمام تر تاریخ انسانی کے نوحے سے جڑنے کے لیے مضطرب ہے۔ انسانی جذبات، تاریخ کا جبر، ایٹم کی تباہ کاریاں، جسمانی ارتباط، روحانی انسلاکات، خیر و شر کے مظاہر، امید کے روشن سائے، اس نظم کو زمینی اور غیر معمولی زمانی امکانات سے متصل کرتے ہیں، آیئے دیکھیں  یہ نظم کس سے مخاطب ہے، کیا کہہ رہی ہے؎
صادقہ ! چاند بجھ گیا    
 رات اکیلی رہ گئی
ایک اندھیرا ہر طرف
ڈستا ہوا قدم قدم
خوف کے تیر چار سُو
چبھتے ہوئے بدن بدن
___
صادقہ ! عرصۂ حیات رنگ بہت بدل چکا
لوگ بہت بدل گئے، ملک بہت بدل گئے
اور محاذِ جنگ کے اسلحے سب بدل گئے
میرے تمہارے سارے خواب آنکھ میں  جم کے رہ گئے
ایک نئی زبان میں  ایک نئے نظام کی
ایک نئی کتھا لکھو
صبح کے انتظار میں  رات کا گریہ مت سنو
زبیر نہیں  چاہتے کہ رات کے اس گریہ کی آواز ’’صادقہ‘‘ یا ان کے قاری کے کانوں  تک پہنچے  یا وہ خود ہی یہ آوازیں  سنیں، لیکن اس گریہ کا شور ہم سب کی سماعت کا مقدر ہے۔ اب زبیر چاہتے ہیں  وہ سارے خواب جو اُن کی آنکھوں  میں  جم گئے ہیں، مردہ ہیں  پھر سے جی اُٹھیں۔ وہ کہتے ہیں ؎
آؤ کسی پہاڑ سے آدم خاک کے لیے
دستِ دعا اُٹھائیں  ہم
صوت و صدا کی مشعلیں
چار طرف جلائیں  ہم
زبیر رضوی کی شاعری صوت و صدا کی ان ہی مشعلوں  کو جلانے کا اہتمام ہے۔ زبیر خواب دیکھنا چاہتے ہیں  عشق کرنا چاہتے ہیں  اُن کی شاعری ہر ناانصافی کے خلاف احتجاج سے عبارت ہے۔ وہ ایک نئی صبح کا انتظار کر رہے ہیں  جس میں  ایک نئی زبان میں  ایک نئی کتھا لکھی جا سکے۔
’’پرانی بات ہے‘‘ کی نظموں، ’’صادقہ‘‘ اور ۲۰۰۵ء کے بعد کی کئی نظموں  کے ذریعے زبیر رضوی نے ہمیں  ایک نئے فکری اسلوب اور طرز احساس سے روشناس کیا ہے۔ لیکن خود کو مسلسل رَد کرنے کے عمل میں  اب دیکھنا یہ ہے کہ زبیر رضوی اگلے آنے والے برسوں  میں  اپنی شاعری کو کن نئی جہتوں  سے آشنا کریں گے اور اپنے قاری کو کن نئے جہانوں  کی سیر کرائیں  گے۔
_______
 (’’تحریر نَو‘‘        
’’متاعِ سخن‘‘)





راشد آزر کا ’’قرضِ جاں‘‘


راشدآزر کے نئے شعری مجموعے ’’قرضِ جاں‘‘ کا عنوان پڑھ کر اُن کے قاری کو یہ اندیشہ، یہ فکر لاحق ہو سکتی ہے کہ یہ ان آخری مجموعہ ہے۔ ان کے چاہنے والوں  کو اس بات کا دکھ ہو گا کہ اب ایسی اچھی شاعری مزید پڑھنے کو کہاں  ملے گی، وہیں  ان کے دشمن سکھ کی سانس لیں  گے کہ چلو نو(۹) شعری مجموعوں  پر تو یہ سلسلہ تھما۔ میرا خیال ہے کہ راشد آزر، ’’وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر (بلکہ قرض رکھتے ہیں )، ’’وہ حساب‘‘ ابھی انہوں  نے پورا نہیں  چکایا۔ یہ تو ’’قرضِ جاں‘‘ کی محض ایک قسط ہے۔ جیسے ان کے پہلے شعری مجموعہ ’’نقشِ آزر‘‘ سے لے کر ’’اندوختہ‘‘ تک سب اسی ’’قرض جاں‘‘ کی قسطیں  ہیں۔
سفید سرورق پر حسین کی بنائی ہوئی مصنف کی تصویر اور اندر سفید کاغذ پر خود مصنف کے ہاتھوں  کتابت سے آراستہ اس مجموعے کا ظاہری حسن، سادہ لباس میں  مصنف کی دلکش شخصیت کی طرح ہمیں  اپنی اولین نگاہ ہی میں  متوجہ کرتا ہے۔ لگتا ہے ایم۔ ایف حسین کی صحبت میں  رہتے ہوئے راشد آزر نے کچھ رنگ اُن سے چرا لیے ہوں  جو سات رنگوں  کی بہار دکھاتے ہوئے آپ ہی سفید رنگ کی اکائی میں  ڈھل گئے۔
اس سفید رنگ کی تہذیب میں  ایک مرکزیت کا احساس ہوتا ہے۔ جو عشق کی دین ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ ان کی اکثر نظموں  میں  ہمیں  بار بار ایک ہی شخص ملتا ہے۔ ’’یاں  ہے جلّاد و مسیحا بخدا ایک ہی شخص‘‘۔ ان کی ایک نظم ہے ’’سلسلہ روز وشب‘‘جس میں  گزرے ہوئے لمحے عجیب نیرنگیاں  دکھاتے ہیں۔ حال ماضی کے آئینے کی کرچیوں  میں  اپنے عکس دکھاتا ہے۔ ایک چہرہ کئی چہروں  میں  بٹ جاتا ہے۔ وہ اپنی یادوں  کو ایسے دیکھتے ہیں  جیسے اپنے مختلف الاجزاء کٹے پھٹے چہرے کو کسی   Jigsaw puzzle کی طرح جوڑنے میں  مصروف ہوں۔ ان کی نظم ’کل‘ میں  گزرا ہوا ’کل‘ ایک ایسا ستارہ ہے جس کی روشنی ہزار صدیوں  کے بعد ہم تک پہنچے گی۔ یوں  وہ ماضی حال اور مستقبل کو تسلسل کی ایک ڈور میں  بندھا ہوا دیکھنے کی تمنا کرتے ہیں۔
اپنی ایک نظم ’’کھنڈر‘‘ میں  راشد آزر کو اپنے ماضی کے در و دیوار اس قدر شکستہ، اپنے رفیقوں  کے چہرے اور خود اپنا چہرہ اس قدر اجنبی اور اپنی عادتیں  اتنی بدلی ہوئی نظر آتی ہیں  تو انہیں  خوف آتا ہے کہ گزرے ہوئے زمانے اگر لوٹ بھی آئیں  تو کیا وہ اپنے چاہنے والوں  کے ساتھ یا ان کے چاہنے والے ان کے ساتھ پہلے کی طرح اس کھنڈر میں  رہ سکیں  گے۔ بدلا ہوا وقت، بدلتی قدریں  اور ماضی کی روایات کے ٹوٹنے کا غم ان کی نظموں  کے مستقل موضوعات ہیں۔ نظم کھنڈر کے یہ مصرعے دیکھیے؎
اگر کسی وقت
ایک مدت کے بعد ہم
ان سے پھر ملیں
جن کو اک زمانے میں
چاہتے تھے
تو کیا وہ ماضی کے
اس کھنڈر میں  
ہمارے ساتھ آکے رہ سکیں  گے
               (نظم۔ ’’کھنڈر‘‘)
راشد آزر نے جاگیردارانہ ماحول میں  آنکھیں  کھولیں۔ محلوں  میں  رہ کر جھونپڑیوں  کے خواب دیکھے۔ اس طرح ان کی شخصیت میں  جو رومانیت آ گئی وہ آج کے صنعتی اور مادی طرزِ حیات سے میل نہیں  کھاتی۔ اس تضاد نے اُن کے اندر اپنے ماحول سے ایک طرح کی اجنبیت (alienation) اور دوری کا احساس پیدا کر دیا۔ اپنی ایک نظم میں  وہ اُس شخص (جو ان کی نظموں  میں  بار بار آیا ہے، وہ اس(سے کہتے ہیں، میں  شاید بہت بولنے لگا ہوں۔ یہ دنیا، یہ ماحول میرے مزاج سے مطابقت نہیں  رکھتے۔ کہیں  میں  کچھ ایسی باتیں  نہ کہہ جاؤں  جو سچی ہوں  اور کڑوی ہوں۔ دیکھو اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ؎
مرے منہ کھولتے ہی تم
مجھے چُپ شاہ کے روزے کی چپکے سے قسم دے کر
زباں  کا بت
مرے ہونٹوں  کی محرابوں  میں  رکھ دو
مجھے خاموش کر دو
                       (نظم۔ ’’ مجھے خاموش کر دو‘‘)
کبھی انہیں  ایسا لگتا ہے جیسے وہ ایک بے وجود سا پیکر ہوں  جو کسی revolving chain پر بٹھا دیا گیا ہو اور مسلسل گھومنے پر مجبور ہو، اسی طرح جیسے زمین بے مقصد سورج کے اطراف گھوم رہی ہے۔ اس نوع کے احساسات جدید شاعری میں  عام ہیں، لیکن راشد صرف جدید طرزِاحساس کے شاعر ہی نہیں  بلکہ اولاً ترقی پسند ہیں۔ ان دو مختلف النوع روئیوں  کی یکجائی کا فائدہ اُنہیں  یوں  ہوا کہ وہ آج کی اقدار اور بدلے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باوجود outsider نہیں  رہے بلکہ وہ چونکہ ذرا دور سے سارا منظر دیکھتے ہیں  اس لیے ان کی نگاہ کا دائرہ اور وسیع ہو گیا ہے۔ اپنی ایک نظم ’’مداوا‘‘ میں  جو ایک کہانی کی طرح ہے، اس نظم میں، اس نظم کا ’’میں‘‘ ایک رات چپکے سے اٹھ کر اپنے اور اپنے جیسے انسانوں  کے سارے زخموں  کو ایک چادر میں  سمیٹ لیتا ہے کہ انہیں  جا کر کسی دریا میں  پھینک آئے۔ لیکن اس چادر میں  ہزاروں  چھید ہیں۔ اب سارے لوگوں  کے غم ایک دوسرے میں  گڈ مڈ ہو کر سڑکوں  اور گلیوں  میں  بکھر گئے ہیں۔ وہ تمام لوگوں  کو آواز  دیتا ہے اور کہتا ہے:
جس کے غم کو جو پہچانے
آگے بڑھ کر اُسے اٹھا لے
یا اس چادر کئے بخیوں  کی سلوائی میں  
آ کر میرا ہاتھ بٹائے
                       (نظم۔ ’’مداوا‘‘)
راشد آزر سوچتے ہیں  کہ مادی اور اخلاقی پستی، ظلم و استبداد کے اندھیروں، انسانی ہوس اور معکوس ترقی جس نے شہری زندگی کو کمیون(Commune) اور گھروں  کو ڈربوں  میں  تبدیل کر دیا ہے، ان سب سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔ اپنی نظم ’’اجنبی‘‘ میں  انہیں  وہ اجنبی مل جاتا ہے جس کے ساتھ زندانِ حوادث میں  انہوں  نے موت کا کھیل کھیلا تھا، اس کا ہاتھ تھاما تھا اور وہ دونوں  ایک ہو گئے تھے۔
راشد آزر کی عشقیہ شاعری میں  ہمیں  دو رنگ نظر آتے ہیں۔ ایک عشق وہ ہے جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر کی ہے، اُن کے وجود کو مرکزیت عطا کی ہے۔ اس عشق کا سایہ، ایک اضطراب، ایک بے قرار کیفیت کی طرح رات دن ہر وقت اُن کے ساتھ رہتا ہے۔ رات کو ان کی آنکھوں  پر ہاتھ رکھتا ہے تو وہ سوجاتے ہیں۔ صبح ان کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اٹھتے ہیں، چائے پیتے ہیں  شیو کرتے ہیں  اور دن کی مصروفیات میں  کھو جاتے ہیں۔ یہ عشق ان کی زندگی کے معمولات کا حصہ بن گیا ہے۔ اس عشق کی مہک ہر جگہ اُن کے ساتھ رہتی ہے۔ ملروز پارک، لندن، حیدرآباد ہر جگہ۔ اِس پردۂ زنگاری میں  کوئی اُن سے کہتا ہے اس کتاب کی کتابت خود کرو، ٹائٹل سفید ہو، اس پر اپنا اسکیچ حسین سے بنواؤ۔ دیکھو تمہاری کتاب میری طرح خوبصورت ہونی چاہیے۔ تو کہنا یہ ہے کہ یہ معشوق جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے، یہ عشق جو اُن کے احساسِ حسن میں  ڈھل گیا ہے، ان کئے مزاج میں  سرایت کر گیا ہے، اُن کے ہر عمل میں  اس کا دخل ہے، یہ ان کا ماضی ہے اور حال بھی، اور ان کے ہر آنے والے لمحے سے اپنی رفاقت کی تجدید کرتا ہے؎
پس دیوارِ تنہائی، کوئی آواز آتی ہے
کہ جیسے اپنی برسوں  کی رفاقت کی
کوئی تجدید کرتا ہو
تو آنکھیں  پھر کسی کا مہربان، مانوس، کومل
چاند چہرہ دیکھنے کو ہر دریچے سے
مسلسل جھانکنے لگتی ہیں  جیسے
وہ یہیں  ہے۔ بس یہیں
اس بند دروازے کے باہر
بے قراری سے
ادھوری ایک دستک
اپنے ہاتھوں  میں  لیے
دہلیز پر شاید
کسی آواز پاکی منتظر ہو گی
__
یہی تو اک یقین و بے یقینی کی کہانی ہے
                       (نظم۔ ’’بے قراری‘‘)
لیکن ان کے عشق کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ یہاں  اُن کے عشق کی فطرت مکانی اور لمحاتی ہے۔ یہ عشق زمینی ہے۔ اس کے پردے کے پیچھے ماضی کی پرچھائیاں  نہیں۔ حال کا جیتا جاگتا سانس لیتا جسم ہے، جس کے لطف کی بارش شاعر کو کبھی سیراب کرتی ہے تو کبھی وہ ہجر کے عالم میں  بستر پر کروٹیں  بدلتا ہے۔ عشق کے ان دونوں  مظاہر کے حسّی اور بصری پیکر ہمیں  راشد کی شاعری میں  جا بجا ملتے ہیں ؎
ناگہاں  ایک ملاقات کی کھلتی کلیاں
بے محابا ترے اندازِ عطائے دل و جاں
والہانہ ترا اظہارِ غمِ مجبوری
بے تحاشا تری سوغاتِ لب و گرمیِ لمس
میں  نے سوچا ہے تو، تُو نے یہی سوچا ہو گا
پا کے کھوتے تو نہ پانے سے تو اچھا ہوتا
                       (نظم۔ ’’ایک ملاقات‘‘)
اس سلسلے کی ایک خوبصورت نظم ’’انکشاف‘‘ ہے۔ کسی محفل میں  شاعر کی ملاقات اپنی محبوبہ سے ہوتی ہے دونوں  خیالوں  ہی خیالوں  میں  بے باکانہ اظہار محبت کرتے ہیں  اور جب اچانک خیال حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو دونوں  چونک پڑتے ہیں، لیکن ان کا رد عمل مختلف ہے۔ دیکھیے یہ مصرعے کتنے خوبصورت ہیں  اور ایک مشرقی ماحول میں  پلی بڑھی صنفِ نازک کی نفسیات کی کس طرح عکاسی کرتے ہیں ؎
بس اسی کا اس کو ملال تھا
کہ وہ خواب تھا نہ خیال تھا،
میں  سمجھ رہا تھا کہ خوش ہے وہ
مگر اس کو دیکھ کے یوں  لگا
کہ یہ سوچنا مری بھول تھی
مجھے دیکھ کر وہ ملول تھی
               (نظم۔ ’’انکشاف‘‘)
راشد آزر کی نظم ’’تم اپنی آنکھوں  کو بند کر لو‘‘ پڑھتے ہوئے ہمیں  بے اختیار سردار جعفری کی نظم ’’تمہاری آنکھیں‘‘ یاد آتی ہے۔ اس نہایت خوبصورت نظم کے چند مصرعے دیکھیں ؎
تمہاری آنکھیں  
حسین شفاف، مسکراتی، جوان آنکھیں
لرزتی پلکوں  کی چلمنوں  سے
شہابی چہرے پہ ابروؤں  کی کماں  کے نیچے …
تمہاری آنکھیں  
اندھیری راتوں  میں جو ستاروں  کی روشنی سے
فضائے زنداں  میں  جھانکتی ہیں
میں  لکھ رہا ہوں
تمہاری آنکھیں  سفید کاغذ پہ اپنی پلکوں  سے چل رہی ہیں
میں  پڑھ رہا ہوں
تمہاری آنکھیں  ہر اک سطر کی بھوؤں  کے نیچے لرز رہی ہیں
میں  سو رہا ہوں
تمہاری آنکھیں، تمہاری پلکیں  کہانیاں  سی سُنا رہی ہیں  
                              (سردار جعفری۔ ’’تمہاری آنکھیں‘‘)
اب دیکھیے راشد آزر کیا کہتے ہیں ؎
تمہاری آنکھیں  
جو میری آنکھوں  میں  بس گئی ہیں
وہ صبح سے شام تک مرے ساتھ گھومتی ہیں
وہ رات بھر
مری نیند سے چُور
بند آنکھوں  میں  جاگتی ہیں
میں  صبح آئینہ دیکھتا ہوں
تو میری آنکھوں  سے جھانکتی ہیں  
مجھے ہر اک بات پر
کچھ اس طرح ٹوکتی ہیں
کہ جیسے میں  ایک طفلِ ناداں  ہوں
جانتا ہی نہیں
زمانے کے طور کیا ہیں
تم اپنی آنکھوں  کو بند کر لو
کہ اب مجھے
زندگی کے کچھ فیصلے، مری جاں
خود اپنی مرضی سے کرنے ہوں  گے
                       (نظم۔ ’’تم اپنی آنکھوں  کو بند کر لو‘‘)
ان دونوں  نظموں  کے کسی تقابل مطالعے کے بغیر، ہم ان کی توصیف میں  کئی صفحے سیاہ کرسکتے ہیں۔ میرے خیال میں  بیش تر جنیوئن ترقی پسند شاعروں  کی طرح راشد آزر بھی بنیادی طور پر داخلی واردات کے شاعر ہیں۔ اُن کے مزاج کی رومانیت نے اُنہیں  ترقی پسندی سے جوڑ دیا اور وہ اسی در کے ہو رہے۔ حیدرآباد کے ادبی اسٹیج پر جو چند شخصیتیں،  جن سے ترقی پسندی کا اعتبار ابھی تک قائم ہے، اُن میں  راشد آزر کی شخصیت نمایاں  ہے۔ انہوں نے ترقی پسندی کو نوجوانی کے زمانے میں  بھی کسی فیشن یا ایک مقبول رویئے کے طور پر قبول نہیں  کیا بلکہ اسے مذہب کے طور پر برتا۔ جو خواب دیکھا اس میں  زندگی بھی گزاری اس لیے وہ کہہ سکے؎
آپ کہیے غم دوراں، غم جاناں، غم ذات
کون سا رنگ نمایاں  ہے ہمارے فن میں
حسن و عشق کے معاملات اور اپنے عہد کے ماحول اور معاشرے کی تصویر کشی کے علاوہ راشد نے اور بھی کئی موضوعات پر فکر انگیز نظمیں  لکھی ہیں۔ اُن کی نظم ’’قیامت‘‘ جو اسلامی عقائد کے عین مطابق لگتی ہے۔ کہیں  ایک فلسفیانہ رَو جب وہ ’خبر‘ کی بے مائیگی پہ خنداں  نظر آتے ہیں۔ ’’گماں  کی سرحدوں  سے آگے‘‘، ’’افق‘‘، ’’جنون‘‘، فنا کا سودا‘‘ اور ایسی کئی اور نظمیں  ہیں  جو علاحدہ علاحدہ مضامین کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان کی نظمیں  اپنی داخلی واردات ہی نہیں  بلکہ ظلم، ناانصافی، انسانی بربریت، سماجی تفریق جیسے موضوعات سے لے کر عراق اور گجرات کے پیش منظر کو اجالتی ہوئی، اپنے باہر کی دنیا سے نہ صرف ان کی باخبری بلکہ گہری جذباتی فکر مندی کی مظہر ہیں۔
ان کی غزلوں میں  بھی ان کے درون کے جزر و مد اور خارجی حقائق کے عکس ایک خوبصورت پیرایہ اظہار میں  اپنی چھب دکھاتے ہیں۔ غزلوں  میں  زبان و بیان اور عروض پر ان کی قدرت اور کھل کر سامنے آتی ہے، اور ان کی جمالیاتی حس قاری کے قلب و ذہن کو ایک نئے فرحت بخش احساس سے روشناس کرتی ہے۔ یہ شعر دیکھیے؎
مجھے کہاں  ڈھونڈتے ہو لوگو
میں  اس کی چشمِ پُر آب میں  ہوں

عجیب طرح کی ہے شانِ دل بری آزرؔ
کہ مجھ سے خوش بھی رہا اور مجھے خفا بھی کیا

رہنا والا ہی جب نہ ہو آزرؔ
فائدہ کیا ہے گھر سجانے کا

عجیب کیفیتِ بے دلی ہے دونوں  طرف
کہ مل کے سوچ رہے ہیں  جدا ہوئے ہوتے

رات کٹی جاگتی، صبح ہوئی سوگیا
ایسے مسافر کا کام سمجھو کہ بس ہو گیا

وقتِ سحر، یاد یار اور بھی تڑپا گئی
ہم کو لگا جیسے آج واقعی کچھ کھو گیا

شعلوں  کو ہوا دیتی ہے سینے میں  کوئی چیز
جلتا ہے وجود اپنی ہی  آزر نفسی سے

اجازت دے خدایا اس کے سجدے کی
یہ بت آزرؔ نے برسوں  میں   تراشا ہے
راشد آزر کی شاعری کا خمیر عشق سے اٹھا ہے۔ وہ ان کی نظم ہو یا غزل، عشق ان کے حق میں  کششِ تقل کا کام کرتاہے اور یوں  وہ اپنے اندر باہر کی دنیا کی سیر کریں، زمین کے مرکز کو explore کریں  یا آسمان میں  اڑان بھریں،  ان کے پاؤں  اپنی مٹی سے جڑے رہتے ہیں۔ انہیں  پرانی یادوں، بیتے ہوئے موسموں،  ادھورے خوابوں  اور ماضی کے کھنڈروں  سے عشق ہے۔ اس لیے ان سب سے دوری کے سبب ان کی شاعری میں  یقین، امید اور رجائیت کی لہروں  کی تہہ میں  ایک محرومی کی لہر ایک  Streak of sadness نظر آتی ہے جو فلسفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے۔ وہ چاہتے ہیں  کہ آج بھی مذہبی، تہذیبی اور سیاسی جبر سے برسر پیکار ہونے کے لیے کُل بنی نوع انسان ایک ہو جائے اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں  تو اپنے سارے خواب، اپنے غم کی امانتیں  آنے والی نسل کو سونپ دیں  کیوں  کہ اُنہیں  یقین ہے کہ اس ’’قرضِ جاں‘‘ کی آخری قسط کا حساب آنے والی نسل ضرور چکا دے گی۔
___________
 (’’سب رس‘‘ حیدرآباد)




علی باقر کی افسانہ نگاری


 میں  نے آج سے پہلے علی باقر کو کم کم پڑھا تھا۔ میں ممنون ہوں  مجتبیٰ حسین صاحب کا اور محترمہ نسیمہ تراب الحسن کا کہ مجھے علی باقر کے افسانوں  کے قدرے تفصیلی مطالعے کا موقع حاصل ہوسکا۔ شخصی طور پر میں  علی باقر سے صرف ایک بار ہی مل سکا ہوں، ادارۂ ادبیات اردو کی ایک محفل میں  اِسی ہال جو علی باقر میں  اور غالباً حمید سہروردی کے اعزاز میں  منعقد ہوئی تھی۔ اس میں  علی باقر نے اپنا ایک افسانہ بھی سنایا تھا جسے سن کر جن لوگوں  نے بے اختیار داد دی تھی اُن میں  میں  بھی شامل تھا۔ اب اُن کی کتابیں، ان کی کئی کہانیاں  ایک تسلسل میں  پڑھیں  اور مختلف مقامات پر انہوں  نے اپنے بارے میں  جو باتیں  لکھی ہیں، اپنی بیماری کے ایام کی باتیں۔ اُن کی بھانجی قرۃ العین حسن ( عینی ) کا مضمون اور عینی کے نام ان کے خطوط اور ان سب کی وساطت سے ان کا گھریلو ماحول ڈائننگ ٹیبل پر اُن کے افراد خاندان کی آپس میں  باتیں، تصویریں، تو ایسا لگا کہ برسوں  میرا اُن کا ساتھ رہا ہے اور میں  بھی اسی خاندان کا فرد ہوں۔ گھر میں  گھر کے باہر، کھانے کی میز پر اسپتال کے وارڈ میں  جو باتیں  ہو رہی ہیں  اُن میں  شامل ہوں۔ علی باقر یا شہیر حسن ( اُن کی کہانی ’’مٹھی بھر دل‘‘ کے کردار) شِرلی تھامس اور موہنی کے ساتھ اُسی اسپتال میں  موجود ہوں۔۔۔ اور یہ شرلی اس وقت کہاں  چلی گئی۔ دیکھو سبھاش جین کا سینہ کتنی زور سے دھڑک رہا ہے۔۔۔
مارچ ۱۹۹۲ ء میں  اسپتال میں  عینی کے نام اپنی شدید علالت کے دوران انہوں  نے جو خطوط لکھے جب کہ انہیں  تین ہارٹ اٹیک ہو چکے تھے اور خود، بقول اُن کے ’’زخم ہے کہ بند ہونے کو تیار نہیں، کسی بد نصیب فقیر کے کاسے کی طرح بھرتا ہی نہیں‘‘ اور یہ کہ ’’اسپتال کی بے توجہی کے سبب مجھے ایک ایسا انفیکشن لگ گیا ہے، جو ہڈیوں  میں  جا بیٹھا ہے اور بے وفا معشوق کی یاد کی طرح ڈھیٹ بن گیا ہے۔۔۔‘‘ تو عینی کے نام علی باقر کے خطوط پڑھتے ہوئے میں  نے سوچا نہ جانے اُس وقت علی باقر کے ذہن میں  کیا کیا باتیں  ہوں  گی۔ مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا جو قدرت اللہ شہاب نے اپنی خود نوشت ’’شہاب نامہ‘‘ میں  لکھا ہے کہ جب  ابن انشا بستر مرگ پر تھے اور قدرت اللہ شہاب اُن کی عیادت کے لیے اسپتال گئے تو دونوں  رات بھر باتیں  کرتے رہے۔  ابن انشا نے شہاب سے پوچھا کہ بتاؤ اگر تمہیں  پھر دوبارہ زندگی گزارنے کا موقع ملے تو تم کیا کرو گے ؟ شہاب نے کہا میں  اپنی زندگی سے مطمئن ہوں  اور میں  نے پیدائش سے آج تک جیسے عمر بسر کی ہے دوبارہ اسی طرح بسر کرنا چاہوں  گا۔ پھر ابن انشا انہیں  اپنی زندگی کی روداد سناتے رہے کہ نہیں  اگر مجھے پھر زندگی گزارنے کا موقع ملے تو میں  یوں  کروں  گا، یہ نہیں  کروں  گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ایک تخلیقی فن کار معاشرے کے جبر، تقدیر کے جبر، فرد اور معاشرے کی جو جنگ ہے، حقیقت اور خواب کے درمیان جو فاصلے ہیں  اُنہیں  پاٹنے میں  اس طرح سرگرداں  رہتا ہے کہ اس کی بے  چین روح اُسے مطمئن زندگی کے بہت کم لمحات عطا کر پاتی ہے، بہ صورت دیگر یہ ساری شاعری، افسانہ نگاری، آخر اس سب کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس تناظر میں  جب میں  نے عینی کے نام علی باقر کے خط ( ۲۳ / مارچ) میں  یہ جملہ پڑھا کہ ’’اگر پھر سے زندگی گزارنے کا موقع ملے تو شاید میری آج کی اور اگلی زندگی میں  زیادہ فرق نہ ہو گا۔۔۔ اپنے طور پر میں  اپنی زندگی کو بے کار فضول اور بے سود نہیں  مانتا۔ اور اس وجہ سے مجھے نہ کوئی غم ہے نہ تاسف۔۔۔‘‘ یہاں  تک پڑھ کر میں  رُک گیا۔ مجھے دھکا سا لگا۔ علی باقر کی کئی کہانیاں  پڑھ کر میں  اُنہیں  ابن انشا کے قبیلے کا ایک فرد سمجھا تھا لیکن یہ شخص تو قدرت اللہ شہاب کی طرح ایک بڑا سرکاری افسر نکلا۔ پھر اُن کی پوری شخصیت میرے سامنے آئی جب میں  نے آگے کی سطریں  پڑھیں، جہاں  اُنہوں  نے لکھا ہے کہ : ’’انہیں  خوشی ہے اُن کی زندگی بے فیض نہیں  رہی اور یہ کہ اگر وہ کسی ڈسٹرکٹ کے کلکٹر ہوتے، کسی کورٹ کے جج ہوتے تو ایک شان یا دبدبہ تو ہوتا مگر زندگی گویا ایک طرح ضائع ہو جاتی‘‘۔ علی باقر نے ادب کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جس طرح سوشل ورک، بیماروں، غریبوں  اور اپاہجوں  کی مدد میں  گزارا ہے، اس نے ایک جینوئن ادیب کی زندگی میں  اس کی بے قرار روح جو خلا از خود پیدا کر دیتی ہے، اُسے پُر کر دیا، اور وہ یہ کہنے کے قابل ہو گئے کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ مجھے یوں  لگا کہ جیسے بستر مرگ پر ابنِ انشا نہ ہوں  بلکہ قدرت اللہ شہاب لیٹے ہوں  اور ابنِ انشا، علی باقر کے جسدِ خاکی میں  اپنی خواہش کے مطابق دوبارہ زندگی پا کر پھر اپنی مٹی کی طرف لوٹ آئے ہوں۔
علی باقر نے اپنا پہلا افسانہ ۲۸ برس کی عمر میں  لکھا، اُس کے بعد وہ مسلسل لکھتے رہے۔ اُن کے تقریباً سارے افسانے ایک جلاوطنی کے ماحول میں  لکھے گئے ہیں۔ لندن یا دوسرے مغربی ملکوں  کے شہروں۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کا بنیادی تجربہ ہجرت کا ہے۔ لیکن اُن سے پہلے اور اُن کے بعد لکھنے والوں  کی طرح وہ ایک بھنور میں  قید ہو کر نہیں  رہ گئے جیسا کہ محمدؐ حسن عسکری نے ایک نامور افسانہ نگار کے بارے میں  لکھا تھا کہ اُن کے سبھی افسانوں  کی فضاء، کردار، مکالمے بالکل ایک جیسے ہیں  اور یہ کہ پلاٹ تو خیر اُن کے افسانوں  میں  ہوتا ہی نہیں۔ یہ الزام ہم علی باقر پر عائد نہیں  کرسکتے۔ ترقی پسند عہد میں  وہ کہانی پن جس سے کبھی اردو افسانہ کی فضا منور اور معطر تھی آج جب پھر لوٹ آیا ہے تو ہمیں  علی باقر اور بھی relevant لگنے لگے ہیں۔ بدلتی ہوئی فیشن کے زیر اثر ہمیں  اُن کے ادبی رویئے میں  کوئی تبدیلی محسوس نہیں  ہوتی۔ یہ ان کے صاحب نظر ہونے کی دلیل ہے۔
 وہ ایک ترقی پسند ذہن کے مالک تھے لیکن انہوں  نے اپنی فطرت کی حدود کو پار نہیں  کیا۔ سجادظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر کے داماد اور ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود وہ کسی تقلیدی روش پر گامزن نہیں  ہوئے، انہوں  نے جو دیکھا، جن تجربوں  سے گزرے، وہی لکھا۔ ایک خوشحال مشرقی گھرانے سے ایک مغربی صنعتی معاشرے میں  اچانک آ جانے سے منظر کس طرح بدلتا ہے اس کی عکاسی ہمیں  اُن کی کہانیوں  میں  ملتی ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مغربی ممالک کا سفر یا وہاں  عمر کا ایک بڑا حصہ گزارنا نہ فیشن بنا تھا نہ روزگار کے حصول کی مجبوری۔ اس لیے جب اُن کے افسانے ’’شمع‘‘ اور بیسویں  صدی‘‘ جیسے مقبول جرائد میں  شائع  ہوئے تو علی باقر ( لندن) کی کہانیوں  کا لوگ انتظار کرنے لگے۔ عصمت چغتائی لکھتی ہیں :’’میں  عرصے سے انتظار کر رہی تھی کہ اردو افسانے کے بند ماحول میں  ایک روزن کھُلے سو یہ روزن علی باقر کے روپ میں  کھُل چکا ہے‘‘۔ مجتبیٰ حسین کا خیال ہے کہ ’’علی باقر کی کہانیاں  خالص کہانیاں  ہیں َ یہی وجہ ہے کہ سیدھے دل میں  اُتر جاتی ہیں  اور خوشبو بن کر ساری ذات میں  مہکنے لگتی ہیں‘‘۔
علی باقر کی کہانیوں  کا بنیادی موضوع عشق ہے لیکن یہ کوئی روایتی یا اکتسابی عشق نہیں۔ اقبال کے الفاظ میں  ’’عشق کی ابتداء عجب عشق کی انتہا عجب‘‘۔ یہ وہ عشق ہے جو انہیں  گاہ بہ حیلہ اور گاہ بہ زور کبھی انگلستان، کبھی جرمنی اور کبھی دہلی واپس لے آتا ہے۔ یہ عشق بظاہر مادی اور جسمانی ہے، اکثر کہانیوں  میں  یہ ایک ہندوستانی مرد اور یورپین عورت کی جذباتی وابستگی کی صورت میں  نمودار ہوتا ہے۔ لیکن اس عشق کے کئی پہلو ہیں  اور سب سے بھر پور پہلو زندگی سے عشق کا وہ تصور ہے جو ہر کہانی میں  لفظوں  کی سطح پر تیرتا ہوا یا بین السطور ایک زیریں  لہر کی طرح متحرک ہے۔ زندگی سے یہ عشق انہیں  مذہبی بنیاد پرستی، نسلی تعصبات، جنگ، دہشت گردی اور ہر قسم کے استحصال کے خلاف اُکساتا ہے۔ کہانی ’’پرچھائیاں‘‘ پڑھیئے اس میں  ہٹلر کے نازی کیمپ کا ذکر ملتا ہے۔ دیکھئے ایک رومانی تجربہ جب انسانی درندگی کے تلخ حقائق سے ٹکراتا ہے تو ایک ہمہ گیر اُداسی کیسے انسانی وجود کو محیط کر لیتی ہے۔ اسی طرح کہانی ’’بے نام رشتے‘‘ میں  عشقیہ جذبات سے بھر پور ایک کہانی،   اسّی کی دہائی میں  کینیڈا سے پرواز کرنے والے ہوائی جہاز کے دہشت گرد حادثے سے کس طرح جُڑ جاتی ہے بلکہ metamarphose ہو جاتی ہے۔ ان کا عشق محض جسمانی نہیں  ماورائے جسم بھی ہے۔ یہ اُنہیں  زندگی کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، انسانی قدروں  کا احترام سکھاتا ہے۔ اُنہیں  اپنی عقل، اپنے احساس اپنے وجدان سے فیض حاصل کرنے پر اُکساتا ہے۔ اس لیے اُن کی ترقی پسندی کسی گروہ سے وابستگی کی صورت  میں  نہیں  ڈھل سکی، نعرہ نہ بن سکی۔
اُن کے فن کا ایک اور نمایاں  وصف اُن کی مذہبیت ہے۔ یہ مذہبیت بھی کئی پردوں  میں چھُپی ہوئی ایسی مذہبیت ہے جو  چلمن سے لگی بیٹھی ہے۔ اور اس وقت اپنا چہرہ دکھاتی ہے جب شدید بیماری، شدید درد کے عالم میں  اُن کی بہن نسیمہ تراب الحسن نمازوں  کے بعد ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں  پڑھتیں، حصار باندھتیں، ایک چھوٹی سی شیشی میں  سے نامعلوم سا عطر نکال کر اُن کے نتھنوں  کے پاس لگا دیتیں  تو اُنہیں  سکون محسوس ہوتا، یا اُنہیں  نانی بی بی کی سکھائی ہوئی دعائیں  یاد آتیں  ’’حَسْبِی رَبّیْ کُلِّ نُورٌ؛ یا محمدؐ رسول‘‘۔ مذہب سے یہ شغف اُنہیں  مذہبی رواداری سکھاتا ہے اور وہ کہتے ہیں  ’’مجھے ہر طرح کی عبادت اچھی لگتی ہے۔ مجالس میں  پڑھے جانے والے نوحے، مسجدوں  میں  بلند ہونے والی اذان، گرجا گھروں  سے آتی ہوئی پُر شکوہ موسیقی، گاؤں  کے چوپال میں  پڑھی جانے والی کتھائیں، خانقاہوں  میں  زندگی گزارنے والے پادریوں  کی گنگناہٹ، دریا کنارے شام کے وقت مندروں  میں  بجنے والی گھنٹیاں۔۔۔‘‘اگر ایسی مذہبیت ہم سب میں  ہوتی تو آج ہمارے ملک بلکہ دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔     
علی باقر کی ایک اور بلکہ نگاہ کی سان پر چڑھنے والی سب سے نمایاں  خصوصیت اُن کی کہانیوں  میں  مشرق اور مغرب کی تہذیبوں  کا ملاپ ہے۔ اس ملاپ میں  آمیزش بھی ہے اور آویزش بھی۔ جیساکہ میں  نے پہلے کہیں  لکھا اکثر کہانیوں  میں  مرد ہندوستانی، عورت یورپین اور کہانی کا locate لندن یا کوئی اور یورپی شہر ہے۔ اُن کے گھر کے افراد اور گھر کے باہر لوگوں  کو تجسس ہوا کہ کہیں  یہ ساری کہانیاں  آپ بیتی تو نہیں۔ گھر کے دوسرے افراد کیساتھ اُن پر شک کرنے والوں  میں  اُن کی بیوی نجمہ بھی شریک ہو جاتیں، علی باقر سے پوچھا گیا، ان کی بھانجی عینی لکھتی ہیں، علی ماموں  شرماتے ہوئے کہتے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اتنے برسوں  تک ہر افسانہ اپنے بارے میں  لکھتا رہے۔ آخر علی باقر نے اپنے ایک مجموعے کے انتساب میں  لکھ دیا کہ میرے افسانوں  کو حقیقت سمجھنے کا حق صرف نجمہ علی باقر کو حاصل ہے۔ میں  وہاں  ہوتا تو کہتا بھائی یہ حق آپ نجمہ علی باقر کو بھی کیسے دے سکتے ہیں  جب کہ فراق بہت پہلے کہہ چکے ہیں  ’’کبھی نہ پوچھو یہ شاعر سے تم کس کے گُن گاؤ ہو‘‘۔ اب جو فراق نے یہاں  ’’شاعر‘‘ لکھا تو محض اس لیے کہ فراق خود شاعر تھے، ورنہ دراصل یہاں  شاعر سے مراد ہر تخلیقی فن کار ہے، چاہے وہ شاعر ہو، یا افسانہ نگار، علی باقر کی ہر کہانی میں  ہمیں  عورت نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے ایک سنجیدہ، تعلیم یافتہ، با شعور مرد کی زندگی میں  چاہے وہ کتنا ہی حسین ہو، ذہین ہو، اتنی عورتیں  نہیں  آ سکتیں۔ اُن کی کہانیوں  میں  عورت ماں  ہے، بہن ہے، بیٹی ہے، بیوی ہے، محبوبہ ہے، سب کچھ ہے اور دوست بھی۔ اِن کہانیوں  میں  عورت کا ہر روپ ہے۔ عورت کا ہر روپ، اعلیٰ انسانی قدریں، تقدیر کا جبر اور انسانی نفسیات کی گتھیاں  اُنہیں  جہاں  جہاں  نظر آتی ہیں  اُن کا قلم رواں  اور عقدہ کُشا نظر آتا ہے۔ ان کہانیوں  میں  ہمیں  مغرب سے مرعوبیت یا مغرب بیزارگی کے بجائے وقت اور حالات کے فریم ورک میں  دو مختلف تہذیبوں  کے آپس میں  ارتباط، انسانی جذبوں  کی پاکیزگی اور غم اور خوشی کے لمحوں  کو بانٹنے کی سعئی مشترک کار فرما نظر آتی ہے۔
علی باقر کی کہانیوں  میں  عشقیہ جذبات کے علاوہ کہیں  کہیں  تاریخی حقیقت نگاری، انسانی نفسیات کی گرہوں  کو کھولنے کی کوشش، فلسفیانہ موشگافیاں  بھی اس قدر دلپذیر پیرائے میں  ملتی ہیں  کہ ہم دیر تک اُن کے سحر میں  گرفتار رہتے ہیں۔ اُن کی زبان میں  بے حد بے ساختفی اور شگفتگی بھی ہے۔ میں  یہاں  صرف چند مثالیں  پیش کروں  گا:

’’کرنل صاحب بڑے تپاک سے ملے۔ میں  نے اُن کی بیوی کو پھول پیش کیئے۔ اُن کا بڑا پُر وقار جوڑا تھا، بعض جوڑے بوڑھے ہو کر بہت خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ جوانی میں  تو خوبصورتی ایک حادثہ ہے۔ مگر بڑھاپے کی خوبصورتی بڑی مشکل سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے ریاض کرنا پڑتا ہے۔۔۔ ‘ ‘   (کہانی۔ ’’ہٹ دھرم)

’’ایک مہینے پہلے کی وہ رات عمر خیام کی کسی رباعی، شاذ تمکنت کی کسی نظم، نوشاد کی کسی دھن کی طرح رواں  دواں  تھی۔۔۔ بقول بزرگوں  کے جس نے خود کو پہچانا اُس نے خدا کو پہچانا۔ ICCU میں  لیٹے ہوئے خدا کو پہچاننے سے زیادہ اچھا مشغلہ، زیادہ اچھی عبادت، زیادہ اچھی ریاضت کیا ہوسکتی ہے۔۔۔‘‘
        (’’خونِ دل میں  ڈبو لی ہیں  انگلیاں  میں  نے‘‘۔۔ عینی کے نام خط۔ ۲۲/ مارچ)

یہ بند مٹھی کے برابر دل بھی خوب چیز ہے۔ بیمار ہو تو ساری کائنات محدود ہو جاتی ہے۔ قوسِ قزح کے رنگ مسخ ہو کر سیاہ ہو جاتے ہیں۔ آسمان پر اڑتی چڑیاں  بے معنی ہو جاتی ہیں۔۔۔ ‘(کہانی۔ ’’مٹھی بھر دل‘‘)

علی باقر کی کہانیوں  کے ایک مجموعے کا نام ’’مٹھی بھر دل‘‘ ہے۔  شاید اسی لیے مجھے یہ خیال آیا کہ علی باقر نے جس انداز سے اپنی بیوی نجمہ علی باقر، اپنی بیٹی سیما، اپنی بھانجی عینی، اپنے بھائی بہنوں   حسن باقر، قیصر باقر، نسیمہ تراب الحسن، سیدہ آفتاب کا ذکر دل کی گہرائیوں  سے کیا ہے اور اُن کی بڑی بڑی تصویریں  اپنی کتابوں  میں  شامل کی ہیں۔ اُس سے اُن کے دل میں  اپنے گھر، اپنے خاندان والوں  سے بے پناہ محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر جب ہم ان کی کہانیاں  پڑھتے ہیں  اور پڑھتے چلے جاتے ہیں  تو حیرت ہوتی ہے کہ انسانی رشتوں  کی یہ پاسداری، یہ محبتیں، مشرق و مغرب کی ملی جلی تہذیب، انسان دوستی، اور یہ ساری انسانی برادری، یہ سب یکجا ہو کر اُن کے ’’مٹھی بھر دل‘‘میں  کیسے سماگئے۔
___________
 (’’سب رس‘‘ حیدرآباد)




علی ظہیر کی شاعری

(’’موجِ صد رنگ‘‘ کے حوالے سے)


علی ظہیر کا تعلق شاعروں  کی اس نسل سے ہے جس کا جدیدیت کو ایک واضح شکل دینے میں  نمایاں  رول رہا ہے۔ اِن شاعروں  نے اپنے اردگرد کی زندگی اور اپنے داخلی جذبات کی کسوٹی پر اپنے شعری احساسات کو پرکھنے کی کوشش کی۔ چونکہ اب زندگی کثیر الجہت اور پیچیدہ تر ہوتی جا رہی تھی اس لیے علی ظہیر اور ان کے ساتھ کے لکھنے والوں  میں  لسانی، فکری، اور جذباتی سطح پر پچھلی نسل کے مقابل زیادہ تنوع ملتا ہے۔ علی ظہیر کی خصوصیت یہ ہے کہ اُن کی شاعری میں  ایک جمالیاتی کیف، لہجے کا دھیما پن، ایک طرح کی غیر روایتی مذہبیت، وقت کی ریت کو مٹھی میں  قید کرنے کی کوششِ رائگاں، اور ان عناصر کی زائدہ نارسائی کی سرگوشی سنائی دیتی ہے۔
وقت کا تصور علی ظہیر کی بیش تر نظموں  میں  سطحِ آب پر یا زیر سطح آب لہروں  کے تموج کی طرح موجود ہے۔ کبھی وہ سوچتے ہیں کہ دن رات تو وہی ہیں  پھر ہر دن نیا سا کیوں  لگتا ہے۔ بیتے ہوئے لمحے(ماضی)کہاں  کس آسمان میں  لپیٹ لیے جاتے ہیں۔ کس سمندر کی گہرائی میں  غرق یا محفوظ ہو جاتے ہیں۔ کبھی ان کی غیر روایتی مذہبی وابستگی ان کے ایزل پر مبنی وقت کی تصویر میں  ایک نیا رنگ جوڑ دیتی ہے ( نظم۔ ’’عمر خیام کی نذر‘‘)۔ ان کا مشاہدہ اورحواس اس قدر بیدار ہیں  کہ کبھی زندگی کے نہایت معمولی روز مرہ کے واقعات سے مابعد الطبیعاتی مسائل تک کا ذہنی سفر وہ اس قدر آسانی سے اور فطری انداز میں  طئے۷ کر لیتے ہیں  کہ اُن کے قاری کو ان کا ہاتھ اپنے شانے پر محسوس ہوتا ہے؎
گردن سے ریڑھ کی ہڈی کے آخری نقطے تک
ایک جھنجھناہٹ سی محسوس ہوئی...
ایسا کیوں  ہوتا ہے
.....
ہمیں  در اصل سگریٹ خریدنا تھی
سڑک پار کرنے کے بعد خیال آیا
کہ فخرو میاں  کو ہم نے پچاس کا نوٹ دیا تھا
باقی پیسے تو ادھر ہی رہ گئے
.....
اس دفعہ ٹریفک شروع ہو چکا تھا
لیکن ہم بغیر کسی حادثے سے دو چار ہوئے
 پھر فخرو میاں  کی دوکان پر تھے
(اس بار) ریڑھ کی ہڈی میں  کچھ نہیں ہوا
پتا نہیں  ...
آدمی کا جسم بھی
ایک عالمِ اکبرہے
        (نظم۔ ’’سڑک پار کرتے وقت‘‘)
علی ظہیر کی شاعری میں  وقت کا تصور حرکی ہے۔ لیکن کبھی یہ کسی منظر میں  اس طرح جذب ہو جاتا ہے کہ جامد نظر آئے۔ زمین یا آسامان کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کائنات کی وسعت اختیار کر لے۔ اس کی خوبصورت مثال ان کی نظم ’’فارم ہاؤز پر ایک ویک اینڈ‘‘ ہے۔ اب اُن کے ہاں  وقت کا تصور گھر کی دیوار پر ٹنگی ہوئی گھڑی کی سوئیوں  کی قید سے آزاد ہو گیا ہے۔ اس لیے جب وہ سورج کو ایک مقررہ وقت پر ابھرتے اور ڈوبتے ہوئے دیکھتے ہیں  تو اُنہیں  بڑا عجیب سا لگتا ہے، ’’یہ آفتاب بھی عجیب ہے/ روز مر کے جیتا ہے/ صبح کی اذان پر / صبا کا ہاتھ تھام کر / مشرقی افق سے سینہ تان کر ابھرتا ہے/ یہ آفتاب بھی عجیب ہے‘‘ (نظم۔ ’’صحرائے عرب میں  غروبِ آفتاب‘‘ )۔ گزرتے ہوئے وقت کے احساس زیاں  کے ساتھ اکثر ان کی کئی نظموں  میں  موت کے قدموں  کی آہٹ صاف سنائی دیتی ہے جیسے ان کی نظمیں۔ ’’ایک نظم جو کمزور دل قاریوں  کے لیے نہیں  ہے‘‘ ’’موت کے دروازے پر‘‘ اور اپنے مشفق، دوست، فلسفی، مفکر، حسن عسکری کی یاد میں  ان کی نظم جو نہایت پُر اثر ہے۔
علی ظہیر کی شاعری کی ایک خوبی یہ ہے کہ بیش تر وہ اپنی بات کھُل کر نہیں  کہتے، کچھ غیر واضح، مبہم اس طرح چھوڑ دیتے ہیں  کہ ایک مصرعے کے بطن سے کئی مصرعے کرنوں  کی طرح پھوٹ پڑتے ہیں۔ ایک نظم ’’بلغراد‘‘ میں  وہ کہتے ہیں  کہ وہ صدام حسین کو بالکل پسند نہیں  کرتے۔ اس طرح کچھ متعلق کچھ غیر متعلق، باتیں  کرتے کرتے وہ نظم کو اچانک یوں  ختم کر دیتے ہیں  ’’ لیکن بلغراد۔۔۔‘‘  بظاہر نظم ختم  ہو گئی، لیکن نظم ختم نہیں  ہوتی، اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
عشقیہ موضوعات کا کمال یہ ہے کہ لاکھ پامال ہوں، نگاہ آئینہ ساز میں  ہمیشہ عزیز رہیں  گے، علی ظہیر نے بھی ان موضوعات کو برتا ہے’’سارے عالم میں  بھر رہا ہے عشق‘‘ ان کی نہایت کامیاب نظم ہے جو اس طرح شروع ہوتی ہے:
اک دھواں  ہے تو ایک خوش بو ہے          ایک شعلہ ہے اک گل رعنا
ایک موتی ہے ایک آنسو ہے              سارے عالم میں  بھر رہا ہے عشق
اور یوں  اپنے اختتام کو پہنچتی ہے’’سب کو حیران کر رہا ہے عشق‘‘۔ یہ نظم اور نظم ’’نذرِ حافظِ شیراز‘‘ ایسا لگتا ہے عشق کی نیرنگیوں  اور ہجر کی تنہائیوں  میں ڈوبی طویل ساعتیں  اپنے دامن میں  لیے ہمارے دل و نگاہ پر دستک دے رہی ہیں۔
علی ظہیر نے ایران، انگلستان اور کئی یورپی ممالک میں  خاصا وقت گزارا ہے اور پھر چونکہ ان کا پیشہ اور ان کی شاعری کا سفر دو ایسی زمینوں  پر رہا جن میں  بڑا فاصلہ تھا اس لیے جب جب اپنی عملی زندگی سے اپنے تخلیقی جہان آباد میں  ’’سانس کی طرح سے‘‘ وہ ’’آتے رہے جاتے رہے‘‘ تو کبھی اپنے ساتھ  اجنبی دیس کی ہوائیں  اور پھول بھی لاتے رہے۔ ’’بیس سال بعد تہران میں‘‘ واشنگٹن ڈی۔ سی میں  ایک شام‘‘ استنبول‘‘ یہ نظمیں  ہمیں  نئے ذائقے سے آشنا کرتی ہیں۔ اجنبی سر زمینوں  سے متعلق کچھ نظموں  جیسے ’ؔ’ عراق جنگ‘‘، ’’بت گری‘‘، ’’بلغراد‘‘ وغیرہ میں  اُنہوں  نے انسان پر انسان کے ظلم اور بربریت کی تصویر کشی کی ہے۔
نظموں  کے ساتھ ساتھ علی ظہیر نے غزلیں  بھی اسی روانی اور تعداد میں  کہی ہیں۔ اور ان تمام خوبیوں  سے مزین ہیں  جو ہمیں  ان کی نظمیہ شاعری میں  ملتی ہیں، یہاں  ان کی تفصیل کی گنجائش نہیں  صرف چند شعر پیش ہیں ؎
کوئی اس سایہ نشین کو یہ بتائے جا کر
اس کے رستے میں  کھڑا ہوں  میں  شجر سے پہلے

چاند اس کا تھا ستارے بھی اسی کے تھے مگر
کچھ بھی اچھا نہ تھا مجھ خاک بسر سے پہلے

خود کو بھی دیکھتا ہوں  میں  تیری کہانیوں  کے بیچ
اے مرے داستان گو قصہ سنا فریب دے

کانٹا رات کا آسان بھی ہو سکتا ہے
دل میں  ایک یاد کی قندیل بھی ہوسکتی ہے

چراغ لائیں  گے ہم پھر نئی دوکانوں  سے
ہوائیں  روٹھ گئی ہوں  تو پھر منائیں  گے

چہرے کے تقرب سے ہے عیاں، جلتی بجھتی شمعوں  کا دھواں
ہونٹوں  کے رسیلے پن میں  نہاں  کچھ مستقبل کچھ ماضی ہے

میں  کھڑا تھا جس جگہ کچھ دیر اپنے واسطے
دکھ کے سارے راستے اس راہ سے جانے لگے

میں  رک رک کر اسے پڑھتا گیا پھر
مری اس کی کہانی ایک ہی تھی

ندی اور وقت دونوں  ایک ہی تھے
ظہیرؔ اُن کی روانی ایک ہی تھی
علی ظہیر کو نظم اور غزل دونوں  اصناف پر یکساں  قدرت حاصل ہے۔ اُن کا جمالیاتی احساس، تفکیری لہجہ، بات کو کہیں  کہیں  یوں  ادھورا چھوڑ دینا کہ ’’بات ادھوری مگر اثر دونا‘‘  انہیں  اپنے ہم عصر شاعروں  میں  ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ اُن کی شاعری ہمارے لیے اور بھی دامن کشِ دل ہے اس لیے کہ ان کی آواز دھیمی، بہت دھیمی، لیکن اپنے مخصوص لہجے میں، آوازوں  کے ہجوم میں  بھی صاف سُنی اور پہچانی جا سکتی ہے، اُن کی نظموں  اور غزلوں  میں  خیال کی ندرت، اور زبان کی     بے ساختگی کے ساتھ ساتھ ایک ایسا غیر رسمی تخلیقی اظہار ملتا ہے جو فوراً قاری کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں  لے لیتا ہے۔ علی ظہیر کی شاعری کے موضوعات میں  بھی اس قدر تنوع ہے کہ اُن کی شاعری از خود اپنے گرد ایک وسیع حلقہ بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ علی ظہیر کا نیا شعری مجموعہ ’’موجِ صد رنگ‘‘ اُن کے شعری سفر میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
___________
(’’سب رس‘‘۔ سہ ماہی ’’شعر و حکمت‘‘)




محسن جلگانوی کی شاعری

(’’تھوڑا سا آسمان زمین پر‘‘ کی روشنی میں )


ساتویں  دہائی میں  اردو شاعروں  کی جو نسل سامنے آئی ہے اس میں  محسن جلگانوی نمایاں  حیثیت کے حامل ہیں۔ اُن کی پہلی کتاب ’’الفاف‘‘ (۱۹۷۹ء) میں  شامل اپنی رائے میں  مغنی تبسم نے لکھا تھا ’’محسنؔ جلگانوی اُس قبیلے کے شاعروں  میں  سے ہیں  جن کا سلسلہ ناصرؔ کاظمی کے واسطے سے میرؔ تک پہنچتا ہے اور جن کا کام ہی آتش کدۂ درد کو روشن رکھنا ہے۔ کبھی کبھی یہ آگ اُن کے اپنے وجود کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے لیکن ان کا فن اسی آگ میں  تپ کر ’’کندن‘‘ بن جاتا ہے‘‘۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اِن سترہ برسوں  میں  محسن جلگانوی نے نہ صرف اس آگ کو روشن رکھا بلکہ یہ آگ اور بھی تیز اور یہ آتش کدہ اور بھی روشن ہو گیا ہے۔
محسن جلگانوی کا کلام ملک اور بیرون ملک کے اہم رسائل اور انتخابات میں  شامل رہا ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’الفاف‘‘ ۱۹۷۹ء میں  منظرِ عام پر آیا لیکن وہ اس سے کہیں  پہلے موقر رسائل، اخبارات میں  اپنی نظموں  غزلوں  کی اشاعت، اور ریڈیو، ٹی۔ وی پروگراموں  اور مشاعروں  میں  شرکت کے علاوہ مختلف ادبی تنظیموں  سے سرگرم عمل تعاون کی بنیاد پر جدید نظم و غزل کے ایک معروف شاعر کی حیثیت سے مانے اور جانے جا چکے تھے۔
جدید اُردو غزل کا میڈیم ایک ایسی تہذیب کا آئینہ ہے جس میں  فرد بہ یک وقت روایت کے حصار میں  قیدی بھی نظر آتا ہے اور نئے عہد کے نئے تقاضوں  سے عہدہ بر آہو ہونے کے لیے آزادی کی جدوجہد میں  مصروف بھی۔ اسی لئے محسنؔ جلگانوی کی غزل میں  جہاں  عام انسانی جذبات جیسے تنہائی، محرومی، دل شکستگی، وغیرہ ( جو ہمیشہ غزل کا خام مواد رہے ہیں ) کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ وہیں  نجی واردات، تجربات اور احساسات کی فراوانی بھی ہے۔ آج کے عہد کی بے یقین مشینی زندگی کا کرب، ٹوٹتے ہوئے رشتے، گرتے ہوئے پیڑ، لوگوں  کی بھیڑ میں  تنہائی کا احساس، فرقہ وارانہ فسادات، روزی روٹی سے جڑی ہوئی ہجرت، ان سب کی عکاسی ہمیں  ان کی شاعری میں  ملتی ہے۔ محسنؔ کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی بات کو نہایت لطیف اور موثر انداز میں  کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی غزل بدلتے ہوئے زمانے اور بدلتی ہوئی اقدار کا احساس بھی دلاتی ہے اور رمز و ایما اور اپنی خواب آسا کیفیات اور دھیمے لہجے کے سبب اپنے جداگانہ تخلیقی وجود کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔ اس طرز اظہار کے مظاہر ہمیں  جا بہ جا ملتے ہیں  ؎
وہی سب کچھ تھا، ہم کچھ بھی نہیں  تھے
ہوئی اس سے شناسائی تو جَانا
وراثت ساری اپنے نام کر لی
مگر اس نے مجھے بھائی تو جَانا
_____
سوچ کر ہر بار وہ بازار سے واپس ہوا
چہرہ رکھے گا کہاں  جب آئینہ لے جائے گا
نام کی تختی ہٹالے گھر سے ورنہ یہ جلوس
اپنے نیزے پر ترا سر بھی اُٹھا لے جائے گا
_____
اندھی گلی میں  بھونکتے کتوں  کا ڈر نہیں  
اک آدمی سا کوئی ادھر جھانکتا بھی ہے
_____
ایک دن اخبار کی سُرخی میں  کھو جاؤں  گا میں
گھر پہ مرے نام کی تختی لگی رہ جائے گی
ڈوب جائے گا سرابوں  میں  غبارِ جسم و جاں
ریگ زاروں  میں مری آوارگی رہ جائے گی
_____
ٹوٹا تھا ریزہ ریزہ ابھی دل کا آئینہ
پھر آنکھ میں  ہے کانچ کی دیوار اور ہم
_____
یہاں  تو کچھ بھی نہیں  میرے ڈوبنے کا مزہ
اس ایک قطرہ سمندر میں  کون ڈال گیا
_____
محسن جلگانوی نظم اور غزل دونوں  ہی اصناف پر تخلیقی اظہار کی غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں۔ اُن کی نظمیں  پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک ہیجان، ایک انتشاری طوفان بپا ہے، لیکن اُن کے اظہار میں  ایک ایسا سکون اور روانی ہے جیسے آبِ گُم کو بہتے چشمے کی روانی مل جائے خواب کی اضطراری کیفیت، بستر کی شکن، آنسو یا صبح کی پہلی کرن میں  ڈھل جائے۔ اُن کی بیشتر نظموں  میں  ’’تلاشِ ذات‘‘ ’’یا نفسیاتی علائم کی تفسیر‘‘ ایک واضح رجحان کی صورت میں  ابھرتی ہے، وہ اپنے تخلیقی سفر میں  مُشاہدہ، جستجو، تجزیہ کسی سے پہلو تہی نہیں  کرتے۔ اس کے علاوہ اُن کی نظموں  میں  ایسی ’’خود کلامی‘‘ در آئی ہے جب، خیال یا جذبہ مانوس اظہار کی قید سے آزاد ہو کر ایک مرتفع سطح پر اپنے آپ سے باتیں  کرنے لگتا ہے۔
_____
کرن کے رتھ پر سوار ہو کر
ندی کی لہروں  پہ چاند اپنی
تمام روداد لکھ چکا ہے
نئی اُڑانیں
طویل رستہ
بسیط سمتیں
 غریب جگنو
تمام مٹّی، تمام مٹّی …… ( نظم ’’آخری ساعت کے نام‘‘)
وہ موضوعات، اظہارات، پیکر، استعار سے
کہ جو صدیوں  سے روند سے جا رہے ہیں  
اُن کی مٹّی جھاڑ کر نیچے
فلک کی وسعتوں  کے چھوٹتے سیارے
اپنی آنکھ کی ان پُتلیوں  میں  
ٹانک لینے کی تمنّا سر اٹھاتی ہے۔ ………… (نظم ’’ترسیل‘‘)
محسنؔ جلگانوی کی نظموں  میں  کئی الفاظ، تراکیب جیسے ’’سبز ہونٹوں  کا رس‘‘ ’’لمس کی دراز دستی‘‘۔ ’’کرن کے رتھ پر سوار چاند‘‘۔ ’’کھنڈر کی آنکھ‘‘۔ ’’ہری صلیب‘‘۔ ’’صلیبِ ذات‘‘ ایسی علامتیں  یا بصری پیکر بن جاتے ہیں، جو معنی کے نئے پہلو روشن کرتے ہیں۔ اُن کی کئی نظمیں  ’’خواب آنکھیں‘‘۔ ’’ایک نظم نئی سی‘‘۔ ’’آخری ساعت کے نام‘‘۔ ’’ترسیل‘‘۔ ’’ایک نظم جنسِ دروں  کی‘‘۔ ’’میں ‘‘۔ اس صنعتی معاشرے کی پیچیدہ صورتحال، اس سے منتج تشکیک، اقدار کی شکست اور تنہائی کے احساس اور اس کے رد عمل میں، درونِ ذات سفر کے خوبصورت مرقعے پیش کرتی ہیں۔
محسنؔ جلگانوی کی نظمیں  اور غزلیں  پڑھتے ہوئے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ’’الفاف‘‘ سے ’’تھوڑا سا آسمان زمین پر‘‘ آتے آتے انہوں  نے ایک کامیاب طویل سفر طئے کیا ہے۔ امید ہے کہ ان کے اس مجموعہ کلام کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
_________
 (پیش لفظ۔ ’’تھوڑا سا آسمان زمین پر‘‘)





اکرم نقاش کی رباعیاں


اکرم نقاش کا مجموعہ رباعیات ’’حشر سی یہ برسات‘‘ مجھے ملا تو ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ اکرم نقاش کے نام کی لفظی مناسبت سے مجھے میرؔ کا ایک شعر یاد آ گیا، جو یوں  ہے؎
ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں  نقاش سہل
چاند سارا لگ گیا تب نیم رُخ صورت ہوئی
میرؔ نے یہ شعر اپنے محبوب کے حسن و جمال کی تعریف میں  کہا ہو گا کہ یہی شیوۂ اہل سخن تھا لیکن موجودہ دور کی مطابقت میں  ہم عکس محبوب کی جگہ گھر، دفتر، بازار، اینٹ، پتھر کچھ بھی رکھ سکتے ہیں۔ خود بقول میرؔ ’’منہ نظر آتے ہیں  دیواروں  کے بیچ‘‘۔ میرؔ صاحب نے تو سارا چاند گھول کر ایک نیم رخ صورت بنا لی۔ اُن کے بعد آنے والے شاعروں  نے بھی، جن میں  اکرم نقاش بھی شامل ہیں، سب نے یہی شغل اختیار کیا۔ لیکن میر صاحب کی طرح ایسی ہی نیم رخ صورت کیا تشکیل کر پاتے ؟ وہ چاند کہاں  سے لاتے جو میرؔ کے قلب و ذہن کے آسمان پر چمکا تھا۔ سبھی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کچھ جگنو، کچھ ستارے آنکھوں  میں  بھرے اور کچھ مبہم، کچھ واضح کچھ غیر واضح نقوش اپنے اپنے سینوں  میں  روشن کر لیے، اس ادراک کے ساتھ کہ ’’حسنِ فروغِ شمعِ سخن دور ہے اسد‘‘۔
یہ تو خیر ایک جملۂ معترضہ تھا۔ یوں  ہی ایک شعر یاد آ گیا، مجھے کہنا یہ ہے کہ زبان اور اس سے جڑے لفظ، معنی، تجربے یا خیال کے تخلیقی گرفت میں  آنے کے مسائل ہر شعری اظہار میں یکساں  ہیں، کوئی بھی صنفِ شعر ہو غزل، نظم، مرثیہ، مثنوی، قصیدہ وا سوخت، رباعی ہمیں  ان مسائل سے مفر ممکن نہیں۔ اس سب کے باوجود اگر چند اصنافِ سخن آج متروک یا نا مقبول ہیں  تو اس کی وجہ ہماری سمجھ میں  آ سکتی ہے جیسے مثنوی جس کے موضوعات بیش تر جِن، پریوں، شہزادے شہزادیوں  کے فرضی قصوں  پر مبنی ہیں۔ مرثیہ جو ایک مخصوص مذہبی پس منظر ہی میں  لکھا جا سکتا ہے۔ واسوخت لکھنا، ظاہر ہے کوئی مستحسن فعل نہیں، یا پھر قصائد جو ایک درباری، خوشامدی ماحول کی دین ہیں۔ ہر چند ان اصناف میں  ہمارے کلاسیک اور متاخرین نے کئی قابلِ رشک شہ پارے تخلیق کیے ہیں۔ لیکن اِن سب کے لیے ایک ذہنی فراغت اور مخصوص معاشرت درکار ہے، جو ہمیں  میسر نہیں۔ آج کے صنعتی، سائنسی ماحول اور اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں  ان اصناف کو برتنا اپنے اطراف اور خود اپنے آپ سے بے خبری کا اعلان نامہ ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں  کہ ہم نے اپنی ساری روایات، ساری قدیم اصناف کو ایک پرانے بوسیدہ کوٹ کی طرح تہہ کر کے کہیں  رکھ دیا ہو۔ غزل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے جو رباعی ہی کی طرح قدیم ہے اور نظم جس کے احیا اور ترقی کی کوششیں  ۱۹ ویں  صدی کے اوائل میں شروع ہوئیں  اور اس نے اپنا رنگ روپ بدلا۔ اگر نئے موسموں اور نئی زمین کی مٹی میں  ان اصناف کے پودوں  کی جڑیں  مضبوط اور ان کے برگ و گل اسی طرح تر و تازہ ہیں  تو ہمیں  غور کرنا ہے کہ رباعی اپنا اعتبار کیوں  کھو بیٹھی اور زیادہ تر کیوں  اس کے نمونے پرانے رنگ کے شاعروں  کے کلام ہی میں  نظر آتے ہیں ؟ جب کہ رباعی میں  غزل کے اختصار کا حسن اور نظم کے موضوعاتی پھیلاؤ دونوں  کے لیے ہی Cushioning Space موجود ہے اور اس کا صوتیاتی نظام اسے بے حد دلکش اور دلفریب بناتا ہے۔
رباعی سے بے اعتنائی کے اس دور میں  اگر ہمارے سامنے ایک ایسے شاعر کی رباعیات کا مجموعہ آتا ہے جس کے بارے میں  ہم جانتے ہیں  کہ وہ نہ صرف اپنی روایات بلکہ اپنے عہد کی سوچ اور فکری رجحانات سے بھی باخبر ہے۔ اور اُن کے اظہار کا سلیقہ رکھتا ہے تو ہم اس کتاب کو نہایت شوق سے کھولتے ہیں۔ اکرم نقاش کے بارے میں  یہ بات میں  اس لیے کہہ سکا کہ ان کا کلام اِدھر اُدھر کئی ادبی رسائل میں میری نظر سے گزرا ہے اور اُنکی شاعری کے بارے میں  میرا ایک خوشگوار تاثر ہے۔ ’’حشر سی یہ برسات‘‘ سے قبل ان کا ایک شعری مجموعہ بھی منظرِ عام پر آ چکا ہے جسے ادبی حلقوں  میں  سراہا گیا ہے۔
اُن کے اس پہلے مجموعے کے توسط سے جس کا عنوان ’’شعر‘‘ تھا۔ اکرم نقاش کی امیج ایک غزل کے شاعر کی بنتی ہے۔ اب انہوں  نے رباعی کی طرف توجہ کی ہے تو غزل کی روایت اور شعریات بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے ہیں  اور وہ عصری حسّی کیفیات بھی جو غزل گوئی کے دوران نمو پذیر ہوئیں۔ میرے خیال میں  وہ شاعر جو کسی مخصوص صنف میں  ایک عرصے تک طبع آزمائی کرتے رہے ہیں  جیسے غزل گو شعراء نظم لکھیں  یا نظم گو شاعر رباعی کی سرحد میں  وارد ہوں  تو اُن کے ساتھ نئی شعریات، نئی لفظیات، نیا احساس اور نیا لب و لہجہ بھی اُن کی پرچھائیں  کی طرح اس سرحد میں  داخل ہو جاتا ہے۔ میں  سمجھتا ہوں  کہ اکرم نقاش اور ان کی طرح کچھ نئے، پرانے نظم لکھنے ولے یا غزل گو شعراء رباعی کے میدان میں  طبع آزمائی کرتے رہیں تو رباعی کی صنف میں  بہت کچھ تازگی اور تنوع پیدا ہوسکے گا اور رباعی ہمارے عہد کے زائیدہ فکری رجحانات اور قلبی واردات کے اظہار کا مؤثر ذریعہ بن سکے گی۔
اکرم نقاش کی رباعیوں  میں  کائنات کے اسراء اور انسانی وجود کے مسائل کی عقدہ کشائی میں  ایک فلسفیانہ رَو ملتی ہے۔ یقین اور تشکیک اُن کے دائیں  بائیں  آگے پیچھے نظر آتے ہیں۔ کہیں  ان کی مذہبی بصیرت اُن کے لیے مشعلِ راہ بنتی ہے۔ اس مجموعے کی ابتدا میں  کچھ حمد یہ رباعیاں  ملتی ہیں  جنہیں  پڑھ کر اُن پر طاری ایک ایسی لمحاتی قلبی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ گویا اُن کے ساتھ شجر، حجر، دریا، پہاڑ، مٹی، ہوا سب بارگاہِ الہٰی میں  سجدہ ریز اور محوِ حمد و ثنا ہیں  اور اُنہیں  وہ قربتِ خاصّہ حاصل ہو گئی ہے جس کی ہر صاحب ایمان آرزو کرتا ہے۔ ان چند رباعیوں  کے ابتدائی مصرعے درجِ ذیل ہیں : ۱۔ ’’روشن ہو مری صبح، مری شام خدا‘‘۔ ۲۔ ’’ہوتی ہے ہمہ وقت کوئی دل میں  اذاں‘‘۔ ۳۔ ’’اک نور کا دریا سا درِ جاں  چمکا‘‘  ۴۔ یہ کون اشارہ ہے یہ ہے کون صدا‘‘ وغیرہ۔
لیکن اب اسے کیا کیا جائے کہ اکرم نقاش، اس دنیا اس عہد کے فرد ہیں، ایسا فرد جو گم کردۂ عقل اور طبیعاتی وسائل سے مابعد الطبیعاتی مسائل کا حل ڈھونڈتا ہے اُن کے رگ و پئے میں کچھ شمعیں ضرور روشن ہیں، لیکن وہ صوفیانہ بے خودی جو عشق کے راستے غیب پر ایمان لا سکے ابھی اُن کا مقدر نہیں  بن سکی۔ وہ اپنے وجود کی گتھیوں  کو سلجھانے کی جستجو میں  خود کہیں کھو جاتے ہیں  اکرم نقاش کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ہر چند وہ اسی عہد کا حصہ ہیں  لیکن اس عرفان و آگہی سے تہی دست عہد نے اُنہیں  کچھ ایسے لمحات بھی عطا کیے ہیں  کہ وہ خود اپنے آپ سے اور اپنے خدا سے کہہ سکیں ؎
گنجان خموشی میں صدا بھر دے تو
آئینہ مقابل مرے کر دیوے تو
اک میں جو کبھی خود پہ بھی افشا نہ ہوا
اک راز میں سر بستہ جسے کھولے تو
ہمارا عہد تشکیک اور وہم و یقین کے امتزاج سے عبارت ہے۔ مذہبی بصیرت یا تربیت جو بھی ہو ہمیں  عقیدے کی منزل کا راستہ دکھاتی ہے۔ لیکن کیا کریں  ’’کتنی ہی طاقت آزمائی کی‘‘ پاؤں کسی طرح نہیں  اُٹھتے۔  عقیدے کے اعتبار سے ہم اتنے نحیف و ناتواں  ہیں  کہ پاؤں  اُٹھیں  بھی تو قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ ہم کسی ایسی بات پر یقین کرنے پر مائل ہی نہیں  جسے ہماری عقل اور فہم قبول نہ کر سکے۔ اس عالم میں  بھی اکرام نقاش وہم و یقین کو اس طرح ہم آمیز کر لیتے ہیں  کہ وہم وی قین کے درمیان فاصلے دھندلانے لگتے ہیں ؎
یہ چاند ستارے، یہ زمین کچھ بھی نہیں
ہے دھند فقط اور کہیں  کچھ بھی نہیں
سمجھائے اسے کون کہ دیوانہ ہے
کیا کشمکش وہم و یقیں  کچھ بھی نہیں
اکرم نقاش کی بیش تر رباعیاں  نظم اور غزل کے مابین سفر کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ نظم کہنا چاہتے تھے۔ اُن کے ذہن میں  کوئی موضوع، کوئی خیال کوئی جذبہ ہے جو اپنی سطح  سے بلند ہو کر پھیلنا چاہتا ہے، لیکن چوں  کہ ان کا مزاج غزل کا بن گیا ہے، اس لیے وہ دریا کو کوزے میں  بند کرنے کے عمل میں  مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کی کئی رباعیاں  پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض چار مصرعوں  پر مشتمل رباعیاں  نہیں  بلکہ اچھی خاصی طویل نظمیں  ہیں۔ اصغرؔ کا شعر ہے ’’میری ندائے درد پہ کوئی صدا نہیں  ؛ بکھرا دیئے ہیں  کچھ مہ و انجم جواب میں‘‘۔ وہی بات جو اصغر نے کہی اکرم نقاش نے ایسا ہی خیال نظم کرنا چاہا تو یوں  رباعی کے قالب میں  ڈھال دیا؎
ہونے کا مرے کون یہ انکار کرے
اک بار نہیں  وار یہ ہر بار کرے
حیراں  نہ مُزاحِم ہے صدائے ہستی
گم سم ہوں کہ چپ چاپ یہ اقرار کرے
’’حیراں  نہ مزاحم ہے صدائے ہستی‘‘ کیا یہ وہی مہ و انجم کی صدائے زیر لب ہے جو ہمیں  سنائی نہیں  دیتی جس کا ذکر اصغرؔ نے ایک نہایت دکھ بھرے استعجابیہ لہجے میں  کیا ہے۔ اکرم نقاش کی اس رباعی میں  تقدیر کے جبر کا احساس ایک ضرب کاری کی طرح پیہم اُن کے احساس کو مجروح کرتا ہے۔ اُن کی کئی رباعیاں  ایسی ہیں جنہیں  پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی خوبصورت نظم پڑھ رہے ہیں، یہ رباعی دیکھیے؎
چلتی ہے بہت سرد ہوا رات گئے
یخ ہوتی ہے یادوں  کی ردا رات گئے
اکناف کوئی شعلۂ درماں  بھی نہیں
سنتا ہے بھلا کون صدا رات گئے
یا پھر یہ رباعی ؎
بے انت سمندرمیں  سہارا دیکھا
ٹوٹی ہوئی کشتی سے کنارا دیکھا
بے سمت ہواؤں  کو ملی راہ گزر
بجھتی ہوئی دنیا کو دوبارہ دیکھا
اکرم نقاش کی اکثر رباعیوں  میں  ہمیں  یہی طرزِ احساس ملتا ہے جو اُن کے پیش روؤں  اور قدیم رباعی لکھنے والوں  سے مختلف ہے۔ اُن کا ذوقِ تجسس اُنہیں  نئی نئی دنیاؤں  کی سیر کراتا ہے اور وہ اُنہیں  اس طرح دیکھتے اور دکھاتے ہیں  کہ ہم اس منظر کا حصہ بن کر اسی منظر میں  سانس لینے اور اسے دیکھنے لگتے ہیں ؎
اسرار سے لپٹی یہ فضا دیکھ تو لوں
کچھ کھینچ کے چہرے کی قبا دیکھ تو لوں
دل آنکھ سے دنیا کا کروں  نظارہ
اس دشت میں  کیا کچھ ہے دھرا دیکھ تو لوں
چہرے کی قبا کھینچ کر ورائے چشم دیکھنے کی خواہش کیسی عجیب سی خواہش اور ایک خوبصورت امیج ہے۔ اکرم نقاش کی رباعیوں  میں  ہمیں  اس طرح کے کئی امیجز، کئی ٹکڑے ملتے ہیں۔ یہ طرز احساس ہمارے عہد کی دین اور پچھلی رباعیوں  کے مقابلے میں  ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔ فضیل جعفری نے اُن کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اُن کے اشعار میں  مادی کشمکش کے علاوہ روحانی کشمکش بھی ملتی ہے جسے اُنہوں  نے بسا اوقات تجریدی اور مابعد الطبیعاتی اسلوب میں  پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔
اپنے وجود کی بے مائیگی، خوف، خواب، انسانی محرومیاں، کائنات سے اپنی ذات کے رشتے کی تلاش اور آفاقی صداقتوں  کی جستجو، اکرم نقاش کی رباعیوں کے غالب موضوعات ہیں۔ ان کی اکثر رباعیوں میں ایک عجیب سا احساس نارسائی ملتا ہے، ایسا احساسِ  نارسائی جو ان کے وجود کے اندر ایک بے بس خاموشی بھر دے لیکن اس احساسِ نارسائی میں  بھی ایک سرشاری کی کیفیت ہے۔ اُن کے دل کی بستی ایسی نہیں  کہ بس کر اجڑے تو پھر بس نہ سکے۔ یہ بستی کبھی ویراں  نہیں  ہوتی ؛ وہ کہتے ہیں ’’تنہا کبھی ہوتی نہیں  دل کی بستی‘‘۔ اپنی سانسوں  کے درمیان سفر کرتے ہوئے اُنہیں  کسی سائے کی تلاش ہے۔ کم کم ہی سہی لیکن ان رباعیوں  میں عشقیہ مضامین بھی در آئے ہیں۔ کوئی ہے جو اپنی سِحر جھلکاتی ہوئی آنکھوں  سے اُنہیں  دیکھ رہا ہے ورنہ بقول مومنؔ ’’ایسی لذّت خلشِ دل میں  کہاں  ہوتی ہے‘‘۔ تمنا کے اس دشت زار میں اُن کا سفر جاری ہے۔ اُن کے اس تخلیقی سفر میں  ابھی اور قابل دید مقامات آئیں  گے۔ ہمیں  اُن کے اگلے مجموعہ رباعیات کا انتظار رہے گا۔
رباعیات کے اس مجموعے سے ہٹ کر ایک بات مجھے اور کہنی ہے‘‘ میرؔ، سوداؔ، انیس، امجد، یگانہ، جوش اور فراق سے لے کر دور حاضر میں شمس الرحمٰن فاروقی تک ہمارے کئی شاعروں  نے بہت عمدہ رباعیاں  کہی ہیں۔ لیکن  اِن دنوں  رباعی سے اجتناب کا بڑا سبب میرے خیال میں اس کی عروضی پابندیاں  ہیں۔ بحرِ ہزج کے چوبیس ( ۲۴)ارکان، مصرعے کے صدر اور ابتدا میں  مفعول یا مفعولن کے رکن کا لزوم، عروض، ضرب اور حشو میں  ارکان کی پابندیاں  وغیرہ۔ پھر یہ کہ پہلے، دوسرے اور چوتھے مصرعے ہم قافیہ ہوں  اور چوتھا مصرعہ ایسا کہ رباعی کے حسن کا سارا دارومدار اُسی پر ہو۔ میں  یہ کہنا چاہتا ہوں  کیا یہ ممکن نہیں  کہ وہ شعراء جن کا مزاج یا فکری مواد رباعی کی صنف سے میل کھاتا ہو، کچھ فن عروض سے واقفیت حاصل کریں ورنہ اپنی طبع موزوں  کی رہنمائی میں  چند آسان اور مقبول بحروں  کا انتخاب کریں۔ ہمارے اہلِ ذوق ارباب ادب اور عروض داں  بھی اس بارے میں  غور کریں  کہ آیا رباعی کے ساختیاتی نظام میں  ( فنی حدود کے تابع رہتے ہوئے) کوئی ایسی لچک ممکن ہے جیسا کہ نظم کی ہئیّت میں  پابند نظم سے نثری نظم تک کا نہ سہی نظمِ معرّی ٰ تک کا سفر ممکن ہو سکا۔
___________
(سہ ماہی ’’اذکار‘‘)




اسلم عمادی کی تنقید نگاری


اسلم عمادی سے ہماری پہلی ملاقات بحیثیت شاعر ہوئی، جب ۱۹۷۴ء میں  ان کا پہلا مجموعہ ’’نیا جزیرہ‘‘ شائع ہوا اور ادبی حلقوں  میں  ان کی شاعری ایک نئی آواز کی طرح ابھری۔ پھر ان کے کئی اور مجموعے منظر عام پر آئے، ’’اجنبی پرندے‘‘ (۱۹۷۹ء)، ’’اگلے موسم کا انتظار‘‘ (۱۹۸۴ء)، پھر ’’قریۂ فکر‘‘ (۱۹۹۵ء) اور یوں  ہم عصر اردو شعراء میں  انہیں  ایک نمایاں  مقام حاصل ہو گیا۔ اب ان کی نثری تحریروں  کا انتخاب ’’ادبی گفتگو‘‘ ملا تو مجھے اشتیاق ہوا کہ دیکھوں  ادب کے مختلف موضوعات کے بارے میں  ان کے مطالعات اور محسوسا ت کیا ہیں۔  مجھے اس کتاب میں  شامل مضامین کے عنوان اور سرسری ورق گردانی ہی سے اندازہ ہوا کہ یہاں  تو ’’سوچ کا دریچہ‘‘ ہے  جس سے روشنی چھن چھن کر آ رہی ہے۔ میں  نے سوچا یہ کتاب ذرا غور سے پڑھوں، اسی روشنی کے دائرے میں  اپنے ادبی ماحول، اپنے ارد گرد جو کتابیں  ہیں، جو سوال بکھرے پڑے ہیں، جو لوگ کھڑے ہیں، بیٹھے ہیں، انہیں  دیکھوں  ان سے ملوں، دیکھوں  کس شخص کے چہرے پر کتنی روشنی ہے۔ روشنی کا زاویہ ٹھیک ہے یا نہیں  ؟ اندھیرے اجالے کے اس کھیل میں  انعکاس کا عمل کیسا ہے ؟
اس کتاب میں  میری دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسی تنقیدی تحریریں  جو کسی شاعر، افسانہ نگار کے قلم سے وجود میں  آئی ہوں  مجھے زیادہ اپیل کرتی ہیں۔ اس لیے کہ میں  سمجھتا ہوں  کہ ایک تخلیقی ذہن رکھنے والا شخص کھرے کھوٹے کی بہتر پرکھ رکھتا ہے۔ ایسی پرکھ جو کسی مخصوص فلسفے یا زاویہ فکر کے تابع ہونے کے بجائے ادبی معیارات کے تابع ہونے کے زیادہ امکانات رکھتی ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ ایسے نقاد (آپ چاہیں  تو انہیں  تخلیقی نقاد کہہ لیں  ) کے لیے معروضیت سے کام لینا مشکل ہے کیوں  کہ اس کی خود پسندی اس کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ میرے نزدیک ایک کھلا ذہن رکھنے والے نقاد کے ساتھ ایسا نہیں  ہوتا۔ وہ جب خود کو ذرا دور سے دیکھتا ہے تو صاحبِ  کتاب یا جو تخلیق معرضِ بحث ہے، اس سے فاصلہ از خود کم ہو جاتا ہے۔ ایسے نقاد کے لیے، وہ جو پڑھ رہا ہے اور اس سارے تخلیقی عمل کو جس طرح دیکھ رہا ہے، اس کے ذہن میں  اس کی تجسیم کا عمل اور تجزیہ نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ خیر۔ یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ آئیے، اب ہم اس کتاب کے بارے میں  کچھ بات کریں۔
’’ادبی گفتگو‘‘ کا سنِ اشاعت ۲۰۰۷ء ہے۔ اسلم عمادی بنیادی طور پر شاعر ہیں  اور پھر نقاد۔ شاعری کے مقابلے میں  ان کے مضامین کی تعداد کم ہے، اس لیے ان کے شعری مجموعے پہلے منظرِ عام پر آئے اگرچہ کہ ان کی شاعری کے ابتدائی دور ہی سے مختلف موضوعات پر ان کی تنقیدی تحریریں  بھی موقر ادبی رسائل میں  جگہ پاتی رہیں۔ یوں  دو متوازی خطوط پر ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا، اور یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ چونکہ اس کتاب کے مضامین مختلف ادوار میں  لکھے گئے ہیں  اور ذہنی سفر طویل عرصے پر محیط ہے اس لیے اس کی فکری اٹھان میں  ایک تدریجی، ارتقائی کیفیت کے زیر اثر مختلف مضامین کے معیار میں  وہ یکسانیت نہیں  ملتی جو ایسے مضامین میں  نظر آتی ہے   جن میں  شعور کی ایک مستقل کیفیت ایک مختصر وقفۂ تحریر کی رہین ہو۔ اس کتاب میں  شامل مضامین کو انہوں  نے ذیلی عنوانات کے تحت کئی زمروں  میں  تقسیم کیا ہے۔ ’’مضامین‘‘ کے عنوان کے تحت جدید شاعری کے چند موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ’’مثالی شخص‘‘ (IDEAL PERSON)  اور اس کے ’حقیقی عکس،  (REAL PERSON) کی کئی پرتوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں  نئی شاعری میں  تنہائی، محض موضوع کی صورت میں  نہیں  بلکہ خالص شاعری کے روپ میں  ابھرتی ہے۔ تنہائی کا کرب ہو یا شاعر کی ذات جو کائنات کی طرح ہے، آج کا شاعر دور سے ان رنگوں  کی طرف نہیں  دیکھتا بلکہ پاس سے ان رنگوں  میں  اپنا رنگ ڈھونڈتا ہے، جو زندگی کی بے معنویت، موت، روایت سے بے زاری (جسے وہ مستعمل اقدار سے بے زاری کا نام دیتا ہے )، انسان دوستی وغیرہ کے رنگوں  میں  اپنی جھلک دکھلاتے ہیں۔ اپنے ایک اور مضمون ’’شاعری کے ابعاد‘‘ میں    اسلم عمادی نے شاعری کے تین ابعاد کا ذکر کیا ہے، خارجی، داخلی اور صوری۔ اس گفتگو میں  کوئی نیا زاویہ فکر نہیں  لیکن ہمیں  ان کے ادبی ذوق اور ذہن رسا کا سراغ البتہ اس مضمون کی ابتدائی سطور میں  مل جاتا ہے جب وہ غالب کے شعر ؎
گلہ ہے شوق کو دل میں  بھی تنگیِ جا کا
گہر میں  محو ہوا اضطراب دریا کا
پڑھتے ہوئے اس سوچ میں  پڑ جاتے ہیں  کہ غالب نے اس شعر کا پہلا مصرع پہلے کہا ہو گا یا دوسرا مصرع۔ ان دو مضامین کے علاوہ اس ذیلی عنوان ’’مضامین‘‘ کے تحت ان کا لکھا ہوا ایک اور مضمون ’’فنِ شعر اور ترسیل‘‘ میرے نزدیک اس کتاب کا سب سے عمدہ مضمون ہے جو بڑی محنت سے لکھا گیا ہے۔ شاعر کی بنیادی صلاحیت (جسے وہ عبقریت کا نام دیتے ہیں  )، نظریہ کی کارفرمائی اور فن کی جگہ ہنر کے برتنے کے موضوع پر انہوں نے بعض نہایت دل چسپ باتیں  کہی ہیں  مثلاً یہی کہ مصوری شاعری کے مقابلے میں  ترسیل کی بہتر صلاحیت اس لیے رکھتی ہے کہ مصور کے کینوس پر پھیلے ہوئے ’رنگ‘ کے مقابلے میں  شاعر یا ادیب کا لکھا ہوا ’لفظ ‘ افکار و جذبات کے اظہار کا کم تر وسیلہ ہے۔ یہ مضمون خاصہ طویل ہے اور اس میں  انہوں  نے شعر کے ابلاغ، نیا پن، ارادی ترسیل، تجرید، علامت، ابہام وغیرہ پر گفتگو کرتے ہوئے شعر بطور ایک مکمل فن پارہ اور اس میں  ترسیل کے مختلف پہلوؤں  پر قاری کے ساتھ مکالمہ قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
اسلم عمادی کا مضمون ’’نئی غزل پر چند باتیں‘‘ شاید ان کی ابتدائی تحریر ہے کیوں  کہ اس میں  فکر کی وہ پختگی، صلابت اور توازن نہیں  جو ان کے دوسرے مضامین میں  ہمیں  نظر آتی ہے۔ غزل یا نظم ان اصناف میں  ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا، یہ باتیں  ہوتی رہی ہیں  لیکن یہ کہنا کہ ’’نظم سے ذرا تصنع کی طرف آئیے تو تصنع کی پہلی شکل غزل ہے‘‘۔ تماشائے بہ یک کف بردنِ صد دل‘ کے مصداق ساری غزلیہ شاعری کو تہِ شمشیر کرنے کے مترادف ہے۔ لطف کی بات یہ کہ خود اسلم عمادی نے کئی جگہ میر اور غالب سے لے کر ظفر اقبال، خورشید احمد جامی اور شاذ تمکنت کی غزلوں  کے کئی شعر اچھی شاعری کی مثال کے طور پر پیش کیے ہیں۔ اور بھی بہت سی ایسی باتیں  ہیں  جن کا ذکر مجھے اس لیے مناسب نہیں  لگتا ہے کہ شاید اسلم عمادی کے لیے بھی وہ اب قابلِ قبول نہ ہوں۔ ’’بحث و تمحیص‘‘ کے تحت ان کا ایک اور مضمون ’’نئی زندگی اور اردو شاعری‘‘ البتہ ان کے دوسرے مضامین سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس مضمون میں  وہ اس بات کا جائزہ لیتے ہیں  کہ دور حاضر کے تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل کس طرح آج کے ادب پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ صنعتی دور میں  انسانی قدروں  اور انفرادی صلاحیتوں  کے انحطاط کے نتیجے میں  نئی اردو شاعری میں  انہیں  جو بے راہ روی اور بحرانی کیفیت دکھائی دیتی ہے وہ اس سے دل برداشتہ نظر آتے ہیں۔ یہاں  ہم ان سے اختلاف یا اتفاق کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی رجائیت ہے کہ ان خیالات کے باوجود ادب اور زندگی کا فیوژن ان کے لیے صحرا میں  پھول کھلا دیتا ہے۔
غالب کی شاعری پر گفتگو کے دوران یہ کہنا کہ غالب کی شاعری میں  مضامین کی ندرت، مشکل پسندی اور معنی آفرینی کے بجائے لہجے کا فرق خاص طور سے محسوس ہوتا ہے، ایک نئے زاویہ نگاہ سے غالب کی شاعری کا تجزیہ ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ غالب کی شاعری کے ہمہ وقتی ہونے کا سبب اس میں  شامل وہ انسانی جذبات، مسائل اور موضوعات ہیں  جو ہمیں  آج بھی درپیش ہیں  اور گذرتے وقت کے ساتھ اس کی پرتیں  کھلتی رہتی ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ غالب جو نہیں  کہتا وہی کہتا ہے ان کی غالب شناسی کا ثبوت ہے۔ میرے خیال میں  یہی صفت (غالب کے علاوہ، بلکہ غالب سے زیادہ ) مومن کے کلام میں  ملتی ہے کہ جو بات کہی جائے درمیان سے اس کے کچھ ٹکڑے اس طرح حذف کر دیئے جائیں  کہ مضمون اور دلآویز ہو جائے۔ ’’خصوصی مطالعے‘‘ کے عنوان سے غالب کی شاعری کے علاوہ انہوں  نے اپنے چند پیش روؤں  اور معاصر شاعروں خورشید احمد جامی، سلیمان اریب، قاضی سلیم اور حسن فرخ کی شاعری کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ جامی کی شاعری میں  استعارہ، تشبیہ اور اشارہ۔ ان تین عناصر کی وحدانیت انہیں  ایک وجدانی کیفیت سے ہم کنار کرتی ہے تو قاضی سلیم کی شاعری میں  انسانی المیہ کو ازلی درد بنا دینے کی صفت انہیں  اپنی گرفت میں  لے لیتی ہے۔ اریب کی شاعری کو وہ مومن کے اس مصرع کی طرح پڑھتے ہیں   ع  ’’درد ہے جاں  کے عوض ہر رگ و پے میں  ساری‘‘۔ حسن فرخ ان کے ایسے دوست ہیں  جن کی شخصیت قبائے گل کی طرح ہے جس میں  کوئی گل بوٹا نہیں۔ حسن فرخ کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ ا س میں  ستم زدگی اور معصومیت کی سرحدیں  ایک دوسرے میں  مدغم ہو جاتی ہیں۔
ن۔ م۔ راشد اور سردار جعفری، دو مختلف الخیال اور مختلف العقیدہ شاعروں  پر ایک ہی کتاب میں  توصیفی انداز میں  لکھی گئی تحریریں  دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ کسی ذہنی تحفظ کے بغیر کسی بھی تحریک، رویے یا نظریہ ادب کے رد و قبول کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ انہوں  نے راشد اور سردار جعفری دونوں  کے نام اور مقام کی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جہاں  اختلافی پہلو نظر آیا وہاں  بڑی حد تک دھیمے لہجے میں  سلیقے سے اپنی بات کہی ہے۔ سردار جعفری کے مضمون میں  وہ لکھتے ہیں  ’’ترقی پسند شاعر اپنے مخاطب راہ روکو راستے میں  ٹھہر ٹھہر کر آدابِ جنوں  اور رسومات انقلاب سے واقف کراتا رہتا ہے کہ کہیں  سامراج کی چال بازی اور جعلسازی (بزعم خود) کے سایے میں  یہ رہ روان، رہِ طلب سے بھٹک نہ جائیں۔ بڑی ذمہ داری ان شاعروں  نے سنبھالی تھی۔ سردار جعفری بھی اسی رہبرانہ جذبے سے سرشار رہتے ہیں ‘‘۔ راشد کی نظم ’’البتہ +لیکن‘‘ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے البتہ وہ ہر مشکل مرحلے سے بہ آسانی گذر جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ راشد کے شعری رویے اور اسلوب سے انہیں  ذہنی مناسبت ہے۔ یوں  نظم میں  کئی تلازمات اور علامات کی گرہیں  ان کے لیے خود بخود کھل گئی ہیں۔ ن۔ م۔ راشد کی نظم کے علاوہ انہوں  نے عزیز قیسی کی نظم ’’نئے لوگ‘‘ اور زیب غوری کی ایک غزل کا بھی عمدہ تجزیہ کیا ہے۔ انہیں  پڑھتے ہوئے خواہش ہوتی ہے کہ ادبی رسائل میں  ’’اوراق‘‘ اور ’’سوغات‘‘ ہی کی طرح اگر تجزیاتی مطالعے کا سلسلہ پھر شروع ہوسکے تو کیا ہی اچھا ہو۔
’’حیدرآباد میں  اردو شاعری‘‘ ان کا ایک طویل مضمون ہے جس میں  انہوں نے ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۱ء تک شائع شدہ حیدرآبادی شعراء (مخدوم، اریب، شاذ سے لے کر علی الدین نوید تک ۲۸شاعروں، بشمول راقم الحروف) کے کلام کا جائزہ لیا ہے۔ یہ مضمون دل نشین انداز میں  ہلکے پھلکے تاثرات اور تنقیدی شذرات پر مبنی ہے۔ اگر اس مضمون پر کچھ اور محنت کی جاتی اور ذرا گہرائی سے اور ہر پہلو سے ان شعراء کے کلام کا جائزہ لیا جاتا تو یہ اس دور کی شاعری کا شناخت نامہ بھی ہوسکتا تھا۔ اسلم عمادی کی اس کتاب میں  خلیل الرحمن اعظمی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، وقار خلیل، خلیل چشتی، غیاث متین پر لکھے گئے تعارفی مضامین، یادیں  اور مختلف رسائل، کتابوں  پر تبصرے بھی شامل ہیں۔  اس مضمون میں  اس کی گنجائش نہیں  کہ ان سب پر اظہارِ خیال ممکن ہو لیکن یہ تحریریں  اسلم عمادی کی ادب کی ہر صنف میں  شغف، ان کے دروں  کی جھلک اور اپنے اطراف سے ان کی باخبری کا پتہ دیتی ہیں۔ مجھے امید ہے یہ کتاب ’’ادبی گفتگو‘‘ اسلم عمادی کے ادبی مرتبے میں  مزید اضافے کا سبب بنے گی۔
________
(’’اسباق‘‘پونہ)




غزل کے رنگ۔ ایک جائزہ


اکرم نقاش اور سہیل اختر نے پندرہ شاعروں  کا  منتخب کلام ’’غزل کے رنگ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ ابتدائی صفحات میں  ’’صراحت‘‘ کے عنوان کے تحت جن باتوں  کی صراحت کی گئی ہے۔ ان کے بارے میں  میں  بھی سوچتا رہا ہوں  اور میرا اپنا نقطۂ نظر ہے۔ پھر کچھ اور باتیں  بھی ہیں  جہاں  اختلاف کی گنجائش ہے۔ اس تحریر کا پہلا جملہ ہے ’’غزل کے رنگ‘‘ نئے غزل گو شعرا کے کلام کا انتخاب ہے۔ نئے شعرا سے مراد وہ شعرا جن کا شعری سفر۸۰ کے بعد شروع ہوتا ہے، جنہیں  ۸۰ کے بعد کی نسل کہا جاتا ہے‘‘ اس مجموعے میں جن شعرا کا کلام شامل ہے انہیں  بجا طور پر ۸۰ کی نسل کے نمائندہ شاعر کہا جا سکتا ہے۔ لیکن مجھے اس کتاب کو نئے غزل گو شعرا کے کلام کا انتخاب کہنے میں  ذرا تامل ہے۔ بادی النظر میں  یہ کسی ایک شاعر کے منتخب کلام ہی کی طرح ( جیسے شاذ تمکنت کا ’’ورقِ انتخاب‘‘) یہ کتاب کئی شاعروں  کی اجتماعی پیش کش لگتی ہے۔ کیونکہ ۸۰کے بعد کی نسل کے شعرا کے کلام کا انتخاب جو ایک عہد کا انتخاب ہو گا اس میں  ہم ۱۵ سے کہیں  زیادہ شعراء کی شمولیت کی توقع کریں  گے۔ آگے جو یہ لکھا گیا ہے کہ ’’جو لوگ زیادہ سرکولیشن میں  رہے اور کچھ گروہ بندیوں کا شکار بھی ہیں۔۔۔‘‘ وغیرہ، گویا انہیں  بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ میری سمجھ میں  نہیں  آتا آخر سرکولیشن میں  رہنے میں  کیا برائی ہے ہاں  گروہ بندی کے میں  بھی خلاف ہوں  لیکن ان گروہوں  میں  بھی اگر کچھ اچھے شاعر ہیں  اور ہم انہیں  محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر نظر انداز کر رہے ہیں  تو کیا ہم اپنا ایک الگ گروہ یا تھرڈ فرنٹ نہیں  بنا رہے ہیں  ؟ میرے خیال میں  ایک اچھے ادیب، شاعر کو افراد کی کوتاہیوں  کو نظر انداز کر تے ہوئے معاشرے کی برائیوں  کو ہدف بنانا چاہیے۔
ان گذارشات کے باوجود جب میں  نے یہ کتاب پڑھی تو مجھے اس مجموعے میں  شامل غزلیں  پڑھتے ہوئے ذہن و دل کی کشادگی کا احساس ہوا۔ کیوں  کہ اس مجموعے شامل شاعری ایسی ہے جو ہمارے جذبات کو جھنجھوڑتی ہے۔ ۸۰ کے بعد کی غزل میں  جو رجحانات، موضوعات، اور تخلیقی اظہارات ہیں  یہ مجموعہ ان کی خاطر خواہ نمائندگی کرتا ہے اور اگر یہ مجموعہ کمیت کے اعتبار سے ۸۰ کی نسل کی شاعری کا بھر پور اظہار نہیں  تو کیفیت کے اعتبار سے۸۰ کے بعد کی شاعری کا سمت نما یا واضح اشاریہ بہر حال ہے اور اب میں  اپنے خیالات میں  تھوڑی سی لچک پیدا کر کے اسے ۸۰ کے بعد کی شاعری کا انتخاب تسلیم کرتا ہوں۔
اس انتخاب کو پڑھتے ہوئے ( اب میں  لفظ ’’انتخاب‘‘ استعمال کر رہا ہوں ) مجھے جو خوشی ہوئی اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں  کسی عہد کا انتخاب ہمیں  اس عہد کے سچے انفرادی جذبات سے معمور داخلی یا خارجی زندگی کے تجربات کی رنگارنگ تخلیقی بو قلمونی کا نظارہ کراتا ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ مرتب یا مرتبین اس دور میں  شائع ہونے والے سارے یا بیش تر مجموعوں  اور ادبی رسائل کا دقّتِ نظر کے ساتھ خود مطالعہ کریں  اور انتخاب کریں۔ دوسری شرط یہ کہ وہ صاحب ذوق ہوں، دیانتدار ہوں  اور ان میں  خلوص اور لگن ہو۔ اس کتاب کے مرتبین نے اگر میری پہلی شرط پوری نہیں  کی تب بھی دوسری شرط ضرور پوری کی ہے اور فی زمانہ اگر یہ ایک نایاب صفت نہیں  تو کم یاب صفت ضرور ہے۔ انہوں  نے طریق کار یہ استعمال کیا کہ اپنے مطالعات کی بنیاد پر پہلے ناموں  کا انتخاب کیا پھر غالباً اُن شعراء ہی سے ان کی بہترین غزلیں  طلب کیں : یہ پروسس بھی ہمیں  اس لیے قابلِ قبول ہونا چاہئے کہ اپنی شاعری کا سب سے اچھا نقاد شاعر خود ہوتا ہے۔ اگرچہ کہ بہتر ضابطۂ عمل میرے نزدیک یہ ہوتا کہ انفرادی طور پر تخلیقات کو پہلے identifyکیا جاتا اور ناموں  کی اہمیت فروعی ہوتی۔ اس کے باوجود اس مجموعے میں  شامل غزلوں  کی خوبیوں  کے پیش نظر اس انتخاب کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ یہ انتخاب غزلوں  پر مشتمل ہے کیوں  کہ آج کل یہ خیال عام ہے کہ تخلیقی اظہار کے لیے نظم غزل سے زیادہ اظہار کی طاقت رکھتی ہے، حالانکہ یہ دونوں  اظہارات ایک دوسرے کی کمی پوری کرتے ہیں۔
انتخابات کی بات چھڑی تو ’’غزل کے رنگ‘‘ سے بہت پہلے اردو نظم اور غزل کے کئی اہم انتخابات جو مجھے حاصل رہے ہیں  اُن کا ذکر کرنا چاہوں  گا، جیسے شمس الرحمٰن فاروقی اور حامد حسین حامد ’’کانٹے نام‘‘(۱۹۶۷ء)(فضیل جعفری اسے تاریخی اہمیت والی انتھالوجی کہتے ہیں )، خلیل الرحمٰن اعظمی کا ’’نئی نظم کا سفر‘‘، سہ ماہی سوغات‘‘ بنگلور کا جدید نظم نمبر، شاہد ماہلی کا مرتب کردہ ’’نئی نظم نئے دستخط‘‘ اور حال ہی میں  شائع شدہ Great urdu Nazms by Kuldip Salil  جس میں  کلدیپ سلل نے منتخب اردو نظموں  کے انگریزی ترجمے کے علاوہ انہیں  اردو اور دیوناگری رسم الخط میں  بھی شائع کیا ہے اور مظفر حنفی کی ’’روح غزل‘‘۔ ان کے علاوہ اوصاف احمد کی مرتب کردہ ’’بیسویں  صدی کی بہترین اردو شاعری، اور پرکاش پنڈت کی پاکٹ بک سیریز کے تحت ’’مشاعرہ‘‘ ’’اردو کی بہترین شاعری‘‘ اور ’’پاکستان کی بہترین شاعری‘‘ جو بے حد مقبول ہوئیں۔ یہ سارے انتخابات ’’نئے نام‘‘، ’’نئی نظم کا سفر‘‘ یا ’’نئے کلاسیک‘‘ کی طرح اس مرتبے کے حامل نہیں  لیکن جس مقصد کے تحت یہ شائع کیے گئے کہ کچھ اچھی اردو شاعری عوام تک پہنچ سکے، اس مقصد میں  کامیاب ہیں۔ ان انتخابات کی قدر و قیمت اور اہمیت یہ ہے کہ یہ جس period کی نمائندگی کرتے ہیں  ان میں  شامل تخلیقات کی مدد سے اس عہد کی شاعری کی سمت و رفتار کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی بات ’’غزل کے رنگ‘‘ کے بارے میں  بھی کہی جا سکتی ہے لیکن اس اضافی وصف کے ساتھ کہ ’’روح غزل‘‘ ہی کی طرح یہ انتخاب غزلوں  پر مشتمل ہے۔ جب کہ اوپر جن انتخابات کا ذکر کیا گیا اُن میں  سے بیش تر جیسا کہ ان کے ناموں  سے ظاہر ہے صرف نظموں  کا انتخاب ہیں۔ استثنائی صورت شمس الرحمٰن فاروقی اور حامد حسین حامد کے ’’نئے نام‘‘ ( جس میں  غزلیں  بھی ہیں ) نئے کلاسیک‘‘ ( جس میں  نظم و غزلوں  کے ساتھ ساتھ چند کہانیاں  بھی ہیں  )۔ اور پھر پرکاش پنڈت اور کلدیپ سلل کی کتابیں  جن میں  نظم و غزلوں  دونوں  اصناف پر توجہ دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ’’غزل کے رنگ‘‘ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ اس نے بھی غزل کی صنف پر فوکس کیا اور اس مختصر لیکن مؤقر فہرست میں  اپنی جگہ بنانے کے لیے کوشاں  ہے۔
آج کے سینئر شاعر، ادیب جن میں  سے بیش تر کا تعلق ۶۰ء کے بعد ابھرنے والی نسل سے انہیں  یہ انتخاب ’’غزل کے رنگ‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے کیوں  کہ وہ اس غلط فہمی یا خوش فہمی کا شکار ہیں  کہ انہوں  نے یا اُن کے معاصر ادیبوں  نے جو لکھ دیا وہی حرفِ آخر ہے جب کہ اچھی بری شاعری ہر دور میں  ہوتی رہی ہے اور اُن ہی کے پیش روؤں  جن میں  ترقی پسندوں  کے علاوہ حلقۂ ارباب ذوق کے شاعر بھی ہیں  وہ اپنے بعد ابھرنے والے شاعروں  کی ہمت افزائی کرتے رہے۔ ترقی پسندوں  اور حلقے کے ادیبوں  میں  اگر اختلافات تھے تو زیادہ تر نظریاتی تھے۔ اس کی سب سے روشن مثال وہ سالانہ انتخابات ہیں  جو میرا جی نے حلقے کے زیر اہتمام شائع کیے اور اُن کی کتاب ’’اس نظم میں ‘‘ جس میں  انہوں  نے اپنے ایسے مخالفین جو انہیں  رجعت پسند، جنس زدہ اور نہ جانے کیا کیا کہتے تھے ان کی نظمیں  شامل کیں  اور جوشؔ سے لے کر اس وقت کے چند نہایت غیر معروف شاعروں  کی ایسی نظموں  کا نہایت خوبصورت تجزیہ کیا جو اپنے حسن و خوبی کے باعث اس توجہ کی حقدار تھیں۔ ہمیں  میراجی کے ادبی کردار کی اس خوبی کو اپنانا چاہیئے۔ میں  چاہوں  گا کہ ہمارے نوجوان مرتبین بھی اسی روش کو اپنائیں۔
ایک بات اور۔ وہ یہ کہ ہماری زبان میں  یہ خیال عام ہے کہ انگریزی ادب اور تحریکوں  سے واقفیت سے قبل اردو میں  تنقید کا کوئی وجود ہی نہیں  تھا۔ تحریک انجمن پنجاب نے اس خیال کو ہوا دی جس کے نتیجے میں  نظم کی تنقید اور تحسین پر ہی زیادہ کام ہوا اور غزل سے بے اعتنائی برتی برتی گئی، عصری منظر نامے میں  بھی ہمارے نقادوں  نے دور حاضر کی غزل کو کم کم ہی موضوع بنایا ہے۔ سہ ماہی ’’اوراق‘‘ لاہور میں  وزیر آغا اور سوغات‘‘میں  محمود ایاز نے یہ سلسلہ شروع کیا کہ مختلف شعراء کی نظمیں  معروف نقادوں  کو شاعروں  کا نام مخفی رکھ کر تجزیئے کے لیے بھیجی جائیں  تاکہ پتہ چلے کہ کون کتنے پانی میں  ہے۔ لیکن غزل کو یہ مرتبہ نہیں  دیا گیا۔ پچھلے چند دہوں  کی تنقید میں  بھی معاصر غزل کو وہ اہمیت نہیں  بخشی گئی جس کی وہ مستحق ہے بلکہ شاید زیادہ مستحق کیوں  کہ وہ اس شعری روایت اور صدیوں  کی پروردہ تہذیب سے مالا مال ہے جو ہمارا ادبی ورثہ ہے۔ محمد حسن عسکری نے صحیح لکھا ہے کہ اردو میں  تنقید کی کمی کا شکوہ کرنے والے لوگ وہ ہیں  ’’(جو) غزل کے کلچر سے تعصب کا ثبوت دیتے ہیں  بلکہ ادب کی نفسیات اور انسان کے دماغ سے ناواقفیت کا بھی۔ کوئی شعر سن کر اگر کسی آدمی کے منہ سے بے ساختہ واہ نکل جاتی ہے تو یہ امر بذاتِ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اندر تنقیدی شعور ہے خواہ وہ ناقص اور غیر تربیت یافتہ ہی کیوں  نہ ہو۔۔۔ غزل کے دور میں  بھی ہمارے یہاں  بڑا مہذب اور نکھرا ہوا ادبی ذوق اور تنقیدی شعور موجود تھا۔ کمی ہمارے یہاں  یہاں  یہ رہی ہے کہ مغرب کی طرح اس شعور کو عقلی اصطلاحوں  میں ڈھالنے اور اصولوں  کی شکل دینے کی کوشش نہیں  کی گئی‘‘ (’ہندوستانی ادب کی پرکھ‘۔ محمد حسن عسکری)۔ میری ناچیز رائے میں  اس شعور کو (غزل کی تنقید پر بہ طور خاص) مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر اس انتخاب ’’غزل کے رنگ‘‘ کا کینوس کچھ اوروسیع ہوتا اور اس میں  چند تنقیدی مضامین بھی شامل ہوتے یا کم سے کم ہر شاعر کے منتخب کلام سے پہلے کچھ تنقیدی کلمات شامل ہوتے جن سے ان غزلوں  کی خوبیوں  کی نشان دہی ہو سکتی تو بہتر تھا۔
غزل کی شاعری اپنے اندر نہایت وسیع امکانات رکھتی ہے۔ ایک اچھے شعر کے دو مصرعوں  میں  لفظوں  کے پیچھے معانی قطار در قطار کھڑے رہتے ہیں۔ لفظوں  ہی میں  نہیں  بلکہ لفظوں کے درمیان وقفوں  یا Pauses میں  بھی اہل نظر کے لیے معانی کی مختلف شکلیں  ابھرتی ہیں  جس کی سب سے اچھی مثال مومن اور غالب کی شاعری ہے جس میں ہمیں  اس طرز کے کئی اشعار ملتے ہیں۔ غزل ہر دور میں مقبول رہی ہے۔ لیکن غزل اور خاص طور پر دور جدید کی غزل پر تنقیدی تحریروں  کی کمی کا سبب میرے خیال میں  یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کام قابل قدر تو ہے لیکن ساتھ ہی نہایت صبر آزما بھی۔ ’’غزل کے رنگ‘‘ کے بارے میں میری رائے ہے کہ یہ کتاب ایسے نقادوں  کی بھیجی جائے جو ہماری کلاسیکی سرمائے کے ساتھ ساتھ اس پر آشوب دور کے عصری مسائل سے بھی آگاہ ہوں۔ ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اس انتخاب میں  شامل شعراء کی غزلوں  پر انفرادی یا مجموعی طور پر اظہار خیال کریں  تاکہ جس مقصد کے تحت یہ کتاب ترتیب دی گئی ہے اس کی تکمیل ہو اور اس کتاب کی مناسب تشہیر ہو سکے۔
ادب کا ایک عام قاری غزلیہ شاعری میں  وہ موضوعات تلاش کرتا ہے جو اپنی تکرار کے باعث تسلیم کیے جا چکے ہیں  خواہ وہ کتنے ہی پامال اور فرسودہ کیوں  نہ ہوں۔ اپنے ہی عہد کی سچی شاعری اسے نا مانوس نظر آتی ہے کیوں  کہ اس کے ذہن نے ابھی اتنا سفر طئے نہیں  کیا۔ بیسویں  صدی کے اختتام اور اکیسویں  صدی کے آغاز تک آتے آتے سائنسی اور صنعتی ترقی اور مغربی تہذیب کی یلغار نے ہمارے مروجہ عقائد سے لے کر ہمارے رہن سہن اور لباس تک میں  جو انقلاب پیدا کیا ہے اس کے نتیجے میں  ہماری شاعری میں  انتہائی شخصی تجربوں  کی گونج اور مروجہ اخلاقی، مذہبی اورجمالیاتی قدروں  کی شکست و ریخت نے ایک بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ۸۰کی نسل کا یہی مقدر ہے۔ اس سے پہلے ترقی پسندوں  کے پاس ایک واضح لائحہ عمل تھا۔ حلقے کے شاعروں  کے لیے ہئیت کے تجربے، فرد کی آزادی اور انفرادی فکر اہمیت رکھتی تھی۔ جدیدیت کے علمبرداروں  نے حلقے کی روایت کو آگے بڑھایا لیکن ایک مخصوص آئیڈیالوجی کا انہدام نئے افکارو علوم سے آگہی اور مشرقی اقدار کا احترام انہیں  مقدم تھا۔ مابعد جدیدیت نے علوم و افکار کی سرحدوں  کے درمیان خط فاصل کو ماننے سے انکار کیا۔ ۸۰کے بعد کی نسل کے شاعری کا غالب رویہ کیا ہے؟ کیا یہ شاعری مختلف خانوں  میں  بٹی ہوئی محض ردّ عمل کی شاعری ہے۔ انتہائی پیچیدہ شخصی تجربات، گمشدہ تہذیبی اور تمدنی شناخت میں ناکامی کے باعث شاعری میں  لفظ کا یکسر نجی استعمال۔ مابعد الطبیعیاتی فکر، کبھی خالص ارضی پناہ گاہوں  کی تلاش جو انہیں  کبھی گھر، کبھی جنگل اور کبھی کسی مسجد یا مندر کی گلیوں  میں  چھوڑ آتی ہے۔ آخر یہ شاعری ہے کیا؟کس سمت میں  گامزن ہے؟ہمارے نقادوں، شاعروں  ادیبوں، سب ہی دانشوروں  کو اپنے اپنے تقلیدی رویوں  کو خیر باد کہتے ہوئے ان سوالوں  کے جواب دینے ہوں گے۔ میں نے اس مجموعے میں شامل شعراء کی غزلوں  ہی میں  ان سوالوں اور جوابوں  کے عکس ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ جواب نہ بھی ملیں تو کچھ دیر کے لیے ذہن کوتسکین اور ذوق کی آبیاری تو ہوتی ہے۔ اس انتخاب کے مطالعے میں  ہر شاعر کی غزلوں سے کم سے کم، کچھ ایسے شعر پیش کر نا چاہوں  گا جنہوں  نے میری پلکوں  پر ہاتھ رکھا ہے اور میرے ذہن کے دروازے پر دستک دی ہے؎
کوئی سبیل ہو ایسی کہ سب سنبھلتے رہیں  
ہوا بھی چلتی رہے اور دیئے بھی جلتے رہیں
_____
اب بھی تن تیغ سے لڑ جائے تو چھن بولتا ہے
وقت نے اس پہ اگر دھُول جمادی ہے تو کیا
___ّّّّ__
کچھ ستارے مری پلکوں  پہ چمکتے ہیں  ابھی
کچھ ستارے مرے سینے میں  سمائے ہوئے ہیں
                                             (ارشد عبد الحمید )
_____
یہ ساری بے منظری سوادِ سکوت سے ہے
صدا وہ چمکے تو دھند کے آر پار دیکھوں
_____
چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا
اپنا تو شب کے ہاتھوں  خسارہ بہت ہوا
_____
سینۂ شب کو چیر کر دیکھوں  تو کیا سماں  ہے اب
منزل دل کے سامنے کوچۂ جاں  کے آس پاس
                                                 (احمد محفوظ)
_____
حیرت کے دفتر جاؤں  
میں  اپنے اندر جاؤں
_____
بھید ایسا کہ گرہ جس کی طلب کرتی ہے عمر
رمز ایسا کہ سمجھنے میں  زمانے لگ جائیں

بہ ظاہر دیکھتی آنکھیں، بہ ظاہر جاگتی روحیں
بظاہر اُن سبھوں  کے ساتھ ہی جیتا رہا میں  بھی
                                             (اکرم نقاش)
_____
شاخ دل غنچۂ غم، دشت ہوس
سب تو ہے دیکھا ہوا کیا دیکھوں
_____
خشک آنکھوں  سے خشک دامن  تک
یہ سفر گام گام درد کا ہے
_____
پھر کھلتی ہے سنگ در کی تقدیر
رستا ہے لہو جبیں  سے پہلے
                              (اقبال خسرو قادری)
_____
کسی بے غروب نگاہ سے کسی لازوال شعاع میں  
سبھی زاویوں  سے الگ تھلگ مجھے حل کرو مراحل نہیں
_____
ذرا مبہم سہی محفوظ تو رہ جائیں  گے چہرے
تراشوں  سنگ، آئینے سایہ دھوکا نہیں  دیتا
_____
جو مجھ سے چھوٹ جائیں  گے وہ منظر کون دیکھے گا
سفر پر میں  چلا جاؤں  مرا گھر کون دیکھے گا
                                             (تفضیل احمد)
_____
روح کو پہلے خاک سار کیا
پھر بدن میں  نے تار تار کیا
_____
انگلیاں  اُٹھتے اُٹھتے گرنے لگیں
ہم نے جب آسمان پار کیا
_____
رَن میں  پھر بھی رنگ جمائیں  گے ساجدؔ
موم کی گو تلوار ہے اور شیشے کی ڈھال
                                      (ساجد حمید)
_____

خزاں  کی آزمائش ہو گیا ہوں  
میں  اک جنگل کی چاہت میں  ہرا ہوں
_____
کوئی پانی میں  کب تک رہ سکے گا
میں  اشکوں  سے تو آنکھوں  تک بھرا ہوں  
_____
کوئی وحشت سے بھی ملوائے مجھ کو
میں  صحرا میں  ابھی بالکل نیا ہوں  
                                           (سہیل اختر )     
_____
ہیں  اب اس  اک  فکر میں  ڈوبے ہوئے ہم
اُسے کیسے لگے روتے ہوئے ہم
_____
کوئی دیکھے نہ دیکھ سالہا سال
حفاظت سے مگر رکھے ہوئے ہم
_____
ابھی تک خامشی کچھ سن رہی ہے
یہاں  آواز کتنی گونجتی ہے
                                      (شارق کیفی ) 
_____
مرے بدن میں  عشاء کی اذان گونجی ہے
میں  اُس نماز کو پڑھتے ہی سونے والی ہوں
یوں  گھُل رہا ہے تری یاد کا نمک مجھ میں
برائے نام ہے میری چمک دمک مجھ میں
_____
میں  بھوکے بچوں  کی قسمت کو باگھ کے منہ سے
نہ چھین پائی وہ مسجد میں  سجدہ کرتا رہا
                                      (عذرا پروین ) 

خون رونے کے سوا کچھ نہیں  باقی ان میں  
کیسے آسودۂ خنجر ہوئیں  آنکھیں  میری
_____
مکاں  جلے ہیں  مکینوں  کے قتل عام کے بعد
مہک لہو کی امنڈتے دھوئیں  سے آتی ہے
_____
روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا
دہشت تنہائی سے کیا خوب گزر ہم نے کیا
                                      (راشد طراز )
_____
جو قید کرنا ہے مجھ کو تو اُس بدن میں  کرو
کہ جس بدن سے دکھائی دے آر پار مجھے
_____
کمال تب ہے کہ سنورے وہ اپنے درپن میں
اور اس کا عکس مرے آئینے میں  آ جائے
_____
اک مدت سے فاصلہ تھا صرف ہمارے بیچ ہی کیوں  
سب سے ملتا رہتا ہوں  میں سب سے ملتا تو بھی ہے
                                      ( فراغ روہوی )
_____
اسی سے اجملؔ تمام فصل غبارِ صحرا
اداس آنکھوں  میں  پھر بھی روشن دیا اسی کا
_____
بہت ہوا تو ہواؤں  کے ساتھ رو لوں  گا
ابھی تو ضد ہے مجھے کشتیاں  ڈبونے دے
_____
تہذیب کی رگوں  سے ٹپکتے لہو سے تر
دہلیز میں  بڑا ہوا اخبار میں  ہی تھا
                                      (کبیر اجمل )
_____
مجھے کیا اعتراض ان کی اڑانوں  پر دھماکوں  پر
مگر وہ ریت ان آنکھوں  میں  جوہر بار گرتی ہے
_____

ناپ سکتا ہے کوئی سرد ہوا تیرے سوا
یہ جو خندق ہے مرے چار سو ویرانی کی
_____
تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے
دیکھتے رہے ہیں  دیوار سے جاتے ہوئے ہم
                                      (نعمان شوق)
_____
میرے وجود سے تھا تماشہ یہاں  ندیمؔ
میں  کیا گیا کہ ساتھ مرے خیر و شر گیا
_____
لوگ ہوتے ہی اذاں  اپنے سفر پر نکلے
جاگ بھی جاؤ سمیٹو میاں  بستر تم بھی
_____
زندگی لائی کہاں  ہم کو بتاؤ جاویدؔ
آنکھ حیرت سے تہی خوں  بھی ہے دل سے غائب
                                      (جاوید ندیم )
_____
بہ وقت شام جو سورج غروب ہوتا ہے
میں  اس کی آنکھ میں  اپنا زوال دیکھتا ہوں
_____
منظر کی دیوار کے پیچھے اک منظر
کالی چادر سے منہ ڈھانپے اک منظر
_____
چہرہ پڑھنا چاہوں  تو اوجھل ہو جائے
دور کھڑا  پھر ہاتھ ہلائے اک منظر
                                      ( خورشید طلب)
_____
ان اشعار کو پڑھنے کے بعد میں  سمجھتا ہوں  آپ کو اندازہ ہوا ہو گا کہ اس شاعری پر یکسانیت کا الزام نہیں  لگایا جا سکتا۔ یہ وہ شاعری بھی نہیں  جو کسی منصوبہ بند اجتماعی تحریک یا کسی مخصوص رجحان کے زیر اثر لکھی گئی ہو بلکہ یہاں شخصی تجربوں  کی آنچ ایسی ہے کہ کہیں  تو نجی اظہار کے لیے بھی لفظ کو معنی کی سطح سے اوپر اٹھ کر اپنی علاحدہ فضاء تشکیل کرنا پڑتی ہے۔ کیا یہ بدلتے موسموں  کی آمد کا اطلاع نامہ نہیں  ہے؟۔
________
 (سہ ماہی ’’اذکار‘‘)




شفیق فاطمہ شعریٰ کے ساتھ ایک بے تکلف گفتگو


مصحف اقبال توصیفی:خلیل مامون صاحب نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں  آپ کے فن اور آپ کی زندگی کے بارے میں  کچھ باتیں  قارئین تک پہنچانے کی کوشش کروں۔ اس وقت گفتگو کے آغاز پر مجھے مومن کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔ جو میرے خیال میں  یا تو مومنؔ کہہ سکتے تھے یا ہمارے اس عہد میں  بس آپ کہہ سکتی ہیں۔ (مومنؔ کی روح سے معذرت کے ساتھ) اگر ہم اس شعر میں  تھوڑی سی تبدیلی کرسکیں  کہ لفظ ’’تم‘‘ کی جگہ’’سب‘‘ رکھ دیں  تو یہ شعر یوں  ہو گا؎
خود بینی و بے خودی میں  ہے فرق
میں  ’’سب‘‘ سے زیادہ کم نما ہوں
        خود بینی و بے خودی کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن آپ کی کم نمائی کا سبب کہیں  یہ تو نہیں  کہ آپ کے گھر کا ماحول بہت مذہبی، بہت قدامت پرست تھا۔ لڑکیوں  کی تعلیم، شعر و ادب سے شغف، لکھنے پڑھنے پر روک ٹوک کہ یہ پڑھو، وہ نہ پڑھو، یہاں  جاؤ، وہاں  نہ جاؤ، کیا ایسی پابندیاں  تھیں ؟ ہمیں  اپنے بچپن کے حالات، اپنے والدین، بزرگوں، بھائی، بہنوں، گھریلو ماحول اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں  بتایئے؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:  والدین کی چوتھی بیٹی ہونے کے بعد انہوں  نے سوچا کہ بس ہم اپنی اس بیٹی کو بیٹوں  کی طرح پالیں  گے۔ ان کی بات میں جان تھی۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا۔ بچپن کھیل کود اور من مانی کتابیں  پڑھنے میں  ختم ہوا۔ باہر کھیلنے پر بھی کوئی پابندی نہیں  تھی لیکن خود کھیلنے کے بجائے ہم دور بیٹھے چھوٹے بھائی غضنفر اور دوسرے بچوں  کے کھیل کود کا تماشا دیکھتے رہتے۔ گھر لو ٹ کر کتابوں  کا ایک ذخیرہ تھا اور ہم۔
        ابا ّسید شمشاد علی کو کتابیں  جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ خود تاریخ میں  ایم۔ اے تھے۔ تاریخ سے ہٹ کر معیاری ادب اور تصوف کا سرمایہ بھی ہمارے گھر میں  محفوظ تھا۔ گھر کی کھلی فضا میں  نظریاتی اورمسلکی اختلافات پر بحث مباحثہ کی پوری آزادی تھی۔ قرآن مجید پہلے زبانی یاد کیا پھر ترجمہ کی نوبت آئی۔
        گھر کے باہر کا ماحول ایسا تھا کہ پریم چند کے ناول پڑھتے وقت یہ احساس ہوتا کہ آنکھوں  دیکھا حال ہے۔ انیسؔ کے مرثیے پڑھتے ہوئے حالی کی مسدّس بھی یاد آتی۔ دونوں  کے درمیان جو زمانی فصل تھا اسے محسوس کرتے مگر بیان کرنا مشکل تھا۔ شعر العجم کی کوئی جلد اٹھا کر کہیں  سے بھی پڑھتے اور جہاں  دل چاہتا کتاب بند کر دیتے۔ رامائن اور مہابھارت کے کرداروں کا حوالہ بھی عام گفتگو میں  دیا جاتا۔ یہ کتابیں  ہمارے گھر میں  موجود تھیں۔ ’ضربِ کلیم‘ کی ورق گردانی کرتے ہوئے احساس ہوا کہ شاعر نے اس مجموعہ میں  اپنا لہجہ ہیرے کی دمکتی ہوئی صلابت سے تراشا ہے۔ پھر ارمغان حجاز۔ تو ہم نے اس کا منظوم اُردو میں  ترجمہ کیا۔ جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ ادھورا رہ گیا۔ اس دوران ہم نے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ گیتا مراٹھی میں  پڑھی۔ اب پتہ نہیں  وہ سب کتابیں  کہاں  ہوں گی۔
        گھر میں  در ویشوں  اور مجذوبوں  کی پذیرائی کا ایک سلسلہ تھا جو کبھی ختم نہ ہوا۔ ننھیال میں  یہ صورت حال نہیں  تھی۔ نانا سید اکرام علی نے اُس زمانے میں میٹرک کیا تھا۔ ناگپور میں  محکمہ تعلیمات سے وابستہ رہے۔ گھر میں  کتابوں  کا جو ذخیرہ تھا اس میں  خانقاہی رسم پرستی کے خلاف بہت مواد تھا۔ وہ اپنی تقریروں  میں  بھی اس موضوع پر لوگوں  کو مخاطب کرتے اور نصیحت کرتے۔ بڑے ماموں  نے تحریک آزادی میں  شریک ہونے کی خاطر اپنی تعلیم کاسلسلہ بی۔ اے کرتے ہوئے ختم کر دیا۔ ملک کی آزادی کے بعد اُن کے نام بھی تحریک آزادی میں  شریک شہری کی حیثیت سے پنشن جاری کی گئی۔ ننھیال کے لوگ فتح پور سے غدر کے بعد سی پی(مدھیہ پردیش ) آ گئے تھے۔
مصحف اقبال توصیفی:اپنی زندگی کے کچھ دلچسپ واقعات بتائیں۔ آپ جس محلے میں  رہتی تھیں۔ آپ کے اہل خاندان بزرگوں، بھائی بہنوں  میں  کوئی شاعر، ادیب۔۔۔ ؟ آپ کی شاعری کے شوق کا محرک کیا تھا؟ سنا ہے کچھ شاعر، ادیب آپ سے ملنے آپ کے گھر بھی آ جاتے تھے اور آپ کے والدین کو اس پر اعتراض نہیں  تھا۔ اپنے آبائی وطن سہارنپور، ناگپور جو آپ کی جائے پیدائش ہے، اورنگ آباد جہاں  آپ پلی بڑھیں، پھر شادی کے بعد حیدرآباد آئیں  اور یہیں  کی ہو کر رہ گئیں۔ ’یادِ ایاّمِ عشرت فانی‘۔۔۔ بہت یادیں  ہوں  گی۔ کچھ ایسے واقعات، خوشگوار حادثات جو آپ کے حافظے کا حصہ بن گئے؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:  ملک کی تقسیم کے بعد اورنگ آباد منتقل ہوئے۔ ابّا کا وطن سہارنپور میں  تحصیل رُڑکی کا ایک گاؤں  مادھوپور تھا۔ علی گڑھ سے بی اے کرنے کے بعد انہوں  نے ناگپور کے محکمہ تعلیمات سے ملازمت کا آغاز کیا۔
        اورنگ آباد میں  قدیم تہذیبوں  کے آثار پھیلے ہوئے تھے۔ یہاں  ہم خوب گھومے پھرے۔ یہاں  آنے کے بعد رائج الوقت تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوا، گھر کی معاشی حالت سدھارنے کے لئے اس طرف متوجہ ہونا پڑا۔ بڑی بہن انیس فاطمہ نے انگلش میں  ایم اے کیا تو یہ سلسلہ چل پڑا۔ اسکولوں  میں  اور کالجوں  میں  ملازمت کے دروازے کھلنے لگے۔ ہم نے میٹرک کیا اور فرسٹ آئے۔ بی اے میں  بھی یہی ڈویژن رہا۔ پھر ناگپور یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ تب کہیں  جا کر مولانا آزاد کالج(اورنگ آباد) میں  لکچرر شپ کے لئے منتخب کئے گئے۔ اس کالج میں  مخلوط تعلیم تھی۔ کسی نے اس پر اعتراض نہیں  کیا۔
        اورنگ آباد میں  ہمارے گھر شاعروں  کی آمد و رفت رہی۔ ابا مرحوم کے رہتے ہوئے بھی باہر کے شاعر، ادیب اور نقاد گھر کا پتہ پوچھتے پوچھتے چلے آتے۔۔۔ ابا نے کبھی اعتراض نہیں  کیا۔
مصحف اقبال توصیفی:اورنگ آباد کے کون شاعر۔۔۔ ؟
شفیق فاطمہ شعریٰ: کئی شاعر، ادیب، قاضی سلیم، وحید اختر، صفی الدین صدیقی، ابراہیم رنگلا وغیرہ۔
        (گفتگو جاری رکھتے ہوئے)  اس دوران دو چھوٹی بہنوں (قدسیہ اور ذکیہ) کو میڈیکل کالج میں  داخلہ دلوانے پر ابا ناراض ہو کر وطن چلے گئے۔ ان کی غیر موجودگی میں  چھوٹے بھائی سلمان نے انجینئرنگ کالج میں  داخلہ لے لیا اور کامیابی سے ڈگری حاصل کی۔ ابا اس پر بھی خوش نہیں  ہوئے۔
مصحف اقبال توصیفی:تو گویا لڑکیوں  کی تعلیم کے بارے میں  آپ کے والدین کے مابین اختلاف نے ایسی صورت اختیار کر لی کہ آپ کے والد ناراض ہو کر وطن لوٹ گئے۔ ایک طرف آپ کے والد شاعروں، ادیبوں  سے آپ کے ملنے پر معترض نہیں  ہوئے اور تعلیم نسواں  کے اس قدر مخالف؟بات کچھ سمجھ میں  نہیں  آئی۔ پھر آپ کے والدین میں  میل ملاپ ہوسکا؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:  ابا ّ ثقہ ادبی گفتگو یا مباحث کے خلاف نہیں  تھے لیکن وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں  نوعمری میں  مخلوط تعلیم کے تجربے سے نہ گزریں۔ ہمارے والدین کا رشتہ اس اختلاف کے باعث منقطع نہیں  ہوا۔ خط کتابت جاری رہی۔
        والدہ ظفرالنساء بیگم نے ہر قدم پر ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں  نے فارسی پڑھائی اور دیوانِ حافظ کے قریب لا کر چھوڑ دیا۔ حافظ ہمارے عزیز ترین شاعر رہے ہیں۔ زندگی کے ہر دور میں  ہم اس دیوان کی غزلوں  پر عَش عَش کرتے رہے۔
        اورنگ آباد میں  رہتے ہوئے دنیا و مافیہا سے بے خبر خود اپنی شاعری کی طرف متوجہ ہوئے۔ ’فصیلِ  اورنگ آباد ‘نے پہلے ہی ہلیّ میں  با ذوق قارئین کے دل جیت لئے۔ بہت سے قاری یہ نہیں  جانتے کہ ہم واقعی اس فصیل پر چڑھے تھے۔ چھوٹی بہن ساتھ تھی، اس نے کہا تھا باجی ہم نہیں  سمجھتے تھے کہ آپ اس فصیل پر بغیر کسی سیڑھی کے چڑھ سکتی ہیں۔ اب اسکول جا کر سب کو بتائیں  گے۔ ہم نے کہا اب اترنے کے لئے بھی کوئی سیڑھی نہیں  ہے۔ ہمارا ہاتھ پکڑ لو اور زیادہ بک بک نہ کرو۔
مصحف اقبال توصیفی:میں  نے آپ کی نظمیں  سب سے پہلے ’’گجر‘‘ جو نجم الثاقب شحنہ کی ادارت میں  شائع ہوتا تھا اس رسالے میں  اور ’’صبا‘‘ میں  دیکھیں  جس کے مدیر سلیمان اریب تھے۔ یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے۔ اس وقت آپ کے ساتھ کے لکھنے والوں  میں  شاذ تمکنت، وحید اختر، قاضی سلیم، بشر نواز، انور معظم، زبیر رضوی، عزیز قیسی، مغنی تبسم کے نام نمایاں  تھے۔ آپ سب کی ادبی حیثیت تسلیم کی جاچکی تھی بلکہ مسلّم تھی۔ میں  نے دیکھا ورنہ سنا ہے، مخدوم اور شاہد صدیقی کا حیدرآباد ہو، خلیل الرحمن اعظمی کا اُس دور کا علیگڈھ، بمبئی ہو کہ لکھنؤ، جہاں  معاصر شعر و ادب پر گفتگو ہو آپ کا نام کہیں  نہ کہیں  ضرور آ جاتا۔ ہر چند کہ ’’کوئی محل یہ تری برقع افگنی کا نہ تھا‘‘ آپ نہ کسی ادبی محفل میں  نظر آتیں  نہ مشاعروں  میں  شریک ہوتیں۔ حالانکہ آپ کالج میں  پڑھاتی تھیں۔ کیا آپ کے شوہر بہتPossessive، پرانے خیالات کے حامل تھے۔ نہیں  چاہتے تھے کہ آپ شاعروں، ادیبوں  میں  اُٹھیں  بیٹھیں، کہیں  آئیں  جائیں  یا یہ محض آپ کی عزلت پسندی تھی؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:معاصرین قابلِ رشک تھے۔ ہم شادی کے بعد بھی انہیں  یاد کرتے رہے۔۔۔
مصحف اقبال توصیفی:ملاقاتیں  بھی رہیں ؟ وحید اختر بھی تعلیم کے سلسلے میں  جامعہ عثمانیہ میں  داخلہ لے چکے تھے۔ حیدرآباد میں  تھے۔ انور معظم بھی۔۔۔ اُن کے علاوہ شاذؔ، زبیرؔ ، اریبؔ، مخدومؔ، قیسی۔ؔ ۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:ہماری سسرال میں  ایسا طریقہ نہیں  تھا۔ البتہ وحیدؔ خاندانی مراسم کی بنیاد پر ملنے آ جاتے تھے۔ وحیدؔ کی بیوی ہماری دوست تھیں۔
        حیدرآباد کا ماحول اورنگ آباد سے مختلف تھا۔ ولی اللہ صاحبAPAU(اگریکلچرل یونیورسٹی) سے وابستہ تھے۔ وہ امریکہ سے وٹرنری سائنس کی ڈگری لے کر لوٹے تھے۔ گاؤں  گاؤں   Extension Educationکے سلسلے میں  وہ ریاست کے مختلف مقامات کا دورہ کرتے تھے۔
        میں  ممتاز کالج میں  لکچرر تھی جہاں  مخلوط تعلیم تھی۔ اُن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں  تھا۔ ادیبوں  اور شاعروں  سے گھر پر ملنے کا طریقہ یہاں  نہیں  تھا۔ میں  نے سب کو خط و کتابت کے لیے کالج کا پتہ دے دیا تھا۔ اپنی مرضی سے۔ ولی اللہ کو اپنی مرضی چلانے کی عادت نہیں  تھی۔
مصحف اقبال توصیفی:کیوں۔۔۔ ؟ کالج کا پتہ کیوں  ؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:کیوں  کہ سسرال کے سب ہی لوگ ولی اللہ کی طرح روشن خیال نہیں  تھے۔۔۔ وہ کہتے تھے کہ مجھے اس پر کبھی رشک نہیں  آتا بلکہ فخر محسوس ہوتا ہے کہ تم جہاں  بھی رہی ہو مقبول خلائق رہی ہو۔ مگر تمہاری شاعری کوسمجھنا میرے لیے مشکل ہے۔
        ولی اللہ صاحب کو دعوتیں  کرنے کا بہت شوق تھا۔ ہر مہینہ کسی نہ کسی بہانے دعوت کا انتظام۔ ہماری مشترکہ آمدنی ان دعوتوں  میں  کھپ کے رہ گئی۔ پرانے گھر کو نیا بنانے کی نوبت نہ آئی اب جا کے کہیں  وہ ادھورا بنا کھڑا ہے۔
مصحف اقبال توصیفی:تو اس گھر میں  ہم سب ادیبوں، شاعروں  کی دعوت ہو گی۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:ضرور۔۔۔ فی الحال ہم باری باری اپنے تین فرزندوں  کے گھر رہتے ہیں۔ بڑے محب اللہ واصف جنہوں  نے آرکی ٹیکچر میں  ڈگری لی ہے۔ دوسرے ثنا اللہ قسیم۔ کمپیوٹر انجینئر۔ تیسرے اکرام اللہ امان انہوں  نے فارمیسی کی ڈگری لی، پھر ایم۔ بی اے کیا اور اسی ڈگری کی بنا پر ایک کالج میں  لکچرر ہیں۔
مصحف اقبال توصیفی:آپ کے کلیاّت’’سلسلۂ مکالمات‘‘ (۲۰۰۶ء) کے مطابق آپ کے پہلے مجموعے ’’آفاقِ نوا‘‘ کا سن اشاعت۱۹۸۷ء ہے۔ پھر اسی کلیات میں  بعد کے تین اور مجموعوں  کے نام ہیں ’’کرن کرن یادداشت‘‘۔ ’’سلسلۂ مکالمات‘‘ اور ’’گلۂّ صفورہ‘‘ اور ان سب پر۱۹۶۵ء کی تاریخ درج ہے۔ میرے پاس ’’گلہ صفورہ‘‘ کاجو نسخہ ہے(مطبوعہ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی) اس کے اندرونی صفحات پر لکھا ہے ’’پہلی بار۱۹۹۰ء۔۔۔۔‘‘ یہ سب کیا گڑبڑ ہے؟ آپ کی شاعری پر تحقیق کرنے والے تو ان ہی بھول بھلیّوں  میں  الجھ کر رہ جائیں  گے۔ آپ کی شاعری پر گفتگو سے پہلے میں  چاہتا ہوں  آپ بتائیں  کہ آپ کے شعری مجموعے کس ترتیب میں  کس کس سن میں  شائع ہوئے؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:جو کچھ لکھا اس کی اشاعت کے مرحلے بہت بعد میں  آئے۔ ان کی ترتیب اس طرح ہو گی:
        ’’گلۂ صفورہ‘‘ پہلا مجموعہ جس میں  شادی(۱۹۶۵ء) سے قبل کی نظمیں  شامل ہیں  لیکن اس کی اشاعت۱۹۸۷ء میں  ممکن ہوسکی۔
        ’’آفاقِ نوا‘‘(۱۹۸۷ء) یہ دوسرا مجموعہ ہے جس میں  شادی کے بعد کا کلام شامل ہے۔
        ’’کرن کرن یادداشت‘‘ اور ’’سلسلۂ مکالمات‘‘(۲۰۰۶ء) اس میں  ۱۹۸۷ء کے بعد سے موجودہ دور تک کی نظمیں  شامل ہیں۔
        کلیات میں  ابتدائی کلام آخر میں  رکھا ہے جب اشاعت میں  ا س قدر تاخیر روا ہے تو ترتیب میں  حسب مرضی ردّ و بدل کیوں  ناروا ہو۔
مصحف اقبال توصیفی:ظاہر ہے ہمیں  کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔۔۔
        ہمارے سارے ناقدین، اُن کی نظریاتی اختلافات جو بھی ہوں،  سب ہی آپ کے کمالِ فن کے معترف رہے ہیں۔ ہمیں  یہ بتایئے زبان و بیان پر یہ غیر معمولی قدرت، قرآنی حکایات اور تلمیحات کا خلاقانہ استعمال، اسلامی عقائد اور فکر سے زائیدہ دانش وری، نہ صرف تاریخ بلکہ تاریخ کے متوازی تاریخ کو صحیح سمت عطا کرتی ہوئی ایک زیریں  رو کا شعور۔ یہ خوبیاں  آپ کے شعری اظہار کی پہچان کیوں  کر بنیں ؟ہماری کلاسیکی شاعری میں  اس کی مثالیں  کہاں  کہاں  ہیں ؟ یا پھر یہ عربی اور فارسی کلاسیکی روایت کی توسیع ہے؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:زبان و بیان پر غیر معمولی قدرت شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں  بلکہ اسے لاشعوری عادت کہہ سکتے ہیں۔
        قرآن مجید خود پڑھا اور خود ہی سمجھنے کی کوشش کی۔ کسی معلّم کوزحمت اٹھانے کا موقعہ نہیں  دیا۔ اسلامی عقائد اور فکر سے روشنی حاصل کرنے کا بھی یہی انداز رہا۔
        تاریخ میں  بادشاہوں  اور ان کے جانشینوں  کے نام مجھے یاد نہیں  مگر ان سرفروشوں کے نام یاد ہیں  جو حق بات کہنے میں  فردِ فرید تھے، جنہوں  نے بادشاہوں  کی غلط کاریوں  کو بے خوفی سے عوا م کے سامنے اُجاگر کیا، دراصل دربار داری اغیار کی صفت تھی اور ملوکیت ایک اجنبی ادارہ جس سے ہم کبھی مانوس نہ ہوسکے۔
مصحف اقبال توصیفی:شاعری میں  مذہبی اور تاریخی شعور کے بارے میں  میرا استفسار تھا۔ آپ کی شاعری کے علاوہ اساتذہ اور پیش رؤں  میں  یہ صفت، یہ خوبی میرے خیال میں  اس کی روایت انیسؔ اور اقبالؔ کے ہاں  ملے گی اور کون شاعر ہیں ؟ اُردو میں  پھر فارسی، عربی میں۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:انیس یقیناً عظیم شاعر ہیں۔ جہاں  تک زبان پر قدرت اور اسلوب بیان کا سوال ہے۔ لیکن  اقبال کی شاعری میں  تمام اسلامی افکار کو سمیٹنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
        فارسی میں  مثنوی مولانا روم میں  اس کے اشارے مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سعدیؔ ہیں۔۔۔ عربی میں  فرزدقؔ جن کے پاس راست تو نہیں  لیکن بالراست ملوکیت کو غیر اہم ثابت کرنے کے اشارے ملتے ہیں۔
مصحف اقبال توصیفی:آپ کی شاعری میں  تاریخ کے مختلف ادوار کے اسرار و رموز کی گرہ کشائیاں، قدیم پائندہ روایات کے پہلو بہ پہلو عصری آگہی اور حسیت، فطرت کے ازلی حسن کی نگاہ کو خیرہ کرنے والی تابناکی، وہ جمالیاتی احساس جو قاری کے سینے کو روشن کرسکے، یہ سب تو آپ کو اپنے مطالعے، دل گداختگی اور علم و  وجدان سے حاصل ہوسکا، ہم یہ جاننا چاہیں  گے کہ آپ کی شاعری کے جو فنی پہلو ہیں  ان کی تربیت کیسے ہوئی۔ علمِ  عروض پر ایسی دسترس جس کی مثال اُردو اور فارسی شاعری میں  خال خال ہی مل سکے یہ وہبی قدرت ہے یا استادی شاگردی کی قدیم رسم سے وابستگی کا ثمر۔ انور معظم کہتے ہیں  کہ علیگڈھ میں  منیب الرحمن نے کوئی رسالہ کھولا تو آپ کی کوئی نظم یا غزل پڑھ کر چونک پڑے کہ ایسی بحر جس میں،  ان کے خیال میں  مولانا روم کے علاوہ کسی اور نے طبع آزمائی نہیں  کی۔ فنِ عروض پر یہ مہارت آپ نے کیسے حاصل کی؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:’تاریخ کے مختلف ادوار کے اسرار و  رموز کی گرہ کشائیاں، قدیم پائندہ روایات کے پہلو بہ پہلو عصری آگہی اور حسیت، فطرت کے ازلی حسن کی نگاہ کو خیرہ کر دینے والی تابناکی۔۔۔ ‘  وغیرہ وغیرہ۔ آپ نے اچھی خاصی شاعری کی ہے۔ کیا کہوں ؟شکریہ یا خاموشی اختیار کروں۔۔۔
مصحف اقبال توصیفی:اب میں  کیا کہوں۔۔۔ ؟
یاں  لاکھ لاکھ لب پہ سخن اضطراب میں
واں  ایک خامشی مرے سب کے جواب میں
شفیق فاطمہ شعریٰ:(ہنستے ہوئے)جی۔۔۔ (کچھ توقف کے بعد) جہاں  تک علم عروض کا سوال ہے ہمارے گھر میں  کافی کتابیں  تھیں  جن کو کھولتے ہی دل گھبرانے لگتا۔ یہاں  تو بس فاعلاتن مفاعیلن کا چکر ّہے۔ آخر ہم نے اس دردِ سر کو شاعرانہ لاشعور کی سطح کے حوالے کر دیا۔ یہ بڑے کام کی سطح ہے، خاص طور پر اس وقت جب کوئی شعوری سطح پر بَک بَک کر کے تھک جائے۔ لاشعور کی سطح اس مسئلے کو حل کر چکی ہوتی ہے۔
مصحف اقبال توصیفی:آپ کی شاعری کے بارے میں  ایک عام احساس یہ ہے کہ یہ ہماری سمجھ میں  نہیں  آتی۔ میرے خیال میں  آپ کی شاعری میں  جو ابہام ہے وہ تجربہ یااحساس کی پیچیدگی کا نہیں  جیسا کہ مثلاً میراجیؔ کی شاعری۔۔۔ اس کے برخلاف آپ کا تجربہ نہایت واضح ہے۔ مشکل یہ ہے کہ آپ کا تاریخی اور تہذیبی شعور اس قدر ارفع ہے اور آپ کی شاعری کو سمجھنے کے لیے اس تک رسائی اس قدر ناگزیر ہے کہ جب تک ہم آپ کے علم اور فلسفے کی سرحد کے آس پاس نہ پہنچیں، ابلاغ کا مسئلہ باقی رہتا ہے۔ تو گویا اس نارسائی کے ذمہ دار ہم خود ہوئے۔ لیجئے حکیم مومن خاں  پھر ہمارے آپ کے درمیان آ گئے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ’’میں  الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا۔‘‘ اس ’عذرِ امتحانِ جذبِ دل‘ کے بارے میں  آپ کیا کہیں  گی؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:ہاں۔ آپ نے ٹھیک کہا۔ ہماری شاعری میں  تجربے کی ایسی پیچیدگی نہیں  جیسی کئی شاعروں  کے ہاں  آپ کو ملے گی۔ رہی تاریخی اور تہذیبی شعور کی بات تو میرے خیال میں  تاریخی اور تہذیبی شعور سے قاری کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ اگر اس کے باوجود ابلاغ کا مسئلہ باقی رہتا ہے تو ہم بھی مومن کے الفاظ میں  یہی کہیں  گے کہ ’’قصور اپنا نکل آیا‘‘۔
        پبلشر کی عنایت سے کتاب قاری کے ہاتھوں  تک پہنچ نہیں  پاتی۔ وہ ہر بک اسٹال سے مایوس لوٹتا ہے۔ پھر جو کتاب نایاب ہو وہ ناقابل فہم ہو کر رہ جاتی ہے۔
مصحف اقبال توصیفی:سنجیدہ ادبی حلقوں  میں  تو سبھی آپ سے واقف تھے، رسائل کے ذریعے۔۔۔ لیکن آپ کی شاعری کی تفہیم اور اسے با ذوق قارئین تک پہنچانے میں  محمود ایاز اور اُن کے رسالے’’سوغات‘‘ نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی شاعری کسی ایک نقاد کے بس کی بات نہیں  تھی۔ آپ کی شاعری میں  جو اسلامی اور اس سے بھی کہیں  قدیم مقامی تاریخی حوالے، فکر و فلسفہ، مذاہب اور تصوف کی روایت کا شعور ہے ان سب کا احاطہ محض ایک شخص کے لیے مشکل تھا۔ محمود ایاز ’’سوغات‘‘ اور پھر اس کی وساطت سے حمید نسیم۔ جس طرح آپ سے خط کتا بت کے بعد آپ کی شاعری پر ایک نہایت بسیط، طویل اور عمدہ مضمون لکھ سکے وہ ان کی برسوں  کی ریاضت کا نتیجہ ہے۔ حمید نسیم اور محمود ایاز سے آپ کی خط کتابت کیسے شروع ہوئی اور کتنے عرصے پر محیط رہی۔ کیا موضوعات زیر بحث رہے۔ کچھ روداد سنایئے۔ حمید نسیم نے تو لکھا ہے کہ کراچی میں  مولانا محمد طاسین کے علاوہ انہوں  نے سب سے زیادہ کسبِ فیض آپ ہی سے حاصل کیا جس کے سبب انہیں  قرآن حکیم کی عالمی مذاہب اور فلسفہ کے تناظر میں  تقابلی تفسیر لکھنے کا حوصلہ مل سکا۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:’’سوغات‘‘ میں  چھنے کے لیے یہ ضروری نہیں  تھا کہ ہم کسی تحریک سے وابستہ یا کسی ادبی گروہ کے ترجمان ہیں۔
مصحف اقبال توصیفی:میں  نے یہ نہیں  کہا۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:نہیں  میں  کہہ رہی ہوں۔۔۔ تو یہ کہ اس رسالے میں  شائع ہونے والی سب تحریریں  معیاری ہوتیں  اور محمود ایاز کا رویہ سب کے ساتھ یکساں  تھا۔ محمود ایاز کی متانت اور شائستگی میں  پاکیزگی کی جھلک تھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ سوغات میں  لکھتے ہوئے یہ احساس رہا کہ میری نظموں  کو ایسے ہی رسالہ کی ضرورت تھی۔۔۔ ورنہ
ہیں  تو گونگے خاکداں  کی ان کہی، اے اجنبی
        اجنبیت کی بات کیسے چلی۔ اجنبیت تو روز اوّل سے خارج از بحث تھی۔ مگر انسانی سطح پر۔ صنفی سطحی پر نہیں۔ یہاں  انسانی سطح اور اس کی پہچان کو متعین کرنے کے لئے انسانی آفاق کا مشرقی پس منظر درکار ہے۔ محمود ایاز کی ایک نظم یاد آئی:
’’اجنبی کیسے کہوں
تم تو مرے دل کی نہاں  خانوں  میں
سوئے ہوئے
ہر خواب کا چہرہ نکلیں‘‘
        آخر ی دور میں  محمود ایاز صاحب کو میں  نے طویل خطوط لکھے جو انہوں  نے بڑے اہتمام سے سوغات میں چھاپے۔ پھر حمید نسیم صاحب کو اجازت دی کہ ان کو اپنی تحریروں  میں  حوالہ کے طور پر استعمال کریں۔
مصحف اقبال توصیفی:حمید نسیم کے علاوہ آپ کے فن پر باقر مہدی، خلیل الرحمن اعظمی، مجید امجد، مضطر مجاز، محمود ہاشمی، وحید اختر، فضیل جعفری، قاضی سلیم، سید سراج الدین، سکندراحمد، من موہن تلخ، قاضی جمال حسین، جمیلہ نشاط اور کئی اہل قلم نے مضامین لکھے ہیں۔ کیا ان مضامین میں  کچھ ایسی باتیں  بھی آ گئی ہیں  جو آپ کے لئے چونکا دینے والی ہوں یا کچھ ایسی باتیں  جہاں  اختلاف رائے کی گنجائش نکلتی ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ سارے مضامین کتابی صورت میں  یکجا ہوسکیں۔ (بلکہ یہ ہماری آپ کی بات چیت بھی)تاکہ آپ کے بارے میں  اب تک جو کچھ کہا گیا ہے یا آپ نے اپنی شاعری کے علاوہ علم و ادب کے جن موضوعات پر اظہارِ خیال کیا ہے وہ سب مستقبل کے ادب کے قاری کے لیے محفوظ رہ سکے۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:ہم نہیں  سمجھتے کہ کچھ ایسی باتیں  ہوسکتی ہیں  جہاں  اختلافِ رائے کی گنجائش ہو۔ ہماری شاعری کے بارے میں  جو کچھ بھی لکھا گیا ہے ایسے تمام مضامین یکجا شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ ابھی تک کامیابی نہیں  ملی۔
مصحف اقبال توصیفی:’’سوغات‘‘ میں  اپنے ایک خط میں ’’توبۃ النصوح‘‘ میں  نصوح کے رویہ کی بابت گفتگو کرتے ہوئے آپ نے مکتب اور اسکول کی روایت کے مابین فرق کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے نہ صرف مکتب بلکہ عصری علوم سے بھی فیض حاصل کیا ہے۔ آپ کی شاعری میں  ہمیں  جو روحانی، مذہبی اور ثقافتیEthosنظر آتا ہے شاید وہ بڑی حد تک مکتبی فکر کی دین ہے۔ کیا آپ اسکول کی روایت سے بیزار ہیں  اور اس لیے کہ مکتبی روایت پر اس کا غلبہ محسوس کرتی ہیں۔ اسی طرح جیسے اقبال مغربی اور مشرقی اقدار کے ٹکراؤ کو محسوس کرتے تھے اور ان کی شاعری کا غالب حصہ ہمیں  اپنے علمی اور تہذیبی ورثے کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے لیکن اقبال نے یہ بھی کہا ہے۔
بادہ ہے نیم رس ابھی، شوق ہے نارسا ابھی
رہے دو خُم کے سر پہ تم خشتِ کلیسیا ابھی
        آپ کیا کہتی ہیں ؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:مکتبی تعلیم کے ساتھ رائج الوقت تعلیم بھی ضروری ہے۔ یہ ہمارا تجربہ ہے مگر مغرب کے نوآباد کاروں  نے مکتب کو ہّوا   بنا رکھا ہے۔ ’’سوغات‘‘ کے ایک شمارے میں،  ہم نے اپنے ایک خط میں  اس پر اپنا ردّ عمل ظاہر کیا ہے مگر گفتگو طویل ہے کئی پہلو ہیں،  بات مختصر کریں  تو گنجلک ہو کر رہ جائے گی اور یہ بھی نہیں  کہ ہمارے دور کی افراتفری میں  مکتب جہاں  ہے جس حال میں  ہے ماورائے تنقید ہے جس کو اپنی خیریت عزیز نہ ہو وہ اس سلسلے میں  بہت کچھ کہہ سکتا ہے یہاں  اس کا موقع بھی نہیں۔
مصحف اقبال توصیفی:جب آپ کو کسی شعر کی آہٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کیا چاہتی ہیں  آپ کو کیسا موسم کیسی فضا درکار رہتی ہے؟ نظم کاغذ پرکیسے اترتی ہے؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:ہم آپ کو ایک واقعہ سنائیں :
        جب ہم مہدی منزل میں  رہتے تھے تو ہمارے گھر کی ایک جانب شہر تھا دوسری جانب غیر آباد رقبہ۔ پرندوں  کو گھر کا یہ محل وقوع پسند آیا اور کچھ ہُدہُد چڑیوں  نے چھتوں  اور دیواروں  میں  اپنے کاٹھ کے گھر بسالیے۔ ویسے اس قوم میں  مانوس ہونے کی صفت نہیں  پائی جاتی لیکن ایک دن ایک ہُد ہُد زادہ فرش پر اتر آیا، کبھی اونگھتا ہوا کبھی بے چین۔ وہ ہمارے آس پاس پھرتا رہا۔ ایک بار تو بھائی کے کندھے پر بیٹھ گیا۔ صبح سے سہ پہر تک ہم اس کے پیچھے پڑے رہے۔ جب زیادہ پیچھا کیا تو اس نے بے چینی سے اپنی چونچ کھولی۔ شاید فریاد کے لیے۔ تبھی اس کے گلے میں  پھنسی کوئی چیز کنکر یا کیڑے جیسی ایک سانس میں  باہر نکل کر دور جا پڑی۔ جیسے ہی مسئلہ حل ہوا اس نے اُڑان بھری۔ اب موصوف چہک بھی رہے تھے ورنہ صبح سے اب تک تو گم صم ہی پائے جاتے تھے۔
        یہ گلے میں  پھنسی ہوئی مصیبت ایک نظم بھی ہوسکتی ہے۔ میرے لئے کہ جب تک وہ لکھی نہ جائے تب تک ہر نظم کی آمد بند رہے۔
        تو اس طرح نظمیں  مجبور کرتی ہیں  انسان کو کہ انہیں  ضرور لکھا جائے۔ چاہے وہ پسند کی جائیں  نہ کی جائیں۔
مصحف اقبال توصیفی:’’سوغات‘‘ ہی میں  آپ نے اپنے خطوط میں  حضرت ابوذر غفاری اور حضرت عثمان غنی کے اختلافِ جہاد اور حضرت عمر فاروق اور حضرت خالد بن ولید کے مابین سیاسی اور عسکری اختلافات کے بارے میں  جن خیالات کا اظہار کیا ہے کہا جاتا ہے کہ تاریخی شعور کی سطح پر ایسی بات کسی نے نہیں  کہی۔ حمید نسیم نے تو یہاں  تک کہا کہ اسلامی تاریخ کا آپ نے جس طرح مطالعہ کیا ہے، شاہ ولی اللہ کی کتابوں  میں  بھی وہ سطح نہیں  ملتی اور نہ سید مودودی کی تحریروں  میں  ایسی ژرف نگاہی نظر آتی ہے۔ یہ خطوط’’سوغات‘‘ کے کن شماروں  میں  شائع ہوئے تھے؟ چونکہ’’سوغات‘‘ کے اکثر شمارے بیش تر شائقینِ علم و ادب کی دسترس میں  نہیں۔ کیا آپ اس موضوع پر اس گفتگو میں  یہاں  کچھ روشنی ڈال سکیں  گی۔ اپنے مخصوص اشاراتی انداز میں  نہیں  ذرا تفصیل سے۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:اس کے پیچھے تو ایک پوری تاریخ ہے تفصیل کے لیے تو بہت وقت درکار ہے یہ سمجھ لیں  کہ حضرت عمرؓ کا حضرت خالد بن ولید کے خلاف فیصلہ ذاتی سطح پر نہیں  بلکہ شریعت اسلامی کے احکام کے مطابق تھا۔ کسی نے قصیدہ لکھا کہ خالد جہاں  جائیں  فتح یابی یقینی ہے۔ پھر حضرت خالد نے ایک سپاہی کی حیثیت سے جنگیں  لڑیں۔۔۔ پھر حضرت ابوعبیدہ آئے۔ پھر بھی فتوحات ہوتی رہیں۔ وہ جو کہتے ہیں  داڑھ میں  دبائے رکھنا۔ تو حضرت عمر کا فیصلہ شرک کے خلاف تھا۔ حضرت خالد کی وفات پر حضرت عمر بہت روئے۔ حضرت ابوذر غفاری کا خیال تھا کہ دولت بے دینی اور زرپرستی کا سبب ہوسکتی ہے۔ دولت امیروں  سے چھین کر غریبوں  میں  تقسیم ہو۔۔۔ لیکن شہری حقوق کی بنا پر فرد کی آمدنی کو محدود نہیں  کیا جا سکتا۔ حضرت عثمان غنی دستور اسلامی کے محافظ تھے۔ تاہم ان چاروں  میں  آپس میں  ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام کا جذبہ وافر تھا۔
مصحف اقبال توصیفی:آپ نے تاریخ، مذہب اور ادب کے کئی موضوعات پر اپنے خطوط میں  اظہار خیال کیا ہے بعض باتوں  میں  اختلافِ رائے کی اجازت چاہوں  گا۔ ’’ایران میں  اجنبی‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بار آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ راشد ایران میں  اجنبی کیسے ہو گئے؟ انہوں  نے تو بس وہاں  برطانوی ملٹری کیمپس دیکھے ہیں (زبیر رضوی کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسی بات نکل آئی کہ میں  نے آپ کا یہ جملہ نقل بھی کر دیا۔ )اب ایسا ہی جملہ’’سلسلہ مکالمات‘‘ میں  آپ کا پڑھا تو لگا کہ آپ راشد کے ساتھ زیادتی کر رہی ہیں۔ کیا کسی سنے، دیکھے ہوئے واقعہ کو ہم اس قدر شدت سے محسوس نہیں  کرسکتے کہ وہ ہمارے احساسات اور جذبات کا جزو بن جائے۔ یقیناً آپ کی کئی نظمیں  ایسی ہوں  گی جو آپ کے روحانی اور جمالیاتی وجدان اور آپ کے تاریخی شعور کے زیر اثر وجود میں  آ سکیں۔ آپ کے تخلیقی وفور کی شدّت نے آپ کو ایک ایسے عالم سے روشناس کر دیا جہاں  آپ کے مادی وجود کا گزر ممکن ہی نہیں۔۔۔ جیسے آپ کی نظمیں۔ ’’فصیلِ اورنگ آباد‘‘ کا تاریخی پس منظر ’’ایلورا‘‘۔ ’’خلد آباد کی سرزمین‘‘ ’’رگ وید کی نظمیں‘‘ اور بہت سی نظمیں  بلکہ زیادہ تر نظمیں۔۔۔ غزل کی شاعری بھی اس سے مبرّا نہیں  اور نظمیہ شاعری تو ایسے اظہارات کے بغیر بے حد سکڑ کر سمٹ کر رہ جائے۔ غالب نے جو ’’دلِ گداختہ‘‘ کی بات کہی ہے وہ ایسے ہی اظہارات کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:’’ایران میں  اجنبی‘‘ کے باوجود راشدؔ، میرا جیؔ اور اختر الایمان کے ہم رتبہ شاعر ہیں۔ ان نظموں  میں  انہوں  نے فرنگی ملٹری کیمپ کو ایران قرار دیا ہے۔ اعتراض صرف اس بات پر ہے۔
مصحف اقبال توصیفی:ن۔ م۔ راشد کے علاوہ بعض موضوعات پر آپ نے محمدؐ حسن عسکری سے بھی اختلاف رائے کا اظہار کیا ہے۔ غالباً تاریخی شعور کے موضوع پر عسکری صاحب کا کوئی مقالہ تھا جس پر آپ نے نہایت عالمانہ تنقید کی تھی۔ عسکری صاحب کا یہ مضمون کہاں  شائع ہوا تھا؟ آپ اُن کی کئی باتوں  سے متفق نہیں  ہوسکیں ؟حمید نسیم نے لکھا کہ عسکری صاحب کے مضمون پر آپ کا طویل تبصرہ آپ کے فکر و وجدان کی کُلیّت کو واضح کرتا ہے اور یہ کہ آپ کا تجزیہ عسکری صاحب کے مقالے سے بھی وقیع تر ہے۔ اس لیے میں  چاہوں  گا کہ آپ اس بارے میں  بتائیں  تاکہ قارئین اذکار بھی کچھ روشنی حاصل کرسکیں۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:عسکری صاحب کا یہ مضمون غالباً۱۹۴۹ء کا لکھا ہوا ہے جو دوبارہ شائع ہوا تھا۔ ہمارے خیال میں  یہ آج بھی اتنا ہی توجہ طلب ہے۔
        عسکری صاحب سے ہمیں  اختلاف اس بات پر تھا کہ عسکری صاحب روایتی تاریخ ہی کو تاریخ مان کر چلے ہیں  جو شاہی خاندانوں  کے عروج و زوال کی کہانی ہے۔ وہ یہ نہیں  دیکھ سکے کہ بیعت سے انکار، حکومت وقت پر کھلی تنقید اور سرکاری عہدے قبول کرنے سے انکار، اس تاریخ آزادی کے منتشر ابواب ہیں۔ اپنی تاریخ کے ایسے تجزیئے جس سے مغرب زدہ نسل کو الجھن ہوتی ہے،  اس نے اپنے بچپن میں  وہ کہانی نہیں  سنی ہو گی کہ ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔۔۔
        ویسے بادشاہوں  کے عروج و زوال کی روئیداد پر مشتمل یہ تاریخ دوسری قوموں  کی تاریخ کے مقابل کچھ ایسی بُری بھی نہیں۔ آخری دور کے ’’سوغات‘‘ میں  محمد حسن عسکری سے اختلاف کے سلسلے میں  ہم نے اس باب میں  بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ آپ پڑھ لیں۔۔۔
مصحف اقبال توصیفی:چند سال قبل جمیلہ نشاط اور مظہر مہدی مرحوم نے آپ کے اعزاز میں  ایک جلسہ منعقد کیا تھا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اسی سال شاعری کے ایوارڈ کے لیے آپ کے نام کا اعلان کیا تھا اس جلسے میں  شہر کے سارے عمائدین اور اہل قلم شریک تھے، اس جلسے میں  جیلانی بانو کا کہا یہ جملہ مجھے یاد ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے شعریٰ کو ایوارڈ دے کر اپنی قدر میں  اضافہ کیا ہے۔ جیلانی بانو اس جلسے کی مہمان خصوصی تھیں  اوراس جلسے کی صدارت مجھے سونپی گئی تھی جب کہ اس جلسے میں  میری موجودگی ہی میرے لیے بہت تھی۔ کئی ادبی شخصیتوں  جیسے انور معظم، جیلانی بانو، مظہر مہدی، مضطر مجاز، علی ظہیر، جمیلہ نشاط، رؤف خیر کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ Feminist اورSocial Activist  محترمہ وسنت کنا بیرن، ہم سب نے آپ کی شاعری کی تحسین کا حق ادا کرنا چاہا تھا۔ ہمارے اصرار پر آپ نے اپنی نظم ’حضارتِ جدید ‘کے کچھ حصّوں  کے علاوہ کئی نظمیں  سنائی تھیں۔ اپنی چند ایسی نظموں  کے بارے میں  بتایئے جو آپ کو بے حد پسند ہیں۔ ان سے جڑے واقعات، تجربات اور احساسات کے بارے میں۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:نظموں  کا تعلق اولاد جیسا ہوتا ہے، سبھی نظمیں  اچھی لگتی ہیں  سب سے جڑے واقعات تجربات اور احساسات اہمیت رکھتے ہیں  مگر ان کو ایک تعارفی مضمون میں  پیش کرنا مشکل ہے۔
مصحف اقبال توصیفی:آپ نے سچ کہا تخلیق کار کو اپنی ہر تخلیق اچھی لگتی ہے لیکن بعض نظموں  کے پیچھے بس کوئی احساس، خیال کی کوئی لہر ہوتی ہے اور کچھ نظموں  کے پیچھے کوئی کہانی۔ کیا ایسی کچھ نظمیں  ہیں  جن کے پیچھے ماضی کی یا تاریخ کی چلمن سے کوئی کہانی جھانک رہی ہو۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:ایسی کئی نظمیں  ہیں  جیسے’’رابعہ تابعیہؒ  کی یاد میں‘‘۔ ’’مریم صدیقہ ؑ ‘‘  فرعون کی بیوی کے کردار پر نظم۔ ’’ستارہ آدرش کا‘‘ وغیرہ اور بھی کئی نظمیں  ہیں  لیکن ان پر گفتگو کے لیے کئی صفحات درکار ہوں  گے۔
مصحف اقبال توصیفی:خود اپنے ماضی سے جُڑی کوئی کہانی۔۔۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:نہیں  یہ موضوع رہنے دیں۔۔۔
مصحف اقبال توصیفی:قدیم اُردو اور فارسی شعراء میں  کن شاعروں  کو آپ بار بار پڑھتی رہی ہیں۔ ’’قدسی و صائب واسیر و کلیم‘‘ آپ نے سب کا کلام دیکھا ہے۔ اساتذہ میں  وہ کون ہیں  جنہوں  نے آپ کو زیادہ متاثر کیا اور جن کی شاعری کو آپ نے رگِ جاں  سے قریب تر پایا؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:فارسی شعراء میں  حافظ، عربی شعراء میں  سبع معلقات کے شاعر اور اُردو میں  بھی یوں  تو کئی شاعر ہیں  لیکن ہم یہاں  احمد ندیم قاسمی کا نام لیں  گے۔ انہوں  نے اپنی شاعری اور افسانوں  میں  دیہات کو پیش کیا ہے۔ پاکستان جانے کے بعد بھی وہ ہندوستانی ہی رہے۔ اقبال جو فارسی اور اُردو دونوں  زبانوں  کے شاعر ہیں  رگِ جاں  سے قریب تر رہے مگر میں  نے کبھی اُن کے لب و لہجہ کو اپنانے کی کوشش نہیں  کی۔
مصحف اقبال توصیفی:آپ نے جب شعر گوئی اختیار کی تو یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک اور اس کے متوازی حلقۂ اربابِ ذوق اپنا اثرورسوخ کھو رہے تھے۔ اپنے پیش روؤں  میں  مخدومؔ، فیضؔ، مجروح،ؔ مجاز،ؔ جذبیؔ، راشد،ؔ میراجی،ؔ مختارؔ صدیقی، مجید امجدؔ، ضیاء جالندھری، یوسف ظفرؔ، قیوم نظرؔ وغیرہ ان میں آپ کے پسندیدہ شاعر کون رہے ہیں ؟ ترقی پسندوں  یا حلقے کے نظریۂ ادب سے آپ کہاں  تک اتفاق کرتی ہیں  پھر جدیدیت اور اب مابعد جدیدیت کے بارے میں  جو مختلف اور متضاد آراء ہمارے سامنے آ رہی ہیں  تو آپ کا ردِ عمل کیا ہے؟ آپ کی دانست میں  یہ ہمارے تاریخی اور تہذیبی ورثہ سے ناواقفیت اور Alienationکا نتیجہ ہے۔ یا آپ کے خیال میں  عصر حاضر کے ادب کی افہام و تفہیم کے لیے ادبی تھیوری کے مباحث قائم کرنا آج ہمارا ادبی فریضہ ہے۔
شفیق فاطمہ شعریٰ:آپ نے جن شاعروں  کے نام لیے اُن میں  سے بیشتر کی شاعری کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم شاعروں  کو کسی تحریک یا حلقے میں  نہیں  بانٹتے۔ ترقی پسند تحریک سے جڑے لوگوں  کی کمیونزم سے وابستگی رہی۔ ترقی پسند شعراء میں  قابل ذکر وہ ہیں  جنہوں  نے تحریکی فکر و نظر کے مقابلے میں  اپنے فن اور اس کے ارتقاء کی طرف زیادہ توجہ کی۔ اُدھر مغربی ادیب اپنے انفرادی رجحانات کو عالمی تحریک کا نام دینے کے بہت شوقین ہیں۔ اوسط درجے کے ادیب کسی تحریک کی بدولت اعلیٰ درجہ پا لیتے ہیں۔ ادب کی نت نئی تحریکوں  میں  الجھ جانے کے بعد مشرق کے ادیب وش اعر اپنے ہم عصروں  پر فوقیت حاصل کر لیتے ہیں  مگر دراصل ان کے پاس کچھ کہنے کے لیے باقی نہیں  رہتا۔
مصحف اقبال توصیفی:ہم عصر شعراء میں  آپ کے خیال میں  قابل ذکر کون ہیں ؟ کون ایسے جو محض اپنی پی۔ آر کے سہارے بھیڑ میں  شامل ہو گئے کبھی آپ کو یہ احساس بھی ہوا کہ:
پہنچے وہ لوگ رتبہ کو کہ مجھے
شکوۂ بختِ نارسا نہ رہا
        یہ بھی بتائیں  کہ آپ کے فوری بعد جو نسل سامنے آئی ہے، اُن میں  آپ کس کس کا نام لینا چاہیں  گی؟
شفیق فاطمہ شعریٰ:معاصرین علاقہ واریت کو اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں۔ ورنہ شخصی مراسم۔۔۔ ‘ پھر کوئی شخص اپنے حلقہ کا مکھیا بن جاتا ہے۔ سلیمان اریبؔ، خلیل الرحمن اعظمیؔ، محمود ایازؔ ، حمید نسیم ؔ  جیسے نظر ور کم ہیں  جو ادب اور شاعری میں  ذاتی ترجیحات سے ہٹ کر سوچ سکیں۔ حیدرآباد میں  بھی یہی صورت حال ہے۔ خاص طور پر وہ غریب الوطن جو مقدر کی کارفرمائی سے یہاں  مقیم ہیں  اسی اجنبیت کا شکار ہیں۔
        پبلشر مختار ہیں  کہ کس کتاب کو قاری سے متعارف کروائیں  کس کو نہیں۔
        روز ناموں  کے مدیروں  نے تنقید کے شعبہ پر نقادوں  کی عمل داری کا خاتمہ کر دیا ہے۔ شاید اشتہاروں  کی بھرمار اور کھیل کی خبروں  کی وجہ سے اخبار میں  جگہ باقی نہیں۔
        مشاعرہ کی محفلوں  نے سماجی تفریح گاہوں  کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ان میں  تہذیبی آداب کی روشنی بھی ہوتی ہے اور ہلڑ بازی بھی۔
        ہمارے معاصرین اسی نئی صورت حال سے دوچار ہیں۔ ان سے مقابلہ کا سوال ہی نہیں  پیدا ہوتا۔
مصحف اقبال توصیفی:  شعری صاحبہ۔  بے حد شکریہ۔ آپ نے اپنے بارے میں، اپنی شاعری کے بارے میں  اور علم و ادب کے کئی موضوعات پر ہم سے سیر حاصل گفتگو کی۔ ہم  بے حد ممنون ہیں۔
شفیق فاطمہ شعریٰ: شکریہ ... شکریہ... میں  بھی آپ کی اور خلیل ماموں  کی شکر گزار ہوں۔
_____
 (’’نیا ادب‘‘ بنگلور     
’’تحریر نو‘‘ ممبئی)




غالبؔ کی شاعری کے چند پہلو


غالبؔ کے اشعار سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے۔ میرا بچپن ان سے جڑا ہوا ہے۔ مجھے اب بھی اپنا بچپن ایک خواب کی طرح یاد ہے۔ میرے والد محمدؐ عبدالمعطی مرحوم غالب کے بڑے معتقد تھے۔ مجھے گمان ہے کہ اُنہیں  سارا دیوان غالبؔ از بر تھا۔ ان کا معمول تھا وہ شام کو دفتر سے لوٹتے، کچھ وقت احباب کے ساتھ گھر پر یا گھر کے باہر گزارتے۔ رات کے کھانے سے فارغ ہوتے، دالان میں  ان کا پلنگ اور بستر بچھا رہتا اور وہ اکثر رات دیر گئے تک اپنے مخصوص ترنم میں  غالب کے اشعار گنگناتے رہتے۔ آس پاس بچوں  کا شور ہو، عورتیں  باتیں  کر رہی ہوں  اُنہیں  اس سے کوئی غرض نہیں  تھی۔ میں  بہت چھوٹا تھا کبھی کبھار کھیلتے کھیلتے رُک کر غور سے سنتا کچھ سمجھ میں  نہ آتا۔ اس وقت یہ احساس نہ تھا کہ بعد میں  کبھی غالبؔ کو پڑھوں  گا تو مجھ پر کیا گزرے گی۔ بقول یگانہؔ؎
سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانۂ درد
سمجھ میں  آنے لگا جب تو پھر سُنا نہ گیا
پرائمری جماعتوں  سے ترقی کرتے ہوئے میں  ہائی اسکول اور کالج تک پہنچا۔ شعر و شاعری کا ماحول پہلے ہی گھر میں  تھا۔ یہ شغف بڑھا تو اپنے زمانے کے شاعروں  کے علاوہ اپنی بساط کے مطابق تھوڑا بہت اساتذہ کو بھی پڑھا۔ اسکول کے زمانے ہی میں  میرے بچپن کے دوست ڈاکٹر معظم صدیقی جو اب عرصہ دراز سے امریکہ میں  مقیم ہیں  اُنہوں  نے کہیں  سے ’’آبِ حیات‘‘ دستیاب کر لی تھی۔ یہ کتاب ہم دونوں  مل کر پڑھتے۔ غالبؔ کے زمانے اور ان کی شاعری کے بارے میں  کچھ رسمی واقفیت تو ہوئی۔ لیکن کلامِ غالب پڑھنے کی کوئی خاص لگن ہمارے دل میں  پیدا نہ ہو سکی۔
ایک طویل عرصے تک مطالعۂ غالب میرے لیئے ایک دشوار گزار مرحلہ رہا۔ کلاسیک میں  مجھے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ میرؔ نے متاثر کیا۔ میرؔ کو پڑھنے میں  آسانی یہ ہے کہ میرؔ کے ہاں  خارج سے داخل کی طرف بہاؤ ہے اور وہ کائنات کا رشتہ فرد سے شخصی اور جذباتی سطح پر دریافت کرتے ہیں۔ جذبے کی صداقت، تجربے کی گہرائی، خلوص کی شدّت اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات کی شرکت کے سبب میرؔ کا مخصوص رنگ خود بخود ہماری آنکھوں  میں  مہکنے لگتا ہے۔ غالبؔ کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ظاہر ہے شرکت ذات یہاں  بھی ہے لیکن غالب اپنی داخلی کیفیتوں  کو اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات اور اپنے عالم خیال سے اس طرح ہم آہنگ کرتے ہیں  کہ تصویر حقیقت کے بدلتے ہوئے خد و خال ہماری آنکھوں  کے سامنے بڑی سرعت سے گذرنے لگتے ہیں  اور ہمیں  غالب کے ذہن کی برق رفتاری کا ساتھ دینا مشکل نظر آتا ہے۔ غالب فہمی میں  ایک دیوار تو ہماری نا فہمی کی ہے، ایک اور دیوار خود غالبؔ اپنے اور ہمارے درمیان کھڑی کر لیتے ہیں۔ اُن کے ابتدائی کلام میں  ادق فارسی تراکیب، ’خیالی مضامین‘ حد درجہ تدقیق اور مشکل پسندی جسے ہم ناسخ اور شاہ نصیر کی روایت کہیں  یا بیدلؔ اور دوسرے فارسی شعراء کا اثر۔ جو بھی ہو غالب کی اس رنگ کی شاعری پڑھ کر ہمیں  لگتا ہے کہ ایسی شاعری پڑھنا تو جھلستی دھوپ میں  ننگے پاؤں  پہاڑ پر چڑھائی سے زیادہ مشکل ہے۔ یہ اشعار دیکھئے ؎
شب، خمارِ شوق ساقی، رستخیز اندازہ تھا
تامحیطِ بادہ، صورت خانہ خَمیازہ تھا
یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں  کھلا
جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
یا پھر یہ غزل۔
شمار سبحہ مرغوب بتِ مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل پسند آیا
’’احوال غالب‘‘ میں  مختار الدین احمد نے غالب کی زبان سے یہ جملہ کہلوایا ہے۔ ’’(غالب:) شہرت !  ( محمدؐ نثار علی شہرت) بعض اشعار تو ایسے ادق میرے قلم سے نکل گئے ہیں  کہ اب اُن  کے معنی خود بیان نہیں  کرسکتا‘‘۔ پھر فرمانے لگے ’’دہلی والوں  کی جو اردو ہے ( جس کو مشک و عنبر کہنا چاہئے) اس کو ہی اشعار میں  لکھنا چاہیئے۔ آخری عمر میں  ہماری تو یہی رائے ہو گئی ہے‘‘ ( ’’احوال غالب‘‘  مختار الدین احمد۔ بحوالہ مضمون ’’عصری شعری رویہّ اور غالب کا شعورِ فن‘‘۔ از محمدؐ ایوب شاہد۔ ماہنامہ ’’سیپ‘‘ کراچی شمارہ ۴۸، )۔ غالب نے جس طرح معاشرے کے غلط رسوم اور فاسد عقائد کو مسترد کیا اسی طرح زبان و بیان کے معاملے میں  بھی وہ بہت جلد اپنے عہد کے مروّج لسانی رویئے سے آزاد ہو گئے۔ لسانی اور اسلوبیاتی اظہار پر زور جو ایک زوال پذیر تہذیب کے سائے کی طرح اس عہد کے شاعروں  کے ساتھ چل رہا تھا۔ غالب نے بہت جلد یہ روش ترک کر کے اپنی الگ راہ نکال لی۔ کہیں  سادہ اور کہیں  ایسی فارسی آمیز زبان جسے اُن کے عہد کا ذہن بہ آسانی قبول کر سکتا تھا۔ اُس زبان میں انہوں  نے نہایت فکر انگیز اور دلنشین شاعری کی۔ اپنا سب سے الگ اور برتر معیار سخن قائم کیا۔ غالب کے ایسے بیشتر اشعار جو اپنی فکر اور اُسلوب کی انفرادیت کی سِحر آگیں  کیفیت کے حامل ہیں  ہمیں  آج اُنیسویں  صدی سے زیادہ اپنے عہد کی شاعری سے قریب محسوس ہوتے ہیں۔ میں  یہاں  صرف چند شعر نقل کروں  گا؎
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

جب کہ تجھ بن نہیں  کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

سبزہ و گل کہاں  سے آئے ہیں
 ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

کانٹوں  کی زباں  سوکھ گئی پیاس سے یارب
اک آبلہ پا وادی پُر خار میں  آوے

ہر قدم دوریِ غزل ہے نمایاں  مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں  مجھ سے

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں  نکلا

مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلود یاد آیا
کہ فرقت میں  تری آتش برستی تھی گلستاں  پر

نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں  بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں  پر
غالبؔ کا یہ کہنا کہ ’’اب آخری عمر میں  ہماری تو یہی رائے ہو گئی ہے‘‘ ایک نئے لسانی رویئے کی تشکیل میں  ایک عہد کا دروازہ بند کرتا اور ایک نئے عہد کا در کھولتا نظر آتا ہے۔ اُن کے یہ الفاظ اُن کی دور رس نگاہ کی داد طلب کرتے ہیں۔ مغرب میں  وکٹورین عہد کے شاعر میتھیو آرنلڈ کا خیال تھا کہ موجودہ سائنسی اور صنعتی یلغار کے مقابل مستقبل میں  شاعری ہی ہماری اخلاقی اقدار کی محافظ ہو سکتی ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ poetry will be the future religion of the world۔ اگر شاعری کا یہ منصب قرار دیا جائے تو اس کی زبان کا مختلف ہونا بھی ضروری ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وسائل کی کمی اور خبر رسانی کی ناپیدگی کے اُس دور میں  ہزاروں  میل دور بیٹھے غالب کی بھی یہی سوچ تھی۔ غالب نے نہ صرف زبان کی شُستگی اور صفائی کی جانب توجہ کی بلکہ اپنے عہد کی اُن خرابیوں  کی جانب بھی نئی نسل کو متعطِف کیا جو مشرقی تہذیب کے زوال کا سبب تھیں۔ ’’اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل‘‘ والا قطعہ اپنے اصلاحی خیالات کے اعتبار سے نئی نسل کے نام ایک پند نامہ ہے غالب کی شاعری میں  ایسی کئی مثالیں  بکھری پڑی ہیں  جن کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں  کہ غالب کی فکری آزادہ روی کے باوجود ہماری اخلاقی روایت کی بنیاد میں  غالب کی شاعری کا پتھر گڑا ہوا ہے۔ غالب مذہب کی روایتی تقلید سے زیادہ شاعری کی اخلاقی قدروں  کے قائل تھے۔ مروجہ نام نہاد مذہبی عقائد کے انحراف یا ان ہی عقائد کی پختگی کے ثبوت میں  غالب کے کئی اشعار پیش کئے جا سکتے ہیں۔ دونوں  ہی رنگوں  میں  یہ اشعار دیکھئے؎
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں  مرا بھلا نہ ہوا

سنتے ہیں  جو بہشت کی تعریف سب درست
لیکن خدا کرے وہ تری جلوہ گاہ ہو

جب میکدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
قبلہ کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں

ایماں  مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے فکر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

بہت سہی غمِ گیتی شراب کم کیا ہے
غلام ساقیِ کوثر ہوں  مجھ کو غم کیا ہے

اس کی امت میں  ہوں  مَیں، میرے رہیں  کیوں  کام بند
واسطے جس شہہ کے غالب گنبدِ بے در کھُلا
غالب کوئی مذہبی عالم یا پیشوا نہیں  تھے۔ ایک عام آدمی کی طرح وہ خود کو گنہ گار بھی سمجھتے تھے۔ ’’آخر گناہ گار ہوں  کافر نہیں  ہوں  میں‘‘۔ میں  نے اوپر جو اشعار دیئے ہیں  اُن میں  تضاد بھی نظر آئے گا لیکن یہ شاعری ہے بعض لمحاتی کیفیتوں  اور شاعرانہ فکر و احساس کے مختلف پہلوؤں  کی آئینہ دار۔ کوئی حلفیہ بیان نہیں۔ اور اگر واقعی اِن اشعار میں  کوئی تشکیکی یا اثباتی پہلو نکلتا بھی ہے تو یہ ہماری آج کی حسیت اور مذہبی شعور کی صورتِ حال سے مماثلت رکھتا ہے کیوں  کہ آج کے روحانی اثر و انجذاب سے عاری بڑھتے ہوئے مذہبی رجحان کے زیر اثر، تعلیم یافتہ ذہن تشکیک و تقلید کے اسی دور سے گذر رہا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ذاتِ خداوندی یا شرک تک کے بارے میں  بڑے بڑے نیک، پارسا، عابد، زاہد ہستیوں  کے دل و دماغ میں  شک یوں  در آتا ہے اور نظر نہیں  آتا جیسے کالی رات میں  کالے پتھر پر کالی چیونٹی رینگ رہی ہو۔ ’’اس کی اُمت میں  ہوں  مَیں  میرے رہیں کیوں  کام بند ٭ واسطے جس شہہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا‘‘ کے ساتھ ساتھ یہ کہنا ’’مرے بُت خانے میں  تو کعبے میں  گاڑو برہمن کو‘‘ غالب جیسا عالی دماغ ہی کہہ سکتا ہے جس میں  عقیدے کی پختگی کے ساتھ ایک طرح کی آزادہ روی اور ذہنی فراخدلی بھی ہو۔ مذہبی عقائد تک ہی محدود نہیں۔ چشمِ حیرت سے کائنات کے ہر مظہر کی نظارگی، معنی سے رشتہ استوار کرنے کی جستجو، فکرِ رسا، ذہن کی برق رفتاری اور سوال کرنے کی خُو، جو جواب سے بے نیاز نظر آئے غالب کی شاعری کا وصفِ خاص ہے۔ غالبؔ اپنے عہد کی ہر بدلتی ہوئی حقیقت کو اس طرح پیکرِ تصویر میں  ڈھال دیتے ہیں  کہ وہ آنے والے عہد کے پردے پر بھی منعکس ہو جائے۔ یوں  ان کی شاعری مستقبلی لمحے کی بشارت دیتی ہے۔ ان خصوصیات کے ساتھ ان کی شاعری میں  احساس کی شدت ایسی ہے کہ آبگینے پگھل جائیں، دل کی زمیں  لرز اُٹھے۔
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں  گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں  ستائے کیوں ؟

دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں  نہیں
بیٹھے ہیں  رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں  اُٹھائے کیوں ؟

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیئے
لوحِ جہاں  پہ حرفِ مکرر نہیں  ہوں  میں  

سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں  کے کس سے ٹھہرا جائے ہے

غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جُز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں  جلتی ہے سحر ہونے تک

لختِ جگر سے ہے رگ ہر خار شاخِ گُل
تا چند باغبانیِ صحرا کرے کوئی

خزاں  کیا فصل گل کہتے ہیں  کس کو کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں  قفس ہے اور موسم بال و پر کاہے

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں  ہونا
لیکن غم و اندوہ کی یہ کیفیت مستقبل حیثیت نہیں  رکھتی۔ ان کی شاعری میں  یہ کرب اُن کے ذاتی دکھ کی عبارت ہے، انگریزوں  کی غلامی کے احساس، ایک ایسی تہذیب کی بے توقیری جس کے وہ خود ایک ممتاز رکن تھے، یہ شاعری ان احساسات کا اظہار ہے۔ لیکن غالب کی حوصلہ مندی اور رجائیت ایک متوازی قوت کی صورت ابھرتی ہے۔ غالب کی شاعری کا سب سے روشن اور مثبت پہلو جو اُن کی شاعری کو ایک نیا رخ، ایک نیا موڑ اور اُن کے بعد آنے والے عہد کے لئے نشان منزل بنتا ہے وہ غم و اندوہ کے عالم میں  بھی ان کے مزاج کی نشاط آگیں  کیفیت ہے ’’رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے‘‘۔ اپنے عہد کے سنگین حقائق سے وہ جس طرح نبرد آزما ہیں۔ ’’عشقِ نبرد پیشہ طلبگار مرد تھا‘‘ اس کی مثال ان کے دور کے کسی شاعر یا متقدمین میں  کہیں  نہیں  ملتی۔ ’’اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل‘‘ اگر ایک بکھرتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے تو ایک نصیحت نامہ بھی ہے۔ ان کی غزل میں  ایسے اشعار بکثرت ملیں  گے جو نہایت غیر محسوس انداز میں  نا اُمیدی کا رشتہ اُمید سے جوڑتے ہیں۔ ان کی دوربین اور اُمید آسا نگاہ خزاں  کے موسم میں  بھی دامن یاس کو شگفتہ پھولوں  سے بھر دیتی ہے؎
مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں  میں  کہ ہے
پُر گُل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا

رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گُل ہائے ناز کا
اُمید کا دامن چھوڑنا ان کے مذہب میں  کفر کا درجہ رکھتا ہے:
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں  فراہم خس آشیاں  کے لئے

کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد

نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں  انتظارِ ساغر کھینچ

کمال گرمیِ سعیِ تلاش دید نہ پوچھ
برنگِ خار مرے آئینے سے جو ہر کھینچ

قطرہ میں  دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں  کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
 یہ غالب کا دیدۂ بینا ہی ہے جو رات کی تاریکی کے اُس پار اُمید کی کرن دیکھ سکتا ہے۔ غالب کی شاعری ہمیں  کوئی منظّم لائحہ عمل نہیں  دیتی بلکہ حُسنِ عمل کا احساس دلاتی ہے ’’ہے خیالِ حسن میں  حسنِ عمل کا سا خیال‘‘۔ غالب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ بیسویں  صدی کے شعری ادب میں  رویئے کی جو تبدیلی ہمیں  نظر آتی ہے وہ غالب ہی کی عطا کردہ ہے۔ عصری شعور اور تاریخی احساس کی تخلیقی عمل میں  شمولیت جس کی سب سے درخشاں  مثال اقبال کی شاعری ہے یا پھر آگے چل کر ہماری آج کی شاعری ان سب کے لیئے سازگار فضا کی تشکیل میں  غالبؔ کی شاعری کا بڑا حصہ ہے۔
غالب پریہ سطور لکھتے ہوئے مجھے آج سے کئی سال پہلے غزل میں  نئی شعریات کے موضوع پر لکھا ہوا ظفر اقبال کا مضمون یاد آیا۔ میں نے ’شب خون‘ کا یہ شمارہ تلاش کیا اور یہ مضمون پھر پڑھا۔ ظفر اقبال نے غزل کے اُفُق کو وسیع کرنے کی غرض سے ایک مشورہ یہ بھی دیا ہے کہ ہمارے موجودہ نظم گو شاعر غزل کی طرف توجہ دیں  اور غزل گو شاعر نظم بھی لکھیں  تاکہ یہ دونوں  اصناف ایک دوسرے کے قریب آ سکیں  اور ان میں  تنوع اور وسعت پیدا ہوسکے ( ’’جدید اردو غزل اور نئی شعریات کی ضرورت‘‘۔ ظفر اقبال ’’شب خون‘‘ شمارہ ۱۹۲، مارچ ۱۹۹۶ء )۔ لیکن غالب یہ تجربہ بہت پہلے کر چکے تھے ’’اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل‘‘ جو در حقیقت ایک نظم ہے اس کے علاوہ ’’کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور‘‘ والی غزل جو ایک مرثیہ ہے بہت سامنے کی مثالیں ہیں۔ عبد المغنی نے اس ضمن میں  اور بھی مثالیں  دی ہیں۔ انہوں  نے غالب کی غزل  ’’مدت ہوئی ہے یار کو مہماں  کئے ہوئے‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے جو اُن کے خیال میں  بہار کے موضوع پر ایک چھوٹی سی ایک خوبصورت نظم ہے۔ غالب کے چند عقائد کا بھی حوالہ ہے جو غزل کے رنگ میں  ڈوبے ہوئے ہیں  ( ’’عظمتِ غالب‘‘۔  عبد المغنی، ص: ۸۷۔ ۸۶)۔ غالب کو بجا طور پر poet of all times کہا جا سکتا ہے  کیوں  کہ جو بات ہم آج سوچ رہے ہیں  غالب کا ذہن ان نکات پر پہلے ہی متحرک ہو چکا تھا۔ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں  کے ساتھ شعریات میں  نئی تبدیلیوں  کی کیا ضرورت اور اہمیت ہو سکتی ہے اور لطفِ سخن کی شرط کے ساتھ اُنہیں  برتنے کا ہنر ہم نے غالب کی شاعری اور شاعرانہ فکر ہی سے اخذ کیا ہے۔ بقول حالیؔ : ’’خوب ڈالی تھی ابتدا تو نے‘‘
مختصراً یہ کہ غالب نے نہ صرف ہماری فکر کو نیا آسمان اور ہماری نگاہ کو نئے افق دیئے ہیں  وہیں  فنّی سطح پر بھی ہمیں  نئے نئے امکانات سے روشاس کیا ہے۔ ہمارا عہد اُن کے احسانوں  کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ خیال و وجدان کی وہ شعلگی جو غالب نے اپنے اشعار میں  سمو دی ہے اس نے ہمارے لہو کو بھی زندگی کی حرارت بخشی ہے۔ سادہ زبان، چھوٹی بحروں  کا استعمال، کہیں  کہیں  مصرعوں  کا بظاہر ایک دوسرے سے بے تعلق نظر آتا لیکن ذرا گہرائی میں  ایک دوسرے سے مل جانا (مومنؔ ہی کی طرح)۔ غالب کی مخصوص  wit  اور طنز۔ دوسروں  پر اور اپنی ذات پر بھی۔ ہم سب نے غالب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ غالب کی شاعری میں  امکانات کی ایک دنیا اور تعمیر کا جو نقشہ ہے اس سے ہمارا عہد ہی نہیں  آنے والی کئی نسلیں  فیض یاب ہوتی رہیں  گی۔
___________
 (غالب سمینار دسمبر۲۰۰۶ء میں  پڑھا گیا)




اقبال کی شاعری میں  وقت کا عرفان

(پروفیسر عالم خوندمیری کے حوالے سے)


یہ قول بڑی حد تک صحیح ہے کہ ہر بڑا شاعر اپنے نقاد خود لاتا ہے اور اس کی شاعری کے متوازی ایک نئی تنقیدی بصیرت وجود میں  آتی ہے۔ از کار رفتہ پرانے تنقیدی نظریات اپنی معنویت کھو دیتے ہیں، نئی شراب اس قدر تند ہوتی ہے کہ پرانے آبگینے پگھل جاتے ہیں، ہر بڑا شاعر اپنی عارفانہ نگاہ اور کشف کے سبب اس لمحے کا سرور حاصل کرتا ہے جو ابھی حیطۂ امکان سے باہر ہوتا ہے اور پرانے پیمانوں  کے ٹوٹنے اور اور نئے پیمانوں  کے بننے میں  چوں  کہ وقت درکار ہوتا ہے اس لیے ایسے شاعروں  اور ان کے درمیان بھی کچھ وقت حائل ہو جاتا ہے، جیسا کہ غالبؔ کے ساتھ ہوا، کچھ شاعر ایسے بھی ہیں  جیسے مومنؔ، جن کے نقاد ابھی تک پیدا ہی نہیں  ہوئے، اقبالؔ ان معنوں  میں  خوش قسمت ہیں  کہ ان کی شاعری کی ان کی زندگی ہی میں  پذیرائی ہوئی اور اردو شاعری ان معنوں  میں  خوش قسمت ہے کہ اقبالؔ کی شخصیت ایک ایسا سنگ میل بن گئی، جس سے فکر و فن کی نئی منزلیں  روشن ہو گئیں، اس لیے اس بات پر حیرت نہیں  ہوتی کہ اقبالؔ اپنی زندگی ہی میں  ہر دانش ور اور اہم نقاد کا مرکز و محور نگاہ رہے ہیں، اقبالؔ کے نقادوں  میں عالم صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہ صرف فلسفے میں  دسترس رکھتے تھے بلکہ فقر و ترک کی وہ دولت اور صوفیانہ روایت جو انہیں  ورثے میں  ملی تھی اقبالؔ کے شاعرانہ اور فکری سفر میں  ہم رہی کے دوران ان کے لیے زادِ راہ بن گئی۔
اقبالؔ اور اقبالؔ شناسی سے عالم صاحب کے علمی اور عملی دونوں  روابط تھے، وہ حیدرآباد میں  اقبالؔ اکیڈیمی کے قیام کے بعد اس ادارے کے پہلے صدر تھے، اقبالؔ کے بارے میں  ان کے سارے اردو مضامین کا مجموعہ بھی اقبالؔ اکیڈیمی نے ’’اقبالؔ، کشش اور گریز‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے، جو عالم صاحب کے ایک مقالے ’’اقبالؔ اور تصوف، کشش اور گریز‘‘ کے عنوان سے ماخوذ ہے۔ میں  نے عالم صاحب کے انہی مضامین سے استفادہ کیا ہے جو اس کتاب میں  شامل ہیں، میں  نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ عالم صاحب نے اپنی فکر و دانش کی تمام جہات کو بروئے کار لا کر ان مضامین میں  اقبالؔ کے وقت کے عرفان پر جو روشنی ڈالی ہے، اس پر فلسفیانہ پیچیدگیوں  سے ممکنہ گریز کرتے ہوئے قدرے آسان زبان میں گفتگو کرسکوں، میں  نے یہاں  ان تمام مشرقی اور مغربی مفکرین کے حوالوں  سے بھی حتی الامکان اعراض کیا ہے جن کے افکار کا عالم صاحب نے جداگانہ اور کہیں  کہیں  اقبالؔ کے افکار سے تقابلی مطالعہ کیا ہے، چوں  کہ ان فلسفیوں  اور حکما کا راست مطالعہ میرے بس میں  نہیں، اس لیے عالم صاحب نے جو نتائج اخذ کیے ہیں  انہیں  قبول کرتے ہوئے میں  نے وہیں  لب کشائی کی جسارت کی ہے جہاں  عالم صاحب ان نتائج کی روشنی میں  فکر و ادب کے ایسے پہلووؤں  پر گفتگو کرتے ہیں  جن سے ہم سب کا ملّا بے خبر نہیں  ہیں۔
زماں  یا وقت اقبالؔ کی شاعری کا ایک نہایت اہم موضوع ہے، اقبالؔ کی شاعرانہ فکر میں  زماں، انسانی شخصیت اور انسانی جبر یا تقدیر ایک ایسے تکون کی صورت میں  ابھرتے ہیں  جن کی تفہیم کے بغیر اقبالؔ کی شاعری کے مرکز کی طرف سفر ناممکن ہے، عالم صاحب اقبالؔ کے تصور زماں  پر گفتگو سے پہلے اس بات پر زور دیتے ہیں  کہ ہم وقت کے تمام پہلوؤں  پر سنجیدگی سے غور کریں، ان کے نزدیک وقت کے تین اہم معنی خیز رخ ہیں :
(۱)۔ تکوین ( یعنی ہست، Becoming، تخلیق اور اس کے ساتھ ہی فنا کا تصور)۔
(۲)۔ دوران ( یعنی Duration )۔ (۳)۔ دوام ( جس کی وسیع تر صورت ابدیت ہے)۔
یہی تین رخ، وقت کے تین ادوار ماضی، حال اور مستقبل کو معنویت عطا کرتے ہیں، اگر وقت محض تکوین ہے تو ماضی بے معنی ہو جاتا ہے، یہ دوران ہے جو گزرے ہوئے وقت کو گزرتے ہوئے وقت سے مربوط کرتا ہے لیکن اگر وقت محض دوران ہے تو ماضی اور مستقبل اپنی انفرادیت کھو دیتے ہیں، یہ دوام ہے جو ماضی اور مستقبل کو identifyکرتا ہے جب ہم دوام کو ابدیت کے مفہوم میں  دیکھتے ہیں  تو وقت بہ حیثیت دوراں  بے پناہ امکانات کا حامل نظر آتا ہے۔ قدر آفرینی کے نقطۂ نظر سے وقت کے یہ تین پہلو تخریب (Destruction)، تحفظ (Conservation)، اور تخلیق (Creation) ہیں، میرے خیال میں  عالم صاحب نے اقبالؔ کی فکر کا جو تجزیہ کیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے یہ بنیادی نکات بے حد ضروری ہیں، اب عالم صاحب ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہیں، وہ کہتے ہیں  کہ وقت انسانی وجود سے ماورا کوئی مفہوم نہیں  رکھتا وقت کا یہ وجود صرف انسانی دنیا ہی میں  ممکن ہے، ورنہ وقت محض تغیرات کا ایک سلسلہ ہے، یہ انسانی ارادہ ( یا اقبالؔ کے الفاظ میں  خودی ) ہی ہے جو انسان کو اس بات پر اکساتی ہے کہ تخریب، تحفظ اور تخلیق کو تاریخی عمل میں  مربوط کر سکے، عالم صاحب کے نزدیک اقبالؔ کا یہ ایک اہم فکری شعری کارنامہ ہے کہ اس کے کشفِ وقت میں  وقت کے سارے پہلو ایک دوسرے سے مربوط نظر آتے ہیں۔
عالم صاحب مشرق کی اس روایت کا ذکر کرتے ہیں  جس کی رو سے انسانی شخصیت کو ازل اور ابد کے قطبین سے جوڑ دیا گیا اور ان قطبین کے درمیانی حصے کو جو تاریخ کا میدان ہے بے معنی قرار دیا گیا، اس طرح انسان تاریخ سے کٹ کر تقدیر یا جبریت کے خطرے کا شکار ہو گیا، اس روایت نے ہند، ایرانی شاعری میں  وقت سے فرار کے رجحان کو پروان چڑھایا اور سریت (Mysticism) کی بنیاد ڈالی، اس اجتماعی شعور سے مراد وہ آر کی ٹائپ ہے جو وقت سے فرار میں  روحانی سکون تلاش کرتا ہے اور مئے و بادہ میں مست ہے۔ عالم صاحب کے خیال میں حافظ، رومی اور عطّار اور اردو میں  غالبؔ اس کی استثنائی مثالیں  ہیں۔ حافظ کی شاعری میں  ’’جمالیاتی سپردگی‘‘ کا لمحہ ابھرتا ہے اور رومی اور عطاّر کی ’بے تاب آرزو‘ اور وفورِ شوق مستقبلی لمحے کی تمنا بن جاتی ہے۔ فرار کا تصور یہاں  بھی ہے لیکن یہ ایک روحانی سفر ہے جسے طئے کرنے کے لیے انسان کو اپنی تمام تر روحانی توانائیوں  کو اکٹھا کرنا پڑتا ہے تاکہ انسانی شخصیت وجود اور حیات کے ازلی سر چشمے سے قریب تر ہو سکے۔ عالم صاحب کے خیال میں زندگی کی بے ثباتی اور رائگانی کا تصور مذہبی شعور کا پروردہ ہے لیکن ہند ایرانی شاعری میں  جو رجحان پرورش پاتا رہا وہ مذہبی شعور سے عاری ہے اور اس پیغمبرانہ جذبہ کی نفی کرتا ہے جو تغیر اور تبدیلی سے عبارت ہے اور سارے انسانی موقف کی تبدیلی کا خواہاں  ہے۔ اقبالؔ نہ تو زندگی کا رائگانی اور بے ثباتی میں  یقین رکھتا ہے نہ اس کے لیے وہ ’’فکری مراقبہ‘‘ اس سفر کی منزل بن سکتی ہے جو قدیم ہندی روایت کی دین ہے۔
عالم صاحب کے خیال میں  اقبالؔ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وقت پر کیسے فتح حاصل کی جائے، اقبالؔ کے شعری سفر کے آغاز ہی میں  تکوین اور تغیر کے ہنگامے اقبالؔ کو چونکاتے ہیں، نظم ’’ہمالہ‘‘ کا مصرعہ ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایّام تو‘‘ ماضی کو وقت کے عرفان کے بغیر گرفت میں  لینے کی ایک کوششِ ناتواں  ہے، عالم صاحب کے الفاظ میں   ’’شاعر ابھی معصوم ہے، وہ اس نکتے سے واقف نہیں  کہ وقت کے بہاؤ میں تکرار کی گنجائش نہیں، لیکن اس نظم میں  ماضی سے جو بے پناہ لگاؤ ہے وہ آگے چل کر اقبالؔ کی شاعری میں  ماضی کی فعال احیائیت کا روپ دھار لیتا ہے، ’’شمع پروانہ‘‘ میں  شمع کو ’چھوٹا سا طور‘ اور پرانے کو ’’ذرا سا کلیم ‘ یا ’ عقل و دل‘ میں  عقل کو زماں  بستہ، اور دل کو ’طائر سدرہ آشنا‘‘ کہنا تکوین کے ہنگامے کے شعور کی مثالیں  ہیں۔ عالم صاحب کے خیال میں  ’’غالبؔ اور اقبالؔ کے وجدان کا سر چشمہ ایک ہی ہے لیکن اگر غالبؔ تکوین کے ہنگامے کے شعور کا شاہد ہے تو اقبالؔ تکوین سے گزر کر زماں  اور پھر زماں  سے آگے شکست زماں  کی منزل تک رسائی حاصل کرتا ہے، غالب نے جس عندلیب گلشن نا آفریدہ کی تمنا کی تھی، اقبالؔ کی نظر میں  اس کی آفرینش انسانی ارادے کے باہر نہیں‘‘۔ اقبالؔ کے بعض نقادوں  نے اقبالؔ کا رشتہ زروانیت سے جوڑا ہے۔ زر تشی رمز میں  زروان اس کائنات وقت کی روح یا اس کا فرشتہ ہے جو زماں  بستہ اور مکاں  بستہ ہے۔ چونکہ اس عالم میں  انسان غیر شخصی قوانین پر عمل کرنے کے لیے مجبور ہے اس لیے یہ عالم جبر ہے، لیکن شعور کی ایسی منزل بھی ممکن ہے جہاں  انسان مکاں  سے مکمل طور پر رشتہ توڑ سکتا ہے اور عالم صاحب کے الفاظ میں  ’’زروان کے پرکٹ جاتے ہیں‘‘۔ یہی شکستِ زماں  کی منزل ہے۔ تقدیر پر انسانی فتح کی آخری منزل جو انسانی زیست کا منتہا ہے اور ذات محمدی کا اعلیٰ ترین کارنامہ۔
عالم صاحب کے خیال میں اقبال اس منزل کی جانب مختلف سمتوں  سے سفر کرتے ہیں۔ قدیم یونانی اور ہندی فلسفے کی روایت اور جدید مغربی مفکرین خاص طور پر برگساں  اور نتیشے جسے وہ مجذوب فرنگی بھی کہتے ہیں، اقبالؔ کی فکر نے ہر در کھٹکھٹایا ہے لیکن ان کی روح نے اُن کی فکر سے جلاپا کر اپنے وجود کا سہارا لیا ہے۔ مشرقی فکر کے تحت یہ کائنات تجلیات کا مظہر ہے اور انسانی وجود اس کی سب سے روشن تجلی۔ مغربی فکر کے مطابق انسان ارتقاء کے تاریخی عمل کا آفریدہ ہے۔ اقبال کی فکر اِن دونوں  رویوں  میں  ہم آہنگی پیدا کرتی ہے لیکن اگر نظر یہیں  رک جائے کہ انسانی ظہور ارتقاء کی ایک اہم جست ہے تو اقبالؔ کے نزدیک یہ کفر ہے۔ اب ارتقاء عبارت ہے انسانی شعور کی توسیع سے جسے اقبالؔ ایمان سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ توسیع اس طرح ممکن ہے کہ انسان افقی سمت میں  سفر کرتے ہوئے کائنات کی تسخیر کرے اور عمودی سمت میں  پرواز کرتے ہوئے وجود کے شعور نفس اور ماورائے نفس کا عرفان حاصل کرے۔ بجائے اس کے کہ انسان آفاق میں  گم ہو جائے، آفاق انسان میں  گم ہو جائیں۔ یہ ساری عبارت بلکہ اس مضمون ہی کی تقریباً ساری عبارت ان ہی جملوں  پر مشتمل ہے جو عالم صاحب کے قلم سے نکلے ہیں۔ میں ایسی تحریر نہیں  لکھ سکتا بس سمجھنے کی ایک ادنیٰ نامکمل کوشش کرتا ہوں  میرے خیال میں  Holocene period میں  آج سے دس ہزار سال پہلے Evolution of modern man کی جو تھیوری سائنس دانوں  نے پیش کی ہے اُس میں  اور انسانی وجود کے اسلامی نقطۂ نظر میں  جو تفریق ہے وہ تفریق کیوں  نہیں، جو تضاد نظر آتا ہے وہ تضاد کیوں  نہیں  اور اس میں  ہم آہنگی کس طرح ممکن ہے، یہ عالم صاحب کا فلسفیانہ ذہن ہی اقبالؔ کے حوالے سے ہمیں  سمجھا سکتا ہے۔
عالم  صاحب اقبالؔ کے اس فلسفیانہ اور شاعرانہ  Central Theme کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں، جہاں  اقبالؔ اپنے شعور تکوین و تغیر کی تکمیل کے لیے ایسی شخصیت کااستناد حاصل کرتے ہیں  جو زماں  کے دوران یا تغیر کے دوران، یا تغیر مسلسل سے مکمل آگاہ ہو اور اس کو انسانی تقدیر کو بدلنے کے وسیلے کے طور پر استعمال کرسکتا ہو، ایک مکمل شخصیت یا خودی، جواب شکوہ، میں ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمانے کے حملے کی مدافعت کرتی ہے موت کو شکست دیتی ہے، بقا حاصل کرتی ہے اور انسان کا نصب العین بن جاتی ہے، ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور ہند، ایرانی شاعر میں  نیا نہیں  لیکن اقبالؔ نے اس شخصیت کے ساتھ طاقت و جبروت کے عنصر کو وابستہ کر دیا ہے اس ذات سے وفاداری کا مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنے نفوس میں  اس انقلابی ارادے کو ابھاریں  جس نے تاریخ کا مفہوم بدل دیا، اپنے مضمون ’’فکر اقبالؔ‘‘ میں  شخصیت، تقدیر اور وقت میں  انہوں  نے خلوت یعنی معراج اور جلوت یعنی ( ہجرت) کی تفسیر پیش کی ہے، خلوت سے جلوت کی طرف مراجعت بنی نوع کی آزادی کی شکل میں  ابھرتی ہے، اور انسانی شعور کا حاصل تاریخی دھارے میں  شامل  ہو کر راکب وقت بن جاتا ہے، ولی اور پیغمبر میں  یہی فرق ہے کہ ولی اپنی خلوت میں  گم ہو جاتا ہے جب کہ پیغمبر اپنے مذہبی یا ماورائی تجربہ کو زندہ تاریخی قوت میں  بدل دیتا ہے۔
اقبالؔ کی فکر میں  جن تضادات کا ذکر کیا جاتا ہے، اُن کے بارے میں  عالم صاحب کا خیال ہے کہ اگر اقبالؔ کے شاعرانہ جینئس کا تدریجی طور پر مطالعہ کیا جائے تو یہ تضادات پیدا ہی نہیں  ہوتے۔ اپنے مقالے ’’اقبالؔ اور تصوف۔ کشش اور گریز‘‘ میں  وہ اس نکتے پر مزید روشنی ڈالتے ہیں۔ اقبالؔ کے لئے وجود اور زیست کے ماورائی مسائل اور نقطۂ حال کے تمدنی اور عملی امور دونوں  ہی اہم تھے۔ انسانی شخصیت موخرالذکر امور سے نیم خوابی کی کیفیت میں  کشش اور مکمل بیداری کی حالت میں  اُن سے گریز کرتی ہے اور ایک شخصی تناؤ وجود میں  آتا ہے جسے سطح بیں  نقاد تضاد سمجھتا ہے۔ اقبال کی شاعری کی زبان شفاف ہوتے ہوئے بھی صحائف کی طرح paradoxical ہے جو در اصل اقبالؔ کی فکر کے تناؤ اور اس کی عصریت کی آئینہ دار ہے۔
اقبالؔ کی شاعرانہ فکر کے جن پہلوؤں  پر ابھی تک گفتگو ہوئی ہے اگر انہیں  اقبالؔ کی شاعری کے حوالے سے نہ دیکھا جائے تو یہ گفتگو ادھوری رہ جائے گی، اقبالؔ کے مکمل عرفان کے لیے ان کے سارے شعری مجموعے اور کئی نظمیں  اہم ہیں، ’’بانگ درا‘‘ کی جن نظموں  کا عالم صاحب نے خاص طور پر ذکر کیا ہے، وہ ہیں  ’’ہمالہ‘‘، ’’حقیقت حسن‘‘ طلباء علی گڑھ کالج کے نام ’’شمع و پروانہ‘‘، ’’جواب شکوہ‘‘، ’’خضر راہ‘‘ اور بانگِ درا کی کئی نظمیں۔ عالم صاحب کے خیال میں  یہ نظمیں  شعری خطابت کے اعلیٰ مدارج کو چھوتی ہیں۔ نظم ’’حقیقت حسن‘‘ اقبالؔ کی شاعرانہ فکر کا نقطۂ آغاز ہے، جب حُسن خدا سے سوال کرتا ہے ’’جہاں  میں  کیوں  نہ مجھے تو نے لازوال کیا‘‘۔ پھر خدائی کلمات ادا ہوتے ہیں  تو یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ وقت حسن پر بھی شفقت نہیں  کرتا۔ شاعر حیران ہے کہ وقت کی تسخیر کسیے ممکن ہے۔ اس سوال کا جواب اقبال اپنی نظم ’’طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام‘‘ میں  پا لیتے ہیں  جب وہ کہتے ہیں  ’’موت ہے عیشِ جاوداں، ذوقِ طلب اگر نہ ہو ؛ گردشِ آدمی ہے اور گردشِ جام اور ہے‘‘ شمع سحریہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا ساز؛ غمکدۂ نمود میں  شرطِ دوام اور ہے‘‘ یعنی یہ سوز یا عشق ہی ہے جو زندگی کو دوام عطا کر سکتا ہے۔ اسی فکر کی گونج ’’عقل و دل‘‘ میں  سنائی دیتی ہے جب دل عقل سے کہتا ہے ’’تو زماں  و مکاں  سے رشتہ بپا ؛ طائر سِدرہ آشنا ہوں  میں‘‘، ’’یا شمع و پروانہ‘‘ میں  شاعر شمع سے کہتا ہے ’’چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے‘‘۔ ’’شکوہ‘‘ میں  انسان کے جبر کا پہلو نمایاں  ہے ’’جواب شکوہ‘‘ میں انسانی ارادے کی آزادی یعنی خودی کا تصور ابھرتا ہے۔ یہ تصور ’’بال جبریل‘‘ کی نظموں  میں  مرکزی صورت اختیار کر لیتا ہے، اس مجموعے کی مشہور نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ دوام اور دوران کے ربط کی مظہر ہے، شاعر سلسلۂ روز شب سے مایوس نہیں  ہوتا، وہ جانتا ہے؛ ’’ہے مگر اس نقش میں  رنگ ثبات دوام‘‘ اور منتظر ہے ’’دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؛ گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا‘‘۔ ضرب کلیم میں  طاقت اور جبروت کا عنصر نمایاں  ہے۔ عالم صاحب کے خیال میں  ’’اسرار‘‘ و ’’رموز‘‘ فکری اعتبار سے نہایت اہم ہیں، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ادبی اعتبار سے یہ تصانیف ’ زبور‘ یا ’لالہ طور ‘ کا مقابلہ کر سکتی ہیں، اسرار میں  اقبالؔ نطشے کے زیر اثر ایک نئے نوع انسانی کے منتظر ہیں، ’رموز‘ میں  انہوں  نے اس گتھی کو عمرانی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ ’’جاوید نامہ‘‘ ہے جہاں  وہ خودی اور وقت کے تصور میں  مکمل ہم آہنگی تلاش کر لیتے ہیں  اور ایک نئی نوع انسانی کی جگہ ’’مرد مومن‘‘ یا ’’مرد حر‘‘ کا تصور ابھرتا ہے جس کا رشتہ مکمل خودی یا ذات محمدی سے جوڑنا آسان ہے، اسی عرفان نے اقبالؔ کی اس اعلیٰ ترین تجربے کی طرف رہنمائی کی جو ذات محمدی کی معراج تھی اور اقبالؔ کے اشتیاق اور روحانی سفر کی ایسی منزل جو ہر دور میں  عارفوں  کی منتہائے نظر رہی ہے۔
عالم صاحب فلسفہ کے استاد تھے، مذہبیات میں  انہیں  خاصہ درک تھا، اس لیے فکرِ اقبالؔ سے ان کا شغف فطری ہے، وہ اقبالؔ کی اہمیت کے قائل ہیں  اور جا بجا انہوں  نے اقبالؔ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے، لیکن وہ اقبالؔ کا معروضی نقطۂ نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں، اس لیے کچھ اختلاف کے پہلو بھی نکل آئے ہیں۔ عالم صاحب کو اقبال سے یہ شکایت ہے کہ ان کی فکر میں  عام انسان کے لیے کوئی مقام نہیں  ان کی شاعری ان ہی افراد کے لیے ہے جو اپنی شخصیت کے حصول کے طلبگار ہیں، وہ لوگ بھی جو ازل کا سرور حاصل کرتے رہتے ہیں، اور جنہیں  ابد کی فکر نہیں  ان کے لیے اقبالؔ کے میخانے میں  کوئی جگہ نہیں، یہاں  ہم حافظ کی اس دنیا کا تجربہ حاصل نہیں  کر سکتے جو جمالیاتی سپردگی کا آفریدہ ہے۔ یہاں  عالم صاحب کے نقطۂ نظر سے اختلاف ممکن ہے، اور اس سوال کی بھی گنجائش ہے کہ کیا اقبالؔ کے روحانی تجربے اور اشتیاق کی منزل تک رسائی کا سرور حسن کے اندر ڈوب جانے کے سرور سے فرو تر ہے لیکن ان باتوں  کا انحصار شخصی مزاج اور شعری ذوق پر ہے۔ عالم صاحب کا ایک اور سوال کہ اگر تمام افراد کی خودی اور شخصیت کا ارتقاء ایک ہی سطح پر نہ ہو تو کیا طاقتور شخصیت کمزور شخصیت پر غالب آنے کی کوشش نہ کرے گی، اس کا جواب  یہ ہوسکتا ہے کہ اگر سماجی علمی اور تمدنی سطح پر یہی کچھ صدیوں  سے ہوتا چلا آ رہا ہے تو روحانی تجربے اور وجدان کی سطح پر بھی یہ ناگزیر ہے، لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ جب ایسی کئی طاقتور شخصیتیں  Nuclei کے  انداز میں  ابھریں  گی تو عام انسان میں  بھی اپنی خودی کے شعور کا احساس طاقتور انداز میں  ابھرے گا، عالم صاحب کا یہ اعتراض کہ اقبالؔ کی کئی نظمیں  تخیل کے غیر ضروری پھیلاؤ کی مثالیں  پیش کرتی ہیں، بڑی حد تک صحیح ہے۔ عالم صاحب کہتے ہیں، کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اقبالؔ ایک ملت یا قوم کی رہنمائی کے فرائض اپنے ذمے لے لیتے ہیں، اور تخیلی انداز میں  جذبات کے اظہار کی بجائے قاری یا سامع کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہاں  یہ نکتہ توجہ کے لائق ہے کہ عالم صاحب جو مرتکز صورت یا Concentrated Form اقبالؔ کی نظموں  میں  دیکھنا چاہتے ہیں۔ آگے چل کر یہی صورت میراجی اور ن، م، راشد اور بعض ترقی پسند شاعروں  جیسے فیض اور مخدوم کی نظموں  میں  ملتی ہے، جو ان معنوں  میں  اقبالؔ کی دین ہے کہ اقبالؔ کے بعد اردو شاعری کے جتنے کارواں  نکلے ہیں، ان سب کا base-camp اقبالؔ کی شاعری ہی ہے۔
عالم صاحب کو اسی نام سے یاد کیا جا سکتا ہے جو انہوں  نے غالبؔ کو دیا ہے یعنی ’’بے غرض فلسفی‘‘ میں  نے اس مضمون میں  عالم صاحب کی فکر، مشاہدے اور تجزیے کے کئی پہلو جو مختلف مضامین میں  مختلف تراکیب میں  آئے ہیں  انہیں  اپنی فہم کے مطابق، اپنے انداز میں  پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اگر اس مضمون میں کوئی الجھاؤ کوئی سقم ہے تو یہ سقم میری فہم کا ہے۔ عالم صاحب کی فکر وسیع ہے، انہوں  نے اقبالؔ کے فلسفۂ وقت کا ہر پہلو سے مکمل جائزہ لیا ہے، مجھے عالم صاحب سے ایک ہی شکایت ہے وہ یہ کہ انہوں  نے اقبالؔ کی شاعری کے ادبی و فنی پہلوؤں  پر کہیں  تفصیلی روشنی نہیں  ڈالی، کچھ اشارے ملتے ہیں، جوہر چند نہایت بلیغ ہیں  لیکن اقبالؔ کی شاعری کا حق ادا نہیں  کرتے۔ اقبالؔ کی کئی نظمیں  کئی بند ایسے ہیں، جن کا تجزیہ خالص ادبی بنیادوں  پر بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی شاعرانہ اور فلسفیانہ فکر کا، شاید اس میں  قصور ان احباب کا بھی ہو جنہوں  نے عالم صاحب کی زندگی ہی میں  انہیں  ’’مفکر نقاد‘‘ کا لقب دے دیا تھا ورنہ عالم صاحب جو نہ صرف اردو بلکہ عالمی ادب پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے، ان کے لیے یہ کام ایسا مشکل نہ تھا۔
___________
(’’جہانِ اقبالؔ‘‘ مرتبہ : عبدالرحیم خان)




اقبال کی نظم ’’لالۂ صحرا‘‘ ____تجزیاتی مطالعہ


لالۂ صحرا

علامہ اقبالؔ


یہ گنبدِ مینائی ! یہ عالمِ تنہائی!
مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی!
بھٹکا ہوا راہی میں، بھٹکا ہوا راہی تو
منزل ہے کہاں  تیری اے لالۂ صحرائی ؟
خالی ہے کلیموں  سے یہ کوہ و کمر ورنہ
تو شعلۂ سینائی! میں  شعلۂ سینائی!
تو شاخ سے کیوں  پھوٹا میں  شاخ سے کیوں  ٹوٹا
اک جذبۂ پیدائی! اک لذتِ یکتائی!
غوّاصِ محبت کا اللہ نگہباں  ہو
ہر قطرۂ دریا میں  دریا کی ہے گہرائی!
اُس موج کے ماتم میں  روتی ہے بھنور کی آنکھ
دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی!
ہے گرمیِ آدم سے ہنگامۂ عالم گرم
سورج بھی تماشائی تارے بھی تماشائی!
اے بادِ بیابانی مجھ کو بھی عنایت ہو
خاموشی و دل سوزی سرمستی و رعنائی!
___
اقبالؔ کی شاعری ایک سیارے کی طرح ہے جو اپنے محور اپنے مدار پر گردش کرتا ہے۔ ان کا محور عشقِ حقیقی اور حُبّ رسول ہے اور اُن کا مدار کائنات کی تسخیر اور وقت کو زیر دام لانے کی جستجو، اگر ہم کلام اقبال کو حساب کے ایک مشکل سوال کی طرح حل کریں  اور اس کا کوئی آسان ساجواب ڈھونڈنا چاہیں  تو یہ سوال اور الجھ جاتا ہے۔ اقبال جن مسائل کو چھڑتے ہیں  وہ ہمارے ماضی، حال اور مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور اُن کا ہمارے سیاسی سماجی اور مذہبی عقائد اور اقدار سے گہر ا رشتہ ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اقبال کا تبحّرِ علمی اتنا گہرا، ان کا دل اس قدر درد مند اور ان کا لہجہ اتنا پر وقار ہے کہ ہم اُن کی آواز سُننے کے لئے کھسک کر اُن کے بہت قریب بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے گرد لوگوں  کا ایک ٹَھٹ لگ جاتا  ہے۔ اس قدر قریب بیٹھنے کے کئی فائدے بھی ہیں  اور نقصان بھی۔ فائدہ یہ کہ اقبال کی شاعری اور شخصیت سے ہمارا جو ایک جذباتی رشتہ استوار ہو جاتا ہے تو کئی باتوں  کئی مسائل پر ہمیں  ان کی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور ہم اُن کے طرزِ فکر و عمل کو اپنانے لگتے ہیں۔ نقصان یہ کہ اس قرب کے سبب اقبال کی شاعرانہ فکر اور ان کی شاعرانہ شخصیت جو بڑی ہشت پہلو ہے۔ ہم اس کے محض ایک یا دو رخ یا ایک ہی زاویہ دیکھ پاتے ہیں  اور ان کی فکر کے کئی گوشوں  سے ہماری نگاہ محروم رہ جاتی ہے۔
تفہیم اقبال کے سلسلے میں  یہ دشواری اور بڑھ جاتی ہے جب اقبال بہ یک وقت دو سطحوں  یا دو Planesپر سفر کرتے ہیں۔ ایک سفر وہ ہے جس میں  وہ سیر عالم کے دوران ہر شئے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہر حال کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اپنی ذکاوت، عقلی دلائل، تیز نگاہی اور تاریخی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے فلسفیانہ منطق اور فہم و استدلال کی روشنی میں  وہ پہلے اپنی راہ متعین کرتے ہیں۔ پھر قدم اُٹھاتے ہیں۔ تخئیل کے پر تولتے ہیں  اور اپنے محبوب پرندے شاہین کی طرح اُڑان بھرتے ہیں۔ اس سفر میں  وہ اپنی آنکھیں  کھلی رکھتے ہیں۔ لیکن ایک اور سفر بھی ہے جس کے دوران وہ آنکھیں  بند کر لیتے ہیں۔ اب اُن کی بند آنکھیں  چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیوں  کی روانی کا نظارہ کرتی ہیں  ’ دل کے لیئے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں  ‘۔ لیکن اب اُن کے ہم سفر اور ہم صفیر اُن کا جذبۂ عشق اور وجدان ہیں، شاہین نہیں  لالۂ صحرا اُن کے ساتھ ہے جس کے سینے میں  بالکل ویسا ہی داغ ہے جیسا اُن کے جگر میں  ہے۔ شاید اسی لئے گُلِ لالہ پھولوں  میں  اقبال کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ کیوں  کہ یہ اُن ہی کا ہم مشرب ہے۔
آیئے اب اس نظم لالہ صحرا کی بات کریں، اس نظم کے ابتدائی دو شعر پھر پڑھیں ؎
یہ گُنبدِ مینائی، یہ عالمِ تنہائی
مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی
بھٹکا ہوا رہی میں، بھٹکا ہوا راہی تُو
منزل ہے کہاں  تیری اے لالۂ صحرائی
’’یہ گنبد مینائی‘‘ یہاں  آسمان کو ’’گُنبدِ مینائی، کہنا ایسا لگتا ہے جیسے آسمان دو آنکھوں  کے آئینوں  کے بیچ میں  گِھر گیا ہو، قید ہو گیا ہو۔ جیسے آسمان کوئی گنبد ہو، پھر اس کے اندر قدرے چھوٹا ایک اور گنبد، پھر ایک اور گنبد، پھر ایک اور …اور پھر صرف ایک نقطہ آسمان۔ یہ ترکیب ’’گنبد مینائی‘‘ اس منظر کو، اس آسمان کو اتنا وسیع، اس قدر عریض، شفق کے رنگوں  کوہلکا، ملگُجا اور اُفق کو اتنا دور کر دیتی ہے کہ اس منظر کو کینوس پر اُتار نے کے لئے کوئی بہت بڑا مصوّر بھی ناکام رہ جائے۔ پھر اِس آسمان کو ایک دشت کہنا، جس میں  ایک عاشق بھٹک رہا ہو، اور اِس دشت کو عاشق کے عالم تنہائی سے جوڑنا، ’یہ عالم تنہائی‘۔ صرف تین مصروعوں  میں  ایسا منظر تخلیق کرتا اقبال کی شاعری کا کمال ہے۔ پہلے دو مصروعوں  تک یہ منظر خاموش ہے۔ تیرے مصرعے کے دوسرے ٹکڑے میں  یوں  لگتا ہے کہ شاعر گویا ہے کچھ کہہ رہا ہے کس سے ؟ لالۂ صحرا سے ؟ کہ ’تو بھٹکا ہوا رہی ہے‘ ہم پھر پورا مصرع پڑھتے ہیں، بھٹکا ہوا راہی میں، بھٹکا ہوا راہی تو‘۔ یہ کیا؟ شاعر لالہ کو بھٹکا ہوا راہی کہنے سے پہلے خود اپنے آپ کو بھٹکا ہوا راہی کہہ رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے ؟ اقبال جس کا سینہ نور ایمانی سے منور ہے۔ اپنے بارے میں  ایسی بات کہے۔ نہیں۔۔۔ ہم ذرا رُک کر غور کریں  تو کھُلتا ہے کہ شاعر خود پر ایک عام آدمی کا گمان کر رہا ہے، ایک عام آدمی کی چشم تصوّر  سے خود کو دیکھ رہا ہے۔ یا اپنے ہی عالم جذب سے باہر اپنا نظارہ کر رہا ہے۔ لیکن جب وہ اس عالمِ جذب میں  دو بارہ لوٹتا ہے۔ اور دریائے محبت میں  غوطہ لگاتا ہے تو نظم آگے بڑھتی ہے۔ اب، جب وہ سطح دریا سے اُبھرتا ہے اور اپنی بند مُٹھی کھولتا ہے تو ہمارے قلب و نظر کے دامن کو اس نظم کے تیسرے چوتھے سے لے کر آخری شعر تک کئی آبدار موتیوں  سے بھر دیتا ہے۔ شاعر اس نکتے سے واقف ہے کہ راہ عشق میں  دو گھڑی بھٹکنا، عقل کی راہ میں  دن بھر کے سفر کی مشقت سے بہتر ہے۔ عشق کی یہ گُمرہی یا غَوایَت ہی اُسے منزل سے ہمکنار کر سکے گی۔ وہ لالہ سے پوچھتا ہے، ہماری منزل کیا ہے؟ جلوۂ حق؟ لیکن جلوۂ حق تو ہر جگہ ہے۔ اگر کمی ہے تو اصحابِ نظر کی۔ اے لالہ۔ طُور تو ہر جگہ موجود ہے، تجھ میں، مجھ میں۔ ’’تو شعلۂ سینائی، میں  شعلۂ سینائی‘‘۔ ہمارا وُجود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ خودیِ مطلق اپنا اظہار چاہتی ہے۔ ورنہ۔۔۔ ’’تو شاخ سے کیوں  پھوٹا، میں  شاخ سے کیوں  ٹوٹا‘‘ پھول کے عالم وجود میں  آنے کو شاخ سے پھوٹنا اور انسان کے باغِ بہشت سے سفر کو شاخ سے ٹوٹنا کہنا۔ یہاں  فکر کی لَے دیکھئے اور کس قدر لطیف پیرایۂ اظہار ہے۔ مصرعے کے دو جڑواں  ٹکڑے بس دو ایک لفظوں  کا الٹ پھیر۔ لیکن نغمگی جیسے جلترنگ بج رہا ہے۔ قافیوں  کا آہنگ تیلیوں  کی طرح پانیوں  سے بھرے معنی کے کٹوروں  پر تال دے رہا ہو۔ اقبال کی کئی نظموں  میں  ایسے مصرعے آتے ہیں۔ جہاں  وہ ایک مصرع، ایک ہی لفظ یا قافیہ یا قوافی کی تکرار سے موسیقیت پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی نظم میں  ایسے کئی مصرعے ہیں  جیسے بھٹکا ہوا راہی میں  بھٹکا ہوا راہی تو‘‘ یا ’’تُو شعلۂ سینائی میں  شعلۂ سینائی‘‘، یا ’’اک جذبۂ پیدائی اک لذت یکتائی ‘ یا آگے ایسا ہی اک اور مصرع ’’سورج بھی تماشائی، تارے بھی تماشائی‘‘۔ لیکن یہ مصرع ’’تو شاخ سے کیوں  پھوٹا، میں  شاخ سے کیوں  ٹوٹا‘‘ شاید اس نظم کا سب سے زیادہ بولتا ہوا مصرع ہے اور اپنے اندر ایک جہانِ معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ اقبال کی کئی نظموں  میں  ہمیں  یہ صناعی ملتی ہے، اقبال کے بعد کے شاعروں  میں  آزاد نظم کی ہئیت میں  یہ تکنیک ن۔ م۔ راشد نے نہایت کامیابی سے برتی ہے۔ یہ تکنیک اقبال ہی کی طرح راشد کے اسلوب میں  بھی ڈھل گئی ہے: لیکن مختلف انداز میں۔ اس کی نمایاں  مثال راشد کی نظم ’’سبا ویراں ‘‘ ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کس طرح اقبال نہ صرف اپنے قاری بلکہ اپنے بعد آنے والے شاعروں  کی فکر پر اثر انداز ہوئے ہیں  اُن کی شاعری پر اقبال کے اسلوب کا سایہ پڑا ہے: نئی آوازیں، نئے لہجے اُبھرے ہیں، سوچنے کے ڈھب بدلے ہیں۔ نظم کا form بدلا ہے۔ اور ان سب تبدیلیوں  کے رونما ہونے میں  اقبال کے پیش روؤں  سے کہیں  زیادہ اقبال کا ہاتھ ہے۔ اقبال کی شاعری نے ان سب کے لئے ایک Catalyst کا کام کیا ہے۔ میں  نے صرف راشد کے تعلق سے بہت سامنے کی بات کہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی شاعری قدیم اور جدید طرزِ فکر اور طرزِ سخن کے درمیان ایک پُل نہیں  بلکہ Watershed کا کام کرتی ہے۔
بات کہاں  سے کہاں  چلی گئی، میں  پھر اس نظم کی طرف لوٹتا ہوں۔ آیئے آگے بڑھیں۔ دیکھیں  شاعر کیا کہتا ہے۔ وہ لالہ سے مخاطب ہے، کہتا ہے۔ عشق میں  ہر قدم پر جان کا خطرہ ہے ’’خواص محبت کا اللہ نگہبان ہو‘‘ یہاں  ’’اللہ نگہبان ہو‘‘  نہ صرف اگلے مصرع ’’ہر قطرۂ دریا میں  دریا کی ہے گہرائی‘‘ کے لئے فضا سازگار کرتا ہے بلکہ اس کی Depth میں  بھی اضافہ کرتا ہے۔ محبوب سے ایک لمحے کی جدائی بھی عاشق کے لیئے اتنی ہی صبر آزما ہے جتنی عمر بھر کی جدائی ہو سکتی ہے اور معشوق کی ایک جھلک، ایک نگاہِ لطف ایسی ہی جاں  فِزا ہے جیسے مژدۂ وصل۔ عشقِ حقیقی کے آئینے میں  دیکھیں  تو عاشق کا ذوق و شوق ہی یا سالک کا ایک قدم ہی اُسے منزلِ مقصود تک پہنچا سکتا ہے، آگے کے دو اشعار اُس موج کے ماتم میں  ‘… اور  ہے گرمیِ آدم سے‘ … ان اشعار میں  اقبال اُن قیود کی طرف اشارہ کرتے ہیں  جو دُنیا نے،  سماج نے اور خود انسان نے اپنے اوپر عائد کر لی ہیں۔ وہ دنیا کے لہو و لَعِب کا شکار ہو گیا ہے اور اپنے منصب حقیقی سے بے گانہ ہے۔ انسان مثل ایک موج کے ہے لیکن یہ ’بھنور کی آنکھ‘ کیا ہے؟ یہ انسان کے جذبۂ خودی کی آرزو مندی  ہے۔ خودی جو اپنی تکمیل چاہتی ہے۔ اقبال ہمیں   یاد دلاتے ہیں  کہ ہم چاند اور سورج پر کمندیں  پھینکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود چاند اور سورج اس گرمیِ ہنگامۂ عالم کے تماشائی ہیں۔ انسان ہی سرچشمۂ حیات و کائنات ہے۔ اب ہم اس نظم کے آخری شعر تک آتے ہیں۔ شاعر دوبارہ اِ س صحرا اِس بیابان پر نگاہ کرتا ہے۔ لیکن اب وہ کیفیت نہیں  جب وہ کہتا تھا ’’مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی‘‘ اب اس کے دل میں  کوئی ڈر، کوئی خوف نہیں۔ وفورِ عشق نے نہ صرف اس خوف کو زائل کر دیا ہے جو اس صحرا کی پہنائی کے سبب اُس کے دل میں  گھر کر گیا تھا، بلکہ اب اس کا دل ایک عجیب کیفیت سرور سے معمور ہے۔ وہ دعا گو ہے کہ ’’اے خدا ! یہ دولت عشق جو تو نے مجھے دی ہے اسے اور فُزوں  کر دے۔ اے بادِ بیابانی ! میرے حق میں  رضائے الہٰی بن کر مجھے وہ خاموشی و دلسوزی عطا کر جو مجھے ہر دم یادِ الہٰی میں  محو رکھے۔ جو میرے عشق کو سر مستی و رعنائی کی شمیم سے معطر کر دے۔
یہ نظم یہاں  ختم ہوتی ہے۔ بلکہ بہتر ہو گا اگر کہا جائے کہ یہ نظم یہاں  سے دوبارہ شروع ہوتی ہے۔ کیوں  کہ یہ نظم بار بار اپنی قرأت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس نظم کی فضا سے، اس کی قید سے رہائی اس قدر آسان نہیں۔ یہ نظم ایسی ہے کہ اسے بہت دور تک بہت دیر تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔ میں  نے چند باتیں  کہنے کی تہمت اپنے سَر لے لی ورنہ مجھے یہ کہنے کی مجال نہیں  کہ ’’خود جلیں  دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں‘‘۔ اس کے علاوہ اس نظم کے ادبی محاسن کے بارے میں  بھی میں  نے بس چند اشارے کئے ہیں۔ اس گفتگو کو طول دیا جا سکتا تھا۔ لیکن میرا خیال ہے بعض  نظمیں  ایسی ہوتی ہیں َ جن پر گفتگو ادھوری رہے، تب ہی اس گفتگو کا اثر دیرپا ہو سکتا ہے۔
__________
 (’’اقبال ریویو‘‘ )
٭٭٭





مصحف اقبال توصیفی  (عبدالمغنی )  ۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء کو بدایوں  (یوپی) میں  پیدا ہوئے۔ والدِ محترم (عبدالمعطی مرحوم) بہ سلسلہ ملازمت حیدرآباد آ گئے تھے اس لیے مصحف اقبال توصیفی کی تقریباً ساری تعلیم (چوتھی جماعت سے ایم۔ ایس۔ سی تک) حیدرآباد میں  مکمل ہوئی اور یہی اُن کا وطن ٹھہرا۔ جیالوجیکل سروے آف انڈیا سے ۲۰۰۰ء میں  ڈائرکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ادبی حلقوں  میں  اُن کی شناخت بطور شاعر ہے۔ تا حال اُن کے چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ چند سال قبل میسور یونیورسٹی کی طالبہ تاج جبین نے اُن پر پی ایچ۔ ڈی کی اور حال ہی میں  (۲۰۱۳ء) غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی کی جانب سے اُنہیں  ’غالب ایوارڈ برائے شاعری ‘  سے نوازا گیا۔
   زیرِ نظر کتاب اُن کے تصنیف کردہ خاکوں، مقالات اور شفیق فاطمہ شعریٰ سے انٹرویو پر مشتمل ہے۔
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید